Surat ul Burooj

Surah: 85

Verse: 7

سورة البروج

وَّ ہُمۡ عَلٰی مَا یَفۡعَلُوۡنَ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ شُہُوۡدٌ ؕ﴿۷﴾

And they, to what they were doing against the believers, were witnesses.

اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کو اپنے سامنے دیکھ رہے تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Cursed were the People of the Ditch. Of fire fed with fuel. When they sat by it. And they witnessed what they were doing against the believers. meaning, they were witnesses to what was done to these believers. Allah said, وَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلاَّ أَن يُوْمِنُوا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤] اصحاب الاخدود کا قصہ اور ذونواس یہودی بادشاہ :۔ اس ضمن میں درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے :۔ صہیب (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ : ایک بادشاہ کا ایک کاہن تھا جو اسے غیب کی خبریں دیا کرتا تھا۔ کاہن نے بادشاہ سے کہا کہ ایک ذہین و فطین لڑکا تجویز کرو جسے میں یہ علم سکھا دوں، مجھے خطرہ ہے کہ مرجاؤں تو یہ علم ہی نہ اٹھ جائے اور تم میں اس کا کوئی استاد نہ رہے۔ چناچہ لوگوں نے ایسا لڑکا تجویز کیا اور اسے حکم دیا کہ وہ ہر روز اس کے پاس حاضر ہوا کرے۔ چناچہ وہ لڑکا اس کاہن کے ہاں آنے جانے لگا۔ اس لڑکے کے راستہ میں ایک گرجا میں ایک راہب رہتا تھا۔ معمر راوی کہتا ہے کہ میرے خیال میں ان دنوں ایسے عبادت خانوں کے لوگ ہی مسلمان تھے۔ وہ لڑکا جب اس راہب کے پاس سے گزرتا تو اس سے دین کی باتیں پوچھتا تاآنکہ راہب نے اسے بتایا۔ میں تو صرف اللہ کی عبادت کرتا ہوں۔ اب لڑکا راہب کے پاس زیادہ دیر رہنے لگا اور کاہن کے ہاں دیر سے پہنچتا۔ کاہن نے اس کے گھر والوں کو کہلا بھیجا کہ لڑکا میرے پاس کم ہی آتا ہے۔ لڑکے نے راہب کو یہ بات بتائی تو راہب نے اسے کہا۔ جب کاہن تم سے پوچھے کہ کہاں رہے تو کہہ دینا کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس تھا اور اگر گھر والے پوچھیں تو کہہ دینا کہ میں کاہن کے پاس تھا۔ کچھ وقت اسی طرح گزرا۔ پھر ایک دفعہ یوں ہوا کہ کسی جانور نے بہت سے لوگوں کی راہ روک دی۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ جانور شیر تھا۔ لڑکے نے ایک پتھر اٹھایا اور کہنے لگا۔ یا اللہ ! جو کچھ یہ راہب کہتا ہے اگر یہ سچ ہے تو میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو (اس پتھر سے) اس (جانور) کو ہلاک کردے۔ پھر اس نے پتھر جو پھینکا تو جانور مرگیا۔ لوگ پوچھنے لگے۔ && اس جانور کو کس نے مارا ہے ؟ && کسی نے کہا، && اس لڑکے نے && اب لوگ گھبرائے اور کہنے لگے کہ اس لڑکے نے تو ایسا علم سیکھا ہے جو کوئی بھی نہیں جانتا && یہ بات ایک اندھے نے سنی تو لڑکے سے کہا : && اگر تو میری آنکھیں لوٹادے تو میں تمہیں بہت مال و دولت دوں گا && لڑکے نے کہا :&& مجھے مال و دولت کی ضرورت نہیں البتہ اگر تیری بینائی لوٹ آئے تو کیا تو اس ذات پر ایمان لائے گا جس نے بینائی کو لوٹایا ؟ && اندھا کہنے لگا && ہاں && چناچہ لڑکے نے اللہ سے دعا کی تو اس کی بینائی لوٹ آئی۔ پھر اندھا بھی ایمان لے آیا۔ جب بادشاہ کو یہ خبر پہنچی تو اس نے سب کو بلایا اور کہا کہ میں تم کو الگ الگ طریقے سے مار ڈالوں گا چناچہ راہب کو تو آرے سے چروا ڈالا اور اندھے کو کسی اور طرح سے مروا ڈالا۔ پھر اس لڑکے کے لیے حکم دیا کہ اسے فلاں پہاڑ پر لے جاؤ اور چوٹی پر جاکر اسے نیچے گرا دو ۔ چناچہ جب وہ اس چوٹی پر پہنچے جہاں سے لڑکے کو گرانا چاہتے تھے تو وہ خود گرنے لگے اور لڑکے کے سوا چوٹی پر کوئی نہ رہا۔ وہ لڑکا بادشاہ کے پاس آگیا تو اب اس نے حکم دیا کہ اب اسے دریا میں لے جاکر (کشتی سے گرا کر) ڈبو دو ۔ اب بھی اللہ نے ان لوگوں کو غرق کردیا اور لڑکے کو بچا لیا۔ اب لڑکا بادشاہ کے پاس آکر کہنے لگا کہ : اگر تم مجھے مارنا ہی چاہتے ہو تو اس کی صرف یہی صورت ہے کہ مجھے سولی پر لٹکا کر تیر مارو اور تیر مارتے وقت یوں کہو۔ && اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا پروردگار ہے && چناچہ اس نے ایسا ہی حکم دیا۔ پھر لڑکا سولی چڑھایا گیا پھر اس نے یہ کہہ کر تیر مارا۔ && اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا پروردگار ہے && چناچہ جب لڑکے کو تیر لگا تو اس نے اپنا ہاتھ اپنی کنپٹی پر رکھا اور مرگیا۔ اب لوگ کہنے لگے۔ && یہ لڑکا تو وہ علم جانتا تھا جو کسی کو بھی معلوم نہیں۔ ہم اس لڑکے کے پروردگار پر ایمان لاتے ہیں && لوگوں نے بادشاہ سے کہا : && تم تو تین آدمیوں کی مخالفت سے گھبرا گئے تھے۔ اب یہ سارے لوگ تمہارے مخالف ہوگئے ہیں && پھر بادشاہ نے بڑی بڑی خندقین کھدوائیں اور اس میں لکڑیاں ڈال کر آگ لگا دی۔ پھر لوگوں کو اکٹھا کرکے کہنے لگا : && جو شخص اپنے (نئے) دین سے باز آتا ہے اسے تو ہم چھوڑ دیں گے اور جو نہ پھرے اسے ہم آگ میں ڈال دیں گے && پھر وہ مومنوں کو ان خندقوں میں ڈالنے لگا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسی بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہلاک ہوئے خندقوں والے۔ وہ آگ تھی بہت ایندھن والی تاآنکہ آپ نے عزیز الحمید تک پڑھا۔ پھر فرمایا اور وہ لڑکا جو تھا وہ دفن کیا گیا && راوی کہتا ہے کہ اس لڑکے کی نعش سیدنا عمر بن خطاب کے زمانہ میں نکالی گئی اور وہ انگلی اپنی کنپٹی پر رکھے ہوئے تھا جیسے اس نے قتل کے وقت رکھی تھی۔ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَّہُمْ عَلٰي مَا يَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ شُہُوْدٌ۝ ٧ ۭ فعل الفِعْلُ : التأثير من جهة مؤثّر، وهو عامّ لما کان بإجادة أو غير إجادة، ولما کان بعلم أو غير علم، وقصد أو غير قصد، ولما کان من الإنسان والحیوان والجمادات، والعمل مثله، ( ف ع ل ) الفعل کے معنی کسی اثر انداز کی طرف سے اثر اندازی کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ تاثیر عمدگی کے ساتھ ہو یا بغیر عمدگی کے ہو اور علم سے ہو یا بغیر علم کے قصدا کی جائے یا بغیر قصد کے پھر وہ تاثیر انسان کی طرف سے ہو یا دو سے حیوانات اور جمادات کی طرف سے ہو یہی معنی لفظ عمل کے ہیں ۔ شاهِدٌ وقد يعبّر بالشهادة عن الحکم نحو : وَشَهِدَ شاهِدٌ مِنْ أَهْلِها[يوسف/ 26] ، وعن الإقرار نحو : وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَداءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ فَشَهادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهاداتٍ بِاللَّهِ [ النور/ 6] ، أن کان ذلک شَهَادَةٌ لنفسه . وقوله وَما شَهِدْنا إِلَّا بِما عَلِمْنا [يوسف/ 81] أي : ما أخبرنا، وقال تعالی: شاهِدِينَ عَلى أَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ [ التوبة/ 17] ، أي : مقرّين . لِمَ شَهِدْتُمْ عَلَيْنا [ فصلت/ 21] ، وقوله : شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لا إِلهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلائِكَةُ وَأُولُوا الْعِلْمِ [ آل عمران/ 18] ، فشهادة اللہ تعالیٰ بوحدانيّته هي إيجاد ما يدلّ علی وحدانيّته في العالم، وفي نفوسنا کما قال الشاعر : ففي كلّ شيء له آية ... تدلّ علی أنه واحدقال بعض الحکماء : إنّ اللہ تعالیٰ لمّا شهد لنفسه کان شهادته أن أنطق کلّ شيء كما نطق بالشّهادة له، وشهادة الملائكة بذلک هو إظهارهم أفعالا يؤمرون بها، وهي المدلول عليها بقوله : فَالْمُدَبِّراتِ أَمْراً [ النازعات/ 5] ، اور کبھی شہادت کے معنی فیصلہ اور حکم کے ہوتے ہیں ۔ جیسے فرمایا : وَشَهِدَ شاهِدٌ مِنْ أَهْلِها[يوسف/ 26] اس کے قبیلہ میں سے ایک فیصلہ کرنے والے نے فیصلہ کیا ۔ اور جب شہادت اپنی ذات کے متعلق ہو تو اس کے معنی اقرار کے ہوتے ہیں ۔ جیسے فرمایا وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَداءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ فَشَهادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهاداتٍ بِاللَّهِ [ النور/ 6] اور خود ان کے سوا ان کے گواہ نہ ہو تو ہر ایک کی شہادت یہ ہے کہ چار بار خدا کی قسم کھائے ۔ اور آیت کریمہ : ما شَهِدْنا إِلَّا بِما عَلِمْنا [يوسف/ 81] اور ہم نے تو اپنی دانست کے مطابق ( اس کے لے آنے کا ) عہد کیا تھا ۔ میں شھدنا بمعنی اخبرنا ہے اور آیت کریمہ : شاهِدِينَ عَلى أَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ [ التوبة/ 17] جب کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی گواہی دے رہے ہوں گے ۔ میں شاھدین بمعنی مقرین ہے یعنی کفر کا اقرار کرتے ہوئے ۔ لِمَ شَهِدْتُمْ عَلَيْنا [ فصلت/ 21] تم نے ہمارے خلاف کیوں شہادت دی ۔ اور ایت کریمہ ؛ شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لا إِلهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلائِكَةُ وَأُولُوا الْعِلْمِ [ آل عمران/ 18] خدا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتے اور علم والے لوگ ۔ میں اللہ تعالیٰ کے اپنی وحدانیت کی شہادت دینے سے مراد عالم اور انفس میں ایسے شواہد قائم کرنا ہے جو اس کی وحدانیت پر دلالت کرتے ہیں ۔ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ۔ (268) ففی کل شیئ لہ آیۃ تدل علی انہ واحد ہر چیز کے اندر ایسے دلائل موجود ہیں جو اس کے یگانہ ہونے پر دلالت کر رہے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ باری تعالیٰ کے اپنی ذات کے لئے شہادت دینے سے مراد یہ ہے کہ اس نے ہر چیز کو نطق بخشا اور ان سب نے اس کی وحدانیت کا اقرار کیا ۔ اور فرشتوں کی شہادت سے مراد ان کا ان افعال کو سر انجام دینا ہے جن پر وہ مامور ہیں ۔ جس پر کہ آیت ؛فَالْمُدَبِّراتِ أَمْراً [ النازعات/ 5] پھر دنیا کے کاموں کا انتظام کرتے ہیں ۔ دلاکت کرتی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧{ وَّہُمْ عَلٰی مَا یَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شُہُوْدٌ ۔ } ” اور مومنین کے ساتھ وہ جو کچھ کر رہے تھے خود اس کا نظارہ بھی کر رہے تھے۔ “ ان صاحب اقتدار و اختیار لوگوں نے اہل ایمان کو زندہ جلانے کے احکام جاری کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان خندقوں کے کناروں پر انہوں نے باقاعدہ براجمان ہو کر اس دلدوز منظر کا نظارہ کرنے کا اہتمام بھی کیا۔ اسی طرح پچھلی صدی میں ہٹلر نے بھی بہت ” پرتکلف “ منصوبہ بندی کے ساتھ یہودیوں کے قتل عام کا اہتمام کیا تھا۔ اس مقصد کے لیے اس نے بڑے بڑے گیس چیمبرز نصب کیے اور انسانی لاشوں کو سائنٹیفک انداز میں ٹھکانے لگانے کے لیے نئے نئے طریقے ایجاد کیے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

