تعارف : اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں فجر یونی صبح کے وقت کی، دس راتوں کی، جفت اور طاق کی اور اس رات کی جب وہ جانے لگتی ہے قسم کھا کر فرمایا ہے کہ کیا عقل و فہم اور علم و دانس رکھنے والوں کو ان قسموں کے بعد بھی کسی اور قسم کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارم کی اولاد میں عاد اور ثمود اور میخوں والے فرعون کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگو ! تمنے کبھی ان کی قوموں کے برے انجام پر بھی غور کیا ہے ؟ قوم عاد جو تندرست، صحت مند اور ستونوں کی طرح لمبے چوڑے اور خوش حال لوگ تھے۔ قوم ثمود جو وادی القریٰ میں پہاڑوں کی چٹانیں کاٹ کات کر گھر بنایا کرتی تھی۔ فرعون میخوں والا جو زبردست طاقت و قوت اور عظیم سلطنت کا مالک تھا جب انہوں نے نافرمانی کی انتہا کردی اور کوئی شہر یا بستی ان کی شرارتوں سے محفوط نہ رہی تو ان پر اللہ کے عذاب کا کوڑا اس طرح برسایا گیا کہ وہ قومیں دنیا سے مٹ گئیں۔ فرمایا کہ اللہ ایسے ظالموں اور نافرمانوں کی گھات میں رہتا ہے اور جب وہ گرفت کرتا ہے تو کوئی اس سے بچ نہیں سکتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ مال و دولت کی کثرت نہ تو انعام ہے اور اگر کسی شخص پر روزی تنگ کردی جائے تو اس کی غربت اس کی سزا نہیں ہے بلکہ یہ سب کچھ اس کے نظام کا ایک حصہ ہے وہ ہر زیک کو بہت کچھ دے کر اور کبھی سب کچھ لے کر اسے آزماتا ہے تاکہ زندگی کی ہر کیفیت سے اس کے گزز عمل کا امتحان لیا جائے۔ فرمایا آدمی کا یہ حال ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو عزت، دولت اور نعمتوں سے نوازتا ہے تو وہ اپنی دولت مندی کا اظہار کرتے ہوئے فخریہ کہتا ہے کہ مجھے تو مالک نے بڑا عزت دار معزز بنایا ہے۔ لیکن اگر اس کے رزق کو وہ تنگ اور محدود کردیتا ہے تو دن رات شکوے کرتا ہوا کہتا ہے کہ مجھے تو میرے رب نے ہر جگہ ذلیل و رسوا کرکے رکھ دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ تو اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے وہ کسی کو ہرگز ذلیل و رسوا نہیں کرتا بلکہ آدمی خود ہی تنگ دلی، بےرحمی، بےایمانی اور مال کی محبت کی وجہ سے اپنے آپ کو ذلت کی گندگی میں ملوث کرلیتا ہے۔ بےباپ کے بچوں یعنی یتیموں کے ساتھ عزت اور قدر کا معاملہ نہیں کرتا۔ کسی ضرورت مند کو خود تو کیا کھانے کھلائے گا دوسروں کو بھی اس طرف متوجہ نہیں کرتا۔ مرنے والے کی وراثت ہاتھ لگ جائے تو سارا سال سمیٹ کر ہضم کرجاتا ہے اور مال و دولت کی محبت نے اس کو دیوانہ بنا رکھا ہے۔ اسے بھی عقل نہیں آرہی ہے لیکن جب زمین کو مسلسل کوٹ کوٹ کر ریزہ ریزہ کردیا جائے گا، رب العالمین اپنی شان کے مطابق جلوہ گر ہوں گے، فرشتے صفیں باندھے اس کے سامنے حاضر ہوں گے، کافروں کے لئے جہنم ان کے سامنے لائی جائے گی اس وقت ساری بات اس کی سمجھ میں آجائے گی۔ مگر اب سمجھنے سے اس کو کیا فائدہ ؟ اس وقت تو حسرت سے کہے گا کاش میں اس جہان کے لئے اپنے آگے کچھ بھلائیاں بھیج دیتا۔ فرمایا پھر اس دن ان لوگوں کو ایسا عذاب دیا جائے گا جس کا وہ تصور نہیں کرسکتے۔ دوسری طرف اللہ تعالیٰ اپنے فرماں برداروں سے فرمائیں گے اے نفسہ مطمئنہ تو آج اس شان سے اپنے پروردگار کی طرف چل کر آ کہ جس طرح تو زندگی بھر اپنے اللہ کی ہر رضا پر راضی رہا آج وہ تجھ سے پوری طرح راضی ہے۔ اسے نفس مطمئنہ میرے نیک بندوں میں شامل ہو کر میری جنت میں داخل ہوجا یعنی جنت کی ہر راحت کے ساتھ عیش و آرام کی زندگی گزار تجھے یہاں ہر طرح کی نعمتیں عطا کی جائیں گی۔
