نسائی شریف میں ہے کہ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز پڑھائی ایک شخص آیا اور جماعت میں شامل ہو گیا حضرت معاذ نے نماز میں قرأت لمبی کی اس نے مسجد کے ایک گوشے میں اپنی نماز پڑھ لی پھر فارغ ہو کر چلا گیا حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو بھی یہ واقعہ معلوم ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آ کر بطور شکایت یہ واقعہ بیان کیا ۔ آپ نے اس جوان کو بلا کر پوچھا تو اس نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کیا کرتا میں ان کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا انہوں نے لمبی قرأت شروع کی تو میں نے گھوم کر مسجد کے کونے میں اپنی نماز پڑھ لی پھر اپنی اونٹنی کو چارہ ڈالا آپ نے فرمایا اے معاذ کیا تو فتنے میں ڈالنے والا ہے تو ان سورتوں سے کہاں ہے؟ ( الاعلى‘ الشمس‘ الفجر‘ اليل )