Surat ul Ghashiya
Surah: 88
Verse: 11
سورة الغاشية
لَّا تَسۡمَعُ فِیۡہَا لَاغِیَۃً ﴿ؕ۱۱﴾
Wherein they will hear no unsuitable speech.
جہاں کوئی بیہودہ بات نہیں سنیں گے ۔
لَّا تَسۡمَعُ فِیۡہَا لَاغِیَۃً ﴿ؕ۱۱﴾
Wherein they will hear no unsuitable speech.
جہاں کوئی بیہودہ بات نہیں سنیں گے ۔
Where they shall neither hear harmful speech nor falsehood. meaning, they will not hear in the Paradise that they will be in, any foolish word. This is as Allah says, لااَّ يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْواً إِلااَّ سَلَـماً They shall not hear therein any Laghw, but only Salam. (19:62) Allah also says, لااَّ لَغْوٌ فِيهَا وَلااَ تَأْثِيمٌ Free from any Laghw, and free from sin. (52:23) and He says, لااَ يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْواً وَلااَ تَأْثِيماً إِلااَّ قِيلاً سَلَـماً سَلَـماً No Laghw will they hear therein, nor any sinful speech. But only the saying of: "Salam! Salam!" (56:25-26) Then Allah continues, فِيهَا عَيْنٌ جَارِيَةٌ
[٧] وہاں نہ کسی قسم کا غل غپاڑہ ہوگا نہ شور شرابا، نہ جھوٹ اور چغلی، نہ گالی گلوچ اور نہ بیہودہ مذاق۔ سب کے دل ایک دوسرے سے صاف ہوں گے۔ کسی کا دوسرے سے کوئی تنازعہ نہ ہوگا سب محبت و اخوت سے رہیں گے اور ایک دوسرے کے لیے سلامتی کی دعائیں کرتے رہیں گے اور یہ جنت کی ایسی نعمت ہوگی جسے اللہ تعالیٰ نے جنت کی بڑی بڑی نعمتوں میں شمار کیا ہے۔
(لا تسمع فیھا لاغیۃ : اس کی وضاحت کے لئے دیکھیے سورة نبا کی آیت (٣٥) کی تفسیر۔
لَّا تَسْمَعُ فِيهَا لَاغِيَةً (in which they will not hear any absurd talk...88:11). It includes the words of disbelief, futile or idle talk, obscene language, calumny or false accusation, or any other talk that hurts people&s feelings. On another occasion, the Qur&an puts it thus: لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا تَأْثِيمًا &They will hear neither an absurd talk therein, nor something leading to sin, [ 56:25] This shows that false accusation and absurd talks are hurtful. That is why the Holy Qur&an has described it as a blessing to the inmates of Paradise that no such foolish words will come across their ears that may pollute their hearts.
لاتسمع فیھا لاغیة، یعنی جنت میں کوئی ایسا کلام ایسی بات اہل جنت کے کان میں نہ پڑیگی جو لغو و بیہودہ اور دلخراش ہو۔ اس میں کلمات کفر یہ باطلہ بھی آگئے اور گالی گلوچ، افتراء و بہتوان الزام لگانا اور ایسے سب کلام آگئے جن کو سن کر انسان کو ایذا پہنچتی ہے۔ دوسری جگہ قرآن کریم نے اسی کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ لایسمعون فیھا لغواً ولا تاثیماً یعنی اہل جنت جنت میں کوئی لغوبات یا الزام لگانے کی بات نہ سنیں گے۔ اس کے علاوہ بھی کئی جگہ یہ مضمون قرآن کریم میں مذکور ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ الزام تراشی اور بےتکی بےڈھنگی باتیں بڑی ایذا کی چیز ہے اسی لئے قرآن کریم نے اہل جنت کے حالات میں اہتمام سے اس کو بیان فرمایا کہ اہل جنت کے کانوں میں کبھی کوئی ایسا کلمہ نہیں پڑیگا جس سے ان کا دل برا اور میلا ہو۔
