Surat ul Inshiqaaq

Surah: 84

Verse: 6

سورة الانشقاق

یٰۤاَیُّہَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّکَ کَادِحٌ اِلٰی رَبِّکَ کَدۡحًا فَمُلٰقِیۡہِ ۚ﴿۶﴾

O mankind, indeed you are laboring toward your Lord with [great] exertion and will meet it.

اے انسان! تو ( اس وقت ) اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کر کے اس سے ملاقات کرنے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

يَا أَيُّهَا الاْاِنسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحًا ... O man! Verily, you are returning towards your Lord with your deeds and actions, a sure returning, meaning, `verily you are hastening to your Lord and working deeds.' ... فَمُلَقِيه ِ and you will meet. `Then you will meet that which you did of good or evil.' A proof for this is what Abu Dawud At-Tayalisi recorded from Jabir, that the Messenger of Allah said, قَالَ جِبْرِيلُ يَا مُحَمَّدُ عِشْ مَا شِيْتَ فَإِنَّكَ مَيِّتٌ وَأَحْبِبْ مَنْ شِيْتَ فَإِنَّكَ مُفَارِقُهُ وَاعْمَلْ مَا شِيْتَ فَإِنَّكَ مُلَاقِيه Jibril said, "O Muhammad! - Live how you wish, for verily you will die; - love what you wish, for verily you will part with it; - and do what you wish, for verily you will meet it (your deed). There are some people who refer the pronoun back to the statement "your Lord." Thus, they hold the Ayah to mean, "and you will meet your Lord." This means that He will reward you for your work, and pay you for your efforts. Therefore, both of these two views are connected. Al-`Awfi recorded from Ibn Abbas that he said explaining, يأَيُّهَا الاأِنسَـنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحاً (O man! Verily, you are returning towards your Lord with your deeds and actions, a sure returning), "Whatever deed you do, you will meet Allah with it, whether it is good or bad." The Presentation and the Discussion that will take place during the Reckoning Then Allah says, فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤] کَدْحا کا لغوی مفہوم :۔ کَدْحاً ۔ کَدَحَ بمعنی کام میں بہت محنت کرنا۔ تکلیفیں سہہ سہہ کر کام کرنا۔ بمشقت کوئی کام کرتے جانا اور اس کی صورت یہ ہوتی کہ انسان کے دل میں ایک خواہش پیدا ہوتی ہے جسے پورا کرنے کے وہ درپے ہوجاتا ہے اور وہ کام ابھی پورا بھی نہیں ہوچکتا کہ کوئی اور خواہش یا خواہشیں انسان کے دل میں پیدا ہوجاتی ہیں۔ پھر وہ پہلی خواہش کی تکمیل کے بعد، بعد والی خواہش کی تکمیل کے لیے کمر ہمت باندھ لیتا ہے اور اسی طرح اس کی تمام زندگی بیت جاتی ہے۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ خواہش کرنے والا انسان ایک دنیادار ہے اور اس کی تمام تر خواہشات کا محور دنیوی مفادات کا حصول ہے۔ یا وہ ایک دیندار اور اللہ کا فرمانبردار انسان ہے اور جو کچھ وہ کرتا ہے اپنے اخروی مفادات کے حصول کے لیے کرتا ہے۔ محنت مشقت کرنے اور تکلیفیں سہہ سہہ کر کام کرتے رہنے کے لحاظ سے دونوں کا طریقہ کار یکساں ہوتا ہے تاآنکہ اسے موت آلیتی ہے اور وہ خود بخود اللہ کے حضور پہنچ جاتا ہے۔ اب اگر کوئی شخص اپنی تگ و دو کے متعلق یہی سمجھتا رہے کہ یہ صرف دنیا کی زندگی تک ہی محدود ہے تو اس کی اس غلط سوچ سے حقیقت میں کچھ فرق نہیں پڑجائے گا اور وہ اپنے پروردگار کے پاس پہنچ کر ہی دم لے گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(یایھا الانسان انک اکدح…:” کا دح “” کدح یکدح “ (ف) خوب کوشش کرنا، مشقت جھیلنا، زخمی کرنا۔” الی “ کے لفظ سے اس میں رب تعالیٰ کی طرف جانے کا مفہوم ادا ہو رہا ہے، یعنی اے انسان تو زندگی بھر کسی نہ کسی کام کی مشقت میں مبتلا رہ کر آخر کار اچھے یا برے اعمال لے کر اپنے رب کے حضور پیش ہونے اولا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلَاقِيهِ (0 man, you have to work hard constantly to reach your Lord, then you have to meet Him...84:6) The word kadh means to &exert one&s efforts fully&, and &to your Lord& means &to meet your Lord&. In other words, every effort of man would end at his Lord. Return to Allah Mankind is addressed in this verse and shown a road that if he were to think about it carefully, and use his sense and intelligence, he could exert his efforts in the right direction that will ensure for him welfare, well-being and safety in this world, as well as in the Hereafter. First, it has been pointed out that man, whether he is good or bad, believer or non-believer, has the natural tendency to exert himself in order to achieve his goal. A good-natured person will work hard and adopt lawful means to acquire his livelihood and necessities of life. A bad person cannot obtain his needs and objective without working hard. Thieves, robbers, rouges, cheats and looters apply their minds and exert their physical strength in order to achieve their objective. Secondly, it has been pointed out that if the intelligent man were to think carefully, all his movements and pauses are stations of a long journey he is going through, though unconsciously. This journey will end at his presence before Allah, that is, at death. This is stated in the phrase ila rabbika to your Lord&. This is a statement of reality which none can deny. All efforts, [ good or bad ], must end with death. The third point is that after death, in the presence of his Lord, he will have to give an account of his movements and deeds, and of his efforts. This is rationally necessary and justified, so that the consequences of good and bad may be separately known, because such distinction is not known in this life. A good person may work hard for a month or so in order to obtain his livelihood and necessities of life, but thieves and looters may obtain them overnight. If there is no time of reckoning or punishment, both of them [ the good and the bad ] will be equal, which is contrary to reason and justice. At the end, the verse says: فَمُلَاقِيهِ (then you have to meet Him.) The translation given above is based on the assumption that the attached pronoun (hi) refers to Allah. The sense is that every person has to meet his Lord and to present himself before him to give the account of his deeds. Another possible interpretation is that the attached pronoun (hi) refers to &kadh& (working hard). Given this interpretation, the translation of the verse would be: |"0 man, you have to work hard constantly to reach your Lord, then you have to meet it.|" And the sense would be: &you have to meet the good or bad consequences of your working hard.