Surat ut Tauba

Surah: 9

Verse: 111

سورة التوبة

اِنَّ اللّٰہَ اشۡتَرٰی مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَنۡفُسَہُمۡ وَ اَمۡوَالَہُمۡ بِاَنَّ لَہُمُ الۡجَنَّۃَ ؕ یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ فَیَقۡتُلُوۡنَ وَ یُقۡتَلُوۡنَ ۟ وَعۡدًا عَلَیۡہِ حَقًّا فِی التَّوۡرٰىۃِ وَ الۡاِنۡجِیۡلِ وَ الۡقُرۡاٰنِ ؕ وَ مَنۡ اَوۡفٰی بِعَہۡدِہٖ مِنَ اللّٰہِ فَاسۡتَبۡشِرُوۡا بِبَیۡعِکُمُ الَّذِیۡ بَایَعۡتُمۡ بِہٖ ؕ وَ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۱۱۱﴾

Indeed, Allah has purchased from the believers their lives and their properties [in exchange] for that they will have Paradise. They fight in the cause of Allah , so they kill and are killed. [It is] a true promise [binding] upon Him in the Torah and the Gospel and the Qur'an. And who is truer to his covenant than Allah ? So rejoice in your transaction which you have contracted. And it is that which is the great attainment.

بلا شبہ اللہ تعالٰی نے مسلمانوں سے ان کی جانوں کو اور ان کے مالوں کو اس بات کے عوض خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی وہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں جس میں قتل کرتے ہیں اور قتل کئے جاتے ہیں اس پر سچا وعدہ کیا گیا ہے تورات میں اور انجیل میں اور قرآن میں اور اللہ سے زیادہ اپنے عہد کو کون پورا کرنے والا ہے تو تم لوگ اس بیع پر جس کا تم نے معاملہ ٹھہرایا ہے خوشی مناؤ اور یہ بڑی کامیابی ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah has purchased the Souls and Wealth of the Mujahidin in Return for Paradise Allah says, إِنَّ اللّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُوْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الجَنَّةَ ... Verily, Allah has purchased of the believers their lives and their properties for (the price) that theirs shall be the Paradise. Allah states that He has compensated His believing servants for their lives and wealth -- if they give them up in His cause -- with Paradise. This demonstrates Allah's favor, generosity and bounty, for He has accepted the good that He already owns and bestowed, as a price from His faithful servants. Al-Hasan Al-Basri and Qatadah commented, "By Allah! Allah has purchased them and raised their worth." Shimr bin Atiyyah said, "There is not a Muslim but has on his neck a sale that he must conduct with Allah; he either fulfills its terms or dies without doing that." He then recited this Ayah. This is why those who fight in the cause of Allah are said to have conducted the sale with Allah, meaning, accepted and fulfilled his covenant. Allah's statement, ... يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ ... They fight in Allah's cause, so they kill and are killed. indicates that whether they were killed or they kill the enemy, or both, then Paradise will be theirs. The Two Sahihs recorded the Hadith, وَتَكَفَّلَ اللهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ لاَ يُخْرِجُهُ إِلاَّ جِهَادٌ فِي سَبِيلِي وَتَصْدِيقٌ بِرُسُلِي بِأَنْ تَوَفَّاهُ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرْجِعَهُ إِلَى مَنْزِلِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ نَايِلً مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَة Allah has made a promise to the person who goes out (to fight) in His cause; `And nothing compels him to do so except Jihad in My Cause and belief in My Messengers.' He will either be admitted to Paradise if he dies, or compensated by Allah, either with a reward or booty if He returns him to the home which he departed from. Allah's statement, .... وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالاِنجِيلِ وَالْقُرْانِ ... It is a promise in truth which is binding on Him in the Tawrah and the Injil and the Qur'an. affirms this promise and informs us that Allah has decreed this for His Most Honorable Self, and revealed it to His Messengers in His Glorious Books, the Tawrah that He sent down to Musa, the Injil that He sent down to Isa, and the Qur'an that was sent down to Muhammad, may Allah's peace and blessings be on them all. Allah said next, ... وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللّهِ ... And who is truer to his covenant than Allah, affirming that He never breaks a promise. Allah said in similar statements, وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ حَدِيثاً And who is truer in statement than Allah, (4:87) and, وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلً And whose words can be truer than those of Allah. (4:122) Allah said next, ... فَاسْتَبْشِرُواْ بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُم بِهِ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ Then rejoice in the bargain which you have concluded. That is the supreme success. meaning, let those who fulfill the terms of this contract and uphold this covenant receive the good news of great success and everlasting delight.

