Surat Abas
Surah: 80
Verse: 25
سورة عبس
اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا ﴿ۙ۲۵﴾
How We poured down water in torrents,
کہ ہم نے خوب پانی برسایا ۔
اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا ﴿ۙ۲۵﴾
How We poured down water in torrents,
کہ ہم نے خوب پانی برسایا ۔
We pour forth water in abundance. meaning, `We sent it down from the sky to the earth.' ثُمَّ شَقَقْنَا الاَْرْضَ شَقًّا
اَنَّا صَبَبْنَا الْمَاۗءَ صَبًّا ٢٥ ۙ صبب صَبُّ الماء : إراقته من أعلی، يقال : صَبَّهُ فَانْصَبَّ ، وصَبَبْتُهُ فَتَصَبَّبَ. قال تعالی: أَنَّا صَبَبْنَا الْماءَ صَبًّا [ عبس/ 25] ، فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذابٍ [ الفجر/ 13] ، يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُؤُسِهِمُ الْحَمِيمُ [ الحج/ 19] ، وصبا إلى كذا صبابة : مالت نفسه نحوه محبّة له، وخصّ اسم الفاعل منه بِالصَّبِّ ، فقیل : فلان صَبٌّ بکذا، والصُّبَّةُ کالصرمة «1» ، والصَّبِيبُ : الْمَصْبُوبُ من المطر، ومن عصارة الشیء، ومن الدّم، والصُّبَابَةُ والصُّبَّةُ : البقيّة التي من شأنها أن تصبّ ، وتَصَابَبْتُ الإناء : شربت صُبَابَتَهُ ، وتَصَبْصَبَ : ذهبت صبابته . ( ص ب ب ) صب الماء کے معنی اوپر سے پانی گرانا کے ہیں محاورہ ہے صب الماء فانصب وصببتہ فتصب یعنی اس نے اوپر سے پانی گراناچنانچہ پانی گرگیا ۔ قرآن میں ہے ۔ أَنَّا صَبَبْنَا الْماءَ صَبًّا [ عبس/ 25] بیشک ہم نے ہی ( اوپر سے ) پانی برسایافَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذابٍ [ الفجر/ 13] تو تمہارے پروردگار نے ان پر عذاب کا کوڑا برسایا ۔ يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُؤُسِهِمُ الْحَمِيمُ [ الحج/ 19] ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی گرایا جائیگا ۔ صب الیٰ کذا صبابۃ ۔ عاشق ہونا اور صفت کا صیغہ خاص کر صب ( بروزن فعل ) آنا ہے ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ فلان صب بکذا فلاں اس پر فریفتہ ہے ۔ اور صرمۃ کی طرح صبۃ کے معنی بھی جانوروں کی ٹکڑی یا جماعت کے ہیں الصبیب بارش کا پانی ۔ کسی چیز کا عصارہ ۔ بہایا ہوا خون الصبابۃ والصبۃ کسی چیز کا باقی ماندہ جو گرانے کے لائق ہو تصاببت الاناء ( تفاعل ) میں نے برتن سے باقی ماندہ پانی بھی پی لیا ۔ تصبصب ( تفعلل کسی چیز کا باقی ماندہ بھی ختم ہوجانا ۔ ماء قال تعالی: وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍ [ الأنبیاء/ 30] ، وقال : وَأَنْزَلْنا مِنَ السَّماءِ ماءً طَهُوراً [ الفرقان/ 48] ، ويقال مَاهُ بني فلان، وأصل ماء مَوَهٌ ، بدلالة قولهم في جمعه : أَمْوَاهٌ ، ومِيَاهٌ. في تصغیره مُوَيْهٌ ، فحذف الهاء وقلب الواو، ( م ی ہ ) الماء کے معنی پانی کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍ [ الأنبیاء/ 30] اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں ۔ وَأَنْزَلْنا مِنَ السَّماءِ ماءً طَهُوراً [ الفرقان/ 48] پاک ( اور نتھرا ہوا پانی اور محاورہ ہے : ۔ ماء بنی فلان فلاں قبیلے کا پانی یعنی ان کی آبادی ماء اصل میں موہ ہے کیونکہ اس کی جمع امراۃ اور میاہ آتی ہے ۔ اور تصغیر مویۃ پھر ہا کو حزف کر کے واؤ کو الف سے تبدیل کرلیا گیا ہے
(٢٥۔ ٣٢) اب اس تحویل کو بیان کرتا ہے کہ ہم نے عجیب طور سے زمین پر پانی برسایا اور پھر نباتات کے ذریعے سے پھاڑا پھر ہم نے اس زمین میں ہمہ قسم کے غلے اور انگور اور ترکاریاں اور زیتون اور کھجور اور گنجان باغ اور میوے اور چارہ پیدا کیا، غلے تمہارے فائدے کے لیے اور چارہ تمہارے جانوروں کے لیے۔
18 This refers to rainwater: water vapours are raised in vast quantities from the oceans by the heat of the sun: then they are turned into thick clouds; then the winds blow and spread them over different parts of the earth; then because of the coolness in the upper atmosphere the vapours turn back to water and fall as rain in every area in a particular measure. The water not only falls as rain directly on the earth but also collects underground in the shape of wells and fountains, flows in the form of rivers and streams, freezes on the mountains as snow and melts and flows into rivers in other seasons as well than the rainy season. Has man himself made all these arrangements? Had his Creator not arranged this for his sustenance, could man survive on the earth ?
