Surat ul Burooj
Surah: 85
Verse: 17
سورة البروج
ہَلۡ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ الۡجُنُوۡدِ ﴿ۙ۱۷﴾
Has there reached you the story of the soldiers -
تجھے لشکروں کی خبر بھی ملی ہے؟
ہَلۡ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ الۡجُنُوۡدِ ﴿ۙ۱۷﴾
Has there reached you the story of the soldiers -
تجھے لشکروں کی خبر بھی ملی ہے؟
17۔ 1 یعنی ان پر میرا عذاب آیا اور میں نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا، جسے کوئی ٹال نہیں سکا۔
(ھل اتک حدیث الجنود…: یہ جو فرمایا تھا کہ اللہ کی پکڑ بڑی سخت ہے، اسے دلوں میں جما دینے کے لئے ثمود اور فرعون کے دو قصے جو عرب میں زیادہ مشہور تھے، وہ اہل مکہ کو یاد دلائے، تاکہ وہ ان قصوں سے عبرت پکڑیں۔ (احسن التفاسیر) اس کے علاوہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو تسلی دلانا بھی مقصود ہے۔
ہَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْجُــنُوْدِ ١٧ ۙ هَلْ : حرف استخبار، إما علی سبیل الاستفهام، وذلک لا يكون من اللہ عزّ وجلّ : قال تعالی: قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوهُ لَنا[ الأنعام/ 148] وإمّا علی التّقریر تنبيها، أو تبكيتا، أو نفیا . نحو : هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزاً [ مریم/ 98] . وقوله : هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا[ مریم/ 65] ، فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرى مِنْ فُطُورٍ [ الملک/ 3] كلّ ذلک تنبيه علی النّفي . وقوله تعالی: هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمامِ وَالْمَلائِكَةُ [ البقرة/ 210] ، لْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلائِكَةُ [ النحل/ 33] ، هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ [ الزخرف/ 66] ، هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا ما کانوا يَعْمَلُونَ [ سبأ/ 33] ، هَلْ هذا إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ [ الأنبیاء/ 3] قيل : ذلک تنبيه علی قدرة الله، و تخویف من سطوته . ( ھل ) ھل یہ حرف استخبار اور کبھی استفہام کے لئے آتا ہے ۔ جیسے قرآن پاک میں ہے : هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوهُ لَنا[ الأنعام/ 148] کہدو کہ تمہارے پاس کوئی سند ہے اگر ہے تو اسے ہمارے سامنے نکالو ۔ اور کبھی تنبیہ تبکیت یا نفی کے لئے چناچہ آیات : ۔ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزاً [ مریم/ 98] بھلا تم ان میں سے کسی کو دیکھتے ہو یار کہیں ان کی بھنکسنتے ہو ۔ هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا[ مریم/ 65] بھلا ئم اس کا کوئی ہم نام جانتے ہو ۔ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرى مِنْ فُطُورٍ [ الملک/ 3] ذرا آنکھ اٹھا کر دیکھو کیا تجھے ( آسمان میں ) کوئی شگاف نظر آتا ہے ۔ میں نفی کے معنی پائے جاتے ہیں ۔ اور آیات : ۔ هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمامِ وَالْمَلائِكَةُ [ البقرة/ 210] کیا یہ لوگ اسی بات کے منتظر ہیں کہ ان پر خدا کا عذاب ) بادل کے سائبانوں میں نازل ہو اور فرشتے بھی اتر آئیں ۔ ھلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلائِكَةُ [ النحل/ 33] یہ اس کے سوا اور کسی بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں ۔ هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ [ الزخرف/ 66] یہ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ قیامت هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا ما کانوا يَعْمَلُونَ [ سبأ/ 33] یہ جیسے عمل کرتے ہیں ویسا ہی ان کو بدلہ ملے گا ۔ هَلْ هذا إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ [ الأنبیاء/ 3] یہ شخص کچھ بھی ) نہیں ہے مگر تمہارے جیسا آدمی ہے ۔ میں اللہ تعالیٰ کی قدرت پر تنبیہ اور اس کی سطوت سے تخو یف کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے : ۔ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ، وقوله تعالی: أَتى أَمْرُ اللَّهِ [ النحل/ 1] ، وقوله : فَأَتَى اللَّهُ بُنْيانَهُمْ مِنَ الْقَواعِدِ [ النحل/ 26] ، أي : بالأمر والتدبیر، نحو : وَجاءَ رَبُّكَ [ الفجر/ 22] ، وعلی هذا النحو قول الشاعرأتيت المروءة من بابها فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقوله : لا يَأْتُونَ الصَّلاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسالی [ التوبة/ 54] ، أي : لا يتعاطون، وقوله : يَأْتِينَ الْفاحِشَةَ [ النساء/ 15] ، وفي قراءة عبد اللہ : ( تأتي الفاحشة) فاستعمال الإتيان منها کاستعمال المجیء في قوله : لَقَدْ جِئْتِ شَيْئاً فَرِيًّا [ مریم/ 27] . يقال : أتيته وأتوته ويقال للسقاء إذا مخض وجاء زبده : قد جاء أتوه، وتحقیقه : جاء ما من شأنه أن يأتي منه، فهو مصدر في معنی الفاعل . وهذه أرض کثيرة الإتاء أي : الرّيع، وقوله تعالی: مَأْتِيًّا[ مریم/ 61] مفعول من أتيته . قال بعضهم معناه : آتیا، فجعل المفعول فاعلًا، ولیس کذلک بل يقال : أتيت الأمر وأتاني الأمر، ويقال : أتيته بکذا وآتیته كذا . قال تعالی: وَأُتُوا بِهِ مُتَشابِهاً [ البقرة/ 25] ، وقال : فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقال : وَآتَيْناهُمْ مُلْكاً عَظِيماً [ النساء/ 54] .[ وكلّ موضع ذکر في وصف الکتاب «آتینا» فهو أبلغ من کلّ موضع ذکر فيه «أوتوا» ، لأنّ «أوتوا» قد يقال إذا أوتي من لم يكن منه قبول، وآتیناهم يقال فيمن کان منه قبول ] وقوله تعالی: آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ [ الكهف/ 96] وقرأه حمزة موصولة أي : جيئوني . والإِيتاء : الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247] . ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے اور اس سے بطور تشبیہ مسافر کو اتاوی کہہ دیتے ہیں ۔ الغرض اتیان کے معنی |" آنا |" ہیں خواہ کوئی بذاتہ آئے یا اس کا حکم پہنچے یا اس کا نظم ونسق وہاں جاری ہو یہ لفظ خیرو شر اور اعیان و اعراض سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : {إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ } [ الأنعام : 40] اگر تم پر خدا کا عذاب آجائے یا قیامت آموجود ہو { أَتَى أَمْرُ اللَّهِ } [ النحل : 1] خد اکا حکم ( یعنی عذاب گویا ) آہی پہنچا۔ اور آیت کریمہ { فَأَتَى اللَّهُ بُنْيَانَهُمْ مِنَ الْقَوَاعِدِ } [ النحل : 26] میں اللہ کے آنے سے اس کے حکم کا عملا نفوذ مراد ہے جس طرح کہ آیت { وَجَاءَ رَبُّكَ } [ الفجر : 22] میں ہے اور شاعر نے کہا ہے ۔ (5) |" اتیت المروءۃ من بابھا تو جو انمروی میں اس کے دروازہ سے داخل ہوا اور آیت کریمہ ۔ { وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَى } [ التوبة : 54] میں یاتون بمعنی یتعاطون ہے یعنی مشغول ہونا اور آیت کریمہ ۔ { يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ } [ النساء : 15] میں الفاحشہ ( بدکاری ) کے متعلق اتیان کا لفظ ایسے ہی استعمال ہوا ہے جس طرح کہ آیت کریمہ ۔ { لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا } [ مریم : 27] فری کے متعلق مجئی کا لفظ استعمال ہوا ہے ( یعنی دونوں جگہ ارتکاب کے معنی ہیں ) اور آیت ( مذکورہ ) میں ایک قرات تاتی الفاحشۃ دونوں طرح آتا ہے ۔ چناچہ ( دودھ کے ، مشکیزہ کو بلونے سے جو اس پر مکھن آجاتا ہے اسے اتوۃ کہا جاتا ہے لیکن اصل میں اتوۃ اس آنے والی چیز کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز سے حاصل ہوکر آئے لہذا یہ مصدر بمعنی فاعل ہے ۔ ارض کثیرۃ الاباء ۔ زرخیز زمین جس میں بکثرت پیداوار ہو اور آیت کریمہ : {إِنَّهُ كَانَ وَعْدُهُ مَأْتِيًّا } [ مریم : 61] بیشک اس کا وعدہ آیا ہوا ہے ) میں ماتیا ( فعل ) اتیتہ سے اسم مفعول کا صیغہ ہے بعض علماء کا خیال ہے کہ یہاں ماتیا بمعنی آتیا ہے ( یعنی مفعول بمعنی فاعل ) ہے مگر یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ محاورہ میں اتیت الامر واتانی الامر دونوں طرح بولا جاتا ہے اتیتہ بکذا واتیتہ کذا ۔ کے معنی کوئی چیز لانا یا دینا کے ہیں قرآن میں ہے ۔ { وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا } [ البقرة : 25] اور ان کو ایک دوسرے کے ہم شکل میوے دیئے جائیں گے ۔ { فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لَا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا } [ النمل : 37] ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے جس سے مقابلہ کی ان میں سکت نہیں ہوگی ۔ { مُلْكًا عَظِيمًا } [ النساء : 54] اور سلطنت عظیم بھی بخشی تھی ۔ جن مواضع میں کتاب الہی کے متعلق آتینا ( صیغہ معروف متکلم ) استعمال ہوا ہے وہ اوتوا ( صیغہ مجہول غائب ) سے ابلغ ہے ( کیونکہ ) اوتوا کا لفظ کبھی ایسے موقع پر استعمال ہوتا ہے ۔ جب دوسری طرف سے قبولیت نہ ہو مگر آتینا کا صیغہ اس موقع پر استعمال ہوتا ہے جب دوسری طرف سے قبولیت بھی پائی جائے اور آیت کریمہ { آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ } [ الكهف : 96] تو تم لوہے کہ بڑے بڑے ٹکڑے لاؤ ۔ میں ہمزہ نے الف موصولہ ( ائتونی ) کے ساتھ پڑھا ہے جس کے معنی جیئونی کے ہیں ۔ الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا اور بخشنا ہے ہیں ۔ قرآن بالخصوص صدقات کے دینے پر یہ لفظ استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا :۔ { وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ } [ البقرة : 277] اور نماز پڑہیں اور زکوۃ دیں { وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ } [ الأنبیاء : 73] اور نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کا حکم بھیجا { وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ } ( سورة البقرة 229) اور یہ جائز نہیں ہے کہ جو مہر تم ان کو دے چکو اس میں سے کچھ واپس لے لو { وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ } [ البقرة : 247] اور اسے مال کی فراخی نہیں دی گئی حدیث وكلّ کلام يبلغ الإنسان من جهة السمع أو الوحي في يقظته أو منامه يقال له : حدیث، قال عزّ وجلّ : وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلى بَعْضِ أَزْواجِهِ حَدِيثاً [ التحریم/ 3] ، وقال تعالی: هَلْ أَتاكَ حَدِيثُ الْغاشِيَةِ [ الغاشية/ 1] ، وقال عزّ وجلّ : وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحادِيثِ [يوسف/ 101] ، أي : ما يحدّث به الإنسان في نومه، حدیث ہر وہ بات جو انسان تک سماع یا وحی کے ذریعہ پہنچے اسے حدیث کہا جاتا ہے عام اس سے کہ وہ وحی خواب میں ہو یا بحالت بیداری قرآن میں ہے ؛وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلى بَعْضِ أَزْواجِهِ حَدِيثاً [ التحریم/ 3] اور ( یاد کرو ) جب پیغمبر نے اپنی ایک بی بی سے ایک بھید کی بات کہی ۔ أَتاكَ حَدِيثُ الْغاشِيَةِ [ الغاشية/ 1] بھلا ترکو ڈھانپ لینے والی ( یعنی قیامت کا ) حال معلوم ہوا ہے ۔ اور آیت کریمہ :۔ وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحادِيثِ [يوسف/ 101] اور خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔ میں احادیث سے رویا مراد ہیں جند يقال للعسکر الجُنْد اعتبارا بالغلظة، من الجند، أي : الأرض الغلیظة التي فيها حجارة ثم يقال لكلّ مجتمع جند، نحو : «الأرواح جُنُودٌ مُجَنَّدَة» قال تعالی: إِنَّ جُنْدَنا لَهُمُ الْغالِبُونَ [ الصافات/ 173] ( ج ن د ) الجند کے اصل معنی سنگستان کے ہیں معنی غفلت اور شدت کے اعتبار سے لشکر کو جند کہا جانے لگا ہے ۔ اور مجازا ہر گروہ اور جماعت پر جند پر لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے ( حدیث میں ہے ) کہ ارواح کئ بھی گروہ اور جماعتیں ہیں قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ جُنْدَنا لَهُمُ الْغالِبُونَ [ الصافات/ 173] اور ہمارا لشکر غالب رہے گا ۔
(١٧۔ ٢٠) کیا آپ کو ان لشکروں کا واقعہ معلوم ہے یعنی فرعون اور ثمود کا اور جو لوگ ان سے پہلے ہوئے اور جو ان کے بعد میں ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے تکذیب پر ان کی کیسی سخت پکڑ کی بلکہ یہ مکہ کے کافر قرآن و حضور کو جھٹلا رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے اور ان کے اعمال سے باخبر ہے۔
(85:17) ہل اتک حدیث الجنود۔ جملہ استفہام تقریری ہے۔ تمہارے پاس لشکروں کا قصہ آہی چکا ہے۔
ف 5 یعنی ضرور پہنچا ہے۔ اس سے مقصود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا ہے کہ ان کا انجام زہن میں رکھیں کہ کس طرح انہوں نے انبیاء کو جھٹلایا اور پھر کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان سے انتقام لیا۔
فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی پکڑ کا ذکر ہوا اب اس کی پکڑ کی دو مثالیں بیان کی جاتی ہیں۔ اس سورت کی آٹھویں اور نویں آیات میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ میں سخت پکڑ کرنے والا ہوں، لوگوں کو معاف کرنے والا اور ان کے ساتھ محبت کرنے والا ہوں اور جو چاہتا ہوں وہ کرتا ہوں۔ میرے سامنے کوئی پَر نہیں مار سکتا کیونکہ میں بڑے عرش کا مالک اور بڑی عظمت والا ہوں۔ اس کی عظمت کی نظیر دیکھنا چاہو تو ان لشکروں کا حال جانو جن کے سامنے کوئی دم نہیں مارسکتا تھا۔ فرعون اپنی طاقت اور لشکر وسپاہ پر اس قدر مغرور ہوا کہ اس نے ” اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلیٰ “ کا دعویٰ کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کے دلائل سننے اور ان کے معجزات دیکھنے کے باوجود انہیں ٹھکراتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی گرفت کی، اسے اور اس کے لشکر کو ڈبکیاں دے دے کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہی حال قوم ثمود کا ہوا، انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرایا اور ان سے عذاب لانے کا بھی مطالبہ کیا جس کے نتیجے میں انہیں ہلاک کردیا اس واقعہ کا اختصار یہ ہے۔ ١۔ ثمود نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تو صالح (علیہ السلام) نے قوم کو فرمایا تین دن فائدہ اٹھا لو، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ (ھود : ٦٤، ٦٥) ٢۔ انھوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور وہ نادم ہونے والوں میں سے ہوگئے۔ (الشعراء : ١٥٧) ٣۔ قوم ثمود کے بدبختوں نے اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ دیں۔ الشمس : ١٤) ٤۔ قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے عذاب کا مطالبہ کیا۔ (الاعراف : ٧٧) ٦۔ ثمود زور دار آواز کے ساتھ ہلاک کیے گئے۔ (الحاقہ : ٥) ٧۔ قوم عاد وثمود کے اعمال بد کو شیطان نے ان کے لیے فیشن بنا دیا تھا۔ (العنکبوت : ٣٨) ٨۔ قوم ثمود کو زلزلے نے لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ (الاعراف : ٧٨) (ھود : ٦٧) ٩۔ قوم ثمود کی راہنمائی کی گئی لیکن انہوں نے گمراہی کو ترجیح دی اس پر انہیں ہولناک آواز نے آلیا۔ ( حٰم السجدۃ : ١٧) یہ جاننے کے باوجود کفار تکذیب کررہے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے جب اس کی گرفت کا وقت آئے گا تو نہ یہ بھاگ سکیں گے اور نہ ہی انہیں بچانے والا ہوگا۔ جس قرآن کی یہ تکذیب کرتے ہیں وہ لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ یاد رہے کہ اہل مکہ کی یہ کوشش تھی کہ کسی نہ کسی طریقے سے قرآن کی دعوت کو ختم کردیا جائے اس پر انہیں متنبہ کیا گیا ہے کہ جس قرآن کی تم تکذیب کرتے ہو اور اس کی دعوت کو مٹانے کے درپے ہو اسے کسی صورت بھی مٹایا نہیں جاسکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے لوح محفوظ میں درج کر رکھا ہے۔ قرآن مجید کے محفوظ ہونے کا اشارہ فرماکر کفار کو بتلایا گیا ہے کہ قرآن مجید اور اس کی دعوت مٹنے والی نہیں یہ ہر صورت دنیا میں پھیل کر رہے گی۔ (ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بالْہُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَ لَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ ) (التوبہ : ٣٣) ” وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اسے ہر دین پر غالب کردے، خواہ مشرک لوگ برا سمجھتے رہیں۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون اور ثمود کو ملیا میٹ کردیا۔ ٢۔ حقائق جاننے کے باوجود کفار قرآن مجید کی تکذیب کرتے ہیں۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اختیار کے ذریعے کفار کو گھیر رکھا ہے۔ ٤۔ قرآن مجید کی کفار تکذیب کرتے ہیں حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے اور اس کے ہاں لوح محفوظ میں درج ہے۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید کی عظمت اور حفاظت : ١۔ اللہ نے اپنے رسول کو قرآن مجید اور سات آیات دیں جو باربار پڑھی جاتی ہیں۔ (الحجر : ٨٧) ٢۔ قرآن مجید ایسی کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ (البقرۃ : ٢) ٣۔ قرآن مجید برھان اور نور مبین ہے۔ (النساء : ١٧٤) ٤۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ (البقرۃ : ١٨٥) ٥۔ قرآن مجید اللہ کی طرف سے کھلی کتاب ہے۔ (ھود : ١) ٦۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ (آل عمران : ١٣٨) ٧۔ قرآن مجید کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے لے رکھا ہے۔ (الحجر : ٩)
