Surat Abas
Surah: 80
Verse: 26
سورة عبس
ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا ﴿ۙ۲۶﴾
Then We broke open the earth, splitting [it with sprouts],
پھر پھاڑا زمین کو اچھی طرح ۔
ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا ﴿ۙ۲۶﴾
Then We broke open the earth, splitting [it with sprouts],
پھر پھاڑا زمین کو اچھی طرح ۔
And We split the earth in clefts. meaning, `We cause it (the water) to settle in it (the earth), and it enters into its boundaries, and mingles with the parts of the seeds that are left in the earth. From this the seeds grow, rise up and appear on the surface of the earth (in the form of vegetation).' فَأَنبَتْنَا فِيهَا حَبًّا
[١٧] بارش کا زمین پر اثر : یعنی انسان اگر اپنے کھانے کی چیزوں میں ہی غور کرلیتا تو اسے اپنے پروردگار کی ناشکری کی کبھی جرأت نہ ہوسکتی تھی۔ انسان کا کام صرف اتنا ہے کہ وہ زمین میں سطح زمین سے تھوڑا سا نیچے بیج اتار دے۔ بس اس کے بعد اس کا کام ختم ہوجاتا ہے۔ خواہ انسان یہ کام زمین میں ہل چلا کر کرے یا کسی دوسرے ذریعہ سے کرے۔ زمین پر بارش برسانا اللہ کا کام ہے۔ یہی بارش کا پانی کبھی ندی نالوں، دریاؤں اور نہروں سے حاصل ہوتا ہے اور کبھی چشموں اور کنووں سے۔ بہرحال وہ بارش ہی کا جمع شدہ پانی ہوتا ہے۔ خ زمین میں بالیدگی :۔ پانی اور زمین کی اوپر کی سطح جب مل جاتے ہیں تو ایسی مٹی میں اللہ تعالیٰ نے یہ خاصیت رکھی ہے کہ وہ بیج کو کھول دیتی ہے۔ اس مردہ اور بےجان بیج میں زندگی کی رمق پیدا ہوجاتی ہے اور وہ کونپل کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ خ بیج میں درخت کی خصوصیات :۔ پھر اس نرم و نازک کونپل میں، جو ہوا کے ایک معمولی سے جھونکے کو بھی برداشت نہیں کرسکتی۔ اللہ تعالیٰ نے بالیدگی کی اتنی قوت بھر دی ہے کہ وہ کونپل دو تین دن بعد اوپر سے ملی ہوئی زمین کو پھاڑ کر زمین کے اندر سے یوں باہر نکل آتی ہے جیسے بچہ ماں کے پیٹ سے باہر نکل آتا ہے۔ پھر یہی بیج آہستہ آہستہ مکمل پودا یا تناور درخت بن جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ زمین میں بالیدگی کی استعداد نہ رکھتا یا بیج میں وہ تمام خصوصیات نہ رکھتا جو اس کے پودے یا درخت میں تھیں، یا بارش ہی نہ برساتا تو کیا انسان کے پاس کوئی ایسا ذریعہ ہے جس سے وہ اپنی خوراک حاصل کرسکتا ؟
(ثمشققنا الارض شقاً :” شقاً “ ایک قسم کا پھاڑنا ، یعنی زمین کو ہم نے عجیب طریقے سے پھاڑا۔ دانے سے نمودار ہونے والی کو پنل خود کبھی زمین سے باہر نہیں نکل سکتی تھی، زمین میں ضرورت کے مطابق نرمی و نمی اور بیج میں یہ طاقت وہم نے رکھی کہ وہ زمین پھاڑ کر باہر نکل آیا۔
ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّا ٢٦ ۙ شق الشَّقُّ : الخرم الواقع في الشیء . يقال : شَقَقْتُهُ بنصفین . قال تعالی: ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا[ عبس/ 26] ، يَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ عَنْهُمْ سِراعاً [ ق/ 44] ، وَانْشَقَّتِ السَّماءُ [ الحاقة/ 16] ، إِذَا السَّماءُ انْشَقَّتْ [ الانشقاق/ 1] ، وَانْشَقَّ الْقَمَرُ [ القمر/ 1] ، وقیل : انْشِقَاقُهُ في زمن النّبيّ عليه الصلاة والسلام، وقیل : هو انْشِقَاقٌ يعرض فيه حين تقرب القیامة وقیل معناه : وضح الأمروالشِّقَّةُ : القطعة الْمُنْشَقَّةُ کالنّصف، ومنه قيل : طار فلان من الغضب شِقَاقًا، وطارت منهم شِقَّةٌ ، کقولک : قطع غضبا والشِّقُّ : الْمَشَقَّةُ والانکسار الذي يلحق النّفس والبدن، وذلک کاستعارة الانکسار لها . قال عزّ وجلّ : لَمْ تَكُونُوا بالِغِيهِ إِلَّا بِشِقِّ الْأَنْفُسِ [ النحل/ 7] ، والشُّقَّةُ : النّاحية التي تلحقک المشقّة في الوصول إليها، وقال : بَعُدَتْ عَلَيْهِمُ الشُّقَّةُ [ التوبة/ 42] ، ( ش ق ق ) الشق الشق ۔ شگاف کو کہتے ہیں ۔ شققتہ بنصفین میں نے اسے برابر دو ٹکڑوں میں کاٹ ڈالا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا[ عبس/ 26] پھر ہم نے زمین کو چیرا پھاڑا ۔ يَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ عَنْهُمْ سِراعاً [ ق/ 44] اس روز زمین ( ان سے ) پھٹ جائے گی ۔ وَانْشَقَّتِ السَّماءُ [ الحاقة/ 16] اور آسمان پھٹ جائے گا ۔ إِذَا السَّماءُ انْشَقَّتْ [ الانشقاق/ 1] جب آسمان پھٹ جائیگا ۔ اور آیت کریمہ : وَانْشَقَّ الْقَمَرُ [ القمر/ 1] اور چاند شق ہوگیا ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ انشقاق قمر آنحضرت کے زمانہ میں ہوچکا ہے ۔ اور بعض کا قول ہے کہ یہ قیامت کے قریب ظاہر ہوگا اور بعض نے انشق القمر کے معنی وضح الاسر کئے ہیں یعنی معاملہ واضح ہوگیا ۔ الشقۃ پھاڑا ہوا ٹکڑا ۔ اسی سے محاورہ ہے ۔ طار فلان من الغضب شقاقا فلاں غصہ سے پھٹ گیا ۔ جیسا کہ قطع غضبا کا محاورہ ہے ۔ طارت منھم شقۃ ۔ ان کا ایک حصہ اڑ گیا ۔ یعنی غضب ناک ہوئے ۔ الشق اس مشقت کو کہتے ہیں جو تگ و دو سے بدن یا نفس کو ناحق ہوتی ہے جیسا کہ الانکسار کا لفظ بطور استعارہ نفس کی درماندگی کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : إِلَّا بِشِقِّ الْأَنْفُسِ [ النحل/ 7] زحمت شاقہ کے بغیر الشقۃ وہ منزل مقصود جس تک بہ مشقت پہنچا جائے ۔ قرآن میں ہے َبَعُدَتْ عَلَيْهِمُ الشُّقَّةُ [ التوبة/ 42] لیکن مسافت ان کو دور ( دراز ) نظر آئی ۔ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔
آیت ٢٦{ ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّا ۔ } ” پھر ہم نے زمین کو پھاڑا جیسے کہ وہ پھٹتی ہے۔ “ زمین پھٹتی ہے اور اس میں سے کو نپلیں برآمد ہوتی ہیں ‘ جو رفتہ رفتہ پورے پودے بلکہ تناور درخت کی صورت اختیار کرلیتی ہیں۔
19 "Cleaving the earth asunder" implies cleaving it in a way that the seeds, or seed-stones, or vegetable seedlings that man sows or plants in it, or which are deposited in it by winds or birds, or by some other means, should sprout up. Man can do nothing more than to dig the soil, or plough it, and bury in it the seeds that God has already created. Beyond this everything is done by God. It is He Who has created the seeds of countless species of vegetable; it is He Who has endowed these seeds with the quality that when they are sown in the soil, they should sprout up and from every seed vegetable of its own particular species should grow. Again it is He Who has created in the earth the capability that in combination with water it should break open the seeds and develop and nourish every species of vegetable with the kind of food suitable for it. Had God not created the seeds with these qualities and the upper layers of the earth with these capabilities, man could not by himself have arranged any kind of food on the earth.