4 "The people of the ditch": those who had burnt the believers at stake and witnessed their burning themselves. "Doomed were...": cursed were they by God and they became worthy of Hell torment. On this an oath has been sworn by Three things: (1) By the heaven having constellations,(2) by the Day of Resurrection, which has been promised, and (3) by the dreadful scenes of the Day of Resurrection and all those creatures who will witness those scenes. the first of these testifies to the truth that the Sovereign, Absolute Being Who is ruling over the glorious stars and planets of the universe, cannot allow this contemptible, insignificant creature called man to escape His grip. The second thing has been sworn by on the basis that the wicked people committed whatever tyranny they wanted to commit, but the Day of which men have been fore-warned is sure to come when the grievances of every wronged person will be redressed and every wrongdoer will be brought to book and punished. The third thing has been sworn by for the reason that just as these wicked people enjoyed witnessing the burning of the helpless believers, so will aII human beings on the Day of Resurrection witness how they are taken to task and burnt in Hell. Several events have been mentioned in the traditions of the believers having been thrown into pits of blazing fire, which show that such tyrannies have been inflicted many a time in history. One of the events has beets reported by Hadrat Suhaib Rumi from the Holy Prophet (upon whom be peace) , saying that a king had a magician at his court who cm becoming old requested the king to appoint a boy who should learn magic from him. Accordingly the king appointed a boy. But the boy while going to the magician's place and coming hack home also started visiting on the way a monk (who was probably a follower of the Prophet Jesus) and being influenced by his teaching turned a believer. So much so that by his training he acquired miraculous powers. He would heal the blind and cure the lepers. When the king carne to know that the boy had behaved in the Unity of God, he first put the monk to the sword: the» wanted to kill the boy, but no instrument and no device had any effect on him. At last, the boy said to the king: "If you are bent upon killing me, shoot an arrow at me with the word: Bi-ismi Rahhil-ghulam (in the name of this boy's Lord) in front of the assembled people. and I shall die." The king did as he was told and the boy died. There upon the people cried out that they affirmed faith in the Lord of the boy. The courtiers told the king that the same precisely had happened which Ire wanted to avoid: the people had forsaken his religion and adopted the boy's religion. At this the king was filled with rage. Consequently, hr got pits dug out along the roads, got them tilled with tire and ordered aII those who refused to renounce the new faith to he thrown into the tire. (Ahmad, Muslim. Nasa'i, TIrmidhi, Ibn Jarir. 'Abdur Razzaq. Ibn Abi Shaibah, Tabarani. 'Ahd hin Humaid) The second event has been reported from Hadrat 'Ali. He says that a king of lean drank wine and committed adultery with his sister resulting in illicit relations between the two. When the secret became known, the king got the announcement made that God had permitted marriage with the sister. When the people refused to believe in it, hr started coercing them into accepting by different kinds of punishment; so much so that he began to cast into the pits of fire every such person who refused to concede it. According to Hadrat 'AIi, marriage with the prohibited relations among the fire worshippers has begun since then (Ibn Jarir) . The third event has been related by lbn 'Abbas probably on the hasin of the Israelite traditions, saying that the people of Babylon had compelled the children of Israel to give up the religion of the Prophet Moses (peace he upon himl: so much so that they cast into pits of tire aII those who refused to obey. Ibn Jarir, 'Ahd bin Humaid) . The best known event, how ever, relates to Najran. which has been related by Ibn Hisham, Tabari. Ibn Khaldun. the author of Mujam al-Buldan and other Islamic historians. Its resume is as follows: Tuban Asad Abu Karib, king of Himyar (Yaman) , went to Yathrib once where he embraced Judaism under the influence of the Jews, and brought two of the Jewish scholars of Bani Quraizah with him to Yaman. There hr propagated Judaism widely. His son Dhu Nuwas succeeded him and hr attacked Najran which was a stronghold of the Christians in southern Arabia so as to eliminate Christianity and make the people accept Judaism. I Ibn Hisham