لَّا تَسْمَعُ فِيْہَا لَاغِيَۃً ١١ ۭ سمع السَّمْعُ : قوّة في الأذن به يدرک الأصوات، وفعله يقال له السَّمْعُ أيضا، وقد سمع سمعا . ويعبّر تارة بالسمّع عن الأذن نحو : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وتارة عن فعله كَالسَّمَاعِ نحو : إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] ، وقال تعالی: أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] ، وتارة عن الفهم، وتارة عن الطاعة، تقول : اسْمَعْ ما أقول لك، ولم تسمع ما قلت، وتعني لم تفهم، قال تعالی: وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] ، ( س م ع ) السمع ۔ قوت سامعہ ۔ کا ن میں ایک حاسہ کا نام ہے جس کے ذریعہ آوازوں کا اور اک ہوتا ہے اداس کے معنی سننا ( مصدر ) بھی آتے ہیں اور کبھی اس سے خود کان مراد لیا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے ۔ اور کبھی لفظ سماع کی طرح اس سے مصدر ی معنی مراد ہوتے ہیں ( یعنی سننا ) چناچہ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] وہ ( آسمائی باتوں کے ) سننے ( کے مقامات ) سے الگ کردیئے گئے ہیں ۔ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] یا دل سے متوجہ ہو کر سنتا ہے ۔ اور کبھی سمع کے معنی فہم و تدبر اور کبھی طاعت بھی آجاتے ہیں مثلا تم کہو ۔ اسمع ما اقول لک میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو لم تسمع ماقلت لک تم نے میری بات سمجھی نہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں ( یہ کلام ) ہم نے سن لیا ہے اگر چاہیں تو اسی طرح کا ( کلام ) ہم بھی کہدیں ۔ لغو اللَّغْوُ من الکلام : ما لا يعتدّ به، وهو الذي يورد لا عن رويّة وفكر، فيجري مجری اللَّغَا، وهو صوت العصافیر ونحوها من الطّيور، قال أبو عبیدة : لَغْوٌ ولَغًا، نحو : عيب وعاب وأنشدهم : عن اللّغا ورفث التّكلّم يقال : لَغِيتُ تَلْغَى. نحو : لقیت تلقی، وقد يسمّى كلّ کلام قبیح لغوا . قال : لا يَسْمَعُونَ فِيها لَغْواً وَلا كِذَّاباً [ النبأ/ 35] ، وقال : وَإِذا سَمِعُوا اللَّغْوَ أَعْرَضُوا عَنْهُ [ القصص/ 55] ، لا يَسْمَعُونَ فِيها لَغْواً وَلا تَأْثِيماً [ الواقعة/ 25] ، وقال : وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ [ المؤمنون/ 3] ، وقوله : وَإِذا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِراماً [ الفرقان/ 72] ، أي : كنّوا عن القبیح لم يصرّحوا، وقیل : معناه : إذا صادفوا أهل اللّغو لم يخوضوا معهم . ويستعمل اللغو فيما لا يعتدّ به، ومنه اللَّغْوُ في الأيمان . أي : ما لا عقد عليه، وذلک ما يجري وصلا للکلام بضرب من العادة . قال : لا يُؤاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمانِكُمْ [ البقرة/ 225] ومن هذا أخذ الشاعر فقال : ولست بمأخوذ بلغو تقوله إذا لم تعمّد عاقدات العزائم وقوله : لا تَسْمَعُ فِيها لاغِيَةً [ الغاشية/ 11] أي : لغوا، فجعل اسم الفاعل وصفا للکلام نحو : کاذبة، وقیل لما لا يعتدّ به في الدّية من الإبل : لغو، وقال الشاعر : كما أَلْغَيْتَ في الدّية الحواراولَغِيَ بکذا . أي : لهج به لهج العصفور بِلَغَاه . أي : بصوته، ومنه قيل للکلام الذي يلهج به فرقة فرقة : لُغَةٌ. ( ل غ و ) اللغو ۔ ( ن ) کے معنی بےمعنی بات کے ہے جو کسی گنتی شمار میں نہ ہو یعنی جو سوچ سمجھ کر نہ کی جائے گویا وہ پرندوں کی آواز کی طرح منہ سے نکال دی جائے ابو عبیدہ کا قول ہے کہ اس میں ایک لغت لغا بھی ہے ۔ جیسے عیب وعاب شاعر نے کہا ہے ( الرجز) ( 394) عن اللغ اور فث التکم جو بہیودہ اور فحش گفتگو سے خاموش ہیں ۔ اس کا فعل لغیث تلغیٰ یعنی سمع سے ہے ۔ اور کبھی ہر قبیح بات کو لغو کہہ دیا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : لا يَسْمَعُونَ فِيها لَغْواً وَلا كِذَّاباً [ النبأ/ 35] وہاں نہ بیہودہ بات سنیں گے نہ جھوٹ اور خرافات وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ [ المؤمنون/ 3] اور جو بہیودہ باتوں سے اعراض کرتے ہیں ۔ وَإِذا سَمِعُوا اللَّغْوَ أَعْرَضُوا عَنْهُ [ القصص/ 55] اور جب بیہودہ بات سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔ لا يَسْمَعُونَ فِيها لَغْواً وَلا تَأْثِيماً [ الواقعة/ 25] وہاں نہ بیہودہ بات سنیں گے اور نہ الزام تراشی ۔ اور آیت کریمہ : وَإِذا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِراماً [ الفرقان/ 72] اور جب ان کو بیہودہ چیزوں کے باس سے گزرنے کا اتفاق ہو تو شریفا نہ انداز سے گرزتے ہیں ۔ کے معنی یہ ہیں کہ وہ فحش بات کبھی صراحت سے نہیں کہتے ۔ بلکہ ہمیشہ کنایہ سے کام لیتے ہیں ۔ اور بعض نے اس کے یہ معنی کئے ہیں کہ اگر کہیں اتفاق سے وہ ایسی مجلس میں چلے جاتے ہیں ۔ جہاں بیہودہ باتیں ہو رہی ہوتی ہیں تو اس سے دامن بچاکر نکل جاتے ہیں ۔ پس لغو ہر اس بات کا کہاجاتا ہے جو کسی شمار قطار میں نہ ہو ۔ اور اسی سے لغو فی الایمان ہے ۔ یعنی وہ قسم جو یونہی بلا ارادہ زبان سے نکل جائے چناچہ قرآن میں ہے : لا يُؤاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمانِكُمْ [ البقرة/ 225] خدا تمہاری لغو قسموں پر تم سے مواخذہ نہیں کرے گا اور شاعر نے کہا ہے ( البسیط) (395) ولست بماخود بلغو تقولہ اذالم تعمد عاقدات العزائم لغو قسم کھانے پر تم سے مواخذہ نہیں ہوگا بشرطیکہ قصدا غرم قلب کے ساتھ قسم نہ کھائی جائے ۔ اور آیت کریمہ لا تَسْمَعُ فِيها لاغِيَةً [ الغاشية/ 11] وہاں کسی طرح کی بکواس نہیں سنیں گے ۔ میں لاغیۃ بمعنی لغو کے ہے اور یہ ( اسم فاعل ) کلام کی صفت واقع ہوا ہے جیسا کہ کاذبۃ وغیرہ ۔ اور خونبہا میں لغو اونٹ کے ان بچوں کو کہا جاتا ہے جو گنتی میں شمار نہ کئے جائیں ۔ چناچہ شاعر نے کہا ہے ( الوافر) (396) کما الغیت فی الدابۃ الحوارجیسا کہ اونٹ کے چھوٹے بچے کو خونبہا میں ناقابل شمار سمجھا جاتا ہے لغی بکذا کے معنی چڑیا کے چہچہانے کی طرح کسی چیز کا بار بار تذکرہ کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور اسی سے ہر گز وہ کی زبان اور بولی جس کے ذریعے وہ بات کرتا ہ لغۃ کہلاتی ہے ۔
آیت ١ ١{ لَّا تَسْمَعُ فِیْہَا لَاغِیَۃً ۔ } ” وہ اس میں کوئی لغو بات نہیں سنیں گے۔ “ وہاں انہیں کوئی ایسی فضول یا غلط بات سنائی نہیں دے گی جس سے انہیں کو فت ہو۔
5 This thing has been mentioned at several places in the Qur'an as a major blessing of Paradise. (For explanation, see E.N. 38 of Maryam, E.N. 18 of At-Tur, E.N. 13 of Al-Wiiqi`ah, E.N. 21 of An-Naba) .
