Surat ul Infitaar
Surah: 82
Verse: 1
سورة الإنفطار
اِذَا السَّمَآءُ انۡفَطَرَتۡ ۙ﴿۱﴾
When the sky breaks apart
جب آسمان پھٹ جائے گا ۔
اِذَا السَّمَآءُ انۡفَطَرَتۡ ۙ﴿۱﴾
When the sky breaks apart
جب آسمان پھٹ جائے گا ۔
What will happen on the Day of Judgement Allah says, إِذَا السَّمَاء انفَطَرَتْ When the heaven is cleft asunder (Infatarat). meaning, it splits. This is as Allah says, السَّمَأءُ مُنفَطِرٌ بِهِ Whereon the heaven will be cleft asunder (Munfatir)) (73:18) Then Allah says, وَإِذَا الْكَوَاكِبُ انتَثَرَتْ
اور قبریں پھوٹ پریں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے جیسے فرمایا آیت ( السَّمَاۗءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ ۭ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا 18 ) 73- المزمل:18 ) اور ستارے سب کے سب گر پڑیں گے اور کھاری اور میٹھے سمندر آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے ۔ اور پانی سوکھ جائے گا قبریں پھٹ جائیں گی ان کے شق ہونے کے بعد مردے جی اٹھیں گے پھر ہر شخص اپنے اگلے پچھلے اعمال کو بخوبی جان لے گا ، پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دھمکاتا ہے کہ تم کیوں مغرور ہو گئے ہو؟ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا جواب طلب کرتا ہو یا سکھاتا ہو ، بعض نے یہ بھی کہا ہے بلکہ انہوں نے جواب دیا ہے کہ اللہ کے کرم نے غافل کر رکھا ہے ، یہ معنی بیان کرنے غلط ہیں صحیح مطلب یہی ہے کہ اے ابن آدم اپنے باعظمت اللہ سے تو نے کیوں بےپرواہی برت رکھی ہے کس چیز نے تجھے اس کی نافرمانی پر اکسا رکھا ہے؟ اور کیوں تو اس کے مقابلے پر آمادہ ہو گیا ہے ؟ حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ، اے ابن آدم تجھے میری جانب سے کسی چیز نے مغرور کر رکھا تھا ؟ ابن آدم بنا تو نے میرے نبیوں کو کیا جواب دیا ؟ حضرت عمر نے ایک شخص کو اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ انسانی جہالت نے اسے غافل بنا رکھا ہے ، ابن عمر ابن عباس وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے ، قتادہ فرماتے ہیں اسے بہکانے والا شیطان ہے ، حضرت فضیل ابن عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر مجھ سے یہ سوال ہو تو میں جواب دوں گا کہ تیرے لٹکائے ہوئے پروں نے ۔ حضرت ابو بکر صدیق فرماتے ہیں میں تو کہوں گا کہ کریم کے کرم نے بےفکر کر دیا ، بعض سخن شناس فرماتے ہیں کہ یہاں پر کریم کا لفظ لاناگویا جواب کی طرف اشارہ سکھانا ہے ۔ لیکن یہ قول کچھ فائدے مند نہیں بلکہ صحیح مطلب یہ ہے کہ کرم والوں کو اللہ کے کرم کے مقابلہ میں بد افعال اور برے اعمال نہ کرنے چاہئیں ۔ کلبی اور مقاتل فرماتے ہیں کہ اسود بن شریق کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے ۔ اس خبیث نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مارا تھا اور اسی وقت چونکہ اس پر کچھ عذاب نہ آیا تو وہ پھول گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ پھر فرماتا ہے وہ اللہ جس نے تجھے پیدا کیا ، پھر درست بنایا پھر درمیانہ قد و قامت بخشا خوش شکل اور خوبصورت بنایا ، مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر اپنی انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم کیا تو مجھے عاجز کر سکتا ہے ؟ حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک کیا پھر صحیح قامت بنایا پھر تجھے پہنا اڑھا کر چلنا پھرنا سکھایا آخر کار تیرا ٹھکانہ زمین کے اندر ہے تو نے خوب دولت جمع کی اور میری راہ میں دینے سے باز رہا یہاں تک کہ جب دم حلق میں آ گیا تو کہنے لگا میں صدقہ کرتا ہوں ، بھلا اب صدقے کا وقت کہاں؟ جس صورت میں چاہا ترکیب دی یعنی باپ کی ماں کی ماموں کی چچا کی صورت میں پیدا کیا ۔ ایک شخص سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تیرے ہاں بچہ کیا ہو گا ؟ اس نے کہا یا لڑکا یا لڑکی ۔ فرمایا کس کے مشابہ ہو گا ؟ کہا یا میرے یا اس کی ماں کے ۔ فرمایا خاموش ایسا نہ کہہ نطفہ جب رحم میں ٹھہرتا ہے تو حضرت آدم تک کا نسب اس کے سامنے ہوتا ہے ۔ پھر آپ نے آیت ( فی ای صورۃٍ ما شاء رکبک ) پڑھی اور فرمایا جس صورت میں اسنے چاہا تجھے چلایا ۔ یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو آیت کے معنی کرنے کے لیے کافی تھی لیکن اس کی اسناد ثابت نہیں ہے ۔ مظہرین ہثیم جو اس کے راوی ہیں یہ متروک الحدیث ہیں ۔ ان پر اور جرح بھی ہے ۔ بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا میری بیوی کو جو بچہ ہوا ہے وہ سیاہ فام ہے ۔ آپ نے فرمایا تیرے پاس اونٹ بھی ہیں ؟ کہا ہاں ۔ فرمایا کس رنگ کے ہیں ؟ کہا سرخ رنگ کے ۔ فرمایا کہ ان میں کوئی چت کبرا بھی ہے ؟ کہا ہاں ۔ فرمایا اس کا رنگ کا بچہ سرخ نر و مادہ کے درمیان کیسے پیدا ہو گیا ؟ کہنے لگا شاید اوپر کی نسل کی طرف کوئی رگ کھینچ لے گئی ہو ۔ آپ نے فرمایا اسی طرح تیرے بچے کے سیاہ رنگ کے ہونے کی وجہ بھی شاید یہی ہو ۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں اگر چاہے بندر کی صورت بنا دے اگر چاہے سور کی ۔ ابو صالح فرماتے ہیں اگر چاہے کتے کی صورت میں بنا دے اگر چاہے گدھے کی اگر چاہے سور کی قتادہ فرماتے ہیں یہ سب سچ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے لیکن وہ مالک ہمیں بہترین ، عمدہ ، خوش شکل اور دل لبھانے والی پاکیزہ پاکیزہ شکلیں صورتیں عطا فرماتا ہے پھر فرماتا ہے کہ اس کریم اللہ کی نافرمانیوں پر تمھیں آمادہ کرنے والی چیز صرف یہی ہے کہ تمھارے دلوں میں قیامت کی تکذیب ہے تم اس کا آنا ہی برحق نہیں جانتے اس لیے اس سے بےپرواہی برت رہے ہو ، تم یقین مانو کہ تم پر بزرگ محافظ اور کاتب فرشتے مقرر ہیں ۔ تمھیں چاہیئے کہ انکا لحاظ رکھو وہ تمھارے اعمال لکھ رہے ہیں تمھیں برائی کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ کے یہ بزرگ فرشتے تم سے جنابت اور پاخانہ کی حالت کے سوا کسی وقت الگ نہیں ہوتے ۔ تم انکا احترام کرو ، غسل کے وقت بھی پردہ کر لیا کرو دیوار سے یا اوٹ سے ہی سہی یہ بھی نہ تو اپنے کسی ساتھی کو کھڑا کر لیا کرو تاکہ وہی پردہ ہو جائے ( ابن ابی حاتم ) بزار کی اس حدیث کے الفاظ میں کچھ تغیر و تبدل ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھیں ننگا ہونے سے منع کرتا ہے ۔ اللہ کے ان فرشتوں سے شرماؤ ۔ اس میں یہ بھی ہے کہ غسل کے وقت بھی یہ فرشتے دور ہو جاتے ہیں ایک حدیث میں ہے کہ جب یہ کراماکاتبین بندے کے روزانہ اعمال اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرتے ہیں تو اگر شروع اور آخر میں استغفار ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے درمیان کی سب خطائیں میں نے اپنے غلام کی بخش دیں ( بزار ) بزار کی ایک اور ضعیف حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعض فرشتے انسانوں کو اور ان کے اعمال کو جانتے پہنچانتے ہیں جب کسی بندے کو نیکی میں مشغول پاتے ہیں تو آپس میں کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں شخص نجات پا گیا فلاح حاصل کر گیا اور اس کے خلاف دیکھتے ہیں تو آپس میں ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں ہلاک ہوا ۔
1۔ 1 یعنی اللہ کے حکم اور اس کی ہیبت سے پھٹ جائے گا اور فرشتے نیچے اتر آئیں گے۔
[٢] اِنْفَطَرَتْ : فطر کے معنی کسی چیز کو لمبائی میں یوں پھاڑنا کہ اس میں شگاف پڑجائے اور فطور شگاف کے معنی میں آتا ہے۔ اس لحاظ سے انفطر کا معنی چِر جانا بھی درست ہے اور پھٹ جانا بھی۔ جو صورت بھی ہو اس سے آسمان میں شگاف پڑجائیں گے۔
خلاصہ تفسیر جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب ستارے (ٹوٹ کر) جھڑپڑیں گے اور جب سب دریا ( شور اور شیریں) بہہ پڑیں گے ( اور بہہ کر ایک ہوجاویں گے جیسا اوپر کی صورت میں سجرت کی تفسیر میں بیان ہوا ہے یہ تینوں واقعات تو نفخہ اولیٰ کے ہیں آگے نفخہ ثانیہ کے بعد کا واقعہ ہے یعنی) اور جب قبریں اکھاڑ دی جاویں گی ( یعنی ان میں کے مردے نکل کھڑے ہوں گے اس وقت) ہر شخص اپنے اگلے اور پچھلے اعمال کو جان لیگا (اور ان واقعات کا مقتضی یہ تھا کہ انسان خواب غفلت سے بیدار ہوتا اس لئے آگے غفلت پر زجر و تنبیہ ہے کہ) اے انسان تجھ کو کس چیز نے تیرے ایسے رب کریم کے ساتھ بھول میں ڈال رکھا ہے جس نے تجھ کو (انسان) بنایا پھر تیرے اعضا کو درست کیا پھر تجھ کو (مناسب) اعتدال پر بنایا ( یعنی اعضا میں تناسب رکھا اور) جس صورت میں چاہا تجھ کو ترکیب دیدیا، ہرگز (مغرور) نہیں (ہونا چاہئے مگر تم اغترار سے باز نہیں آتے) بلکہ (اس درجہ اغترار میں بڑھ گئے ہو کہ) تم (خود) جزا وسزا (ہی) کو (جس سے یہ غرور اور فریب دفع ہوسکتا تھا) جھٹلاتے ہو اور (یہ جھٹلانا تمہارا خالی نہ جاوے گا بلکہ ہماری طرف سے) تم پر (تمہارے سب اعمال کے) یاد رکھنے والے (جو ہمارے نزدیک) معزز ( اور تمہارے اعمال کے) لکھنے والے ( ہیں) مقرر ہیں جو تمہارے سب افعال کو جانتے ہیں ( اور لکھتے ہیں پس قیامت میں یہ سب اعمال پیش ہوں گے جن میں تمہاری یہ تکذیب اور کفر بھی ہے اور سب پر مناسب جزاء ملیگی جسکی تفصیل آگے ہے کہ) نیک لوگ بیشک آسائش میں ہوں گے اور بدکار (یعنی کافر) لوگ بیشک دوزخ میں ہوں گے روز جزا کو اس میں داخل ہوں گے اور (پھرداخل ہو کر) اس سے باہر نہوں گے (بلکہ اس میں خلود ہوگا) اور آپ کو کچھ خبر ہے کہ روز جزا کیسا ہے (اور ہم) پھر (مکرر کہتے ہیں کہ) آپ کو کچھ خبر ہے کہ وہ روز جزا کیسا ہے (مقصود اس استفہام سے تہویل ہے، آگے جواب ہے کہ) وہ ایسا دن ہے جس میں کسی شخص کا کسی شخص کے نفع کے لئے کچھ بس نہ چلے گا اور تمام تر حکومت اس روز اللہ ہی کی ہوگی۔
اِذَا السَّمَاۗءُ انْفَطَرَتْ ١ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ اذا کی مختلف صورتیں ہیں :۔ (1) یہ ظرف زمان ہے۔ ( زجاج، ریاشی) (2) یہ ظرف مکان ہے۔ ( مبرد، سیبوبہ) (3) اکثر و بیشتر اذا شرط ہوتا ہے۔ مفسرین نے تینوں معنوں میں اس کا استعمال کیا ہے۔ (1) ظرف زمان : اور جب تو وہاں ( کی نعمتیں) دیکھے گا۔ تو تجھ کو وہاں بڑی نعمت اور شاہی سازو سامان نظر آئے گا۔ ( تفسیر حقانی) (2) ظرف مکان : اور جدھر بھی تم وہاں دیکھو گے تمہیں نعمتیں ہی نعمتیں اور وسیع مملکت نظر آئے گی۔ ( تفسیر ضیاء القرآن) (3) اذا شرطیہ۔ اور اگر تو اس جگہ کو دیکھے توتجھے بڑی نعمت اور بڑی سلطنت دکھائی دے۔ ( تفسیر ماجدی) فطر أصل الفَطْرِ : الشّقُّ طولا، يقال : فَطَرَ فلان کذا فَطْراً ، وأَفْطَرَ هو فُطُوراً ، وانْفَطَرَ انْفِطَاراً. قال تعالی: هَلْ تَرى مِنْ فُطُورٍ [ الملک/ 3] ، أي : اختلال ووهي فيه، وذلک قد يكون علی سبیل الفساد، وقد يكون علی سبیل الصّلاح قال : السَّماءُ مُنْفَطِرٌ بِهِ كانَ وَعْدُهُ مَفْعُولًا[ المزمل/ 18] . وفَطَرْتُ الشاة : حلبتها بإصبعین، وفَطَرْتُ العجین : إذا عجنته فخبزته من وقته، ومنه : الفِطْرَةُ. وفَطَرَ اللہ الخلق، وهو إيجاده الشیء وإبداعه علی هيئة مترشّحة لفعل من الأفعال، فقوله : فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْها[ الروم/ 30] ، فإشارة منه تعالیٰ إلى ما فَطَرَ. أي : أبدع ورکز في النّاس من معرفته تعالی، وفِطْرَةُ اللہ : هي ما رکز فيه من قوّته علی معرفة الإيمان، وهو المشار إليه بقوله : وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ [ الزخرف/ 87] ، وقال : الْحَمْدُ لِلَّهِ فاطِرِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ فاطر/ 1] ، وقال : الَّذِي فَطَرَهُنَّ [ الأنبیاء/ 56] ، وَالَّذِي فَطَرَنا [ طه/ 72] ، أي : أبدعنا وأوجدنا . يصحّ أن يكون الِانْفِطَارُ في قوله : السَّماءُ مُنْفَطِرٌ بِهِ [ المزمل/ 18] ، إشارة إلى قبول ما أبدعها وأفاضه علینا منه . والفِطْرُ : ترک الصّوم . يقال : فَطَرْتُهُ ، وأَفْطَرْتُهُ ، وأَفْطَرَ هو وقیل للکمأة : فُطُرٌ ، من حيث إنّها تَفْطِرُ الأرض فتخرج منها . ( ف ط ر ) الفطر ( ن ض ) اس کے اصل معنی کسی چیز کو ( پہلی مرتبہ ) طول میں پھاڑنے کے ہیں چناچہ محاورہ ہے ۔ فطر فلانا کذا فطرا کسی چیز کو پھاڑ ڈالنا ۔ افطر ھو فطورا روزہ افطار کرنا انفطر انفطار پھٹ جانا اور آیت کریمہ : ۔ هَلْ تَرى مِنْ فُطُورٍ [ الملک/ 3] بھلا تجھ کو کوئی شگاف نظر آتا ہے ۔ میں فطور کے معنی خلل اور شگاف کے ہیں اور یہ پھاڑ نا کبھی کیس چیز کو بگاڑنے اور کبھی مبنی بر مصلحت ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ السَّماءُ مُنْفَطِرٌ بِهِ كانَ وَعْدُهُ مَفْعُولًا[ المزمل/ 18]( اور ) جس سے آسمان پھٹ جائیگا یہ اس کا وعدہ ( پورا ) ہو کر رہے گا ۔ فطر ت الشاۃ : میں نے بکری کو دو انگلیوں سے دو ہا فطرت العجین : آٹا گوندھ کر فورا روتی پکانا ۔ ( اسی سے فطرت ہے جس کے معنی تخلیق کے ہیں اور فطر اللہ الخلق کے معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی تخلیق اسطرح کی ہے کہ اس میں کچھ کرنے کی استعداد موجود ہے پس آیت کریمہ : ۔ فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْها[ الروم/ 30] اور خدا کی فطرت کو، جس پر لوگوں کو پیدا کیا ( اختیار کئے رہو۔ میں اس معرفت الہی کی طرف اشارہ ہے جو تخلیق طور پر انسان کے اندر ودیعت کی گئی ہے لہذا فطرۃ اللہ سے معرفت الہیٰ کی استعداد مراد ہے جو انسان کی جبلت میں پائی جاتی ہے ۔ چناچہ آیت : ۔ وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ [ الزخرف/ 87] اور اگر تم ان سے پوچھو کہ ان کو کس نے پیدا کیا تو بول اٹھیں گے خدا نے ۔ میں اسی قوت معرفت کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ فاطِرِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ فاطر/ 1] سب تعریف خدا ہی کو سزا وار ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے ۔ الَّذِي فَطَرَهُنَّ [ الأنبیاء/ 56] جس نے ان کو پیدا کیا ہے ۔ وَالَّذِي فَطَرَنا [ طه/ 72] اور جن نے ہم کو پیدا کیا ہے ۔ اور آیت کریمہ : السَّماءُ مُنْفَطِرٌ بِهِ [ المزمل/ 18] اور جس سے آسمان پھٹ جائے ۔ میں ہوسکتا ہے کہ انفطار سے اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر فیضان ہوگا ۔ وہ اسے قبول کرلے گا الفطر روزہ افطار کرنا ۔ کہا جاتا ہے ۔ فطر تہ وافطرتہ افطرھو یعنی لازم اور متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے اور گما ۃ کھمبی ) کو فطر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ زمین کو پھاڑ کر باہر نکلتی ہے انفطرت : ماضی واحد مؤنث غائب انفطار ( انفعال) مصدر سے ۔ وہ پھٹ گئی وہ چر گئی۔ یہاں ماضی بمعنی مستقبل آیا ہے۔ جب آسمان پھٹ جائے گا۔
(١۔ ٣) جب پروردگار کے نزول سے بغیر کسی کیفیت کے آسمان پھٹ جائے گا اور جب ستارے زمین پر ٹوٹ گریں گے اور کھاری دریا اور میٹھے دریا بہہ کر ایک دوسرے میں مل جائیں گے۔
١۔ ١٢۔ آسمان کے پھٹ جانے اور تاروں کے زمین پر آن پڑنے کا حال تو اوپر گزر چکا ہے ایک جگہ دریا کا بہہ نکلنا اور ایک جگہ دریا کے پانی کا آگ ہوجانا جو فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے زمین پر کے سب دریا ایک ہوجائیں گے اور پھر ان کا پانی آگ ہوجائے گا بعض سلف نے پانی کے آگ ہوجانے کا مطلب یہ قرار دیا ہے کہ دریا کا پانی گھولا کر آگ کی مانند گرم کردیا جائے گا اور وہی پانی دوزخ میں دوزخیوں کو پلایا جائے گا۔ واذا القبور بعثرت کا مطلب وہی ہے جو اوپر بیان ہوچکا ہے کہ آسمان سے ایک مینہ برسے گا جس سے سب آدمیوں کے جسم تیار ہوجائیں گے اور پھر ان جسموں سے روحوں کا تعلق ہوجائے گا۔ موت سے پہلے آدمی نے جو کچھ کیا وہ اس کا مقدم عمل ہے اور موت کے بعد کوئی صدقہ جاریہ یا کوئی بد رسم جو کچھ چھوڑا وہ اس کا موخر عمل ہے اب آگے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے کرم اور احسانات یاد دلائے ہیں کہ جس طرح دنیا میں چند روز جینے کے بعد مر کر انسان آخر کو مٹی ہوجائے گا اسی طرح دنیا میں پیدا ہونے سے پہلے انسان بالکل نیست و نابود تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو پیدا کیا برا بھلا دیکھنے کے لئے آنکھیں دیں ہر طرح کی بات سننے کے لئے کان دیئے۔ ہر طرح کی بات سمجھنے کے لئے عقل دی۔ ان سب چیزوں سے انسان نے کام لیا تو یہ لیا کہ شیطان کے فریب میں آ کر بعض لوگ تو بالکل خدا کو بھول ہی گئے اور اپنے پیدا کرنے والے کو چھوڑ کر کوئی بتوں کی پرستش میں لگ گیا اور کوئی اور چیزوں کی۔ بعض لوگوں نے یہ فریب کھایا کہ خدا کی عبادت میں دنیا کے دکھاوے اور ریا کاری کو دخل دیا۔ بعض اس فریب میں ہیں کہ جن باتوں سے خدا تعالیٰ نے منع کیا ہے ان باتوں کے کرنے پر دلیر ہیں اور رات دن طرح طرح کے گناہوں میں ان کی عمر گزرتی ہے اس لئے فرمایا کہ ان فریبوں کا سبب یہ ہے کہ انسان کو مرنے کے بعد پھر جینے کا اور جزا و سزا کے ہونے کا یقین نہیں ہے ورنہ کوئی انسان جان بوجھ کر اپنا برا نہیں چاہتا۔ اگر یہ یقین آدمی کے دل میں جم جائے کہ برائی کی سزا ایک دن ضرور پیش آنے والی ہے تو شیطان کے فریبوں میں پھر آدمی بہت کم آئے گا جس طرح حاکم وقت لوگوں نے قانون بنا دیا ہے مثلاً چوری ڈاکہ یہ جرم ہے جو کوئی یہ جرم کرے گا تو ثبوت کے بعد اس کو اس قدر سزا ملے گی اب جن لوگوں کو قانون کے مطلب اور منشا کا پورا یقین ہے ان کو چوری اور ڈاکہ کی ہزار طرح کی رغبت دلایئے لیکن وہ لوگ جہاں تک ہوسکتا ہے اپنے آپ کو خلاف ورزی قانون حاکم وقت سے بچاتے ہیں اسی طرح حاکم حقیقی نے دفعہ وار ہر جرم کی سزا مقرر کردی ہے ثبوت جرم کے لئے روداد جمع کرنے کو دور روز نامچہ نویس ہر شخص کے ساتھ ہر وقت مرتے دم تک لگے ہوئے ہیں تجویز سزا کے لئے ایک تاریخ پیشی جس کا نام قیامت کا دن ہے قرار پا چکی ہے پھر کیا سبب ہے کہ حاکم وقت کے قانون کا جس قدر عمل دنیا میں نظر آتا ہے قانون الٰہی کا اس قدر عمل بھی نظر نہیں آتا ہے یہی سبب ہے کہ منہ سے مرنا ہے مرنا ہے سب کہتے ہیں لیکن مرنے کے بعد جو کچھ پیش آنے والا ہے اس کو ایک قصہ کہانی جانتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ جو لوگ اپنی نادانی اور شیطان کے قریب سے آخرت کی یقینی باتوں کو قصہ کہانی سمجھتے ہیں انظام الٰہی میں تو آخرت کی سزا و جزا ایسا ایک ضروری امر ہے جس کے سر انجام کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے متعین کر رکھے ہیں ہر وقت کا قول و فعل ہر ایک انسان کا وہ اللہ کے فرشتے لکھتے ہیں جس دن یہ تمام عمر کا نامہ اعمال ہر ایک انسان کے سامنے آئے گا اس دن