Surat ul Ghashiya

Surah: 88

Verse: 25

سورة الغاشية

اِنَّ اِلَیۡنَاۤ اِیَابَہُمۡ ﴿ۙ۲۵﴾

Indeed, to Us is their return.

بیشک ہماری طرف ان کا لوٹنا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Verily, to Us will be their return; meaning, their place of return and their resort. ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُمْ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١١] ایاب کی ضد ذھاب اور ذھاب و ایاب یہ ہے کہ مثلاً ایک شخص لاہور سے اسلام آبادجاتا ہے تو وہ ذھاب ہے اور جب وہاں سے واپس لاہور آتا ہے تو یہ ایاب ہے۔ اور یہ لفظ صرف جانداروں کے لیے آتا ہے اور اس میں یہ بھی ضروری نہیں ہوتا کہ اس میں واپس لوٹنے والے کے ارادہ کا بھی کچھ عمل دخل ہے۔ گویا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ انہیں بہرحال ہمارے پاس واپس آنا پڑے گا۔ اس وقت ہم ان سے یقیناً حساب لے لیں گے اور یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم انہیں حساب لیے بغیر نہ چھوڑیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ان الینا ایابھم :” اباب “” اب یووب “ (ن) کا مصدر ہے، لوٹنا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ اِلَيْنَآ اِيَابَہُمْ۝ ٢٥ ۙ إلى إلى: حرف يحدّ به النهاية من الجوانب الست، وأَلَوْتُ في الأمر : قصّرت فيه، هو منه، كأنه رأى فيه الانتهاء، وأَلَوْتُ فلانا، أي : أولیته تقصیرا نحو : کسبته، أي : أولیته کسبا، وما ألوته جهدا، أي : ما أولیته تقصیرا بحسب الجهد، فقولک : «جهدا» تمييز، وکذلك : ما ألوته نصحا . وقوله تعالی: لا يَأْلُونَكُمْ خَبالًا[ آل عمران/ 118] منه، أي : لا يقصّرون في جلب الخبال، وقال تعالی: وَلا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ [ النور/ 22] قيل : هو يفتعل من ألوت، وقیل : هو من : آلیت : حلفت . وقیل : نزل ذلک في أبي بكر، وکان قد حلف علی مسطح أن يزوي عنه فضله وردّ هذا بعضهم بأنّ افتعل قلّما يبنی من «أفعل» ، إنما يبنی من «فعل» ، وذلک مثل : کسبت واکتسبت، وصنعت واصطنعت، ورأيت وارتأيت . وروي : «لا دریت ولا ائتلیت»وذلک : افتعلت من قولک : ما ألوته شيئا، كأنه قيل : ولا استطعت . الیٰ ۔ حرف ( جر ) ہے اور جہات ستہ میں سے کسی جہت کی نہایتہ حدبیان کرنے کے لئے آتا ہے ۔ ( ا ل و ) الوت فی الامر کے معنی ہیں کسی کام میں کو تا ہی کرنا گو یا کوتاہی کرنے والا سمجھتا ہے کہ اس امر کی انتہا یہی ہے ۔ اور الوت فلانا کے معنی اولیتہ تقصیرا ( میں نے اس کوتاہی کا والی بنا دیا ) کے ہیں جیسے کسبتہ ای اولیتہ کسبا ( میں نے اسے کسب کا ولی بنا دیا ) ماالوتہ جھدا میں نے مقدر پھر اس سے کوتاہی نہیں کی اس میں جھدا تمیز ہے جس طرح ماالوتہ نصحا میں نصحا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا } ( سورة آل عمران 118) یعنی یہ لوگ تمہاری خرابی چاہنے میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے ۔ اور آیت کریمہ :{ وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ } ( سورة النور 22) اور جو لوگ تم میں سے صاحب فضل داور صاحب وسعت ) ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہ الوت سے باب افتعال ہے اور بعض نے الیت بمعنی حلفت سے مانا ہے اور کہا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر کے متعلق نازل ہوئی تھی جب کہ انہوں نے قسم کھائی تھی کہ وہ آئندہ مسطح کی مالی امداد نہیں کریں گے ۔ لیکن اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ فعل ( مجرد ) سے بنایا جاتا ہے جیسے :۔ کبت سے اکتسبت اور صنعت سے اصطنعت اور رایت سے ارتایت اور روایت (12) لا دریت ولا ائتلیت میں بھی ماالوتہ شئیا سے افتعال کا صیغہ ہے ۔ گویا اس کے معنی ولا استطعت کے ہیں ( یعنی تونے نہ جانا اور نہ تجھے اس کی استطاعت ہوئ ) اصل میں أوب الأَوْبُ : ضرب من الرجوع، وذلک أنّ الأوب لا يقال إلا في الحیوان الذي له إرادة، والرجوع يقال فيه وفي غيره، يقال : آب أَوْباً وإِيَاباً ومَآباً. قال اللہ تعالی: إِنَّ إِلَيْنا إِيابَهُمْ [ الغاشية/ 25] وقال : فَمَنْ شاءَ اتَّخَذَ إِلى رَبِّهِ مَآباً [ النبأ/ 39] ، والمآب : المصدر منه واسم الزمان والمکان . قال اللہ تعالی: وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الْمَآبِ [ آل عمران/ 14] ، ( او ب ) الاوب ۔ گو اس کے معنی رجوع ہونا کے ہیں لیکن رجوع کا لفظ عام ہے جو حیوان اور غیر حیوان دونوں کے لوٹنے پر بولا جاتا ہے ۔ مگر اواب کا لفظ خاص کر حیوان کے ارادہ لوٹنے پر بولا جاتا ہے ۔ اب اوبا ویابا ومآبا وہ لوٹ آیا قرآن میں ہے ۔ { إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ } ( سورة الغاشية 25) بیشک ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے ۔ { فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ إِلَى رَبِّهِ مَآبًا } ( سورة النبأ 39) اپس جو شخص چاہے اپنے پروردگار کے پاس ٹھکانا بنائے ۔ المآب۔ یہ مصدر ( میمی ) ہے اور اسم زمان اور مکان بھی ۔ قرآن میں ہے :۔ { وَاللهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الْمَآبِ } ( سورة آل عمران 14) اور اللہ کے پاس اچھا ٹھکانا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(88:25) ان الینا ایابھم : ان حرف مشبہ بالفعل ایایہم مضاف مضاف الیہ مل کر اسم ان ، الینا۔ اس کی خبر۔ ایاب مصدر ہے اب یؤب کا (باب نصر) سے ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع وہ لوگ ہیں جو ایمان سے پھرگئے۔ اور اللہ کے منکر ہوئے۔ ترجمہ :۔ بیشک ان کو پھر کر ہمارے پاس ہی لوٹنا ہے۔ اوب اس کا مادہ۔ الادب گو اس کے معنی رجوع ہونے کے ہیں لیکن رجوع کا لفظ عام ہے۔ جو حیوان اور غیر حیوان دونوں کے لوٹنے پر بولا جاتا ہے لیکن اواب کا لفظ خاص کر حیوان کے ارادۃ لوٹنے پر بولا جاتا ہے۔ اب، اوبا، ایابا، مابا : وہ لوٹ آیا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے۔ فمن شاء اتخذ الی ربہ مابا (78:79) جو شخص چاہے اپنے پروردگار کے پاس ٹھکانہ بنائے۔ الاواب : تواب سے صیغہ مبالغہ ہے۔ یعنی وہ شخص جو معاصی کے ترک اور فعل طاعت سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔ قرآن مجید میں ہے :۔ لکل اواب حفیظ (50:32) یعنی ہر رجوع لانے اور حفاظت کرنے والے کے لئے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ان الینا ........................... حسابھم (26:88) ” ان لوگوں کو پلٹنا ہماری طرف ہی ہے ، پھر ان کا حساب لینا ہمارے ہی ذمہ ہے “۔ یوں دعوت اسلامی میں رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کردار پر بھی حدود وقیود عائد کردیئے جاتے ہیں۔ اور آپ کے بعد بھی ہر داعی پر صرف دعوت دینا فرض ہے۔ یہ کہ ہر داعی کا کام یہ ہے کہ وہ یاد دہانی کراتا رہے اور حسب لینا اللہ ذمہ داری ہے۔ اللہ سے وہ کہیں بھاگ نہیں سکتے ، نہ وہ اللہ کے محاسبے سے بچ سکتے ہیں۔ ہاں داعیان حق کی یہ بات بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ انہوں نے دعوت اسلامی کے راستے میں پیدا کی جانے والی رکاوٹوں کو بھی دور کرنا ہے تاکہ لوگوں تک دعوت آزادانہ پہنچ سکے۔ اور رکاوٹیں دور کرنے کا کام فریضہ جہاد سے پورا ہوتا ہے جس طرح قرآن اور سیرت الرسول کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے۔ لہٰذا اسلام کے نظریہ جہاد کو کسی کمی اور بیشی کے سوا سمجھنا چاہیے۔ یہ بھی نہ ہو کہ اسلام کی راہ میں رکاوٹ موجود ہو ، اور جہاد نہ کیا جائے۔ اور یہ بھی نہ ہو کہ تبلیغ کے راستے کھلے ہوں اور لوگوں کو تلوار کے زور سے مسلمان کیا جائے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

11:۔ ” ان الینا “ یہ ماقبل کا تتمہ ہے وہ عذاب سے ہرگز نہیں بچ سکتے۔ موت اور پھر بعث بعد الموت کے بعد وہ ہمارے پاس ہی واپس آجائیں گے اور پھر ہم ہی ان کا حساب لیں گے اور ان کو جہنم میں دھکیل دیں گے۔ سورة الغاشیہ ختم ہوئی

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(25) کیونکہ ان کی بازگشت اور واپسی ہماری طرف ہے۔