Surat ul Burooj

Surah: 85

Verse: 18

سورة البروج

فِرۡعَوۡنَ وَ ثَمُوۡدَ ﴿ؕ۱۸﴾

[Those of] Pharaoh and Thamud?

۔ ( یعنی ) فرعون اور ثمود کی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Has the story reached you of the hosts, Of Fir`awn and Thamud? meaning, has the news reached you of what Allah caused to befall them of torment, and that He sent down upon them the punishment that no one was able to ward off from them This is the affirmation of His statement, إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ (Verily, the punishment of your Lord is severe and painful). meaning, when He seizes the wrongdoer, He seizes him with a severe and painful punishment. It is the seizing punishment of One Most Mighty, and Most Powerful. Then Allah says, بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي تَكْذِيبٍ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٢] فرعون کو بھی اپنی سلطنت، حکومت اور لاؤ لشکر پر بڑا گھمنڈ تھا اور قوم ثمود بھی اپنے آپ کو بہت طاقتور سمجھے بیٹھے تھے جنہوں نے اپنے مکانات تک پہاڑوں کے اندر بنا رکھے تھے بلکہ شہروں کے شہر پہاڑوں کے اندر آباد کر رکھے تھے۔ اور کہتے تھے کہ قوت میں ہم سے بڑھ کر اور کون ہوسکتا ہے ؟ مگر جب ان لوگوں نے گھمنڈ میں آکر اللہ کے مقابلے میں سرکشی کی راہ اختیار کی تو اللہ نے انہیں تباہ و برباد کرکے رکھ دیا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فِرْعَوْنَ وَثَمُــوْدَ۝ ١٨ ۭ فِرْعَوْنُ : اسم أعجميّ ، وقد اعتبر عرامته، فقیل : تَفَرْعَنَ فلان : إذا تعاطی فعل فرعون، كما يقال : أبلس وتبلّس، ومنه قيل للطّغاة : الفَرَاعِنَةُ والأبالسة . فرعون یہ علم عجمی ہے اور اس سے سرکش کے معنی لے کر کہا جاتا ہے تفرعن فلان کہ فلاں فرعون بنا ہوا ہے جس طرح کہ ابلیس سے ابلس وتبلس وغیرہ مشتقات استعمال ہوتے ہیں اور ایس سے سرکشوں کو فراعنۃ ( جمع فرعون کی اور ابا لسۃ ( جمع ابلیس کی ) کہا جاتا ہے ۔ ثمد ثَمُود قيل : هو أعجمي، وقیل : هو عربيّ ، وترک صرفه لکونه اسم قبیلة، أو أرض، ومن صرفه جعله اسم حيّ أو أب، لأنه يذكر فعول من الثَّمَد، وهو الماء القلیل الذي لا مادّة له، ومنه قيل : فلان مَثْمُود، ثَمَدَتْهُ النساء أي : قطعن مادّة مائه لکثرة غشیانه لهنّ ، ومَثْمُود : إذا کثر عليه السّؤال حتی فقد مادة ماله . ( ث م د ) ثمود ( حضرت صالح کی قوم کا نام ) بعض اسے معرب بتاتے ہیں اور قوم کا علم ہونے کی ہوجہ سے غیر منصرف ہے اور بعض کے نزدیک عربی ہے اور ثمد سے مشتق سے ( بروزن فعول ) اور ثمد ( بارش) کے تھوڑے سے پانی کو کہتے ہیں جو جاری نہ ہو ۔ اسی سے رجل مثمود کا محاورہ ہے یعنی وہ آدمی جس میں عورتوں سے کثرت جماع کے سبب مادہ منویہ باقی نہ رہے ۔ نیز مثمود اس شخص کو بھی کہا جاتا ہے جسے سوال کرنے والوں نے مفلس کردیا ہو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

8 The address is directed to the people who in their false pride of having powerful hosts, are breaking the law of God on His earth. They are being warned. as if to say: "Do you know what evil fate was stet before by those who broke the hounds set by AIIah on the strength of the power of their hosts'"