آخرت کی ان یقینی باتوں کا سب کو پورا یقین ہوجائے گا لیکن کام آنے والا یقین یہی دینا کا یقین ہے اس دن کا یقین کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ ابو سعد خدری سے مسند امام ١ ؎ احمد اور مستدرک حاکم میں روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ شیطان نے آسمان سے نکالے جانے کے وقت اللہ تعالیٰ سے قسم کھا کر یہ کہا کہ جب تک انسان کے جسم میں جان ہے میں اس کے بہکانے میں کوئی کوتاہی نہ کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں قسم کھا کر فرمایا کہ انسان جب تک گناہ کرکے توبہ استغفار کرتا رہے گا میں بھی اس کے گناہ بخش دینے میں کوئی کوتاہی نہ کروں گا۔ اکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ٢ ؎ ہے اسی طرح معتبر سند سے ابن ماجہ ٣ ؎ اور بیہقی میں عبد اللہ بن بسر اور زبیر سے جو روایات ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جس شخص کو یہ منظور ہو کہ وہ اپنا اعمال نامہ پڑھ کر خوش ہو تو وہ اپنے گناہوں سے توبہ استغفار کیا کرے۔ حاصل یہ ہے کہ آدمی کو چاہئے کہ دنیا کے پیچھے عقبیٰ کو نہ بھولے اوراقتضائے بشریت سے جب کبھی کوئی گناہ ہوجائے تو فوراً سچے دل سے توبہ استغفار کرے اور آئندہ گناہوں سے بچنے کا دل میں مضبوط ارادہ رکھے اور خوب جان لے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو روز نامچہ نویس ہر وقت لگے ہوئے ہیں اسی طرح جب تک انسان کے دم میں دم ہے اس کے دم کے پیچھے ایک ایسا قوی بہکانے والا ہر دم لگا ہوا ہے جو آدمی کے تمام جسم میں خون کے دورہ کی طرح دورہ کرتا ہے اور جو اپنا کام پورا کرنے پر خدا تعالیٰ کے رو برو حلف اٹھا چکا ہے انسان کے لئے اس مخمصے سے چھٹکارا تو وہی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس ملعون کے جواب میں فرمایا ہے۔ (١ ؎ الترغیب و الترہیب باب فی الاستغفار ص ٨٠٠ ج ٢) (٢ ؎ ایضاً ) (٣ ؎ الترغیب والترہیب باب فی الاستغفار ص ٨٠١)
(82:1) اذا : جب ، ناگہاں، جب، اس وقت۔ ظرف زمان ہے زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے۔ کبھی زمانہ ماضی کے لئے بھی آتا ہے۔ جیسے واذا رأوا تجارۃ او لھوا ن انفضوا الیہا (62:11) اور بعض (لوگوں) نے جب دیکھا کسی تجارت یا تماشا کو تو بکھر گئے اس طرف، اگر قسم کے بعد واقع ہو تو پھر زمانہ حال کے لئے آتا ہے جیسے والنجم اذا ھوی (53:1) اور قسم ہے تارے کی جب وہ گرنے لگے اذا اکثر و بیشتر شرط ہوتا ہے مگر مفاجات (کسی چیز کے اچانک پیش آجانے) کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے یہاں اس آیت میں بمعنی جب (شرطیہ) مستعمل ہے۔ انفطرت : ماضی واحد مؤنث غائب انفطار (انفعال) مصدر سے ۔ وہ پھٹ گئی وہ چر گئی۔ یہاں ماضی بمعنی مستقبل آیا ہے۔ جب آسمان پھٹ جائے گا۔
“2 یعنی اللہ تعالیٰ کی بیبت سے یا فرشتوں کے اترنے کے لئے پھٹ جائے جیسا کہ دوسری آیت میں ہے ” یوم تشق السمآء بالغمام و نزل الملائکہ تنزیلاً اور جس دن بادل کے ساتھ آسمان پھٹے گا اور فرشتوں کے پرے کے پرے اتارے جائیں گے۔ (فرمان :25)
سورة الانفطار۔ آیات ١ تا ١٩۔ اسرار ومعارف۔ جب آسمان پھٹ جائے گا اور ستارے وغیرہ سب جھڑ جائیں گے اور سمندر بھاپ بن جائیں گے اور قبروں سے لوگ نکل کھڑے ہوں گے تب ہر کوئی جان لے کہ اس نے کون ساعمل آگے بھیجا اور کون ساعمل دنیا میں پیچھے چھوڑا کہ نیکی یا نیک رسم چھوڑنے والے کو اس کا ثواب ملتا رہے گا اور برائی یابری رسم چھوڑنے والے کو جب تک دنیا میں لوگ اس پر عمل کریں گے اس کا عذاب بڑھتا رہے گا جب معاملہ ایسا ہے تو اے انسان تو اپنے اس پروردگار کے مقابلے میں کس دھوکے میں مبتلا ہے کہ جس کے کرم کی حد نہیں ، اس نے تجھے پیدا فرمایا اور خوبصورت اعضاء وجوارح اور شکل و صورت دی پھر بہت مناسب اور معتدل مزاج فکر اور طبیعت بخشی اور پھر لاتعداد ایک جیسے انسانوں کو الگ الگ صورتیں سیرتیں عطا کردیں پھر بھی تم دین کا انکار کرتے ہو تو اس سب کا حساب ہوگا پھر تم پر نگہبان فرشتے مقرر ہیں باوجود اس کے کہ اللہ خود سب جانتا ہے وہ فرشتے جو عزت والے ہیں تمہارے اعمال نوٹ کرتے ہیں اور تمہارے ہر فعل سے واقف ہیں لہذا تمام اعمال کا حساب ہو کر اللہ کے نیک بندے اللہ کی نعمتوں سے بھرے باغات میں داخل ہوں گے جبکہ نافرمان دوزخ میں جھونکے جائیں گے اور وہاں سے کبھی نکل نہ سکیں گے بھلاتم نے یوم حساب کو سمجھ کیا رکھا ہے وہ ایسا دن ہے کہ کوئی کسی کے لیے کچھ نہ کرسکے گا نہ طاقت سے نہ کسی اور حیلے سے اور فوجیں شاہوں کو دولت امراء کو اور دوست بدکاروں کو اللہ کی گرفت سے نہ بچاسکیں گے بلکہ وہی ہوگا جس کا حکم اللہ رب العزت دیں گے اس سے شفاعت کی نفی نہیں کی اللہ اس کی اجازت دیں گے۔
