Surat ul Burooj

Surah: 85

Verse: 14

سورة البروج

وَ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الۡوَدُوۡدُ ﴿ۙ۱۴﴾

And He is the Forgiving, the Affectionate,

وہ بڑا بخشش کرنے والا اور بہت محبت کرنے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And He is Oft-Forgiving, Al-Wadud. meaning, He forgives the sin of whoever repents to Him and humbles himself before Him, no matter what the sin may be. Ibn Abbas and others have said about the name Al-Wadud, "It means Al-Habib (the Loving)."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩] یعنی ایسے مجرموں میں سے بھی اگر کوئی شخص اپنے گناہوں سے توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دینے والا ہے۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوق سے بےحد محبت ہے۔ وہ کسی کو خواہ مخواہ مبتلائے عذاب نہیں کرتا۔ وہ سزا صرف اس وقت دیتا ہے جب کوئی شخص بار بار سمجھانے کے باوجود اللہ سے سرکشی اور بغاوت سے باز نہیں آتا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وھو الغفور الودود : اللہ تعالیٰ کے قہر و لجال کے ذکر کے ساتھ ہی اس کی صفات رحمت کا تذکرہ ہے کہ اگر تم توبہ کرلو تو وہ بےحد بخشنے والا ہے۔” الودود “ ” ود بیود ودا “ (س) سے ” فعول “ کے وزن پر مبالغے۔ کا صیغہ ہے، بہت محبت کرنے والا، یعنی وہ بندوں کا دشمن نہیں بلکہ ان سے بہت محبت کرنے والا ہے، سزا صرف اس کو دیتا ہے جو سرکشی پر اتر آئے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَہُوَالْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُ۝ ١٤ ۙ غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ میل کچیل کو زیادہ چھپانے والا ہے اللہ کی طرف سے مغفرۃ یا غفران کے معنی ہوتے ہیں بندے کو عذاب سے بچالیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں ۔ ودد الودّ : محبّة الشیء، وتمنّي كونه، ويستعمل في كلّ واحد من المعنيين علی أن التّمنّي يتضمّن معنی الودّ ، لأنّ التّمنّي هو تشهّي حصول ما تَوَدُّهُ ، وقوله تعالی: وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً [ الروم/ 21] ( و د د ) الود ۔ کے معنی کسی چیز سے محبت اور اس کے ہونے کی تمنا کرنا کے ہیں یہ لفظ ان دونوں معنوں میں الگ الگ بھی استعمال ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ کسی چیز کی تمنا اس کی محبت کے معنی کو متضمعن ہوتی ہے ۔ کیونکہ تمنا کے معنی کسی محبوب چیز کی آرزو کرنا کے ہوتے ہیں ۔ اور آیت : ۔ وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً [ الروم/ 21] اور تم میں محبت اور مہربانی پیدا کردی ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(85:14) وھو الغفور الودود : غفور غفران سے (باب ضرب) مبالغہ کا صیغہ ہے بہت بخشنے والا۔ غافر اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ بخشنے والا۔ ودود مودۃ (باب سمع) مصدر سے مبالغہ کا صیغہ بہت محبت کرنے والا۔ بہت چاہنے والا۔ ثواب دینے والا۔ ود محبت کرنا۔ یہ بھی مصدر ہے۔ دونوں اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہاں مغفرت کا تعلق اور ربط آیت ماقبل سے ہے۔ ثم لم یتوبوا (10:85) ” پھر اس سے تائب نہ ہوئے “۔ یہ اللہ کی بےپایاں رحمت اور اللہ کا فضل عظیم ہے۔ اور ایک کھلا دروازہ ہے اور یہ ہر واپس آنے والے اور ہر توبہ تائب ہونے والے کے لئے کھلا ہے۔ اگرچہ اس کا گناہ اور اس کی معصیت نہایت سخت ہو۔ لفظ ودود (محبت کرنے والا) کا تعلق اہل ایمان سے ہے جنہوں نے ہر چیز پر اپنے رب کو ترجیح دی۔ یہ وہ مقام محبت اور وہ مقام انس ہے جہاں تک اللہ کے خاص بندے ہی پہنچ سکتے ہیں۔ اس مقام تک اللہ صرف ان بندوں کو ترقی دیتا ہے ، جو اللہ کے ساتھ ایسی محبت کرتے ہیں کہ ہر چیز پر ، محبوب سے محبوب چیز پر اللہ کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان بندوں کی صفت سے انسانی قلم قاصر ہے ، الایہ کہ کسی قلم کو اللہ طاقت دے۔ یہ مقام بلند جس تک ان مخصوص بندوں کو عروج نصیب ہوتا ہے ، یہ اللہ کی محبت اور سچی دوستی کا مقام ہے۔ رب اور بندے کے درمیان دوستی ! اور اللہ کی جانب سے اپنے محبوبوں اور مقربین کے ساتھ محبت کا مقام ! لہٰذا اس مرتبہ ومقام کے مقابلے میں اس زندگی کی کوئی حیثیت نہیں ہے جو بہر حال ختم ہونے والی تھی ، اور اس مرتبہ ومقام کے مقابلے میں اس عذاب حریق کی بھی کوئی حیثیت نہیں جو بہرحال ایک محدود وقت کے لئے تھا ، یہ قربانیاں تو اللہ کی جانب سے محبت اور دوستی کے ایک لمحے کے برابر بھی نہیں ہیں۔ اس زمین میں جو لوگ کسی ایک شخص کے غلام ہوتے ہیں۔ اگر یہ مجازی مالک ان کی تعریف میں ایک کلمہ بھی کہہ دے اور اگر وہ دیکھ لیں کہ ان کے کسی فعل سے مال مجازی کے چہرے پر خوشی کے آثار نمودار ہوگئے ہیں ، یہ غلام بہرحال غلام ہے اور وہ مالک مجازی بھی اللہ کا بندہ اور غلام ہے۔ لیکن اللہ کے خاص بندے جن کے ساتھ اللہ محبت کرتا ہے ، جن کے ساتھ محبت کرنے والا رب جلیل ہوتا ہے اور وہ عرش کا مالک ہوتا ہے ، جو بلند اور برتر ہے ، اور کریم ہوتا ہے تو ان بندے کی جان اگر جاتی ہے تو کچھ بھی نہیں ، اگر ان پر تشدد ہوتا ہے تو کچھ بھی نہیں۔ دنیا کی پوری زندگی میں اگر تشدد ہوتا رہے تو بھی اس لمحہ محبت پر وہ قربان ہے جو رب ودود کی طرف سے محبت کا لمحہ ہے جو عرش کا مالک ہے اور عظیم ہے۔ ذوالعرش المجید (15:85) ” عرش کا مالک ہے ، بزرگ اور برتر ہے “۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد فرمایا ﴿وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُۙ٠٠١٤ ذو الْعَرْشِ الْمَجِيْدُۙ٠٠١٥﴾ (اور وہ بہت بڑا بخشنے والا ہے بڑی محبت والا ہے بڑے عرش والا عظمت والا ہے) ۔ اس میں اللہ تعالیٰ شانہ کی شان غفاریت بتائی اور مودت کی شان بھی بیان فرمائی۔ وہ اپنے بندوں کو بخشتا بھی ہے اور مومنین صالحین سے محبت بھی فرماتا ہے، عرش کا مالک ہے، مجید ہے یعنی بڑی عظمت والا ہے ﴿ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُؕ٠٠١٦﴾ وہ جو کچھ چاہتا ہے پورے اختیار و اقتدار کے ساتھ اپنی مشیت اور ارادہ کے مطابق کرتا ہے بطش شدید (سخت پكڑ) ابتدائی تخلیق، پھر موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ فرمانا، گناہگاروں کو بخشنا اہل ایمان پر مودت اور رحمت کے ساتھ متوجہ ہونا یہ سب کچھ اس کی مشیت کے تابع ہے اور اس کے لیے ذرا بھی مشکل نہیں۔ سورة الحج میں فرمایا : ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُدْخِلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيْدُ ٠٠١٤﴾ (بلاشبہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ایسے باغوں میں داخل فرما دیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، بلاشبہ اللہ تعالیٰ کرتا ہے جو بھی ارادہ فرماتا ہے) ۔ پھر چند آیات کے بعد فرمایا : ﴿ وَ مَنْ يُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَفْعَلُ مَا يَشَآءُؕ ٠٠١٨﴾ (اور جس کو اللہ ذلیل کرے اس کو کوئی عزت دینے والا نہیں بلاشبہ اللہ تعالیٰ جو چاہے کرے) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(14) اوروہی بڑا بخشنے والا بڑی محبت کرنے والا ہے۔