سورة الفجرکا تعارف یہ سورت اپنے نام سے شروع ہوتی ہے مکہ معظمہ میں نازل ہوئی اس کی تیس آیات ہیں جو ایک رکوع پر مشتمل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں فجر اور دس راتوں جفت اور طاق اور رات کے رخصت ہونے کی قسم کھا کر ارشاد فرمایا ہے کہ غور کرنے والے کے لیے اس قسم میں بڑی ہی عقل کی بات پائی جاتی ہے۔ اس سورت میں قوم عاد، قوم ثمود اور فرعون کے بارے میں بتلایا ہے کہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے شہروں میں دنگا فساد شروع کر رکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے عذاب کا کوڑا برسایا اور انہیں تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ لوگوں کی اکثریت کا عالم یہ ہے کہ جب انہیں کوئی نعمت ملتی ہے تو وہ اپنے آپ کو عزت دار سمجھتے ہیں اور جب انہیں مال کی تنگی کے ساتھ آزمایا جاتا ہے تو وہ اپنے رب کا شکوہ کرتے ہیں حالانکہ ان کی اپنی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ یتیموں اور مسکینوں کا خیال نہیں رکھتے اور پورے کا پورا مال ہڑپ کر جاتے ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ جب جہنم ان کے سامنے لا کھڑی کی جائے گی۔ اس وقت ہر مجرم نصیحت حاصل کرے گا لیکن نصیحت پانے کا وقت گزر چکا ہوگا۔ انہیں ایسا عذاب دیا جائے گا کہ اس طرح کا عذاب کوئی اور نہیں دے سکتا۔ ان کے مقابلے میں ہر نیک شخص کو آواز دی جائے گی کہ اپنے رب کی طرف آجاؤ اور اس کے نیک بندوں کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ۔
سورة الفجر ایک نظر میں یہ سورت اپنے عمومی اعتبار سے اس پارے کا انداز ہی رکھتی ہے ، جیسا کہ کہا گیا اس پارے کے اہم موضوعات اور انداز یہ ہے کہ انسانی دل و دماغ کو بلند آواز میں ایمان ، تقویٰ ، دینی بیداری اور غوروفکر کی طرف بلایا جائے ، لیکن اس کے اندر جو مطالعاتی سفر ، جو اشارات اور فضا ہے اس کے کئی رنگ ہیں۔ مضامین ، مناظر اور فضا کے اختلاف کے باوجود لہجہ کے اعتبار سے یہ یک رنگ ہے۔ انداز تعبیر کے لحاظ سے اس کا ترنم اور آہنگ متنوع ہے۔ اس کے بعض مناظر میں نہایت سنجیدہ حسن ہے ، جن کے خدوخال تروتازہ ، جن کے اثرات نرم مثلاً آغاز کا منظر ، جس میں کائنات کی جھلکیاں بھی ہیں ، جو نرم اور خوشگوار ہیں اور جس میں عبادت اور بندگی اور سرافگندگی کے مناظر بھی ہیں۔ والفجر ............................ یسر (1:89 تا 4) ” قسم ہے فجر کی ، اور دس راتوں کی ، اور جفت اور طاق کی ، اور رات کی جب رخصت ہورہی ہو “۔ لیکن اس کے مقابلے میں ، اس میں بعض مناظر ایسے ہیں جن کے اندر شدت اور بمباری پاسنگ باری جیسی سختی ہے۔ ظاہری مناظر کے لحاظ سے بھی ، تلفظ اور موسیقی کے اعتبار سے بھی ، مثلاً یہ سخت اور خوفناک منظر۔ کلا اذا ........................................ وثاقہ احد (21:89 تا 26) ” ہرگز نہیں ، جب زمین پے درپے کوٹ کوٹ کر ریگ زار بنادی جائے گی ، اور تمہارا رب جلوہ فرما ہوگا اس حال میں کہ فرشتے صف در صف کھڑے ہوں گے ، اور جہنم اس روز سامنے لے آئی جائے گی ، اس دن انسان کو سمجھ آئے گی اس وقت اس کے سمجھنے کا کیا حاصل ؟ وہ کہے گا کہ کاش میں نے اپنی اس زندگی کے لئے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا ! پھر اس دن اللہ جو عذاب دے گا ویسا عذاب دینے والا کوئی نہیں ، اور اللہ جیسا باندھے گا ویسا باندھنے والا کوئی نہیں “۔ اس کے بعض مناظر تروتاہ ہیں۔ نرمی اور خوشگوار ماحول کے چشمے پھوٹ رہے ہیں ، ہر سو اطمینان کی فضا ہے ، مناظر متوازن ، ہم آہنگ اور نغمے ہم آہنگ ہیں جیسا کہ سورت کی آخری آیات۔ یایھا النفس .................................... جنتی (28:89 تا 30) ” اے نفس مطمئن چل اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تو خوش اور پسندیدہ ہے ، شامل ہوجا میرے بندوں میں اور داخل ہوجا میری جنت میں “۔ اس سورت میں ایک جھلک اقوام گزشتہ کے سرکشوں کی بھی دکھائی گئی ہے۔ اس کا لہجہ بھی درمیانہ ہے جیسا کہ قصص کا لہجہ ہوتا ہے ، انداز بیانیہ اور نرم اور اثرات گہرے اور قوی۔ الم ترکیف ................................................ لبالمرصاد (6:89 تا 14) ” تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے کیا برتاﺅ کیا۔ اونچے ستونوں والے عادارم کے ساتھ جن کے مانند کوئی قوم دنیا کے ملکوں میں پیدا نہیں کی گئی تھی ؟ اور ثمود کے ساتھ جنہوں نے وادی میں چٹانیں تراشی تھیں ؟ اور میخوں والے فرعون کے ساتھ ؟ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے دنیا کے ملکوں میں بڑی سرکشی کی تھی اور ان میں فساد پھیلایا تھا۔ آخر کار تمہارے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسا دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب گھات لگائے ہوئے ہے “۔ اس سورت میں غیر ایمانی تصورات اور غیر ایمانی قدروں کی ایک جھلک بھی ہے۔ انداز تعبیر اور اثرات کے اعتبار سے اس سورت میں اس جھلک کا اک خاص رنگ ہے۔ فاما الانسان ................................ ربی اھانن (16:89) ” مگر انسان کا حال یہ ہے کہ اس کا رب جب اس کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور اسے عزت اور نعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دار بنادیا۔ اور جب وہ اس کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور اس کا رزق اس پر تنگ کردیتا ہے تو وہ کہتا ہے میرے رب نے مجھے ذلیل کردیا “۔ اس کے بعد ان کی اصل حقیقت بیان کرکے ان کے حالات کو رد کیا جاتا ہے ، جس کی وجہ سے ان کے ذہنوں میں یہ خیالات ، تصورات اور قدریں ابھر کر سامنے آئیں۔ یہ آیات اپنی اپنی عبارت انداز بیان اور ترنم کے اعتبار سے دو رنگ رکھتی ہیں۔ کلا بل ................................ حبا جما (17:89 تا 20) ” ہر گز نہیں بلکہ تم یتیم سے عزت کا سلوک نہیں کرتے ، اور مسکین کو کھانا کھلانے پر ایک دوسرے کو نہیں اکساتے ، اور میراث کا سرا مال سمیٹ کر کھاجاتے ہو ، اور مال کی محبت میں بری طرح گرفتار ہو “۔ یہاں یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ انداز بیان کا یہ آخری رنگ ان کے حالات اور ان کے انجام ، جلدہی آنے والے انجام کے درمیان پل کا کام کرتا ہے۔ اس کے بعد سورت میں یہ آیات ہیں۔ کلا اذا ................. دکا دکا (21:89) یہ انداز گویا پہلے نرم انداز اور آخر میں آنے والے شدید منظر کے درمیان وسط درجے کا ہے۔ اس سرسری تبصرے سے معلوم ہوگا کہ سورت میں آنے والے مناظر کے رنگ مختلف ہیں۔ اس کا انداز تعبیر اور اس کے اثرات سب مختلف النوع ہیں۔ پھر اس میں قافیوں اور فواصل کا نظام بھی مختلف ہے ، جس طرح معانی اور موقف اور منظر مختلف ہے۔ پس اس زاویہ سے یہ سورت قرآن کے متوازن خوبصورت اور متناسب انداز بیان کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ جبکہ اس کا انداز بھی خوبصورت اور مانوس ہے۔ رہی یہ بات کہ اس سورت کے اغراض ومقاصد کیا ہیں ، جن کے لئے یہ خوبصورت اور متوازن انداز بیان اختیار کیا گیا ہے تو مناسب ہے کہ تفصیلی تشریح آیات میں مطالعہ کیا جائے۔