یہ دو طویل قصوں کی طرف اشارہ ہے ، اس لئے فرعون اور قوم ثمود کی باتیں مخاطبین کو معلوم تھیں۔ قرآن کریم نے دونوں قصوں کو بار بار بیان کیا ہے۔ یہاں ان کو جنود اس لئے کہا گیا کہ وہ بہت ہی طاقتور تھے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ ان کا قصہ کیا ہے اور تمہارے رب نے ان کے ساتھ کیا کیا تھا ؟ اللہ تو جو چاہے کر گزرتا ہے۔ فرعون اور ثمود دونوں کے قصے اپنی نوعیت اور نتائج کے اعتبار سے مختلف تھے۔ فرعون کو تو اللہ نے معہ اپنے لشکرکے ، غرق کیا اور بنی اسرائیل کو نجات دی۔ ان کو ایک عرصہ تک زمین کا اقتدار سونپا گیا تاکہ ان کے ذریعہ اللہ نے اپنی تقدیر کو ظاہر کرے اور اپنے ارادے پورے کرے۔ رہے ثمود تو اللہ نے ان کو ہلاک کردیا اور حضرت صالح (علیہ السلام) کی معیت میں ایک چھوٹی سی تعداد نے نجات پائی لیکن اس کے بعد اس تعداد کو زمین کا اقتدار نہ دیا گیا تھا ، صرف یہ ہوا کہ ان فاسقوں سے ان کو نجات ملی۔ یہ دونوں واقعات اللہ کے ارادہ مطلقہ اور اللہ کی بےقید مشیت کا نمونہ تھے۔ اور دعوت اسلامی کے دو نمونے تھے کہ ان کے دو نتائج میں سے کوئی نتیجہ نکلنے کا احتمال ہے۔ ہاں ایک تیسرا احتمال بھی ہے جو اصحاب اخدود کو پیش آیا۔ یہ واقعات مکہ میں کام کرنے والی مٹھی بھرتحریک اسلامی کو بتائے جارہے تھے کہ دعوت الی اللہ کو ان میں سے کوئی واقعہ پیش آسکتا ہے ، نہ صرف مکہ میں کام کرنے والے مسلمانوں کو یہ نقشہ دکھایا جارہا تھا بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی۔ آخر میں پردہ احساس پر دو قومی ضربات لگائی جاتی ہیں ، دونوں میں ایک فیصلہ کن بات ہے اور آخری فیصلہ ہے۔
﴿هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْجُنُوْدِۙ٠٠١٧﴾ (الی آخر السورۃ) (کیا آپ کے پاس لشکروں کی بات پہنچی ہے یعنی فرعون اور ثمود کی، بلکہ جن لوگوں نے کفر کیا وہ تکذیب میں ہیں اور اللہ ان کو ادھر ادھر سے گھیرے ہوئے ہے بلکہ وہ قرآن مجید ہے جو لوح محفوظ میں ہے) ۔ ان آیات میں بعض بڑے بڑے کافروں باغیوں یعنی فرعون وثمود کا تذکرہ فرمایا ہے، ارشاد فرمایا کیا آپ کے پاس لشکروں کا قصہ پہنچا ہے یعنی فرعون اور اس کے لشکروں کا واقعہ اور قوم ثمود کا واقعہ آپ کو معلوم ہے ؟ یہ استفہام تقریری ہے یعنی آپ کو ان لوگوں کے کبر نخوت اور غرور اور بغاوت پھر ان کی تعذیب اور ہلاکت کے واقعات معلوم ہوچکے ہیں آپ یہ واقعات موجودہ منکرین اور معاندین کو سنا چکے ہیں ان کو ان قوموں کے واقعات سے عبرت حاصل کرنا چاہیے لیکن اس کی بجائے کافر لوگ تکذیب میں لگے ہوئے ہیں آپ کو بھی جھٹلاتے ہیں اور قرآن کو بھی جھٹلاتے ہیں ان کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ان سے بیخبر ہے اسے ان کی سب حرکتوں کا علم ہے وہ ہر طرف سے انہیں گھیرے ہوئے ہے یعنی ان کے سب اعمال اور افعال احوال اور اشغال کا اسے پوری طرح علم ہے گزشتہ باغی قوموں کو جس طرح سزا دی گئی یہ بھی مبتلائے عذاب ہوں گے۔ ﴿بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِيْدٌۙ٠٠٢١ فِيْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ (رح) ٠٠٢٢﴾ ان کا عناد اور تکذیب ان کی حماقت اور گمراہی کی وجہ سے ہے۔ قرآن ایسی چیز نہیں جس کی تکذیب کی جائے وہ تو ایک باعظمت قرآن ہے جو لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے اس میں کسی تغیر و تبدل کا احتمال نہیں وہاں بھی محفوظ ہے اور جو فرشتہ لاتا ہے وہ بھی امین ہے۔ پوری حفاظت کے ساتھ لاتا ہے اگر کوئی شخص اس پر ایمان نہ لائے تو اس کی عظمت اور حفاظت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ وھذا آخر سورة البروج، والحمد للہ العلی الخلاق
10:۔ ” ھل اتاک “ یہ پہلے شاہد سے متعلق ہے۔ جس طرح آسمان سب کو محیط ہے اور وہ اس سے کہیں بھاگ نہیں سکتے اسی طرح اللہ تعالیٰ ان سب کو محیط ہے وہ اس کے عذاب سے بچ نہیں سکتے۔ فرعون وثمود ” الجنود “ سے بدل ہے کیا تمہیں فرعون اور ثمود کا قصہ معلوم نہیں کہ کس طرح انہوں نے عناد و سرکشی سے ہمارے پیغمبروں کی تکذیب کی اور مومنوں کو گوناگوں ایذاؤں میں مبتلا کیا۔ استفہام تقریر ہے یعنی ان تمام باتوں کا علم ہے۔