سورة عَبَس حاشیہ نمبر :19 زمین کو پھاڑنے سے مراد اس کو اس طرح پھاڑنا ہے کہ جو بیج یا گھٹلیاں یا نباتات کی پنیریاں انسان اس کے اندر بوئے ، یا جو ہواؤں اور پرندوں کے ذریعہ سے ، یا کسی اور طریقے سے اس کے اندر پہنچ جائیں ، وہ کونپلیں نکال سکیں ۔ انسان اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتا کہ زمین کو کھودتا ہے یا اس میں ہل چلاتا ہے اور جو تخم خدا نے پیدا کر دیے ہیں ، انہیں زمین کے اندر اتار دیتا ہے ، اس کے سوا سب کچھ خدا کا کام ہے ۔ اسی نے بے شمار اقسام کی نباتات کے تخم پیدا کیے ہیں ۔ اسی نے ان تخموں میں یہ خاصیت پیدا کی ہے کہ زمین میں پہنچ کر وہ پھوٹیں اور ہر تخم سے اسی کی جنس کی نباتات اگے ۔ اور اسی نے زمین میں یہ صلاحیت پیدا کی ہے کہ پانی سے مل کر وہ ان تخموں کو کھولے اور ہر جنس کی نباتات کے لیے اس کے مناسب حال غذا بہم پنچا کر اسے نشو نما دے ۔ یہ تخم ان خاصیتوں کے ساتھ ، اور زمین کی یہ بالائی تہیں ان صلاحیتوں کے ساتھ خدا نے پیدا نہ کی ہوتیں تو کیا انسان کوئی غذا بھی یہاں پا سکتا تھا ؟
8: ایک ننھے سے پودے کی کونپل اتنی بھاری زمین کو پھاڑ کر جس طرح باہر نکل آتی ہے، وہ اﷲ تعالیٰ کی قدرت پر ایمان لانے کے لئے کافی ہونی چاہئے۔
(80:26) ثم شققنا الارض شقا : ثم تراخی وقت کے لئے ہے۔ پھر، ازاں بعد۔ شققنا ماضی جمع متکلم۔ شق (باب نصر) مصدر۔ بمعنی پھاڑنا۔ چیرنا۔ شقا مفعول مطلق پھر ہم نے زمین کو خوب چیرا۔ پھاڑا۔ مطلب یہ ہے کہ زمین کو ہل وغیرہ سے تیار کیا۔ چیرنے پھاڑنے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف اس لئے کی ہے کہ ہر فعل کا وہی مسبب ہے۔
ف 11 یعنی خود بیج کی یہ طاقت نہ تھی کہ وہ زمین کو پھاڑ کر باہر نکل سکتا۔ اس میں یہ طاقت ہم نے رکھی ہے۔
ثم ............ شقا (26:80) ” پھر ہم نے زمین کو عجیب طرح پھاڑا “۔ پانی نے انڈیلنے کے بعد یہ تیسرا مرحلہ ہے۔ یہ بات بالکل ابتدائی اور پتھر کے دور کے انسان کی سمجھ میں بھی آتی تھی جو دیکھتا تھا کہ پانی آسمانوں سے برس رہا ہے اور یہ خدا کی قدرت سے برس رہا ہے اور اس میں انسان کی تدبیر اور تقدیر کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اس کے بعد وہ دیکھ رہا تھا کہ یہ زمین کو پھاڑ کر اس کی مٹی میں جذب ہوتا تھا ، یا وہ دیکھتا تھا کہ زمین کی مٹی اللہ کی قدرت سے شق ہونا ہوتی ہے۔ اس سے نباتات نکلتے ہیں اور فضا میں بلند ہوتے ہیں۔ حالانکہ یہ نباتات ؟ ؟ ؟ ؟ صفحہ نمبر 839؟ ؟ ؟ ؟ اور زمین نہایت بھاری اور مضبوط ہوتی ہے لیکن یہ دست قدرت ہی ہے جو اس مضبوطزمین کو شق کرکے اس کے اندر سے نرم ونازک پودے کو نکالنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ بھی ایک معجزہ ہے جسے ہر انسان دیکھتا ہے جو پودے اور مٹی کا مشاہدہ رکھتا ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات کے اندر ایک خفیہ قوت کام کررہی ہے اور یہ نہایت ہی مہربان قوت ہے۔ لیکن اس ابتدائی مفہوم کے بعد جو علوم آگے پڑھتے ہیں تو آیت کے مفہوم ومدلول کا دائرہ وسیع ہوتا جاتا ہے۔ اور زمین کے شق ہونے کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ یہ پودوں کی پرورش کے لئے سازگار بنادی گئی ہے۔ جیسا کہ سابقہ نظریہ میں ہم نے بتایا کہ زمین کے اوپر پانی کے ہولناک طوفان آئے۔ جن کے نتیجے میں زمین کے چھلکے کی چٹانیں ٹوٹ پھوٹ کر بہہ نکلیں اور ہموار میدان وجود میں آئے ، جس کے اندر ایسی مٹی جمع ہوگئی جو قابل زراعت ہے ۔ یہ مفہوم بھی اس آیت میں داخل ہے۔ ثم ............................ شقا (26:80) ” پھر ہم نے زمین کو پھاڑا “۔ کی آیت۔ انا صببنا .................................... صبا (25:80) ” ہم نے پانی لنڈھایا “ کے بعد آتی ہے۔ اس سے بھی یہی اشارہ ملتا ہے کہ زمین کا شق ہونا پانی کے بعد ہوا۔ بہرحال ان آیات کا یہ مفہوم ہو یا کوئی تیسرا مفہوم ہو ، بہرحال تحقیق کے تیسرے مرحلے میں نباتات کی تخلیق کا ذکر ہے اور بظاہر ان نباتات کی طرف اشارہ کیا گیا جو انسانوں اور انسانوں کے کام آنے والے مویشیوں کے لئے چارہ کا کام کرتے ہیں اور جن کو ابتدائی انسان بھی اچھی طرح سمجھتا تھا۔