سورة الْبُرُوْج حاشیہ نمبر :8 روئے سخن ان لوگوں کی طرف ہے جو اپنے طاقتور جتھوں کے زعم میں خدا کی زمین پر سرکشیاں کر رہے ہیں ۔ ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ کچھ تمہیں خبر بھی ہے کہ اس سے پہلے جن لوگوں نے اپنے جتھوں کی طاقت کے بل پر یہی سرکشیاں کی تھیں وہ کس انجام سے دوچار ہو چکے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(85:18) فرعون وثمود : یہ الجنود سے بدل ہے یا جنود محذوف ہے یعنی فرعون اور ثمود کی فوجوں کا قصہ۔ مطلب یہ کہ فرعون اور ثمود اور ان کے لشکروں کا حال تو تمہیں معلوم ہی ہے کہ کفرو عناد میں وہ کسی حد تک پہنچ گئے تھے اور یہ بھی معلوم ہے کہ اس کے نتیجے میں ان کے ساتھ کیا بیتی ؟ اور خدا کی طرف سے ان پر کیسا عذاب نازل ہوا۔ ایک کو دریا میں غرق کرکے ہلاک کردیا گیا ۔ اور دوسرے کو ایک زلزلہ نے آلیا۔ اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ فائدہ : اوپر آیات 12 تا 16 میں اللہ تعالیٰ نے اپنی چند صفات ارشاد فرمائیں کہ اس کی گرفت (جب وہ پکڑنا چاہے) نہایت شدید ہے مخلوقات کو اس نے اولا پیدا کیا اور اسے پھر دوبارہ بھی (مر نے بعد) زندہ کرے گا۔ وہ غفور ہے۔ ودود ہے صاحب عرش ہے عظیم المرتبت ہے اور یہ کہ جس امر کا ارادہ کرتا ہے اسے کر گزرتا ہے کوئی اس کے ارادہ کی تکمیل میں روکاوٹ نہیں ڈال سکتا۔ یہ صفات ذہن نشین کرانے کے بعد وہ ٹھوس مثالیں بیان ہوئیں :۔ ایک فرعون کی کہ وہ اپنے جاو و حشم کے بل بوتے پر خدائی کا دعوی رکھتا تھا ۔ لیکن باوجود اتنی کروفر کے ذلیل موت مارا گیا اور اپنے لشکر جرار کے ہمراہ سمندر میں ڈبو کر ہلاک کردیا گیا۔ (79:15 تا 26) اور (7:133 تا 136) وغیرہ۔ قرآن مجید میں قوم ثمود کی ہلاکت کو کہیں رجفۃ زلزلہ (7:78) کہیں صاعقۃ کڑک (41:17) اور کہیں صحیۃ چیخ (15:83) سے تعبیر کیا ہے۔ یہ مثالیں یعنی فرعون کی غرقابی اور قوم ثمود کی بربادی اہل مکہ کے علم میں تھیں۔ کانت قصتھم عند اہل مکۃ مشھورۃ۔ ان کی کہانی اہل مکہ میں مشہور و معروف تھیں ۔ لہٰذا کفار مکہ کو چاہیے تھا کہ ان سے عبرت حاصل کرتے لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا بلکہ انہوں نے قرآن کی اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایڑی چوٹی کا زور لگا کر تکذیب کا ارتکاب کیا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(18) جو فرعون اور ثمود تھے ۔ یعنی فرعون اور ثمود کے لشکروں کی بات اور ان کا واقعہ بھی آپ تک پہنچا ہے کہ ان کا کیا حشر ہوا اور ان کی تکذیب پر کسی طرح ان کا پکڑا گیا اور فرعون وثمود کس طرح تاہ کئے گئے ان کی باہی اور ہلاکت کے ذکر سے جس طرح مسلمانوں کو تسلی ہوتی ہے اسی طرح کفار کو ڈرنا اور تکذیب سے بعض آجانا چاہیے۔