Surat Abas

Surah: 80

Verse: 4

سورة عبس

اَوۡ یَذَّکَّرُ فَتَنۡفَعَہُ الذِّکۡرٰی ؕ﴿۴﴾

Or be reminded and the remembrance would benefit him?

یا نصیحت سنتا اور اسے نصیحت فائدہ پہنچاتی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Or he might receive admonition, and the admonition might profit him? meaning, he may receive admonition and abstain from the forbidden. أَمَّا مَنِ اسْتَغْنَى

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣] یعنی یہ عین ممکن تھا کہ وہ نابینا آپ کی توجہ سے بہت زیادہ مستفید ہوجاتا کیونکہ وہ طلب صادق لے کر آیا تھا۔ پھر آپ کی نصیحت پر عمل کرکے وہ اپنے نفس کو پاکیزہ بنا لیتا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَہُ الذِّكْرٰى۝ ٤ ۭ ذكر ( نصیحت) وذَكَّرْتُهُ كذا، قال تعالی: وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] ، وقوله : فَتُذَكِّرَ إِحْداهُمَا الْأُخْرى [ البقرة/ 282] ، قيل : معناه تعید ذكره، وقد قيل : تجعلها ذکرا في الحکم «1» . قال بعض العلماء «2» في الفرق بين قوله : فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ [ البقرة/ 152] ، وبین قوله : اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ [ البقرة/ 40] : إنّ قوله : فَاذْكُرُونِي مخاطبة لأصحاب النبي صلّى اللہ عليه وسلم الذین حصل لهم فضل قوّة بمعرفته تعالی، فأمرهم بأن يذكروه بغیر واسطة، وقوله تعالی: اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ مخاطبة لبني إسرائيل الذین لم يعرفوا اللہ إلّا بآلائه، فأمرهم أن يتبصّروا نعمته، فيتوصّلوا بها إلى معرفته . الذکریٰ ۔ کثرت سے ذکر الہی کرنا اس میں ، الذکر ، ، سے زیادہ مبالغہ ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ ذَكَّرْتُهُ كذا قرآن میں ہے :۔ وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] اور ان کو خدا کے دن یاد دلاؤ ۔ اور آیت کریمہ ؛فَتُذَكِّرَ إِحْداهُمَا الْأُخْرى [ البقرة/ 282] تو دوسری اسے یاد دلا دے گی ۔ کے بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ اسے دوبارہ یاد دلاوے ۔ اور بعض نے یہ معنی کئے ہیں وہ حکم لگانے میں دوسری کو ذکر بنادے گی ۔ بعض علماء نے آیت کریمہ ؛۔ فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ [ البقرة/ 152] سو تم مجھے یاد کیا کر میں تمہیں یاد کروں گا ۔ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ [ البقرة/ 40] اور میری وہ احسان یاد کرو ۔ میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ کے مخاطب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب ہیں جنہیں معرفت الہی میں فوقیت حاصل تھی اس لئے انہیں براہ راست اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ اور دوسری آیت کے مخاطب بنی اسرائیل ہیں جو اللہ تعالیٰ کو اس نے انعامات کے ذریعہ سے پہچانتے تھے ۔ اس بنا پر انہیں حکم ہوا کہ انعامات الہی میں غور فکر کرتے رہو حتی کہ اس ذریعہ سے تم کو اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوجائے ۔ نفع النَّفْعُ : ما يُسْتَعَانُ به في الوُصُولِ إلى الخَيْرَاتِ ، وما يُتَوَصَّلُ به إلى الخَيْرِ فهو خَيْرٌ ، فَالنَّفْعُ خَيْرٌ ، وضِدُّهُ الضُّرُّ. قال تعالی: وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً [ الفرقان/ 3] ( ن ف ع ) النفع ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے خیرات تک رسائی کے لئے استعانت حاصل کی جائے یا وسیلہ بنایا جائے پس نفع خیر کا نام ہے اور اس کی ضد ضر ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً [ الفرقان/ 3] اور نہ اپنے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(80:4) او یذکر : او بمعنی یا۔ یذکر مضارع مرفوع کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ تذکر (تفعل) مصدر، اصل میں یتذکر تھا۔ ت کو ذ میں مدغم کیا گیا۔ اس کا عطف یزکی پر ہے۔ اور یہ بھی ترجی ۔ لعل کے حکم میں داخل ہے۔ فتنفعہ ف جواب تمنی کے لئے ہے اور ف کے عمل سے مضارع منصوب ہے۔ ہ کی ضمیر الاعمی کی طرف راجع ہے۔ تنفع مضارع واحد مؤنث غائب نفع مصدر (باب فتح) وہ اس کو نفع پہنچائے گی۔ اس میں ضمیر فاعل واحد مؤنث غائب ہے جس کا مرجع الذکری ہے۔ الذکری تنبیہ ، نصیحت، یاد، ذکر یذکر کا مصدر بھی ہے۔ کثرت ذکر کے لئے بھی ذکری بولا جاتا ہے۔ یہ ذکر سے زیادہ بلیغ ہے۔ آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ یا وہ نصیحت کی باتیں یاد کرتا اور غور و فکر کرتا سو اس کو نصیحت نفع دیتی (یعنی اس کثرت ذکر سے اس کا حضور قلب بڑھ جاتا اور قرب الٰہی کے درجات حاصل ہوتے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(4) یا وہ کوئی نصیحت قبول کرلیتا سو اس کو نصیحت کرنا نفع دیتا یعنی آپ کے فیض توجہ سے اس کو پاکیزگی حاصل ہوتی اور عرفان کے منازل طے کرلیتا یا کم از کم کان میں کوئی نصیحت کی بات پڑجاتی اور وہ نصیحت کی بات اس کو فائدہ پہنچاتی اور وہ کس طرح محروم نہ رہتا اور وہ نصیحت کبھی اس کے کام آجاتی اور نفع بخش وسود مند ہوتی۔