سورة الْغَاشِیَة حاشیہ نمبر :5 یہ وہی چیز ہے جس کو قرآن مجید میں جگہ جگہ جنت کی نعمتوں سے ایک بڑی نعمت کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے ۔ ( تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد سوم ، مریم ، حاشیہ 38 ۔ جلد پنجم ، الطور ، حاشیہ 18 ۔ الواقعہ حاشیہ 13 ۔ جلد ششم ، البناء ، حاشیہ 21 ) ۔
(88:11) لا تسمع فیہا لاغیۃ۔ یہ جملہ جنت کی صفت ہے۔ لاتسمع مضارع منعی۔ واحد مذکر حاضر۔ تو (اے مخاطب) نہیں سنے گا۔ اس میں کوئی لغویات ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جنۃ کے لئے ہے۔ لاغیۃ مفعول ہے لاتسمع کا۔ لغا یلغوا لغو ولاغیۃ بروزن فاعلۃ (باب نصر) مصدر ہے۔ بغیر سمجھے بوجھے بولنا۔ اول فول بکنا۔ لغو سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث بھی ہے۔ بکواس ۔ بیہودہ بات۔
لا تسمع .................... لاغیة (11:88) ” کوئی بیہودہ بات وہ وہاں نہ سنیں گے “۔ اس کی تعبیر میں ایک فضا اور اک جہان معانی سمو دیا گیا ہے۔ آرام ہوگا ، سکون ہوگا ، اطمینان اور سلامتی ہوگی ، محبت اور رضامندی ہوگی ، دوستوں کی محفلیں ہوں گی ، آل اولاد جمع ہوں گے ، طہارت و پاکیزگی ہوگی ، ہر لغو بات سے وہ دورہوں گے۔ کوئی ایسی بات نہ ہوگی جس میں ان کے لئے خیروعافیت نہ ہو۔ اور ایسی فضا اپنی جگہ ایک نعمت ہوتی ہے ، یہ صورت حال خود نیک بختی ہے اور سعادت مندی ہے۔ جب انسان اس دنیا کی زندگی کی مشکلات اور تلخیوں کا تصور کرے کہ یہاں کس قدر لغو ، لڑائیاں جھگڑے ، تو تو میں میں ، شورو شغب ، مذمت وملامت ، جھوٹ اور فریب ، اور فتنہ و فساد ہے اور اسکے بعد جنت کی فضا کا تصور کرے جو پرسکون ، پرامن ، پر محبت ، تروتازہ ہے اور پھر قرآن کی یہ تعبیر جامع تعبیر۔ لا تسمع ................ لاغیة (11:88) ” وہاں کوئی بیہودہ بات نہ سنیں گے “۔ یہ الفاظ ہی ایسے ہیں جن کے اندر نرمی ، آسانی اور تروتازگی ہے۔ ان کا تلفظ بھی پر ترنم ہے۔ نرم اور آسان ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان کی زندگی اس جہاں میں ، خصوصاً تحریک اسلامی کے کارکنوں کی زندگی بھی۔ دراصل جنت کا ایک نمونہ ہوگی جو لغو ، فحش باتوں سے ، جدل وجدال سے دور ہوتے ہیں۔ یہ گویا جنت کی زندگی کی تیاری ہوتی ہے۔ یوں جنت کے حال احوال سے یہ روشن اور بلند مفہوم پیش کیا جاتا ہے اور اس کے بعد پھر جنت کی نعمتوں کا ذکر ہے جو انسانی حواس کے لئے باعث تسکین ہوتی ہیں ، اور یہ اس صورت میں مذکور ہیں جس کا انسان تصور کرسکتا ہے ، لیکن جنت میں یہ چیزیں اس شکل میں ہوگی جس تک اہل جنت کے نفوس ترقی کرچکے ہوں گے ، اور وہ کیا صورت ہوگی ؟ جس کی معرفت انہی لوگوں کو ہوگی جنہوں نے ان کو برتا۔
﴿ لَّا تَسْمَعُ فِيْهَا لَاغِيَةًؕ٠٠١١﴾ اس میں کوئی لغو بات نہ سنیں گے۔ کیونکہ جنت ایسی جگہ ہے جہاں کسی قسم کی بھی ناگواری پیش نہ آئے گی۔ نہ آنکھیں ایسی چیز دیکھیں گی جس کا دیکھنا ناگوار ہو اور نہ کانوں میں ایسی چیز پڑے گی جس کا سننا گوارا نہ ہو، وہاں نہ چیخ نہ پکار، نہ لغو بات نہ فضول کلام، نہ کوئی گناہ کی بات، ہر طرح سے خیر ہی خیر اور آرام ہی آرام ہوگا۔ سورة الواقعہ میں فرمایا : ﴿لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِيْمًاۙ٠٠٢٥ اِلَّا قِيْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا ٠٠٢٦﴾ (نہ اس میں کوئی لغو بات سنیں گے اور نہ کوئی گناہ، بس سلام ہی سلام سنیں گے) ۔