لغات القرآن۔ فجرت۔ ابل پڑے۔ بعثرت۔ اکھاڑ کر پھینک دی گئی۔ قدمت۔ آگے بھیجا۔ اخرت۔ پیچھے چھوڑا۔ ماغرک۔ تجھے کس نے دھوکے میں ڈال دیا۔ سواک۔ تجھے ٹھیک ٹھیک بنایا۔ عدل۔ برابر کیا۔ رکب۔ جوڑ دیا۔ کراما کاتبین۔ باعزت لکھنے والے۔ الابرار۔ نیک لوگ۔ الامر۔ حکم تشریح : اس سورت میں بھی قیامت کے ہولناک دن کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اس دن صرف انسان کے نیک اعمال ہی اس کے کام آئیں گے اور اللہ کے سوا کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ فرمایا کہ قیامت کا دن وہ انقلابی دن ہوگا جب اس سارے نظام کائنات کو الٹ دیا جائے گا، آسمان پھٹ جائیں گے، ستارے اپنا تو ازن اور باہمی کشش نہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے سے ٹکرا جائیں گے اور بےوزنی کی کیفیت کے ساتھ فضاؤں میں بکھر جائیں گے۔ سمندر کا پانی جو دنیا سے تین گناہ زیادہ ہے وہ جوش مار کر ابل پڑے گا اور زمین پر پھیل جائے گا۔ قبریں کھول دی جائیں گی اور زمین میں جو کچھ ہوگا وہ باہر آجائے گا اس دن ہر شخص اس بات کا اچھی طرح جان لے گا کہ اس نے اپنے نیک اعمال میں سے آگے کیا بھیجا تھا اور وہ اپنے پیچھے کیا چھوڑا کر آگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا اے انسان ! تجھے اس رب کریم کی طرف سے کس نے دھوکے میں ڈال دیا جس نے تجھے پیدا کرکے ہر طرح اعتدال اور تو ازن عطا فرمایا ہے۔ کیا تجھے اس کے کر پر اعتماد نہیں ہے ؟ کیا تو سمجھتا ہے کہ وہ رب صرف کریم ہے تو وہ قیامت کے دن انصاف سے کام نہ لے گا ؟ یقینا وہ اللہ اس دن ہر شخص کے ساتھ انصاف کرے گا یہی اس کا سب سے بڑا کرم ہے۔ فرمایا کہ اے انسان تو اپنے پروردگار کو بھول گیا حالانکہ اسی نے تجھے وجود بخشا۔ اس کے فضل و کرم سے ایسا وجود جو ساری مخلوق سے افضل و اشرف ہے۔ اس نے انسان کی شکل و صورت کو جس طرح چاہا بنا دیا۔ اربوں، کھربوں انسانوں کو ایک ہی جیسا جسم عطا کیا ہے لیکن وہ ایک دوسرے سے اتنے مختلف ہیں کہ ایک کی شکل دوسرے سے نہیں ملتی۔ عقل کا تقاضا یہ تھا کہ ان احسانات کے سامنے تیرا سر جھک جاتا اور تو اس کی نافرمانی نہ کرتا۔ غلط بنیادوں اور عقیدوں کی غلطیوں نے تجھے رب کریم سے غافل کردیا ہے اور تو سمجھتا ہے کہ تو دنیا میں جو کچھ کرتا ہے اس کو دیکھنے والا کوئی نہیں ہے۔ حالانکہ تیرا سارا اعمال نامہ تیار کیا جا رہا ہے۔ نہایت معتبر کاتب فرشتے (کراماً کاتبین) تیری ایک ایک حرکت کو نوٹ کر رہے ہیں جسے وہ قیامت کے دن تیرے رب کے سامنے پیش کریں گے۔ ان اعمال کے مطابق جو نیک اور حسن عمل رکھنے والے ہوں گے وہ جنت کی راحتوں سے لطف اندوز ہوں گے اور بدکار اس انصاف کے دن جہنم میں جھونک دیے جائیں گے۔ وہ وہاں سے کہیں بھاگ نہ سکیں گے اور اپنے برے انجام سے بچ نہ سکیں گے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ انصاف کا دن کیا ہوگا ؟ اور کیسا ہوگا ؟ فرمایا کہ یہ وہ دن ہوگا جب کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ کوئی کسی کو نفع نہ پہنچا سکے گا۔ اس دن سارا اختیار صرف اللہ رب العالمین کے ہاتھ میں ہوگا۔ وہ جس طرح چاہے گا فیصلے فرمائے گا۔
فہم القرآن ربط سورت : سورة التکویر میں قیامت سے پہلے دوسرے مرحلہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ارشاد ہوا کہ قیامت کے دن جنت اور جہنم لوگوں کے سامنے لائی جائیں گی اور ہر انسان جان لے گا کہ اس نے اپنے آگے کیا بھیجا ہے۔ اس کے بعد یہ بیان ہوا کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جو لوگوں کے لیے نصیحت ہے۔ الانفطار کی ابتدا بھی قیامت کے پہلے اور دوسرے مرحلے کی نشاندہی سے کی گئی ہے۔ ارشاد ہوا کہ جب آسمان پھٹ جائے گا اور تارے بکھر جائیں گے اور سمندر پھاڑ دیئے جائیں گے اور قبریں کھول دی جائیں گی اس وقت ہر انسان کو اپنا اگلا پچھلا کیا ہوا سب کچھ معلوم ہوجائے گا۔ اس وقت انسان کو یاد آئے گا کہ اس نے اپنی زندگی میں کیا کیا کام کیے اور اپنے پیچھے کون سے اچھے یا برے کاموں کا تسلسل اور اثرات چھوڑ آیا تھا۔ یہاں قیامت کی ابتدا اور اس کی انتہا کے مراحل کا ذکر کیا گیا ہے۔ قیامت کا پہلا مرحلہ یہ ہوگا کہ آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو کر نیچے گرپڑے گا اس سے پہلے سورج لپیٹ لیا جائے گا۔ ( التکویر : ١) نظام شمسی کا آپس میں اتصال ختم ہوجائے گا جس سے ستارے تسبیح کے دانوں کی طرح نیچے گرنا شروع ہوجائیں گے، دوسری طرف زمین میں مسلسل زلزلے برپا ہوں گے جس سے سمندروں کا پانی زمین پر پھیل جائے گا جو بالآخر بھاپ بن کر ختم ہوجائے گا۔ نامعلوم کتنی مدّت تک یہ عمل جاری رہے گا اور اس کی تکمیل کے بعد کتنا عرصہ یہی حالت رہے گی۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ دوسرا مرحلہ کب شروع ہوگا۔ اسرافیل کے دوسرا صور پھونکنے پر زمین جگہ جگہ پھٹ جائے گی، لوگ اپنی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور ہر کوئی میدان محشر کی طرف بھاگ رہا ہوگا، آخر کار اللہ تعالیٰ کی عدالت قائم ہوگی۔ جس میں لوگوں کے اعمال نامے ان کے دائیں یا بائیں ہاتھ میں تھما دیئے جائیں گے، ہر کوئی اپنا اعمال نامہ دیکھ کر جان جائے گا کہ اس نے اپنی زندگی میں آخرت کے لیے کیا کام کیے اور کون سے اچھے اور برے کام اپنے بعد چھوڑ آیا تھا، گویا کہ اس کے تمام اعمال کا احاطہ کرلیا جائے گا۔ جو اعمال نامہ کی شکل میں اس کے سامنے ہوگا۔ (اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰی وَ نَکْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَھُمْ وَ کُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰہُ فِیْٓ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ ) (یٰس : ١٢) ” یقیناً ہم ایک دن مردوں کو زندہ کرنے والے ہیں جو اعمال انہوں نے کیے ہیں وہ ہم لکھتے جا رہے ہیں اور انہوں نے جو کام پیچھے چھوڑے ہیں وہ بھی ہم لکھ رہے ہیں ہر بات کو ہم نے ایک کھلی کتاب میں درج کر رکھا ہے۔ “ (وَ وُضِعَ الْکِتٰبُ فَتَرَی الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْہِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ ہٰذَا الْکِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَۃً وَّ لَا کَبِیْرَۃً اِلَّآ اَحْصٰہَا وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّکَ اَحَدًا) (الکہف : ٤٩) ” اور کتاب رکھی جائے گی آپ مجرموں کو دیکھیں گے کہ جو کچھ اس میں ہوگا اس سے ڈر رہے ہوں گے اور کہیں گے ہائے ہماری کم بختی ! کیسی کتاب ہے، اس نے نہ چھوٹی بات چھوڑی ہے اور نہ بڑی چھوڑی ہے اس نے سب کچھ شمار کر رکھا ہے انھوں نے جو کچھ کیا تھا اسے حاضر پائیں گے اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ “ مسائل ١۔ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا۔ ٢۔ تارے مکمل طور پر بکھر جائیں گے۔ ٣۔ سمندر پھاڑ دئیے جائیں گے۔ ٤۔ قبریں کھول دی جائیں گی۔ ٥۔ انسان کے اگلے پچھلے اعمال اس کے سامنے رکھ دئیے جائیں گے۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن ہر انسان اپنا اعمال نامہ دیکھ لے گا : ١۔ قیامت کے دن ہر کسی کا نامہ اعمال کھول کر اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ (بنی اسرائیل : ١٣) ٢۔ جب اعمال نامہ دیا جائے گا، تو مجرم لوگ اس میں سب کچھ لکھا ہوا پائے گا۔ (الکہف : ٤٩) ٣۔ جس کو نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا، وہ اس کو پڑھے گا۔ (بنی اسرائیل : ٧١) ٤۔ جس کو نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا گیا، وہ کہے گا آؤ میرا نامہ اعمال پڑھو۔ (الحاقہ : ١٩) ٥۔ جس کو اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا کاش کہ مجھے یہ نامہ اعمال نہ دیا جاتا۔ (الحاقہ : ٢٠) ٦۔ جس کو اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا گیا اس کا حساب آسان ہوگا۔ (الانشقاق : ٨۔ ٧) ٧۔ جس کا اعمال نامہ پیٹھ کے پیچھے سے دیا گیا وہ موت کو پکارے گا اور دوزخ میں داخل کیا جائے گا۔ (الانشقاق : ١٠ تا ١٢)
اذا السمائ ........................ واخرت گزشتہ سورت میں ہم نے ان آثار کی بات کی تھی جو ان مظاہر کو دیکھ کر انسانی احساس پر نمودار ہوتے تھے ، یہ مناظر اس عظیم انقلاب سے متعلق تھے جو دست قدرت اس کائنات میں برپاکردے گا ، اس کائنات کو اس طرح ہلا مارا جائے گا کہ کوئی چیز اپنی جگہ پر قائم نہ رہے گی اور اس عظیم کائنات کو تہ وبالا کردیا جائے گا۔ ہم نے وہاں یہ بھی بتایا تھا کہ ان آثار میں سے بڑا اثر یہ ہوتا ہے کہ انسان کا دل اس پوری کائنات سے اٹھ جاتا ہے اور انسان اپنا تعلق اس خالق حقیقی کے ساتھ جوڑ لیتا ہے جو باقی اور لازوال ہے ۔ جو اس وقت بھی باقی رہے گا جب یہ پوری کائنات ہلا ماری جائے گی۔ ان تمام انقلابات ، زلزلوں اور توڑپھوڑ کے عظیم عمل میں انسان کے لئے واحدجائے پناہ اس ذات کبریا کی درگاہ ہے جو ثابت ، برقرار اور اس قدر منظم ہے جسے خلود اور دوام حاصل ہے۔ اور یہ خلود اور دوام صرف اسی ذات کا خاصہ ہے۔ یہ اس عظیم کائناتی انقلاب کے جو پہلو لائے گئے ہیں ، ان میں سے ایک پہلو آسمان کا پھٹنا ہے۔ آسمان کے پھٹنے اور شق ہونے کا ذکر اور منظر قرآن مجید کے کئی مقامات پر پیش کیا گیا ہے۔ سورة رحمن میں ہے۔ فاذا انشقت ................ کالدھان (37:55) ” جب آسمان پھٹ جائے گا تو وہ اس طرح سرخ ہوگا جس طرح چمڑا سرخ ہوتا ہے “۔ اور سورة الحاقہ میں ہے : وانشقت .................... واھیة (16:69) ” اور آسمان پھٹ جائے گا اور اس کی بندش کھل جائے گی “۔ اور سورة انشقاق میں ہے : اذا ........................ انشقت (1:84) ” جب آسمان پھٹ جائے گا “۔ اس مصیبت کے دن کی مشکلات اور حقائق میں سے ایک بڑی حقیقت یہ ہوگی کہ اس دن آسمان پھٹ جائے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ آسمان کے پھٹنے کی تفصیلی کیفیت کیا ہوگی ؟ تو حقیقت یہ ہے کہ اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ نہ اس کی اصل حقیقت سے ہم خبردار ہیں۔ جو کچھ ہم کہہ سکتے ہیں وہ یہی ہے کہ اس کائنات کی شکل و صورت میں ایک عظیم تغیر رونما ہوگا جو ہمیں نظر آتی ہے اور اس کا یہ موجودہ نظام درہم برہم ہوجائے گا اور اس کی موجودہ بندش کھل جائے گی جس نے اس کے تمام کر ات کو اس وقت اپنی جگہ باندھ کر رکھا ہے۔ یہاں اس عظیم فضا میں ستاروں کے بکھر جانے کا منظر بھی فضا کی ہولناکی میں شریک ہوجاتا ہے۔ اس وقت یہ ستارے اپنے اپنے مدار میں ایک خوفناک سرعت اور تیزی کے ساتھ گردش کررہے ہیں۔ لیکن اپنے اپنے مدار میں جکڑے ہوئے ہیں ، اور ایسا نہیں ہے کہ اس محیرالعقول وسیع فضا میں جدھر منہ ہو ، ادھر دوڑتے رہیں ، اور اگر یہ اس طرح بکھر جائیں جس طرح اس وقت ہوگا جب قیامت برپا ہوگی تو وہ اس نہایت مضبوط غیر مرئی نظام کی بندش سے چھوٹ جائیں ، جس نے ان کو جوڑ رکھا ہے ، تو یہ فضا میں اسی طرح پھرتے رہیں جس طرح ایک ذرہ فضا میں اڑتارہتا ہے۔ سمندروں کی ” تفجیر “ کا ایک مفہوم تو یہ ہوسکتا ہے کہ یہ بھر جائیں اور خشکی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں اور ایک عظیم طغیانی آجائے ، نیز اس کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ پانی پھٹ جائے اور جن عناصر سے وہ مرکب ہے ، ان عناصر کی صورت اختیار کرلے۔ یعنی آکسیجن اور ہائیڈروجن۔ جس طرح پانی کی تشکیل سے قبل یہ ہائیڈروجن اور آکسیجن گیس کی شکل میں تھا۔ اور یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ یہ دونوں عناصر بھی ایٹم اور ہائیڈروجن بم کی طرح پھٹ جائیں۔ اس کا تصور اب اچھی طرح کیا جاسکتا ہے کہ اگر ایٹم اور ہائیڈروجن پھٹ جائیں تو اس کائنات کے اندر کیا کچھ ہوجائے گا جبکہ موجود ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم اس دھماکے کے مقابلے میں محض کھلونے ہیں یا ” تفجیر “ کے کوئی اور معنی ہیں جو ابھی تک ہماری سمجھ سے باہر ہیں۔ عرض ایک عظیم ہولناک اور خوفناک صورت حالات ہوگی۔ قبروں کا کھلنا بھی ان حالات کی وجہ سے ہوگا یا مفہوم یہ ہوگا کہ اس طویل تبدیلی کے دوران حقیقتاً قبریں پھٹ پڑیں گی اور ان میں سے لوگوں کے جسم اٹھ کھڑے ہوں گے تاکہ یہ میدان حشر میں حساب و کتاب کے لئے چل پڑیں۔ اس آخری مفہوم کی تائید فقرہ مابعد سے بھی ہوتی ہے۔
ان آیات میں بھی وقوع قیامت کے بعض احوال کا ذکر ہے، ارشاد فرمایا جب آسمان پھٹ جائے گا اور ستارے جھڑ پڑیں گے اور جب سب دریا بہہ پڑیں گے، یعنی دریائے شوروشیریں بہہ کر آپس میں ایک دوسرے سے مل جل جائیں گے اور جب قبریں اکھاڑ دیں جائیں گی یعنی ان میں سے مردے نکل کھڑے ہوں گے اس وقت ہر شخص اپنے اعمال کو جان لے گا جو اس نے پہلے بھیجے اور بعد میں بھیجے (ان میں سے اول کے تین واقعات نفخہ اولیٰ سے اور چوتھا واقعہ نفخہ ثانیہ سے متعلق ہے) ۔ روح المعانی میں ﴿ وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ٠٠٣﴾ کے بارے میں لکھا ہے کہ جب سارے دریا میٹھے اور نمکین اکٹھے ہوجائیں گے تو زمین اس سارے پانی کو چوس لے گی اور زمین پر ذرا سا بھی پانی نہیں رہے گا۔ وروی ان الارض تنشف الماء بعد امتلاء البحار فتصیر مستویة ای فی ان لا ماء واریدان البحار تصیر واحدة اولاثم تنشف الارض جمیعا فتصیر بلاماء۔
2:۔ ” اذا السماء انفطرت “ تخویف اخروی۔ حالات قیامت کا بیان سورت سابقہ سے علی سبیل الترقی۔ آسمان پھٹ جائیگا یعنی چھیلا جانے کے بعد۔ ” واذا الکواکب انتثرت “ اور بےنور ہوجانے کے بعد تارے جھڑ جائیں گے۔ ” واذا البحار فجرت “ اور دریا بھر جانے کے بعد جاری کیے جائیں گے۔ ” واذا القبور بعثرت “ اور اہل قبور کو اٹھایا جائے گا۔ ” علمت نفس الخ “ جواب قسم ہے۔ جب قیامت قائم ہوجائیگی تو ہر نفس کو اپنے تمام اعمال خیر و شرکا علم ہوجائیگا، کیونکہ ہر شخص کو اس کا اعمالنامہ دیدیا جائے گا جسے پڑھ کر وہ سب کچھ معلوم کرلے گا۔