& The verses that follow depict separately the consequences of the good and the bad people, of the believers and the non-believers. First, the ledger of deeds must be received in the right or the left hand. Those who receive the ledgers in their right hands will be the inmates of Paradise with its eternal blessings. Those who receive the ledgers in their left hands will be the inmates of Hell. The point for careful consideration is that necessities of life, as well as unnecessary desires are fulfilled by both righteous and wicked people in this world, and thus both spend their lives in some way or the other, but the consequences of the two [ for the Hereafter ] are diametrically opposite to each other. One results in eternal and unending comfort, and the other results in eternal perdition, torture and torment. Man still has the chance [ while he is living ] to redirect his attention to working hard towards switching the situation in a direction that not only fulfils his legitimate needs and desires in this world, but also attains the eternal pleasures of the Hereafter.

یایھا الانسان انک کا دح، کدح کے معنے کسی کام میں پوری جدوجہد اور اپنی توانائی صرف کرنے کے ہیں، او الی ربک سے مراد الی لقاء ربک ہے یعنی انسان کی ہر سعی وجدوجد کی انتہا اس کے رب کی طرف ہونیوالی ہے۔ رجوع الی اللہ :۔ اس آیت میں حق تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو خطاب فرما کر اس کے غور و فکر کے لئے ایک ایسی راہ دکھائی ہے کہ اس میں کچھ بھی عقل و شعور ہو تو وہ اپنی جدوجہد کا رخ صحیح سمت کی طرف پھیر سکتا ہے جو اس کو دنیا و دنیا میں سلامتی اور عافیت کی ضمانت دے۔ پہلی بات تو یہ ارشاد فرمائی کہ انسان نیک ہو یا بد، مومن ہو یا کافر اپنی فطرت سے اس کا عادی ہے کہ کچھ نہ کچھ حرکت کرے اور کسی نہ کسی چیز کو اپنا مقصود بنا کر اس کے حاصل کرنے کے لئے جدوجہد اور محنت برداشت کرے، جس طرح ایک شریف نیک خو انسان اپنے معاش اور ضروریات زندگی کی تحصیل میں فطری اور جائز طریقوں کو اختیار کرتا ہے اور ان میں اپنی محنت و تانائی صرف کرتا ہے۔ بدکار بدخو انسان بھی اپنے مقاصد کہیں بےمحنت بےجدوجہد حاصل نہیں کرسکتا۔ چور ڈاکو بدمعاش دھوکہ فریب سے لوٹ کھسوٹ کرنے والوں کو دیکھو کیسی کیسی ذہنی اور جسمانی محنت برداشت کرتے ہیں جب ان کو ان کا مقصود حاصل ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ بتلائی کہ عاقل انسان اگر غور کرے تو اس کی تمام حرکات بلکہ سکنات بھی ایک سفر کی منزلیں ہیں جس کو وہ غیر شعوری طور پر قطع کر رہا ہے جس کی انتہا اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضری یعنی موت ہے سکنات بھی ایک سفر کی منزلیں ہیں جس کو وہ غیر شعوری طور پر قطع کر رہا ہے، جس کی انتہا اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضری یعنی موت ہے (الی ربک) میں اسی کا بیان ہے اور یہ انتہا ایسی حقیت ہے کہ جس کا کسی کو انکار نہیں ہوسکتا کہا نسان کی ہر جدوجہد اور محنت موت پر ختم ہونا یقینی ہے۔ تیسری بات یہ بتلائی کہ موت کے بعد اپنے رب کے سامنے حاضری کے وقت اس کی تمام حرکات و اعمال اور ہر جدوجہد کا حساب ہونا ازروئے عقل و انصاف ضروری ہے تاکہ نیک و بد کا انجام الگ الگ تمام حرکات و اعمال اور ہر جدوجہد کا حساب ہونا اور ازروئے عقل و انصاف ضروری ہے تاکہ نیک و بد کا انجام الگ الگ معلوم ہو سکے ورنہ دنیا میں تو اس کا کوئی امتیاز نہیں ہوتا، ایک نیک آدمی ایک مہینہ محنت مزدوری کر کے اپنا رزق اور معلوم ہو سکے ورنہ دنیا میں تو اس کا کوئی امتیاز نہیں ہوتا، ایک نیک آدمی ایک مہینہ محنت مزدوری کر کے اپنا رزق اور جو ضروریات حاصل کرتا ہے، چور ڈاکو اس کو ایک رات میں حاصل کرلیتے ہیں۔ اگر کوئی وقت حساب کا اور جزاء سزا کا نہ آئے تو دونوں برابر ہوگئے جو عقل و انصاف کے خلاف ہے۔ آخر میں فرمایا فملقیہ، ملاقیہ کی ضمیر کدح کی طرف بھی راج ہو سکتی ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ جدوجہد یہاں انسان کر رہا ہے بالاخر اپنے رب کے پاس پہنچ کر اپنی اس کمائی سے ملے گا اور اس کے اچھے یا برے نتائج اس کے سامنے آجائیں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ملاقیہ کی ضمیر رب کی طرف راجع ہو اور معنی یہ ہوں کہ ہر انسان آخرت میں اپنے رب سے ملنے والا اور حساب کے لئے اس کے سامنے پیش ہونے والا ہے، آگے نیک و بد اور مومن و کافر انسانوں کے لگے الگ انجام کا ذکر ہے جس کی ابتدا اعمال نامہ کا داہنے یا بائیں اتھ میں آجانا ہی نیک و بد اور مومن و کافر انسانوں کے الگ الگ انجام کا ذکر ہے جس کی ابتداء اعمال نامہ کا دہنے یا بائیں ہاتھ میں آجانا ہی داہنے والوں کو جنت کی دائمی نعمتوں کی بشارت اور بائیں ولاوں کو دوزخ کے عذاب کی اطلاع مل جاتی ہے۔ اس مجموعہ پر اگر انسان غور کرے کہ ضروریات زندگی بلکہ اپنے نفس کی غیر ضروری مرغوبات کو بھی حاصل تو نیک و بد دونوں ہی کرلیتے ہیں۔ اس طرح دنیا کی زندگی دونوں کی گزر جاتی ہے مگر ان دونوں کے انجام میں زمین و آسمان کا فرق ہے ایک کے نتیجہ میں دائمی غیر منقطع راحت ہی راحت ہے، دوسرے کے نتیجہ میں دائمی مصیبت و عذاب ہے پھر کیوں نہ انسان اس انجام کو آج ہی سوچ سمجھ کر اپنی سعی و عمل کا رخ اس طرف پھیر دے جو دنیا میں بھی اس کی ضرورتوں کو پورا کر دے اور آخرت کی دائمی نعمت بھی اس کو حاصل رہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اے انسان یعنی ابو الاسود بن کلدہ کافر تو اپنے رب کے پاس پہنچنے تک اپنے کفر میں پوری کوشش کررہا ہے اور پھر قیامت کے دن اپنے عمل سے جاملے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦{ یٰٓــاَیُّہَا الْاِنْسَانُ اِنَّکَ کَادِحٌ اِلٰی رَبِّکَ کَدْحًا فَمُلٰقِیْہِ ۔ } ” اے انسان ! تو مشقت پر مشقت برداشت کرتے جا رہا ہے اپنے رب کی طرف ‘ پھر تو اس سے ملنے والا ہے۔ “ یہ دنیا انسان کے لیے دارالمِحن یعنی مشقتوں کا گھر ہے۔ انسانی زندگی کی اس تلخ حقیقت کو سورة البلد میں یوں بیان فرمایا گیا : { لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ کَبَدٍ ۔ } کہ انسان تو پیدا ہی مشقت میں کیا گیا ہے۔ گویا مشقتیں برداشت کرنا ‘ دکھ اٹھانا اور سختیاں جھیلنا انسان کا مقدر ہے۔ اس سے کسی انسان کو رستگاری نہیں۔ مزدور ہے تو وہ صبح سے شام تک جسمانی سختیاں سہہ رہا ہے۔ کارخانہ دار ہے تو انتظامی گتھیوں کو سلجھانے میں جگر خون کر رہا ہے۔ اگر کوئی کسی دفتر کی کرسی پر بیٹھا ہے تو ذہنی مشقت کی چکی ّمیں ِپس رہا ہے۔ پھر اپنی اور اہل و عیال کی بیماریاں ‘ معاشی مشکلات ‘ معاشرتی الجھنیں ‘ مال و جان کی حفاظت کی فکر وغیرہ کی صورت میں ذہنی و نفسیاتی پریشانیاں الگ ہیں جو ہر انسان کے گلے کا ہار بنی ہوئی ہیں۔ دوسروں سے مسابقت اور مقابلے کا غم اس کے علاوہ ہے جو ہر انسان نے اپنے دل و دماغ میں کسی نہ کسی سطح پر ضرور پال رکھا ہے۔ پیدل چلنے والا سائیکل سوار کو رشک بھری نظروں سے دیکھتا ہے ‘ سائیکل سوار کار والے کے حسد میں مبتلا ہے۔ چھوٹی کار والا بڑی کار والے سے جلن کا شکار ہے۔ غرض مشقت ‘ تکلیف یا غم کی نوعیت تو مختلف ہوسکتی ہے مگر کوئی انسان ایسا نہیں جو کسی نہ کسی دکھ ‘ پریشانی یا مشقت میں مبتلا نہ ہو۔ ان مشقتوں ‘ تکلیفوں اور پریشانیوں کا سامنا انسان کو روز اوّل سے ہے اور رہتی دنیا تک رہے گا۔ جیتے جی کوئی انسان اس سے چھٹکارا حاصل نہیں کرسکتا۔ مرزا غالب ؔنے اس حوالے سے بڑے پتے کی بات کہی ہے : ؎ قید ِحیات و بند ِغم اصل میں دونوں ایک ہیں موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں ! ان مشقتوں اور مصیبتوں میں گھری انسانی زندگی کی یہ سختیاں اور پریشانیاں اپنی جگہ ‘ لیکن انسان کا اصل مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گھمبیر اور پریشان کن ہے۔ اور وہ مسئلہ ہے کہ : ؎ اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مرجائیں گے مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ؟ (ابراہیم ذوق) انسان کے اخروی احتساب کا تصور ذہن میں لائیں اور پھر موازنہ کریں کہ باقی جانداروں کے مقابلے میں ” انسان “ کس قدر مشکل میں ہے۔ ایک بار بردار جانور کی زندگی کا معمول چاہے جتنا بھی مشکل ہو لیکن اس کی مشقت اور تکلیف اس کی زندگی کے ساتھ ختم ہوجاتی ہے۔ ظاہر ہے ایک بیل جب ہل یا رہٹ چلاتے چلاتے مرجاتا ہے تو اس مشقت سے ہمیشہ کے لیے چھوٹ جاتا ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں ایک انسان ہے جو کو فت پر کو فت برداشت کرتا اور تکلیف پر تکلیف جھیلتا جب اس دنیا سے جائے گا تو اسے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی دنیوی زندگی کے ایک ایک پل کا حساب دینا ہوگا۔ اس ضمن میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے : (لَا تَزُوْلُ قَدَمُ ابْنِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ عِنْدِ رَبِّہٖ حَتّٰی یُسْأَلَ عَنْ خَمْسٍ : عَنْ عُمُرِہٖ فِیْمَا اَفْنَاہُ ، وَعَنْ شَبَابِہٖ فِیْمَا اَبْلَاہُ ، وَمَالِہٖ مِنْ اَیْنَ اکْتَسَبَہٗ وَفِیْمَ اَنَفَقَہٗ ، وَمَاذَا عَمِلَ فِیْمَا عَلِمَ ) (١) ” ابن آدم کے پائوں قیامت کے روز اپنے رب کے حضور اپنی جگہ سے ہل نہیں سکیں گے جب تک اس سے پانچ چیزوں کا حساب نہ لے لیا جائے : اس کی عمر کے بارے میں کہ کہاں فنا کی ؟ اس کی جوانی (کی قوتوں ‘ صلاحیتوں اور امنگوں ) کے دور کے بارے میں کہ کیسے گزارا ؟ مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا ؟ (حلال ذرائع سے کمایا یا حرام طریقے سے اور اللوں ّتللوں میں خرچ کیا یا ادائے حقوق کے لیے ؟ ) اور جو علم حاصل ہوا تھا اس پر کتنا عمل کیا ؟ “ یعنی دنیا میں باربرداری بھی کرو ‘ جسمانی ‘ ذہنی اور نفسیاتی اذیتیں بھی برداشت کرو۔ مال وجان اور اولاد سے متعلق رنگا رنگ صدمے جھیلتے جھیلتے زندگی بھر کانٹوں پر بھی لوٹتے رہو اور پھر مرنے کے بعد ایک ایسی ہستی کے سامنے کھڑے ہو کر پل پل کا حساب بھی دو جس سے تمہارے قلوب و اذہان کی گہرائیوں میں پیدا ہونے والے جذبات و خیالات بھی پوشیدہ نہیں ۔ یہ ہے ” انسان “ کی اصل ٹریجڈی ! یہ مرحلہ ایک انسان کے لیے ایسا مشکل ہے کہ اسے یاد کر کے حضرت ابوبکر صدیق (رض) اکثر رویا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ کاش میں ایک چڑیا ہوتا ! دیکھا جائے تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درج بالا فرمان میں مذکور سوالات میں سے آخری سوال سب سے مشکل ہے۔ جس کسی نے دین اور قرآن کا علم جس قدر زیادہ سیکھا اس کے لیے اس کا حساب دینا اسی قدر مشکل ہوگا۔ اگر کسی انسان تک قرآن کی یہ دعوت پہنچ ہی نہیں پائی تو ممکن ہے کہ اس کی طرف سے کوئی عذر بھی قبول ہوجائے۔ (ایسی صورت میں اس کوتاہی کا کچھ نہ کچھ بوجھ ان لوگوں پر بھی ضرور پڑے گا جنہوں نے اسے دعوت پہنچانے میں تساہل برتا ) لیکن جن لوگوں تک قرآن کی دعوت پہنچ گئی اور انہوں نے اپنی استعداد کے مطابق قرآن کے پیغام کو سمجھ بھی لیا تو ظاہر ہے ان کے لیے اس آخری سوال کا جواب دینا بہت مشکل ہوگا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

5 That is, "You may if you so like think that alI your efforts and endeavours in the world are confined to worldly life and motivated by worldly desires, yet the truth is that you are moving, consciously or unconsciously, towards your Lord and you have ultimately to appear before Him in any case.."

سورة الْاِنْشِقَاق حاشیہ نمبر :5 یعنی وہ ساری تگ و دو اور دوڑ دھوپ جو تو دنیا میں کر رہا ہے ، اس کے متعلق چاہے تو یہی سمجھتا رہے کہ یہ صرف دنیا کی زندگی تک ہے اور دنیوی اغراض کے لیے ہے ، لیکن در حقیقت تو شعوری یا غیر شعوری طور پر جا رہا ہے اپنے رب کی طرف اور آخر کار وہیں تجھے پہنچ کر رہنا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

