The tafseer of Surat Abas, verse 28, from every tafseer on this site - read one or compare them with each other.
And We cause therein Habb to grow. And grapes and Qadb, - Al-Habb refers to all types of seeds (or grains). - Grapes are well-known. - Al-Qadb are the moist (green) herbal plants that animals graze on. It is also called Al-Qat. Ibn `Abbas, Qatadah, Ad-Dahhak and As-Suddi, all said this. Al-Hasan Al-Basri said, "Al-Qadb is fodder."
وَّعِنَبًا وَّقَضْبًا ٢٨ ۙ عنب العِنَبُ يقال لثمرة الکرم، وللکرم نفسه، الواحدة : عِنَبَةٌ ، وجمعه : أَعْنَابٌ. قال تعالی: وَمِنْ ثَمَراتِ النَّخِيلِ وَالْأَعْنابِ [ النحل/ 67] ، وقال تعالی: جَنَّةٌ مِنْ نَخِيلٍ وَعِنَبٍ [ الإسراء/ 91] ، وَجَنَّاتٍ مِنْ أَعْنابٍ [ الرعد/ 4] ، ( عن ن ب ) العنب ( انگور ) یہ انگور کے پھل اور نفس کے لئے بھی بولا جات ا ہے اس کا واحد عنبۃ ہے اور جمع اعناب قرآن میں ہے : وَمِنْ ثَمَراتِ النَّخِيلِ وَالْأَعْنابِ [ النحل/ 67] اور کھجور اور انگور کے میووں سے بھی ۔ جَنَّةٌ مِنْ نَخِيلٍ وَعِنَبٍ [ الإسراء/ 91] کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو ۔ وَجَنَّاتٍ مِنْ أَعْنابٍ [ الرعد/ 4] اور انگوروں کے باغ ۔ قضب قال اللہ تعالی: فَأَنْبَتْنا فِيها حَبًّا وَعِنَباً وَقَضْباً [ عبس/ 27- 28] أي : رطبة، والْمَقَاضِبُ : الأرض التي تنبتها، والْقَضِيبُ نحو الْقَضْبِ ، لکن الْقَضِيبُ يستعمل في فروع الشّجر، والقَضْبُ يستعمل في البقل، والقضب : قطع القضب والقضیب . وروي «أنّ النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم کان إذا رأى في ثوب تصلیبا قَضَبَهُ» وسیف قَاضِبٌ وقَضِيبٌ ، أي : قاطع، فَالْقَضِيبُ هاهنا بمعنی الفاعل، وفي الأوّل بمعنی المفعول، وکذا قولهم : ناقة قَضِيبٌ: مُقْتَضَبَةٌ من بين الإبل ولمّا ترض، ويقال لكلّ ما لم يهذّب : مُقْتَضَبٌ ، ومنه : اقْتَضَبَ حدیثا : إذا أورده قبل أن راضه وهذّبه في نفسه . ( ق ض ب ) الغضب ( اسم ) کے معنی لمبے اور پھیلے ہوئے در خت کے ہیں ۔ مگر آیت کر یمہ : ۔ فَأَنْبَتْنا فِيها حَبًّا وَعِنَباً وَقَضْباً [ عبس/ 27- 28] پھر ہم ہی نے اس میں اناج اگایا اور انگور اور تر کاری ۔ میں قضب سے مرادتازہ گھاس اور تر کاریاں ہیں ۔ المقاضب وہ زمین جہاں ساگ پات وغیرہ اگتا ہو ۔ القضیب بمعنی قضب ہے لیکن در خت کی ترو تازہ شاخوں کو قضب اور سبزی تر کاری وغیرہ کو قضب کہا جاتا ہے ۔ نیز القضب ( مصدر ) کے منعی سبزی تر کاری اور تر و تازہ شاخوں کو قطع کر نا بھی آتے ہیں ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت جب کیس کپڑے میں صلیب کے نشانات دیکھتے تو اسے قطع کردیتے ۔ سیف قاضب وقضیب قاطع تلوار ۔ یہ فعیل بمعنی فاعل ہے اور اس سے پہلی مثال میں بمعنی مفعول اس طرح ناقۃ قضیب اس اونٹنی کو کہتے ہیں جو اونٹوں سے الگ کرلی گئی ہو اور قضیب ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جو کاٹ کر جدا کردی گئی ہو اور جو چیز غیر مہزب یعنی کانٹ جھا نٹ کر درست نہ کی گئی ہو اسے مقتضب کہا جاتا ہے اور اسی سے اقتضب حدیثا کا محاورہ ہے جس کے معنی فی البدیہہ بات کہنے کے ہیں ۔
(80:28) عنبا وقضبا۔ واؤ عاطفہ، عنبا معطوف، واؤ عاطفہ قضبا معطوف ہر دو عنبا، قضبا کا عطف حیا پر ہے۔ عنب بمعنی انگور۔ امام راغب لکھتے ہیں :۔ عنب انگور کو بھی کہتے ہیں اور اس کے درخت کو بھی۔ اس کا واحد وعنبۃ ہے اور جمع اعناب ہے۔ قضبا کھیرا، یا عام سبز ترکاری۔ قضب وقضیب دونوں کے معنی تروتازہ ، لیکن درخت کی تروتازہ شاخوں کو بھی قضیب کہا جاتا ہے۔
وعنبا وقضبا (28:80) ” انگور اور ترکاریاں “۔ انگور تو مشہور ہیں۔ قصب ان سبزیوں کو کہا جاتا ہے جو سبزی کے طور پر کھائی جاتی ہیں۔ اور ان کو بار بار کاٹا اور چنا جاتا ہے۔
(28) اور انور اور ترکاری۔