سورة عَبَس حاشیہ نمبر :18 اس سے مراد بارش ہے ۔ سورج کی حرارت سے بے حد و حساب مقدار میں سمندروں سے پانی بھاپ بنا کر اٹھایا جاتا ہے ، پھر اس سے کثیف بادل بنتے ہیں ، پھر ہوائیں ان کو لے کر دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلاتی ہیں ، پھر عالم بالا کی ٹھنڈک سے وہ بھاپیں از سرنو پانی کی شکل اختیار کرتی اور ہر علاقے میں ایک خاص حساب سے برستی ہیں ، پھر وہ پانی براہ راست بھی زمین پر برستا ہے ، زیر زمین کنوؤں اور چشموں کی شکل بھی اختیار کرتا ہے ، دریاؤں اور ندی نالوں کی شکل میں بھی بہتا ہے ، اور پہاڑوں پر برف کی شکل میں جم کر پھر پگھلتا ہے اور بارش کے موسم کے سوا دوسرے موسموں میں بھی دریاؤں کے اندر رواں ہوتا ہے ۔ کیا یہ سارے انتظامات انسان نے خود کیے ہیں؟ اس کا خالق اس کی رزق رسانی کے لیے یہ انتظام نہ کرتا تو کیا انسان زمین پر جی سکتا تھا ؟
(80:25) انا صببنا الماء صبا : جملہ مستانفہ ہے انا تحقیق ہم نے صببنا ماضٰ کا صیغہ جمع متکلم صب (باب نصر) مصدر سے بمعنی اوپر سے بہانا۔ متعدی ہے۔ اسی مصدر سے باب ضرب سے بمعنی اوپر سے بہنا (فعل لازم) آیا ہے ۔ لیکن قرآن مجید میں یہ متعدی آیا ہے۔ صبا مفعول مطلق۔ مبالغہ کے لئے ۔ ہم نے آسمان سے خوب (مینہ) برسایا۔
انا ............ صبا (25:80) ” ہم نے خوب پانی لنڈھایا “۔ پانی کا بارش کی صورت میں گرایا جانا ایک ایسا عمل ہے ، جس سے ہر دور کا انسان واقف تھا۔ علم و تجربہ کے ابتدائی اور انتہائی مراحل کے انسان اس سے واقف تھے۔ یہ ایک حقیقت ہے جو انسان ، ہر انسان کے سامنے پیش کی جاتی ہے لیکن جب انسان نے ترقی کرلی تو اسے معلوم ہوا کہ اس آیت کے مفہوم میں کیا کیا وسعتیں ہیں۔ آج کل کے ماہرین ماحولیات اس زمین کے اوپر پانی کے اس اجتماع کے بارے میں جو مفروضے پیش کرتے ہیں ، ان میں سے قریب ترین یہ ہے کہ یہ پانی ہمارے اوپر فضا میں تھا اور یہ بارش کی شکل میں زمین پر گرا اور سمندروں کی شکل اختیار کرگیا۔ دور حاضر کے سائنس دانوں میں سے ایک شخص یہ کہتا ہے : ” اگر اس بات کو درست مان لیا جائے کہ سورج سے جدا ہونے کے وقت زمین کا درجہ حرارت یا زمین کی سطح کا درجہ حرارت تقریباً 12000 ڈگری تھا تو یہ بات تسلیم کرنی ہوگی کہ اس وقت تمام عناصر ایک دوسرے سے الگ تھے اور کسی کیمیاوی ترکیب کا امکان ہی نہ تھا۔ پھر کرہ ارض اور اس کے اجزائے ترکیبی بتدریج ٹھنڈے ہوگئے اور اس طرح مختلف کیمیاوی مرکبات وجود میں آئے۔ اور اس دنیا کا ملبہ وجود میں آیا جسے ہم جانتے ہیں۔ آکسیجن اور ہائیڈروجن اس وقت تک مل نہیں سکتے جب درجہ حرارت 4000 ہزار فارن ہیٹ تک نہ آجائے۔ یوں جب درجہ حرارت 4000 ہزار فارن ہیٹ تک آیا تو یہ اجزاء مرکب ہوگئے اور پانی وجود میں آیا جس کے بارے میں جدید سائنس نے معلوم کرلیا ہے کہ وہ کرہ ہوائی کی شکل میں تھا اور سمندر کا پانی زمین پر نہ تھا بلکہ ہوا کی شکل میں تھا۔ اور تمام دوسرے عناصر بھی مفرد تھے۔ ان کی ترکیب عمل میں نہ آئی تھی۔ یہ عناصر گیسوں کی شکل میں تھے۔ جب کرہ ہوئی میں پانی تیار ہوا تو وہ زمین پر گرنے لگا لیکن یہ بارش جوں جوں زمین کے قریب آتی ، زیادہ حرارت کی وجہ سے پھر گیس بن کر فضا میں اٹھ جاتی۔ کیونکہ زمین کا درجہ حرارت اس سے بھی زیادہ تھا جتنا ہزارہا میل بالائی فضاﺅں میں تھا۔ بالآخر جب زمین بتدریج ٹھنڈی ہوتی گئی تو بارشوں کا یہ طوفان زمین کے قریب پہنچ گیا اور گرمی کی وجہ سے دوبارہ بھاپ بن کر اٹھتا رہا۔ آخر کار اس عظیم طوفان نے زمین کی سطح کو ٹھنڈا کرکے ، یہ عظیم سمندر جو فضاﺅں میں تھے ، زمین پر اتاردیئے۔ یہ طوفان کس قدر عظیم تھے ان کا تصور بھی مشکل ہے “۔ (علم ایمان کی طرح ہوتا ہے ، ترجمہ ڈاکٹر محمود صالح فلکی) ہم ان مفرضوں اور نظریات کو مفروضے ہی مانتے ہیں اور قرآن کو ان کے ساتھ محدود نہیں کرتے لیکن یہ نظریات قرآن کے مفہوم کو وسیع کردیتے ہیں اور اسے ہمارے فہم وادراک کے قریب لے آتے ہیں۔ یہ دراصل پانی انڈیلنے کی سائنسی تاریخ ہے۔ یہ نظریات بہرحال نظریات ہیں۔ درست بھی ہوسکتے ہیں اور غلط بھی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آئندہ پانی کے زمین پر آنے کے کچھ دوسرے نظریات بھی وجود میں آجائیں کیونکہ قرآن ہر دور اور ہر معیار علم کے انسانوں سے مخاطب ہوتا ہے۔ اور یہی قرآن کا اعجاز ہے کہ ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ اسے میں نے ہی سمجھا ہے۔ یہ تھا طعام کا ابتدائی حصہ۔ انا .................... صبا (25:80) ” ہم نے خوب پانی لنڈھایا “۔ کیا انسان یہ سوچ سکتا ہے کہ اس پانی کی تخلیق میں اس کا کوئی بھی دخل ہے۔ یا اس کی پیدائش کی ہسٹری میں ان کا دخل ہے یا انسانوں نے کسی تدبیر سے یہ سمندر زمین پر انڈیل دیئے تاکہ وہ اپنے طعام کا انتظام کریں۔