4: اِنسان کی پوری زندگی کسی نہ کسی کوشش میں خرچ ہوتی ہے۔ جو نیک لوگ ہیں، وہ اﷲ تعالیٰ کے اَحکام کی تعمیل میں محنت کرتے ہیں، اور جو دُنیا پرست ہیں، وہ صرف دُنیا کے فوائد حاصل کرنے کے لئے محنت کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ ہر اِنسان کا آخری انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ محنت کرتا کرتا اﷲ تعالیٰ کے پاس پہنچ جاتا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(84:6) یایھا الانسان۔ یا حرف ندا ہے۔ ایھا جب منادی پر الف لام داخل ہو تو مذکر میں ایھا اور مؤنث میں ایتھا یاء کے ساتھ بڑھایا جاتا ہے الانسان میں منادی پر چونکہ الف لام داخل ہے اس لئے حرف نداء کے بعد الف لام بڑھا دیا گیا ہے یایھا الانسان۔ اے آدمی۔ اے انسان۔ مؤنث کی مثال ہے۔ یایتھا النفس المطمئنۃ (89:27) اے اطمینان پانے والی روح۔ الانسان منادی ہے اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔ (1) بعض نے کہا ہے کہ الانسان سے مراد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور اس کے معنی یہ لئے ہیں کہ اے انسان ! یعنی اے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ابلاغ رسالت میں اور ارشاد و تعلیم میں جو کوشش بلیغ اور سرگرمی دکھا رہے ہیں آپ اس کا نیک بدلہ ضرور پائیں گے آپ کی کوشش رائیگاں نہیں جائے گی۔ (2) بعض کے نزدیک اس سے مراد کافر ابوجہل و ابی بن خلف ہے کہ تمہارے کفر پر اصرار ، رسالت کی تکذیب اور دنیا کی طلب آخر رنگ لائے گی اور ہیبت ناک شکل میں قیامت کے روز تیرے سامنے ہوگی۔ (3) بعض اس طرف گئے ہیں کہ یہ خطاب سب بنی نوع انسان سے ہے ہر ایک اپنے کئے کا بدلہ ضرور پائے گا۔ انک کا دح الی ربک کدحا : ان حرف تحقیق مشبہ بالفعل ک ضمیر متصل اسم ان کا دح اس کی خبر۔ کدحا مفعول مطلق الی ربک متعلق خبر۔ کا دح ، کدح (باب ضرب) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر، کسی چیز کے حصول و کسب میں محنت و مشقت اٹھانا۔ کدح کہلاتا ہے لغت عرب میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان دنیا و آخرت کے سلسلہ میں کسی کام میں کوشاں ہو۔ اس کے دل میں اس کی خواہش بھی ہو اور اس کی یہ کوشش لگاتار جاری رہے ان سب امور کے مجموعہ کو کدح کہتے ہیں۔ امام راغب المفردات میں لکھتے ہیں :۔ الکدح بمعنی کوشش کرنا مشقت اٹھانا ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ اے انسان تو اپنے پروردگار کی طرف (پہنچنے میں) خوب کوشش کر رہا ہے۔ آیت ہذا کے ذیل حاشیہ پر تفہیم القرآن میں تحریر کرتے ہیں :۔ یعنی وہ ساری تگ و دو اور دوڑ و دھوپ جو تو دنیا میں کر رہا ہے اس کے متعلق چاہے تو یہی سمجھتا رہے کہ یہ صرف دنیا کی زندگی تک ہے اور دنیوی اغراض کے لئے ہے لیکن در حقیقت تو شعوری یا غیر شعوری طور پر (کشاں کشاں) اپنے رب ہی کی طرف جا رہا ہے اور آخر کار تجھے وہیں پہنچ کر ہی رہنا ہے۔ فملاقیہ : ف بمعنی انجام کار، پس، ملاقیہ مضاف مضاف الیہ۔ ملاقی اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ ملاقاۃ (مفاعلۃ) مصدر سے۔ ملنے والا۔ پالینے والا۔ پاس پہنچنے والا۔ مضاف ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ مضاف الیہ ، اس کا مرجع رب ہے۔ انجام کار تجھے وہیں پہنچنا ہے ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 14 یعنی دنیا میں اپنی استعداد و فطرت کے مطابق نیکی یا برائی میں جدوجہد کر رہا ہے۔15 یعنی اپنے مالک سے جا ملے گا یا اپنی جدوجہد کے نتیجہ سے دوچار ہوگا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یایھا الانسان (6:84) ” جس کو رب نے مہربان کرکے اس طرح بنایا ، جس کو اللہ نے پوری مخلوقات کے مقابلے میں انسانیت کی منفرت صفت دی۔ اس کو تو یہ چاہئے کہ یہ اپنے رب کی معرفت میں سب سے آگے ہو ، اور اس پوری کائنات اور ارض وسما کے مقابلے میں اللہ کے سامنے زیادہ سرتسلیم خم کرنے والاہو ، اللہ نے اس کے جسم میں اپنی روح پھونکی ، اسے یہ قوت دی اور یہ فہم دیا کہ وہ رب تک رسائی حاصل کرسکے اور اپنے نور کا دیا اس کی ذات میں جلایا ، اور اس کے اندر یہ تڑپ رکھی کہ وہ اللہ کے فیوض حاصل کرے ، اور ان کے ذریعہ روحانی پاکیزگی اختیار کرے اور لامحدود بلندیوں تک عروج حاصل کرے۔ اور اس کمال کی انتہاﺅں تک جاپہنچے جن تک انسان پہنچ سکتا ہے۔ یاد رہے کہ انسانی ترقی اور کمال کے آفاق بہت وسیع ہیں۔ یایھا الانسان ................................ فملقیہ (6:84) ” اے انسان ! تو کشاں کشاں اپنے رب کی طرف چلا جارہا ہے اور اس سے ملنے والا ہے “۔ اے انسان تو اپنا سفر حیات اس جہاں میں نہایت مشقت کے ساتھ طے کررہا ہے۔ اپنا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے ، جدوجہد کررہا ہے ، سانس پھولی ہوئی ہے۔ راستہ دشوار ہے اور اس پر مشقت راستے کو طے کرکے تو پہنچنے والا کہاں ہے ؟ رب کی طرف مرجع ہے اور جائے پناہ درگاہ الٰہی ہی ہے اور تو اس تک اس جدوجہد اور مشقت کے بعد پہنچ رہا ہے۔ اے انسان ! تو اس جہاں میں اپنی ضروریات زندگی بھی بڑی جدوجہد سے مہیا کررہا ہے۔ اگر کسی کو جسمانی مشقت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی تو فکر معاش اور ذہنی پریشانی ہر کسی کو ہوتی ہے۔ خوشحالی اور غریب دونوں فکر مند ضرور ہوتے ہیں۔ دونوں ہی مشقت کرتے ہیں۔ اگرچہ مشقت کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔ ورنہ مشقت اور جدوجہد انسان کی زندگی کا جزو لاینفک ہے۔ لیکن سرمایہ دار اور نادار دونوں آخر کار اللہ کے ہاں جاپہنچتے ہیں۔ اے انسان ! اس زمین پر تو ہرگز حقیقی راحت نہ پاسکے گا۔ راحت اور آرام تو آخرت میں ہوں گے لیکن ان کے لئے جو سرتسلیم خم کرتے ہوئے احکام خداوندی کی اطاعت کرتے ہیں اور آخرت کے لئے کچھ کماتے ہیں۔ اس زمین کی مشقت ایک جیسی ہے۔ اگرچہ رنگ مختلف ہوں اور ذائقے الگ ہوں لیکن جب انسان رب تعالیٰ کے ہاں پہنچے گا تو وہاں انجام کا اختلاف حقیقی ہوگا۔ ایک فریق تو اس قدر مشقت میں ہوگا جس سے زمین کی مشقت بہت مختلف اور کم ہے اور دوسرا فریق اس قدر انعام پائے گا کہ ان کے مقابلے میں زمین کی تمام تھکاوٹیں دور ہوجائیں گی۔ یوں محسوس ہوا کہ اس نے کبھی کوئی تکلیف دیکھی ہی نہیں۔ اے انسان ! تجھے تو انسانیت کی صفت دے کر ممتاز کردیا گیا ہے۔ اپنے لئے وہ انجام اور وہ مقام چن لے جو تیری انسانیت کے شایان شان ہو ، جو اس صفت کے مناسب ہو جو اللہ نے تجھے دی ہے۔ وہ آرام اور وہ خوشی اور نعمت طلب کر جو آخرت میں ہے۔ اس پکار کے اندر ہی چونکہ انسانیت کے انجام کے لئے اشارہ تھا ، اس لئے متصلا یہ بات بھی بتا دی گئی کہ انسانیت اس پر مشقفت جدوجہد کے بعد دونوں انجاموں میں کس انجام تک پہنچے گا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿يٰۤاَيُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ ﴾ اس میں انسان کی زندگی کا حاصل اور خلاصہ بیان فرمایا دنیا میں رہتے بستے ہیں کچھ نہ کچھ محنت اور عمل کرتے ہی ہیں جو کچھ کہتے اور کرتے ہیں فرشتے اسے لکھتے ہیں زندگی سب کی گزر رہی ہے اعمال بھی ہو رہے ہیں دنیا بھی ساتھ ساتھ چل رہی ہے قیامت قریب آتی جا رہی ہے مرنے والے مر رہے ہیں اپنے اعمال ساتھ لے جا رہے ہیں اسی طرح دنیا رواں دواں ہے حتیٰ کہ اچانک قیامت آجائے گی، پہلا صور پھونکا جائے گا، تو اس سے لوگ بیہوش ہوجائیں گے اور مرجائیں گے۔ پھر جب دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو زندہ ہو کر قبروں سے نکلیں گے میدان حشر میں جمع ہوں گے حساب ہوگا اعمال نامے دیئے جائیں گے ہر شخص اپنے عمل سے ملاقات کرلے گا، اچھے لوگوں کے اعمال نامے سیدھے ہاتھ میں اور برے آدمیوں کے اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے۔ سوۃ الحاقہ میں اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیئے جانے کا ذکر ہے اور یہاں پشت کے پیچھے سے دینے کا تذکرہ فرمایا ہے دونوں آیات کے ملانے سے معلوم ہوا کہ برے لوگوں کو جو اعمال نامہ دیا جائے گا وہ بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور پشت کے پیچھے سے دیا جائے گا۔ ﴿فَمُلٰقِيْهِ﴾ میں یہ بتادیا کہ انسان جو عمل کرتا ہے اس کے سارے اعمال اس کے سامنے آجائیں گے اور ان سے ملاقات کرے گا۔ اعمال ناموں میں اعمال لکھے ہوئے ہوں گے جس کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور وہ سمجھ لے گا کہ میرے لیے خیر ہی خیر ہے اور میری نجات ہوگئی اس سے آسان حساب لیا جائے گا اور وہ نجات پا کر اپنے اہل و عیال کے پاس خوشی خوشی چلا جائے گا، سورة الحاقۃ میں فرمایا ہے کہ جس کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا وہ کہے گا : ﴿هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِيَهْۚ٠٠١٩﴾ (آؤ پڑھ لو میری کتاب) اور جس کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا وہ تو سمجھ لے گا کہ میں ہلاک ہوگیا اعمال نامہ ملتے ہی یوں کہے گا : ﴿يٰلَيْتَنِيْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِيَهْۚ٠٠٢٥ وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِيَهْۚ٠٠٢٦﴾ (ہائے كاش ! میرا اعمال نامہ مجھے نہ دیا جاتا اور میں اپنا حساب نہ جانتا) اور اسی حال میں وہ اپنی ہلاکت کو پکارے گا یعنی یوں کہے گا کہ مجھے موت آجاتی تو اچھا تھا تاکہ حساب کتاب اور اس کا نتیجہ سامنے نہ آتا لیکن پچھتانے سے اور افسوس کرنے سے کچھ فائدہ نہ ہوگا ایسے شخص کو دوزخ میں جانا ہی ہوگا اسی کو فرمایا ﴿ وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ وَرَآءَ ظَهْرِهٖۙ٠٠١٠ فَسَوْفَ يَدْعُوْا ثُبُوْرًاۙ٠٠١١ وَّ يَصْلٰى سَعِيْرًاؕ٠٠١٢﴾ (اور جس کو پشت کے پیچھے سے اعمالنامہ دیا گیا تو وہ ہلاکت کو پکارے گا اور دہکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

4:۔ ” یا ایہا الانسان “ یہ اعمال صالحہ بجا لانے کی ترکیب ہے۔ ” کا دح “ جاھد، ساع، (مدارک، مظہری) ۔ ” الی ربک “ ای طول حیاتک الی لقاء ربک ای الی الموت (روح ج 30 ص 79) ۔ ” ملاقیہ “ کی ضمیر مجرور ” کدح “ کی طرف راجع ہے۔ انسان تادم آخریں زندگی بھر سعی مسلسل اور عمل پیہم میں مصروف ہے اور آخر قیامت کے دن اپنی جد و جہد کا ثمرہ پائے گا۔ اس لیے انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اعمال صالحہ کا ذخیرہ جمع کرنے کی کوشش کرے۔ اگر نیک کام کرے گا تو اعمالنامہ داہنے ہاتھ میں ملے گا اور اگر کفر و شرک کرے گا تو اعمالنامہ پس پشت سے دیا جائے گا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(6) اے انسان تو اپنے پروردگار کے پاس جانے کے وقت پوری کوشش کے ساتھ عمل کررہا ہے پھر تو اس عمل کی جزا سے ملنے والا ہے کدح کے معنی کسی چیز میں نہایت مشقت کے ساتھ کوشش کرنے کے ہیں عرب کا محاورہ ہے کدح جلدہ مطلب یہ ہے کہ مر نے کے وقت تک اے انسان تو ہر کام میں خواہ وہ اچھا ہو یا برا ہو پوری کوشش اور محنت کرتا ہے اور اس عمل میں پوری طرح جدوجہد کرتا ہے اور مرنے کے وقت تک تیری پوری کوشش جاری ہے بالآخر تو اس عمل کی جزا سے ملنے والا اور ملاقات کرنے والا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ انسان سے مراد سیدالمرسلین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہوں اور ملاقیہ کی ضمیر پروردگار کی طرف راجع ہو جیسا کہ بعض نے کہا ہے لیکن صحیح اور راجح قول وہی ہے جو ہم نے اختیار کیا ہے ۔ اب آگے جزائے اعمال کی تفصیل ہے کیونکہ دنیا میں ہر شخص کی یہی حالت ہے کوئی نیک کام میں لگا ہوا ہے یا برے کام میں مشغول ہے۔