مسند احمد میں ہے کہ خالد بن ابو حبل عدوانی نے ثقیف قبیلے کی مشرق کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لکڑی پر یا کمان پر ٹیک لگائے ہوئے اس پوری سورت کو پڑھتے سنا جبکہ آپ ان لوگوں سے مدد طلب کرنے کے لیے یہاں آئے تھے حضرت خالد نے اسے یاد کر لیا جب یہ ثقیف کے پاس واپس آئے تو ثقیف نے ان سے پوچھا یہ کیا کہہ رہے ہیں یہ بھی اس وقت مشرک تھے انہوں نے بیان کیا تو جتنے قریش وہاں تھے جلدی سے بول پڑے کہ اگر یہ حق ہوتا تو کیا اب تک ہم نہ مان لیتے ، نسائی میں حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مغرب کی نماز میں سورہ بقرہ یا سورہ نساء پڑھی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے معاذ کیا تو فتنے میں ڈالنے والا ہے؟ کیا تجھے یہ کافی نہ تھا کہ آیت ( وَالسَّمَاۗءِ وَالطَّارِقِ Ǻۙ ) 86- الطارق:1 ) اور ( وَالشَّمْسِ وَضُحٰىهَا Ǻ۽ ) 91- الشمس:1 ) اور ایسی ہی اور سورتیں پڑھ لیتا ۔