says that these people were true followers of the Gospel of the Prophet Jesus) In Najran hr invited the people to accept Judaism but they refused to obey. There upon hr caused a large number of the people to he burnt in the ditches of fire and slew many others with the sword until he had killed nearly twenty thousand of them. Daus Dhu Tha laban an inhabitant of Najran escaped and went. according to one tradition. to the Byzantine emperor, and according to another. to the Negus king of Abyssinia, and told him what had happened According to the first tradition, the emperor wrote to the king of Abyssinia, and according to the second, the Negus requested the emperor to provide him with a naval force. In any case; an Abyssinian army consisting of seventy thousand soldiers under a general called Aryat, attacked Yaman, Dhu Nuwas was killed, the Jewish rule came to an end, and Yaman become a part of the Christian kingdom of Abyssinia.- The statements of the Islamic historians are not only confirmed by other historical means but they also give many more details. Yaman first came under the Christian Abyssinian domination in 340 A.D. and this domination continued till 378 A.D. The Christian missionaries started entering Yaman in that period. About the same time, a man named Faymiyun (Phemion) , who was a righteous, earnest, ascetic man and possessed miraculous powers, arrived in Yaman and by his preaching against idol-worship converted the people of Najran to Christianity. These people were ruled by three chiefs: Sayyid, who was the principal chief like the tribal elders and responsible for external affairs, political agreements and command of the forces, 'Aqib, who looked after the internal affairs and Usquf (Bishop) , the religous guide. In southern Arabia Najran commanded great importance, being a major trade and industrial center with tussore, leather and the armament industries. The well-known Yarnanite wrapper and cloak (hulls Yamani) was also manufactured here. On this very basis, Dhu Nuwas attacked this important place not only for religious but also for political and economic reasons. He put to death Harithah (called Arethas by the Syrian historians) , Sayyid of Najrain, killed his two daughters in front of his wife Romah and compelled her to drink their blood and then put even her to death. He took out the bones of Bishop Paul from the' grave and burns them, and ordered women, men, children, aged people, priests and monks, all to be thrown into the pits of fire. The total number of the people thus killed has been estimated between twenty and forty thousand. This happened in October, 523 A.D. At last, in 525 A.D. the Abyssinians attacked Yaman and put an end to Dhu Nuwas and his Himyarite kingdom. This is confirmed by the Hisn Ghurab inscription which the modern archaeologists have unearthed in Yaman. In several Christian writings of the 6th century A.D. details of the event relating to the people of the ditch" have been given, some of which are contemporary and reported from eye-witnesses. Authors of three of these books were contemporaries with the event. They were Procopeus, Cosmos Indicopleustis, who was translating Greek book of Ptolemy under command of the Negus Elesboan at that time and resided at Adolis, a city on the sea-coast of Abyssinia, and Johannes Malala froth whom several of the later historians have related this event. After this, Johannes of Ephesus (d. 585 A.D) has related the story of the persecution of the Christians of Najran in his history of the Church from a letter of Bishop Mar Simeon who was a contemporary reporter of this event. Mar Simeon wrote this letter to Abbot von Gabula; in it Simeon has reported this event with reference to the statements of the Yarnanite eye-witnesses present on the occasion. This letter was published in 1881 A.D from Rome and in 1890 A.D. in the memoirs of the martyrs of Christianity Jacobian Patriarch Dionysius and Zacharia of Mitylene have in their Syriac histories also related this event. Ya`qub Saruji also in his book about the Christians of Najran has made mention of it. Bishop Pulus of Edessa's elegy on those who perished in Najran, is still extant. An English translation of the Syriac kitab al-Himyarin (Book of the Himyarites) was published in 1924 from London, which confirms the statements of the Muslim historians. In the British Museum there are some Abyssinian manuscripts relating to that period or a period close to it, which support this story. Philby in his travelogue entitled "Arabian