Surat ul Ghashiya

Surah: 88

Verse: 13

سورة الغاشية

فِیۡہَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَۃٌ ﴿ۙ۱۳﴾

Within it are couches raised high

۔ ( اور ) اس میں اونچے اونچے تخت ہونگے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Therein will be thrones raised high. meaning, lofty, delightful, numerous couches, with elevated ceilings. Upon which will be seated wide-eyed, beautiful maidens. They have mentioned that whenever the friend of Allah wishes to sit on these lofty thrones, they (the thrones) will lower themselves for him. وَأَكْوَابٌ مَّوْضُوعَةٌ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فیھا سرر مرفوعۃ : جہاں سے وہ گرد و پیش والی ہر چیز کا نظارہ کر رہے ہوں گے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فِيْہَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَۃٌ۝ ١٣ ۙ سَّرِيرُ : الذي يجلس عليه من السّرور، إذ کان ذلک لأولي النّعمة، وجمعه أَسِرَّةٌ ، وسُرُرٌ ، قال تعالی: مُتَّكِئِينَ عَلى سُرُرٍ مَصْفُوفَةٍ [ الطور/ 20] ، فِيها سُرُرٌ مَرْفُوعَةٌ [ الغاشية/ 13] ، وَلِبُيُوتِهِمْ أَبْواباً وَسُرُراً عَلَيْها يَتَّكِؤُنَ [ الزخرف/ 34] ، وسَرِيرُ الميّت تشبيها به في الصّورة، وللتّفاؤل بالسّرور الذي يلحق الميّت برجوعه إلى جوار اللہ تعالی، وخلاصه من سجنه المشار إليه بقوله صلّى اللہ عليه وسلم : «الدّنيا سجن المؤمن» «1» . السریر ( تخت ) وہ جس کی ( ٹھاٹھ سے ) بیٹھا جاتا ہے یہ سرور سے مشتق ہے کیونکہ خوشحال لوگ ہی اس پر بیٹھتے ہیں اس کی جمع اسرۃ اور سرر آتی ہے ۔ قرآن نے اہل جنت کے متعلق فرمایا : مُتَّكِئِينَ عَلى سُرُرٍ مَصْفُوفَةٍ [ الطور/ 20] تختوں پر جو برابر بچھے ہوئے ہیں تکیہ لگائے ہوئے ۔ فِيها سُرُرٌ مَرْفُوعَةٌ [ الغاشية/ 13] وہاں تخت ہوں گے اونچے بچھے ہوئے ۔ وَلِبُيُوتِهِمْ أَبْواباً وَسُرُراً عَلَيْها يَتَّكِؤُنَ [ الزخرف/ 34] اور ان کے گھروں کے دروازے بھی ( چاندی بنادئیے ) اور تخت بھی جن پر تکیہ لگاتے ۔ اور میت کے جنازہ کو اگر سریر المیت کہاجاتا ہے تو یہ سریر ( تخت) کے ساتھ صوری شابہت کی وجہ سے ہے ۔ یا نیک شگون کے طور پر کہ مرنے والا دنیا کے قید خانہ سے رہائی پاکر جوار الہی میں خوش وخرم ہے جس کی طرف کہ آنحضرت نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : الدنیا سجن المومن کہ مومن کو دنیا قید خانہ معلوم ہوتی ہے ۔ رفع الرَّفْعُ في الأجسام الموضوعة إذا أعلیتها عن مقرّها، نحو : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 93] ، قال تعالی: اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّماواتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَها[ الرعد/ 2] ( ر ف ع ) الرفع ( ف ) کے معنی اٹھانے اور بلند کرنے کے ہیں یہ مادی چیز جو اپنی جگہ پر پڑی ہوئی ہو اسے اس کی جگہ سے اٹھا کر بلند کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ جیسے فرمایا : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 93] اور ہم نے طو ر پہاڑ کو تمہارے اوپر لاکر کھڑا کیا ۔ اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّماواتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَها[ الرعد/ 2] وہ قادر مطلق ہے جس نے آسمان کو بدوں کسی سہارے کے اونچا بناکر کھڑا کیا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(88:13) فیہا سرر مرفوعۃ : یہ جملہ بھی جنت کی صفت ہے۔ سرر جمع ہے سریر کی۔ السریر (تخت) وہ کہ جس پر ٹھاٹھ سے بیٹھا جاتا ہے۔ یہ سرور سے مشتق ہے کیونکہ خوشحال لوگ ہی اس پر بیٹھتے ہیں۔ مرفوعۃ : رفع (باب فتح) مصدر سے اسم مفعول کا صیغہ واحد مؤنث ہے بلند۔ اوپر اٹھائی ہوئی۔ اور اس میں اونچے اونچے تخت ہوں گے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فیھا ........................ مرفوعة (13:88) ” اس کے اندر اونچی مسندیں ہوں گی “۔ بلندی نظافت اور طہارت دونوں کی طرف اشارہ کررہی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

ن چشموں سے پئیں گے بھی جیسا کہ سورة الدہر میں اور سورة التطفیف میں گزر چکا اور ان کو دیکھنے سے بھی فرحت ہوگی۔ اس کے بعد اہل جنت کی دوسری نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ﴿ فِيْهَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَةٌۙ٠٠١٣﴾ اس میں بلند کیے ہوئے تخت ہوں گے۔ ﴿وَّ اَكْوَابٌ مَّوْضُوْعَةٌۙ٠٠١٤﴾ اور رکھے ہوئے آب خورے ہوں گے۔ ﴿وَّ نَمَارِقُ مَصْفُوْفَةٌۙ٠٠١٥﴾ (اور قالین پھیلے ہوئے پڑے ہوں گے) ۔ تختوں کا اور آب خوروں کا اور جام کا ذکر سورة الواقعہ میں بھی گزر چکا ہے۔ سورة الدہر میں اکواب یعنی آب خوروں کے بارے میں یہ بھی فرمایا کہ وہ شیشے کے ہوں گے اور شیشے چاندی کے ہوں گے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

7:۔ ” فیھا سرر “ ، سرر، سریر کی جمع ہے یعنی تخت۔ ان کے بیٹھنے کے لیے جو تخت ہوں گے وہ نہایت اونچے ہوں گے لیکن جب وہ ان پر بیٹھنا یا ان سے اترنا چاہیں گے تو تخت خود بخود نیچے ہو کر زمین کے قریب ہوجائیں گے۔ ” واکواب موضوعۃ “ کو ب وہ پیالہ جس کو پکڑنے کے لیے حلقہ نہ ہو۔ پیالیاں ان کے سامنے تیار رکھی ہوں گی جب چاہیں گے ان کو استعمال کرلیں گے۔ ” و نمارق مصفوفۃ “ گدے اور تکیے سلیقہ کے ساتھ قطار میں رکھے ہوں گے۔ ” وزرابی مبثوثۃ “ زرابی، زربیۃ کی جمع ہے یعنی دریا اور بچھونے۔ ” مبثوثۃ “ مبسوطۃ، جنت میں ہر طرف دریاں بچھی ہوں گی تاکہ جہاں چاہیں بیٹھ جائیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(13) اس جنت میں انوچے اور بلند تخت ہوں گے۔