Surat ul Mutafifeen

Surah: 83

Verse: 17

سورة المطففين

ثُمَّ یُقَالُ ہٰذَا الَّذِیۡ کُنۡتُمۡ بِہٖ تُکَذِّبُوۡنَ ﴿ؕ۱۷﴾

Then it will be said [to them], "This is what you used to deny."

پھر کہہ دیا جائے گا کہ یہی ہے وہ جسے تم جھٹلاتے رہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Then, it will be said to them: "This is what you used to deny!" meaning, this will be said to them by way of scolding, rebuking, belittling, and humiliation.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١١] یعنی جہنم میں داخل کرنے کے بعد ان سے سوال کیا جائے گا کہ بتاؤ یہ جہنم کا عذاب پرانے لوگوں کی داستان ہے یا ایک ٹھوس حقیقت ؟ آج تو تمہارا یہ مغالطہ دور ہو ہی چکا ہوگا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ثُمَّ يُقَالُ ہٰذَا الَّذِيْ كُنْتُمْ بِہٖ تُكَذِّبُوْنَ۝ ١٧ ۭ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] ، ويقال بإزاء هذا في المستبعد بالشخص أو بالمنزلة : ( ذَاكَ ) و ( ذلك) قال تعالی: الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] ، ذلِكَ مِنْ آياتِ اللَّهِ [ الكهف/ 17] ، ذلِكَ أَنْ لَمْ يَكُنْ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرى [ الأنعام/ 131] ، إلى غير ذلك . ( ذ ا ) ہاں ھذا میں ذا کا لفظ اسم اشارہ ہے جو محسوس اور معقول چیز کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے ۔ چناچہ کہا جاتا ہے ۔ ھذہ وھذی وھاتا ۔ ان میں سے سرف ھاتا کا تژنیہ ھاتان آتا ہے ۔ ھذہٰ اور ھٰذی کا تثنیہ استعمال نہیں ہوتا قرآن میں ہے : أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] کہ دیکھ تو یہی وہ ہے جسے تونے مجھ پر فضیلت دی ہے ۔ هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] یہ وہ چیزیں ہیں جن کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ۔ هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] یہ وہی ہے جس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے ۔ إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ۔ هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] یہی وہ جہنم ہے جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے ۔ هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] یہی وہ جہنم ہے جسے گنہگار لوگ جھٹلاتے تھے ۔ ھذا کے بالمقابل جو چیز اپنی ذات کے اعتبار سے دور ہو یا باعتبار مرتبہ بلند ہو ۔ اس کے لئے ذاک اور ذالک استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] یہ کتاب یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہے ۔ ذلِكَ مِنْ آياتِ اللَّهِ [ الكهف/ 17] یہ اس لئے کہ تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہلاک کردے ۔ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٧۔ ٢١) پھر ان سے دوزخ کے خازن کہیں گے کہ یہ وہی عذاب ہے جس کو تم دنیا میں جھٹلایا کرتے تھے ہرگز ایسا نہیں، سچے ایمانداروں کے نامہ اعمال علیین میں رہیں گے یعنی ساتویں آسمان پر، عرش خداوندی کے نیچے سبز زمرد کی تختی پر ان کے اعمال لکھے ہوئے ہیں اور یہی علیین ہے اور جس کو مقرب فرشتے شوق سے دیکھتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٧{ ثُمَّ یُـقَالُ ہٰذَا الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ ۔ } ” پھر ان سے کہا جائے گا : یہ ہے وہ چیز جس کی تم تکذیب کیا کرتے تھے ! “ دنیا میں تم لوگ جنت ‘ دوزخ اور جزا و سزا کو بڑے شدومد سے جھٹلایا کرتے تھے ۔ اب دیکھ لو ! دوزخ اور اس کی سزائیں حقیقت بن کر تمہارے سامنے آگئی ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(83:17) ثم یقال ھذا الذی کنتم بہ تکذبون : ثم ملاحظہ ہو سابقہ آیت نمبر 16) ثم یہاں بلحاظ وضع کے ہے بمعنی پھر۔ یقال مضارع مجہول واحد مذکر غائب مفعول مالم یسم فاعلہ۔ اور جملہ ھذا الذی ۔۔ الخ مفعول ہے یقال کا۔ پھر ان سے کہا جائے گا یہ ہے وہ جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(17) پھران سے کا جائے گا یہی وہ چیز ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے یعنی دوزخ میں داخل ہوں گے اور داخل ہونے کے بعد کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جس کو تم دنیا میں جھٹلایا کرتے تھے آگے نیک بندوں کے نامہ اعمال کا ذکر ہے کیونکہ یہ قیامت کے منکر مومنین کے اجروثواب کے بھی منکر ہیں اس لئے ان کی جھڑکی دے کر فرماتے ہیں۔