Highlands", writes: Among the people of Najran the place is still well known where the event of the people of the ditch (ashab al-ukhdud) had taken place. Close by Umm Kharaq there can still be seen some pictures carved in the rocks, and the present day people of Najran also know the place where the cathedral of Najran stood. The Abyssinian Christians after capturing Najran had built a church here resembling the Ka`bah, by which they wanted to divert pilgrimage from the Ka`bah at Makkah to it. Its priests and keepers wore turbans and regarded it as a sacred sanctuary. The Roman empire also sent monetary aid for this "ka`bah". The priests of this very "Ka`bah" of Najran had visited the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace and blessings) under the leadership of their Sayyid, `Aqib and Bishop for a discussion with him and the famous event of the mubahala (trial through prayer) took place as referred to in Al-Imran: 61. (For details. see E.N.'s 29 and 55 of Al-Imran)

سورة الْبُرُوْج حاشیہ نمبر :4 گڑھے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے بڑے بڑے گڑھوں میں آگ بھڑکا کر ایمان لانے والے لوگوں کو ان میں پھینکا اور اپنی آنکھوں سے ان کے جلنے کا تماشا دیکھا تھا ۔ مارے گئے کا مطلب یہ ہے کہ ان پر خدا کی لعنت پڑی اور وہ عذاب الہی کے مستحق ہو گئے ۔ اور اس بات پر تین چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے ۔ ایک برجوں والے آسمان کی ۔ دوسرے روز قیامت کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے ۔ تیسرے قیامت کے ہولناک مناظر کی اور اس ساری مخلوق کی جو ان مناظر کو دیکھے گی ۔ پہلی چیز اس بات پر شہادت دے رہی ہے کہ جو قادر مطلق ہستی کائنات کے عظیم الشان ستاروں اور سیاروں پر حکمرانی کر رہی ہے اس کی گرفت سے یہ حقیر و ذلیل انسان کہاں بچ کر جا سکتے ہیں ۔ دوسری چیز کی قسم اس بنا پر کھائی گئی ہے کہ دنیا میں ان لوگوں نے جو ظلم کرنا چاہا کر لیا ، مگر وہ دن بہر حال آنے والا ہے جس سے انسانوں کو خبردار کیا جا چکا ہے کہ اس میں ہر مظلوم کی داد رسی اور ہر ظالم کی پکڑ ہو گی ۔ تیسری چیز کی قسم اس لیے کھائی گئی ہے کہ جس طرح ان ظالموں نے ان بے بس اہل ایمان کے جلنے کا تماشا دیکھا اسی طرح قیامت کے روز ساری خلق دیکھے گی کہ ان کی خبر کس طرح لی جاتی ہے ۔ گڑھوں میں آگ جلا کر ایمان والوں کو ان میں پھینکنے کے متعدد واقعات روایات میں بیان ہوئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں کئی مرتبہ اس طرح کے مظالم کیے گئے ہیں ۔ ان میں سے ایک واقعہ حضرت صہیب رومی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ ایک بادشاہ کے پاس ایک ساحر تھا ۔ اس نے اپنے بڑھاپے میں بادشاہ سے کہا کوئی لڑکا ایسا مامور کر دے جو مجھ سے یہ سحر سیکھ لے ۔ بادشاہ نے ایک لڑکے کو مقرر کر دیا ۔ مگر وہ لڑکا ساحر کے پاس آتے جاتے ایک راہب سے بھی ( جو غالباً ) پیروان مسیح علیہ السلام میں سے تھا ) ملنے لگا اور اس کی باتوں سے متاثر ہو کر ایمان لے آیاحتی کہ اس کی تربیت سے صاحب کرامت ہو گیا اور اندھوں کو بینا اور کوڑھیوں کو تندرست کرنے لگا ۔ بادشاہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ یہ لڑکا توحید پر ایمان لے آیا ہے تو اس نے پہلے تو راہب کو قتل کیا ، پھر اس لڑکے کو قتل کرنا چاہا ، مگر کوئی ہتھیار اور کوئی حربہ اس پر کارگر نہ ہوا ۔ آخر کار لڑکے نے کہا کہ اگر تو مجھے قتل کرنا ہی چاہتا ہے تو مجمع عام میں باسم رب الغلام ( اس لڑکے کے رب کے نام پر ) کہہ کر مجھے تیر مار میں مر جا ؤں گا ۔ چنانچہ بادشاہ نے ایسا ہی کیا اور لڑکا مر گیا ۔ اس پر لوگ پکار اٹھے کہ ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لے آئے ۔ بادشاہ کے مصاحبوں نے اس سے کہا کہ یہ تو وہی کچھ ہو گیا جس سے آپ بچنا چاہتے تھے ۔ لوگ آپ کے دین کو چھوڑ کر اس لڑکے کے دین کو مان گئے ۔ بادشاہ یہ حالت دیکھ کر غصے میں بھر گیا ۔ اس نے سڑک کے کنارے گڑھے کھدوائے ، ان میں آگ بھروائی اور جس جس نے ایمان سے پھرنا قبول نہ کیا اس کو آگ میں پھکوا دیا ( احمد ، مسلم ، نسائی ، ترمذی ، ابن جریر ، عبدالرزاق ، ابن ابی شیبہ ، طبرانی ، عبد بن حمید ) ۔ دوسرا واقعہ حضرت علیؓ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایران کے ایک بادشاہ نے شراب پی کر اپنی بہن سے زنا کا ارتکاب کیا اور دونوں کے درمیان ناجائز تعلقات استوار ہو گئے ۔ بات کھلی تو بادشادہ نے لوگوں میں اعلان کرایا کہ خدا نے بہن سے نکاح حلال کر دیا ہے لوگوں نے اسے قبول نہ کیا تو اس نے طرح طرح کے عذاب دے کر عوام کو یہ بات ماننے پر مجبور کیا یہاں تک وہ آگ سے بھرے ہوئے گڑھوں میں ہر اس شخص کو پھکواتا چلا گیا جس نے اسے ماننے سے انکار کیا ۔ حضرت علی ؓ کا بیان ہے کہ اسی وقت سے مجوسیوں میں محرمات سے نکاح کا طریقہ رائج ہوا ہے ۔ ( ابن جریر ) ۔ تیسرا واقعہ ابن عباسؓ نے غالباً اسرائیلی روایات سے نقل کیا ہے کہ بابل والوں نے بنی اسرائیل کو دین موسی علیہ السلام سے پھر جانے پر مجبور کیا تھا یہاں تک کہ انہوں نے آگ سے بھرے ہوئے گڑھوں میں ان لوگوں کو پھینک دیا جو اس سے انکار کرتھے ( ابن جریر ، عبد بن حمید ) ۔ سب سے مشہور واقعہ نجران کا ہے ۔ جسے ابن ہشام ، طبری ، ابن خلدون اور صاحب معجم البلدان وغیرہ اسلامی مورخین نے بیان کیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حمیر ( یمن ) کا بادشاہ تبان اسعد ابو کرب ایک مرتبہ یثرب گیا جہاں یہودیوں سے متاثر ہو کر اس نے دین یہود قبول کر لیا اور بنی قریظہ کے دو یہودی عالموں کو اپنے ساتھ یمن لے گیا ۔ وہاں اس نے بڑے پیمانے پر یہودیت کی اشاعت کی ۔ اس کا بیٹا ذونواس اس کا جانشین ہوا اور اس نے نجران پر ، جو جنوبی عرب میں عیساٍئیوں کا گڑھ تھا ، حملہ کیا تاکہ وہاں سے عیسائیت کا خاتمہ کر دے اور اس کے باشندوں کو یہودیت اختیار کرنے پر مجبور کرے ۔ ( ابن ہشام کہتا ہے کہ یہ لوگ حضرت عیسی کے اصل دین پر قائم تھے ) ۔ نجران پہنچ کر اس نے لوگوں کو دین یہود قبول کرنے کی دعوت دی مگر انہوں نے انکار کیا ۔ اس پر اس نے بکثرت لوگوں کو آگ سے بھرے ہوئے گڑھوں میں پھینک کر جلوا دیا اور بہت سوں کو قتل کر دیا ، یہاں تک کہ مجموعی طور پر 20 ہزار آدمی مارے گئے ۔ اہل نجران میں سے ایک شخص دوس ذواثعلبان بھاگ نکلا اور ایک روایت کے رو سے اس نے قیصر روم کے پاس جا کر ، اور دوسری روایت کی رو سے حبش کے بادشاہ نجاشی کے ہاں جا کر اس ظلم کی شکایت کی ۔ پہلی روایت کی رو سے قیصر نے حبش کے بادشادہ کو لکھا اور دوسری روایت کی رو سے نجاشی نے قیصر سے بحری بیڑہ فراہم کرنے کی درخواست کی ۔ بہرحال آخر کار حبش کی 70 ہزار فوج اریاط نامی ایک جنرل کی قیادت میں یمن پر حملہ آور ہوئی ، دوانوس مارا گیا ، یہودی حکومت کا خاتمہ ہو گیا اور یمن حبش کی عیسائی سلطنت کا ایک حصہ بن گیا ۔ اسلامی مورخین کے بیانات کی نہ صرف تصدیق دوسرے تاریخی ذرائع سے ہوتی ہے بلکہ ان سے بہت سی مزید تفصیلات کا بھی پتہ چلتا ہے ۔ یمن پر سب سے پہلے عیسائی حبشیوں کا قبضہ 340؁ء میں ہوا تھا اور 378؁ء تک جاری رہا تھا ۔ اس زمانے میں عیسائی مشنری یمن میں داخل ہونے شروع ہوئے ۔ اسی کے قریب دور میں ایک زاہد و مجاہد اور صاحب کشفِ و کرامت عیسائی سیاح فیمیون ( Paymiyun ) نامی نجران پہنچا اور اس نے وہاں کے لوگوں کو بت پرستی کی برائی سمجھائی اور اس کی تبلیغ سے اہل نجران عیسائی ہو گئے ۔ ان لوگوں کا نظام تین سردار چلاتے تھے ۔ ایک سید ، جو قبائلی شیوخ کی طرح بڑا سردار اور خارج معاملات ، معاہدات اور فوجوں کی قیادت کا ذمہ دار تھا ۔ دوسرا عاقب ، جو داخلی معاملات کا نگراں تھا ۔ اور تیسرا اسقف ( بشپ ) جو مذہبی پیشوا ہوتا تھا ۔ جنوبی عرب میں نجران کو بڑی اہمیت حاصل تھی ۔ یہ ایک بڑا تجارتی اور صنعتی مرکز تھا ۔ ئسر ، چمڑے اور اسلحہ کی صنعتیں یہاں چل رہی تھیں ۔ مشہور حلئہ یمانی بھی یہیں تیار ہوتا تھا ۔ اسی بنا پر محض مذہبی وجوہ ہی سے نہیں بلکہ سیاسی اور معاشی وجوہ سے بھی ذونواس نے اس اہم مقام پر حملہ کیا ۔ نجران کے سید حارثہ کو جسے سریانی مورخین Arethas لکھتے ہیں ، قتل کیا ، اس کی بیوی رومہ کے سامنے اس کی دو بیٹیوں کو مار ڈالا اور اسے ان کا خون پینے پر مجبور کیا ، پھر اسے بھی قتل کر دیا ۔ اسقف پال ( Paul ) کی ہڈیاں قبر سے نکال کر جلا دیں ۔ اور آگ سے بھرے ہوئے گڑھوں میں عورت ، مرد ، بچے ، بوڑھے ، پادری ، راہب سب کو پھکوا دیا ۔ مجموعی طور پر 20 سے چالیس ہزار تک مقتولین کی تعداد بیان کی جاتی ہے ۔ یہ واقعہ اکتوبر 523 ؁ء میں پیش آیا تھا ۔ آخر 525 ؁ء میں حبشیوں نے یمن پر حملہ کر کے ذونواس اور اس کی حمیری سلطنت کا خاتمہ کر دیا ۔ اس کی تصدیق حصن غراب کے کتبے سے ہوتی ہے جو یمن میں موجودہ زمانہ کے محققین آثارِ قدیمہ کو ملا ہے ۔ چھٹی صدی عیسوی کی متعدد عیسائی تحریرات میں اصحاب الاخدود کے اس واقعہ کی تفصیلات بیان ہوئی ہیں جن میں سے بعض عین زمانہ حادثہ کی لکھی ہوئی ہیں اور عینی شاہدوں سے سن کر لکھی گئی ہیں ۔ ان میں سے تین کتابوں کے مصنف اس واقعہ کے ہم عصر ہیں ۔ ایک پروکوپیوس ۔ دوسرا کوسماس انڈیکو پلیوسٹس ( Cosmos Indicopleustis ) جو نجاشی ایلیسبو عان ( Elesboan ) کے حکم سے اس زمانے میں بطلیموس کی یونانی کتابوں کا ترجمہ کر رہا تھا اور حبش کے ساحلی شہر ادولیس ( Adolis ) میں مقیم تھا ۔ تیسرا یوحنس ملا لا ( Johannes Malala ) جس بعد کے متعدد مورخین نے اس واقعہ کو نقل کیا ہے ۔ اس کے بعد یوحنس افسوسی ( Johannes of Ephesus ) متوفی 585ء نے اپنی تاریخ کنیسہ میں نصاری نجران کی تعذیب کا قصہ اس واقعہ کے معاصر واری اسقف مارشمعون ( Simeon ) کے ایک خط سے نقل کیا ہے جو اس نے دیر جبلہ کے ریئس ( Abbot von Gabula ) کے نام لکھا تھا اور مارشمعون نے اپنے خط میں یہ واقعہ ان اہل یمن کے آنکھوں دیکھے بیان سے روایت کیا ہے جو اس موقع پر موجود تھے ۔ یہ خط 1881ء میں روم سے اور 1890ء میں شہدائے مسیحیت کے حالات کے سلسلے میں شائع ہوا ہے ۔ یعقوبی بطریق ڈایو نیسیلوس ( Patriarch Dionysius ) کے اور زکریا مدللی ( Zacharia of Mitylene ) نے اپنی سریانی تاریخوں میں بھی اس واقعہ کو نقل کیا ہے ۔ یعقوب سروجی کی کتاب درباب نصاری نجران میں بھی یہ ذکر موجود ہے ۔ الرھا ( Edessa ) کے اسقف پولس ( Pulus ) نے نجران کے ہلاک شدگان کا مرثیہ لکھا جو اب بھی دستیاب ہے ۔ سریانی زبان کی تصنیف الحمیریین کا انگریزی ترجمہ ( Book of the Himyarites ) 1924ء میں لندن شائع ہوا ہے اور وہ مسلمان مورخین کے بیان کی تصدیقکرتا ہے ۔ برٹش میوزیم میں اس عہد اور اس سے قریبی عہد کے کچھ حبشی مخطوطات بھی موجود ہیں جو اس قصے کی تائید کرتے ہیں ۔ فلبی نے اپنے سفر نامے ( Highlands Arabian ) میں لکھا ہے کہ نجران کے لوگوں میں اب تک وہ جگہ معروف ہے جہاں اصحاب الاخدود کا واقعہ پیش آیا تھا ام خرق کے پاس ایک جگہ چٹانوں میں کھدی ہوئی کچھ تصویریں بھی پائی جاتی ہیں ۔ اور کعبہ نجران جس جگہ واقع تھا اس کو بھی آج کل کے اہل نجران جانتے ہیں ۔ حبشی عیسائیوں نے نجران پر قبضہ کرنے کے بعد یہاں کعبہ کی شکل کی ایک عمارت بنائی تھی جسے وہ مکہ کے کعبہ کی جگہ مرکزی حیثیت دینا چاہتے تھے ۔ اس کے اساقفہ عمامے باندھتے تھے اور اس کو حرم قرار دیا گیا تھا رومی سلطنت بھی اس کعبہ کے لیے مالی اعانت بھیجتی تھی ۔ اسی کعبہ نجران کے پادری اپنے سید اور عاقب اور اسقف کی قیادت میں مناظرے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور مباہلہ کا وہ مشہور واقعہ پیش آیا تھا جس کا ذکر سورہ آل عمران آیت 61 میں کیا گیا ہے ( ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد اول ، آل عمران حاشیہ 29 و حاشیہ 55 ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(85:7) وہم علی ما یفعلون بالمؤمنین شھود : جملہ حالیہ ہے ترجمہ ہوگا :۔ درآنحالیکہ جو وہ مومنوں کے ساتھ کر رہے تھے خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ ما موصولہ یفعلون اس کا صلہ۔ بالمؤمنین شھود متعلق یفعلون ۔ شھود اپنی آنکھوں سے دیکھنے والے۔ موجودین ، حاضرین۔ شاھد کی جمع، جیسے ساجد کی جمع سجود۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وما نفقموا .................................... شھید (9:85) ” اور ان اہل ایمان سے ان کی دشمنی اس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ اس خدا پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے ، جو آسمانوں اور زمین کی سلطنت کا مالک ہے ، اور وہ خدا سب کچھ دیکھ رہا ہے “۔ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ اللہ پر ایمان لائے تھے جو زبردست اور غالب ہے اور وہ کچھ بھی کرنا چاہے اس پر قادر ہے اور وہ الحمید ہے یعنی وہ ہر حال میں حمدوثنا کا مستحق ہے اور بذات خود محمود ہے۔ اگرچہ جاہل اور نادان لوگ اس کی حمدوثنا نہ کریں۔ وہ اس بات کا مستحق ہے کہ لوگ اس پر ایمانلائیں اور صرف اس کی بندگی کریں اور زمین و آسمان کی بادشاہی اسی کی ہے۔ وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے اور حاضروناظر ہے۔ اور وہ اس مخصوص واقعہ کو بھی دیکھ رہا ہے جو اہل ایمان کو پیش آیا کہ ان کو گڑھے میں پھینکا گیا۔ اس ایمان مفصل کے بیان سے اور اللہ کی شہادت سے ہر اس مومن کو تسلی ہوجاتی ہے جسے محض ایمان کی وجہ سے سرکشی اور جبار اذیت دیتے ہیں ۔ اللہ گواہ ہے اور شہادت کے لئے وہ کافی ہے۔ غرض ان مختصر آیات میں یہ قصہ ختم کردیا جاتا ہے ، لیکن ان لوگوں کا یہ فعل اور تشدد اس قدر ظالمانہ اور سنگدلانہ ہے کہ ہر قاری کا دل ان لوگوں کے خلاف نفرت اور کراہت سے بھرجاتا ہے اور انسان سوچنے لگتا ہے کہ واقعہ کے اثرات ونتائج اللہ کے ہاں کیا ہوں گے۔ اللہ کے ہاں اس واقعہ کی اہمیت کیا ہوگی اور یہ ظالم اللہ کے ہاں کس غضب کے مستحق بن گئے ہیں۔ واقعہ تو اختصار کے ساتھ بیان ہوگیا لیکن انسانی سوچ میں یہ واقعہ یہاں ختم نہیں ہوا۔ اللہ کے ہاں اس کے اثرات اور اس کا حساب و کتاب باقی موجود ہے۔ یہ قصہ ختم ہوگیا ، لیکن انسانی قلب اس عظیم کارنامے سے مرعوب ہوجاتا ہے کہ ایمان کٹھن آزمائش پر فتح پالیتا ہے ، نظر یہ زندگی پر ترجیح پاتا ہے۔ کچھ لوگ ہیں جو زمین کی تمام دلچسپیوں اور جسم کی تمام خواہشات کو نظر انداز کردیتے ہیں ، ان لوگوں کے لئے ایک راہ یہ بھی تھی کہ ایمان کو چھوڑ کر زندگی کا سامان لے کر نکل جائیں ، لیکن ان کا یہ سودا کس قدر خسارے کا سودا ہوتا ، اس طرح پوری انسانیت گویا بار جاتی۔ وہ اعلیٰ انسانی قدروں کو قتل کردیتے۔ اب لوگوں کو نظریہ سے خالی زندگی حقیر نظر نہ آتی ، غلامی پر وہ راضی ہوجاتے اور لوگ اس قدر ذلیل ہوجاتے کہ جسمانی غلامی کے بعد وہ روحانی غلامی بھی قبول کرلیتے۔ لیکن یہ عظیم اقدار تھیں جن کو انہوں نے اس وقت بھی خرید اور نفع بخش سودا سمجھا جب وہ زمین پر زندہ تھے ، اور ان کو انہوں نے اس وقت بھی ترجیح دی جب ان کے جسم جل رہے تھے۔ یوں یہ روحانی قدریں فتح مند ہوتی ہیں اور یہ قدریں آگ کی بھٹی سے پاک ہوکر نکلتی ہیں۔ اس کے بعد رب کے ہاں ان کے لئے بھی اجر ہے اور ان کے دشمنوں کا بھی حساب ہوگا ، چناچہ کہا جاتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(7) اور جو کچھ وہ مسلمانوں کے ساتھ کررہے تھے اس کو خود اپنے سامنے دیکھ رہے تھے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک بادشاہ کالے پالک بیٹا تھا بادشاہ اس کو ساحر پاس بھیجا کرتا تھا کہ وہ سحر سیکھے وہ بیٹھا کرتا ایک راہب پاس انجیل سیکھنے کو اللہ تعالیٰ اس کو کمال دیا کہ شیر اور سانپ اس کا کہنا مانتے اور کوڑی اور اندھے اس کے چھوئے سے چنگے ہوتے پھر اس کے سبب بہت خلقت اللہ پر اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے۔ بادشاہ بت پرست تھا یہ بات سن کر اس نے لے پالک کو مار ڈالا اور شہر میں ہر محلے کے آگے کھائی کھدوائی اور آگ سے بھروادی، محلے میں مرد عورتیں پکڑوا منگاتا جو بت سجدہ نہ کرتا اس کو آگ میں ڈالتا ہزاروں آدمی شہید کئے۔ جب اللہ کا غضب نازل ہوا وہی آگ پھیل پڑی بادشاہ اور امیروں کے گھر سارے پھونک دیئے۔ خلاصہ : یہ کہ عام طور پر مسلمان کفار مکہ کے مظالم کی شکایت کرتے تھے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمانوں کے صبر کی تلقین فرماتے تھے اور ارشاد فرماتے تھے کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ تم ان سے اپنا انتقام لوگے اور حق تعالیٰ تم کو ایسی طاقت عطا فرمائے گا کہ تم ان سے اپنا انتقام لے سکوگے۔ اسی سلسلے میں یہ سورت نازل فرمائی تاکہ مسلمانوں کو تشفی اور تسلی ہو اور وہ یہ سمجھیں کہ جب کفار کے مظالم مسلمانوں پر حد سے گزر جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کفار پر عذاب نازل فرماتے ہیں۔ چنانچہ قسمیں کھا کر ایک ظالم بادشاہ کا واقعہ بیان فرمایا اور قسمیں بھی ایسی چیزوں کی کھائیں جو حالات کے انقلاب سے تعلق رکھتی ہیں جیسا کہ ابھی ہم عرض کرچکے ہیں۔ اس بادشاہ کے متعلق روایات سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد کوئی بادشاہ بت پرست تھا جو انجیل پر ایمان نہیں رکھتا تھا اس کی حکومت ایک جادوگر کے سہارے چلتی تھی جادوگر اپنے فن میں کمال رکھتا تھا جب وہ جادو گر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا مجھے کوئی ہونہار لڑکا دے دیجئے تاکہ میں اس کو اپنا فن سکھادوں اور وہ میرے مرنے کے بعد آپ کی سلطنت کا مددگار ہو اور دشمنوں سے محفوظ رکھے۔ چنانچہ بادشاہ نے اپنے غلاموں میں سی کوئی غلام یا اپنا کوئی لے پالک اس کے حوالے کیا حسن اتفاق سے راستے میں کوئی راہب تھا جو اپنے عبادت خانے میں رہا کرتا تھا یہ لڑکا آتے جاتے اس راہب کے پاس ٹھہرنے لگا اور اس کی باتیں اس کو بہت پسند آئیں جادوگر نے بادشاہ سے شکایت کی کہ لڑکا میرے پاس بہت کم آتا ہے بادشاہ نے غلام کو دھمکایا لیکن اس نے بہانہ کردیا اور اس طرح یہ کام چلتا رہا راہب کی مذہبی تعلیم سے لڑکا بہت متاثر ہوا اور مسلمان ہوگیا اور راہب کے بتائے ہوئے طریقہ پر اللہ تعالیٰ کا ذکر اور شغل کرنے لگا تھوڑے ہی دن میں اس کی روحانیت اتنی بڑھ گئی کہ جس بیمار پر اللہ کا نام لے کر ہاتھ رکھتا وہ اچھا ہوجاتا راستے میں ایک دن اس نے ایک اژدہا دیکھا جس کی وجہ سے لوگ جمع تھے اور گزر ہیں سکتے تھے اس نے دور سے کھڑے ہوکر اللہ تعالیٰ کا نام لے کر ایک پتھر مارا اور دل میں یہ نیت کی کہ اگر راہب کا بتایا ہوا راستہ صحیح ہے تو یہ اژدہا میرے پتھر سے مرجائے چناچہ ایسا ہی ہوا کہ اژدہا مرگیا اور لوگوں کا راستہ صاف ہوگیا اسی طرح کا واقعہ ایک دن شیر کے ساتھ پیش آیا اس نے ایک پتھر مارا اور شیر مرگیا۔ غرض اس غلام کی بہت شہرت ہوگئی اتفاق سے بادشاہ کا ایک خاص چوب دارجواندھا ہوگیا اس نے اس غلام سے کہا میری اگر بینائی واپس آجائے تو میں آپ کی بہت مدد کروں اس نے کہا میں کیا کرسکتا ہوں حقیقی شفا تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اگر تو اس پر ایمان لے آئے تو تیری آنکھیں روشن ہوجائیں چناچہ وہ مسلمان ہوگیا اور اس کی آنکھیں روشن ہوگئیں۔ بادشاہ نے اس سے دریافت کیا اس نے کہا اللہ تعالیٰ نے میری آنکھیں روشن کردیں اس نے جب خدا کا نام سنا تو آگ بگولا ہوگیا چوب دار کو دھمکایا چوب دارنے لڑکے کا نام بتایا اس لڑکے کو بلاکر دریافت کیا اس نے کہا بیشک اللہ تعالیٰ کے نام میں یہ برکت ہے کہ جو اس پر ایمان لائے تو اللہ تعالیٰ اس کو شفا بخش دیتا ہے یہ سن کر بادشاہ نے حکم دیا کہ اس غلام کو کشتی میں بٹھا کرلے جائو اور دریا میں غرق کردو مگر حسن اتفاق سے لڑکا بچ گیا اور جو غرق کرنے گئے تھے وہ غرق ہوگئے۔ پھر بادشاہ نے حکم دیا کہ اس کو پہاڑ پر سے پھینک دو لیکن وہ پہاڑ پر سے بھی بچ گیا اور ساتھی ایک آندھی کی وجہ سے نیچے گرگئے اور مرگئے۔ بادشاہ بہت پریشان ہوا لڑکے نے کہا اگر تو مجھ قتل ہی کرنا چاہتا ہے تو بسم اللہ کہ میرے تیر مار میں مرجائوں گا چناچہ بادشاہ نے ایسا ہی کیا کہ لڑکے کو عام مجمع میں کھڑا کرکے بسم اللہ کہہ کر تیر مارا جو لڑکے کی کنپٹی میں لگا اور لڑکا شہید ہوگیا اس کا شہید ہونا تھا کہ مجمع میں سے ہزاروں آدمیوں نے کہا امنا برب ھذا الغلام ہم اس لڑکے کے پروردگار پر ایمان لے آئے بیشمار مخلوق مسلمان ہوگئی۔ اس واقعہ پر بادشاہ بہت غضب ناک ہوا اور حکم دیا کہ جگہ جگہ خندقیں کھودو اور ہر شخص کو پکڑ کر لائو اور اس سے کہو بت کو سجدہ کر جو بت کو سجدہ نہ کرے اس کو قتل کردو یعنی خندقوں کو آگ سے بھردو اور اسی آگ میں اس انکار کرنے والے مسلمانوں کو ڈال دو ۔ غرض یہ تعذیب اس بدبخت نے شروع کی بادشاہ اور اعیان حکومت کرسیوں پر بیٹھے یہ تماشا دیکھ رہے تھے ہر طرف سے مسلمان پکڑ پکڑ کر لائے جارے تھے بت کے آگے سرجھکانے سے جو انکار کرتا تھا اس کو خندق میں ڈال دیتے تھے خندقوں کو فرمایا ذات الوقود یعنی وہ خندقیں کیا تھیں آگ اور ایندھن کا ڈھیر تھیں اور جو کچھ مسلمانوں کے ساتھ کررہے تھے اس کو کھائی کے کنارے بیٹھ کر خود دیکھ رہے تھے کہتے ہیں ان ہی مسلمانوں میں ایک عورت لائی گئی جس کی گود میں ایک بچی تھی ان ظالموں نے اس بچی کو چھین کر اس آگ میں ڈال دیا آگ میں بچی نے ماں کو پکار کر کہا یہ آگ نہیں ہے تو بےکھٹکے چلی آ چناچہ ظالموں نے ماں کو بھی خندق میں ڈال دیا۔ ماں کو ڈالتے ہی کچھ آگے اس طرح بھڑکی کہ اس کے شعلوں نے بادشاہ اور اس کے تمام اعیان حکومت کو گھیر لیا اور سب کو جلا کر خاکستر کردیا اور ان کے تمام مکانات کو پھونک ڈالا۔ اس کو حضرت حق تعالیٰ نے فرمایا قتل اصحب الاخدود کہتے ہیں یہ خندقیں چالیس گز لمبی اور بارہ گز چکلی تھیں جن میں مسلمانوں کو جھونکا جارہا تھا آگے ان بت پرستوں کے غصے اور انتقام کی وجہ بیان کرتے ہیں۔