مجاہدین کے لئے استثنائی انعامات اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ مومن بندے جب راہ حق میں اپنے مال اور اپنی جانیں دیں ۔ اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اپنے فضل و کرم اور لطف و رحم سے انہیں جنت عطا فرمائے گا ۔ بندہ اپنی چیز جو درحقیقت اللہ تعالیٰ کی ہی ہے اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو اس کی اطاعت گذاری سے مالک الملک خوش ہو کر اس پر اپنا اور فضل کرتا ہے سبحان اللہ کتنی زبردست اور گراں قیمت پروردگار کیسی حقیر چیز پر دیتا ہے ۔ دراصل ہر مسلمان اللہ سے یہ سودا کر چکا ہے ۔ اسے اختیار ہے کہ وہ اسے پورا کرے یا یونہی اپنی گردن میں لٹکائے ہوئے دنیا سے اٹھ جائے ۔ اسی لئے مجاہدین جب جہاد کے لئے جاتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ اسنے اللہ تعالیٰ سے بیوپار کیا ۔ یعنی وہ خرید و فروخت جسے وہ پہلے سے کر چکا تھا اس نے پوری کی ۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے لیلۃ العقبہ میں بیعت کرتے ہوئے کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کے لئے اور اپنے لئے جو چاہیں شرط منوالیں ۔ آپ نے فرمایا میں اپنے رب کے لئے تم سے یہ شرط قبول کراتا ہوں کہ اسی کی عبادت کرنا ، اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرنا ۔ اور اپنے لئے تم سے اس بات کی پابندی کراتا ہوں کہ جس طرح اپنی جان ومال کی حفاظت کرتے ہو میری بھی حفاظت کرنا ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا جب ہم یونہی کریں تو ہمیں کیا ملے گا ؟ آپ نے فرمایا جنت! یہ سنتے ہی خوشی سے کہنے لگا واللہ اس سودے میں تو ہم بہت ہی نفع میں رہیں گے ۔ بس اب پختہ بات ہے نہ ہم اسے توڑیں گے نہ توڑنے کی درخواست کریں گے پس یہ آیت نازل ہوئی یہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں ، نہ اس کی پرواہ ہوتی ہے کہ ہم مارے جائیں گے نہ اللہ کے دشمنوں پر وار کرنے میں انہیں تامل ہوتا ہے ، مرتے ہیں اور مارتے ہیں ۔ ایسوں کے لئے یقینا جنت واجب ہے ۔ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں نکل کھڑا ہو جہاد کے لئے ، رسولوں کی سچائی مان کر ، اسے یا تو فوت کر کے بہشت بریں میں اللہ تبارک و تعالیٰ لے جاتا ہے یا پورے پورے اجر اور بہترین غنیمت کے ساتھ واپس اسے لوٹاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات اپنے ذمے ضروری کر لی ہے اور اپنے رسولوں پر اپنی بہترین کتابوں میں نازل بھی فرمائی ہے ۔ حضرت موسیٰ پر اتری ہوئی تورات میں ، حضرت عیسیٰ پر اتری ہوئی انجیل میں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اترے ہوئے قرآن میں اللہ کا یہ وعدہ موجود ہے ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین ۔ اللہ کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا ۔ اللہ سے زیادہ وعدوں کا پورا کرنے والا اور کوئی نہیں ہو سکتا ۔ نہ اس سے زیادہ سچائی کسی کی باتوں میں ہوتی ہے ۔ جس نے اس خرید و فروخت کو پورا کیا اس کے لئے خوشی ہے اور مبارکباد ہے ، وہ کامیاب ہے اور جنتوں کی ابدی نعمتوں کا مالک ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

111۔ 1 یہ اللہ کے ایک خاص فضل و کرم کا بیان ہے کہ اس نے مومنوں کو، ان کی جان و مال کے عوض، جو انہوں نے اللہ کی راہ میں خرچ کیے، جنت عطا فرما دی، جب کہ یہ جان و مال بھی اسی کا عطیہ ہے۔ پھر قیمت اور معاوضہ بھی جو عطا کیا یعنی جنت وہ نہایت ہی بیش قیمت ہے۔ 111۔ 2 یہ اسی سودے کی تاکید ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سچا وعدہ پچھلی کتابوں میں بھی اور قرآن میں بھی کیا ہے۔ اور اللہ سے زیادہ عہد کو پورا کرنے والا کون ہوسکتا ہے۔ 111۔ 3 یہ مسلمانوں کو کہا جا رہا ہے لیکن یہ خوشی اسی وقت منائی جاسکتی ہے جب مسلمان کو بھی یہ سودا منظور ہو۔ یعنی اللہ کی راہ میں جان و مال کی قربانی سے انہیں دریغ نہ ہو۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٢٤] جان ومال فروخت کرنے کا مفہوم :۔ اس کا ایک مفہوم تو ترجمہ سے ہی واضح ہوجاتا ہے یعنی جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے جان و مال سے جہاد کرتے ہیں پھر خواہ وہ شہید ہوجائیں یا بچ کر آجائیں بہرصورت ان کو جنت ضرور ملے گی۔ یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ حقیقت میں تو ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اور مومنوں کی جانوں اور اموال کا بھی ہے لیکن اس نے یہ چیزیں بطور امانت دے رکھی ہیں اور ان میں تصرف کا اختیار بھی انسان کو دے رکھا ہے۔ اسی اختیار سے دستبردار ہوجانے اور اس اختیار کو اللہ کی رضا کے تابع بنا دینے کی قیمت یہ ہے کہ اللہ انہیں جنت عطا کرے گا اور چونکہ یہ قیمت یعنی جنت نقد بہ نقد نہیں ملتی بلکہ ادھار ہے جو مرنے کے بعد ہی ملے گی۔ لہذا یہ توثیق بھی فرما دی۔ اللہ کا یہ وعدہ سب الہامی کتابوں میں بالخصوص تورات، انجیل اور قرآن میں موجود ہے مزید برآں یہ وضاحت بھی فرما دی کہ اللہ سے بڑھ کر اپنے وعدہ کو پورا کرنے والا اور کون ہوسکتا ہے۔ لہذا مومنوں کے لیے اس وعدہ میں شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اہل ایمان نے اپنی جانوں اور اموال میں تصرف کے جملہ اختیارات تو اللہ کے ہاتھ فروخت کردیئے ہیں اور بوقت ضرورت جان و مال کا نذرانہ پیش کرنا اور جہاد فی سبیل اللہ میں حصہ لینا پھر شہید ہوجانا یا بچ کر آجانا یہ سب کچھ وقتی باتیں اور اسی اصل معاہدہ بیع کا ایک حصہ ہیں۔ اصل معاہدہ بیع یہی ہے کہ مومن اپنی جان میں اور اموال میں اللہ کی مرضی کے مطابق ہی تصرف کرے گا۔ یہ معاہدہ بیع انسان کی موت تک چلتا ہے۔ اس سے پہلے یہ پتہ چل ہی نہیں سکتا کہ انسان نے یہ معاہدہ بیع اپنی عمر بھر نبھایا بھی ہے یا نہیں۔ اور جب موت آجاتی ہے تو اس وقت اسے اس کی قیمت یعنی جنت فوراً مل جاتی ہے۔ اس صورت میں ادھار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس مفہوم کے مطابق یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر کسی شخص کو زندگی بھر جہاد کا موقع ہی میسر نہ آیا ہو۔ مگر اس نے اپنی جان & اپنے مال اور اپنے اختیار تصرف کو اللہ کی مرضی کے تحت رکھا ہو تو اس سے بھی جنت کا وعدہ ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَھُمْ : ” فَاسْـتَبْشِرُوْا “ ” اَلْاِسْتِبْشَارُ “ ایسی زبردست خوشی جس کے اثرات بشرے یعنی چہرے پر بھی ظاہر ہوں۔ سین اور تاء کے اضافے سے بشریٰ ، یعنی خوش خبری کے مفہوم میں بہت اضافہ ہوگیا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا کہ جہاد کی اس سے بہتر اور اس سے بڑھ کر مؤثر ترغیب آپ کسی آیت میں نہیں پائیں گے، کیونکہ اسے ایک سودے اور معاہدے کی صورت میں پیش کیا گیا ہے جو سودا رب العزت کے ساتھ ہے۔ سودے کا سامان مومنوں کی جانیں اور مال ہیں اور قیمت اس کی اتنی قیمتی اور بےمثال ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھی، نہ کسی کان نے سنی اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال تک آیا۔ یہ سودا اور معاہدہ صرف اس پر نہیں کہ وہ قتل کیے جائیں گے تو قیمت ملے گی، بلکہ اللہ کے دین کی نصرت اور اس کا کلمہ بلند کرنے کے لیے وہ کفار کو قتل کریں گے تب بھی یہی قیمت ملے گی۔ پھر اس معاہدے کی باقاعدہ تسجیل (رجسٹری) آسمانی کتابوں تورات، انجیل اور قرآن میں کی گئی، اس سے بڑھ کر سودے کی پختگی کا تحریری ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے، پھر اسے اللہ تعالیٰ کا سچا پکا عہد قرار دے کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر اپنا عہد کون پورا کرنے والا ہے۔ سو اس کا ادھار دوسرے تمام نقدوں سے بڑھ کر ہے، پھر اس کا ادھار وعدہ جنت یقینی ہے۔ اس آیت کے علاوہ دیکھیے سورة حدید (٢١) ، سورة صف (١٠ تا ١٢) اور سورة توبہ (٢٠ تا ٢٢) اور اگر کچھ زندگی باقی ہے تو وہ بھی اس کے بےپایاں انعام سے خالی نہیں۔ ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے ضمانت دی ہے کہ جو اس کے راستے میں جہاد کرے اور اسے اس کے راستے میں نکالنے والی چیز اس کی راہ میں جہاد اور اس کی باتوں کو سچا یقین کرنے کے سوا کچھ نہ ہو تو وہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا، یا اسے اس کے گھر میں اجر یا غنیمت سمیت واپس لائے گا جس گھر سے وہ نکل کر گیا تھا۔ “ [ بخاری، فرض الخمس، باب قول النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : أحلت لکم الغنائم : ٣١٢٣ ] مغیرہ بن شعبہ (رض) اور ان کے ساتھی مجاہدین ایران میں جہاد کے لیے گئے تو کسریٰ کے جرنیل نے مسلمانوں کے سفیر مغیرہ بن شعبہ (رض) سے پوچھا : ” تم لوگ کیا ہو ؟ “ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اسلام کا تعارف کرانے کے بعد فرمایا : ” ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ہمارے رب کا پیغام پہنچایا کہ ہم میں سے جو قتل کردیا جائے گا وہ جنت کی ایسی نعمتوں میں جائے گا جو کبھی کسی کے دیکھنے میں نہیں آئیں اور جو ہم میں سے باقی رہے گا وہ تمہاری گردنوں کا مالک بنے گا۔ “ [ بخاری، الجزیۃ والموادعۃ، باب الجزیۃ والموادعۃ ۔۔ : ٣١٥٩ ] جہاد کے بیشمار فضائل کے لیے کتب احادیث ملاحظہ فرمائیں۔ وَذٰلِكَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ : اس میں حصر کے لیے ” ھُوَ “ ضمیر لا کر اور خبر ” الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ “ پر الف لام لا کر واضح فرمایا کہ فوز عظیم ہے تو بس یہ ہے، اس کے سوا کوئی کامیابی عظیم نہیں، بلکہ معمولی اور بےوقعت ہے۔ حسن بصری (رض) سے بیان کیا جاتا ہے کہ انھوں نے فرمایا، اللہ تعالیٰ کا کرم دیکھیے، جانیں ہیں تو اسی نے دیں، اموال ہیں تو اس نے عطا فرمائے، پھر وہ ہم ہی سے سودا کر رہا ہے کہ ہم اس کے راستے میں خرچ کریں گے اور وہ ہمیں اس کے بدلے جنت میں داخل ہی نہیں کرے گا بلکہ وہ اسے ہماری ملکیت بنا دے گا۔ ” لَھُمُ “ پہلے آنے سے حصر کا معنی حاصل ہوا ” بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّةَ “ کہ جنت انھی کی ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Sequence Previous verses carried a condemnation of those staying behind without a valid excuse and missing the Jihad. The present verses take up the merit of mujahidin. The background of revelation As explained by the majority of commentators, these verses were revealed about the participants of Bai&atul-&Aqabah (the pledge of alle¬giance to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) at al-&Aqabah) which was taken from the Ansar of Madinah before Hijrah in &Makkah al-Mukarramah. Therefore, despite that the entire Surah is Madani, these verses have been termed as Makki. &Al-&Aqabah& is part of a mountain. Here, it refers to the &Aqabah that forms a part of the mountain along the Jamratu al-&Aqabah (the stone pillar of &Aqabah) in Mina. (In our time, due to the increased number of Hujjaj [ Hajj pilgrims ], this part of the mountain has been leveled to form a smooth surface with the only exception of Jamarah [ the stone pillar ] which still stands there). It is on this &Aqabah that a pledge of allegiance بیعۃ (bai&ah) was taken from the people of Madinah thrice. The first pledge came in the eleventh year of the Prophet&s advent. Six persons embraced Islam, gave the pledge and returned to Madinah. When they arrived there, Islam and the Prophet of Islam became the talk of the town. Next year, it was during the Hajj season that twelve people assembled at the same place. Out of these, five had taken part in the first pledge while the other seven were new. All of them took the pledge. By that time, the number of Muslims in Madi¬nah had increased to more than forty. They requested that someone should be sent to teach Qur&an to them. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) sent Sayyidna Mus` ab ibn ` Umair (رض) . He taught Qur&an to Mus¬lims present there as well as conveyed the message of Islam around, as a result of which major groups of people in Madinah entered the fold of Islam. After that, in the thirteenth year of the Prophet&s advent, seventy men and women assembled at the same place. This is the third Bai&atu al-&Aqabah - and the last. Generally, when reference is made to Bai&atu al-&Aqabah, it means this very Bai&ah (pledge of allegiance). This pledge made it binding on participants that they would uphold the basic beliefs (` aqa&id عقَایٔد ) and deeds (a` mal اَعمَال ) of Islam, and would particu¬larly be ready to take part in Jihad against the disbelievers, and pro¬tect and support the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) when he migrates and reaches Madinah. In this connection, Sayyidna ` Abdullah ibn Rawahah (رض) submitted, ` ya rasulallah, a compact is being made at this time. If there are any conditions regarding your Lord or regarding yourself, let these be mentioned there clearly.& He said, ` As for Allah Ta` ala, I lay down the condition that all of you shall worship Him - and worship none but Him. As for myself, the condition is that you shall protect me as you protect your own lives, wealth, property and children.& They asked, ` if we fulfill these two conditions, what shall we get in return?& He said, ` you will get Jannah جَنَّت .& All in delight, they said, ` we are pleased with this deal, so pleased that we shall never request on our own that it be cancelled nor shall we like it to be cancelled. At this place, since the pledge took the apparent form of a transac¬tion of give and take, this verse (111) was revealed in the terminology of a business deal: إِنَّ اللَّـهَ اشْتَرَ‌ىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ. (Surely, Allah has bought their lives and their wealth from the believers, against which Paradise shall be for them). After hearing this verse, Sayyidna Bara& ibn Ma` rur, Abu al-Haitham and As&ad (رض) عنہم were the first ones who placed their hands on the blessed hand of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . They were promising in effect that they were readily agreeable to this deal and they would protect the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as they protected their family and would stand by him to face any challenge, even if it came from the combined forces of the blacks and whites on this Earth. This is the very first verse of Jihad Injunctions of Jihad did not exist during the early Makkah period. This is first verse about fighting and killing which was revealed in Makkah al-Mukarramah itself, though its implementation began after Hijrah. After that, came another verse: (Permission [ to fight ] has been given to those who are being fought against - al-Hajj 22:39). When this Bai&atu al-&Aqabah (pledge of &Aqabah) was concluded in secret from the disbelievers of Makkah, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ordered his noble Companions to migrate from Makkah to Madi-nah. Groups of them started migrating gradually. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) remained behind waiting for the permission from Allah Ta` ala. When Sayyidna Abu Bakr (رض) decided to migrate, he held him back so that he could accompany him. (This whole event has been described in Tafsir Mazharl with relevant references) We can now move to the second sentence of the verse (111): يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ ۖ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَ‌اةِ وَالْإِنجِيلِ وَالْقُرْ‌آنِ (They fight in the way of Allah, and kill and are killed ... a promise on His part which is true (as made) in the Torah and the Injil and the Qur&an). This verse tells us that fighting in the way of Allah was a commandment also revealed for past communi¬ties in their Scriptures. As for the popular assumption that there is no injunction of Jihad in the Injil, it is possible that, as part of the chang¬es made by people who came later, the injunctions of Jihad were expunged. Allah knows best. At the end of the verse (111), it was said: فَاسْتَبْشِرُ‌وا ِبَيْعِكُمُ (So, rejoice in the deal you have made). The agreement arrived at with the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم in this event of the Bai&atu al-&Aqabah had, on the surface, turned into a sort of buying and selling deal. Therefore, it was expressed through the word: شراء (Allah has bought) at the begin¬ning of the verse. In the present sentence, Muslims were told that they had struck a good deal which will bring blessings for them. The reason was that they had tendered their life and wealth that were mortal while that which they received in return was eternal. If we come to think about it, we would realize that wealth was the only thing they spent out. As for life, that is, the essential spirit, that will remain even after death, and remain forever. And if we were to look deeper into the reality of wealth, that too happens to be nothing but the gift of Allah Almighty. When born, human beings visit the world empty-handed. It was He who made them own everything around them and it was He who made His own gift the price of eternal blessings and gave them Paradise. Therefore, Sayyidna ` Umar (رض) said, ` this is a strange deal where the commodity and the price have both been given to you!& The sage, Hasan al-Basri (رح) said, ` Behold, what a profitable business is this that Allah has thrown open to every believer!& And he also said, ‘It is Allah who has blessed you with wealth and property. Spend a lit¬tle out of it and buy Paradise.& (Mazhari)

خلاصہ تفسیر بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کی جانوں کو اور ان کے مالوں کو اس بات کے عوض میں خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی ( اور خدا کے ہاتھ مال و جان بیچنے کا مطلب یہ ہے کہ) وہ لوگ اللہ کی راہ میں ( یعنی جہاد میں) لڑتے ہیں جس میں ( کبھی) قتل کرتے ہیں اور ( کبھی) قتل کئے جاتے ہیں ( یعنی وہ بیع جہاد کرنا ہے خواہ اس میں قاتل ہونے کی نوبت آئے یا مقتول ہونے کی) اس ( قتال) پر ( ان سے جنت کا) سچا وعدہ کیا گیا ہے توریت میں ( بھی) اور انجیل میں ( بھی) اور قرآن میں ( بھی) اور ( یہ مسلم ہے کہ) اللہ سے زیادہ اپنے عہد کو کون پورا کرنے والا ہے ( اور اس نے اس بیع پر وعدہ جنت کا کیا ہے) تو ( اس حالت میں) تم لوگ ( جو کہ جہاد کر رہے ہو) اپنی اس بیع ( مذکور) پر جس کا تم نے ( اللہ تعالیٰ سے) معاملہ ٹھہرایا ہے خوشی مناؤ کیونکہ اس بیع پر تم کو حسب وعدہ مذکورہ جنت ملے گی) اور یہ ( جنت ملنا) بڑی کامیابی ہے ( تو ضرور تم کو یہ سودا کرنا چاہئے) وہ ( مجاہدین ایسے ہیں جو علاوہ جہاد کے ان اوصاف کمال کیساتھ بھی موصوف ہیں کہ گناہوں سے) توبہ کرنے والے ہیں ( اور اللہ کی) عبادت کرنے والے ( ہیں اور اللہ کی) حمد کرنے والے ( ہیں اور) روزہ رکھنے والے ( ہیں اور) رکوع اور سجدہ کرنے والے ( ہیں یعنی نماز پڑھتے ہیں اور) نیک باتوں کی تعلیم کرنے والے ( ہیں) اور بری باتوں سے باز رکھنے والے ( ہیں) اور اللہ کی حدود کا ( یعنی احکام کا) خیال رکھنے والے ( ہیں) اور ایسے مؤمنین کو ( جن میں جہاد اور یہ صفات ہوں) آپ خوش خبری سنا دیجئے ( کہ ان سے جنت کا وعدہ مذکور ہے۔ معارف و مسائل ربط آیات : سابقہ آیات میں جہاد سے بلا عذر رکنے کی مذمت کا بیان تھا، ان آیات میں مجاہدین کی فضیلت کا بیان ہے۔ شان نزول : حسب تصریح اکثر حضرات مفسرین یہ آیات بیعت عقبہ کے شرکاء کے متعلق نازل ہوئی ہیں جو ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں انصار مدینہ سے لی گئی تھی اسی لئے پوری سورت کے مدنی ہونے کے باوجود ان آیات کو مکی کہا گیا ہے۔ عقبہ پہاڑ کے حصہ کو کہا جاتا ہے اس جگہ وہ عقبہ مراد ہے جو منیٰ میں جمرہ عقبہ کے ساتھ پہاڑ کا حصہ ہے ( آجکل حجاج کی کثرت کے سبب پہاڑ کا یہ حصہ صاف کرکے میدان بنادیا گیا ہے صرف جمرہ رہ گیا ہے اس عقبہ پر مدینہ طیبہ کے حضرات سے تین مرتبہ بیعت لی گئی ہے پہلی بیعت بعثت نبوی سے گیارہویں سال میں ہوئی، جس میں چھ حضرات مسلمان ہو کر بیعت کرکے مدینہ واپس ہوئے، تو مدینہ کے گھر گھر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چرچا ہونے لگا، اگلے سال موسم حج میں بارہ حضرات اسی جگہ جمع ہوئے، جن میں پا نچ پہلے اور سات نئے تھے، سب نے بیعت کی، اب مدینہ میں مسلمانوں کی خاصی تعداد ہوگئی، جو چالیس نفر سے زائد تھی، انہوں نے درخواست کی کہ ہمیں قرآن پڑھانے کے لئے کسی کو بھیج دیا جائے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت مصعب بن عمیر کو بھیج دیا، انہوں نے موجودہ مسلمانوں کو قرآن بھی پڑھایا اور اسلام کی تبلیغ بھی کی جس کے نتیجہ میں مدینہ کی بڑی جماعتیں اسلام کے حلقہ بگوش ہوگئیں۔ اس کے بعد بعثت نبوی کے تیرہویں سال میں ستر مرد دو عورتیں اسی جگہ جمع ہوئے، یہ تیسری بیعت عقبہ ہے جو آخری ہے، اور عموماً بیعت عقبہ سے یہی بیعت مراد ہوتی ہے، یہ بیعت اسلام کے اصولی عقائد و اعمال کے ساتھ خصوصی طور پر کفار سے جہاد اور جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہجرت کرکے مدینہ پہونچیں تو آپ کی حفاظت و حمایت پر لی گئی، اس میں حضرت عبداللہ بن رواحہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ اس وقت معاہدہ ہو رہا ہے، آپ جو شرائط اپنے رب کے متعلق یا اپنے متعلق کرنا چاہیں وہ واضح کردی جائیں، آپ نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کے لئے تو یہ شرط رکھتا ہوں کہ آپ سب اس کی عبادت کریں گے، اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں کریں گے، اور اپنے لئے یہ شرط ہے کہ میری حفاظت اس طرح کریں گے جیسے اپنی جانوں اور اپنے اموال و اولاد کی حفاظت کرتے ہو، ان لوگوں نے دریافت کیا کہ اگر ہم یہ دونوں شرطیں پوری کردیں تو ہمیں اس کے بدلے میں کیا ملے گا ؟ آپ نے فرمایا جنت ملے گی، ان سب حضرات نے خوش ہو کر کہا کہ ہم اس سودے پر راضی ہیں، اور ایسے راضی ہیں کہ اب اس کو نہ خود فسخ کرنے کی درخواست کریں گے، نہ اس کے فسخ کرنے کو پسند کریں گے۔ اس جگہ چونکہ اس بیعت میں ظاہراً صورت ایک لین دین کے معاملے کی بن گئی تو اس پر یہ آیت بہ لفظ بیع و شراء نازل ہوئی، (آیت) اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤ ْمِنِيْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّةَ ، یہ آیت سن کر سب سے پہلے حضرت براء بن معرور اور ابو الہیثم اور اسعد (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست مبارک پر اپنا ہاتھ رکھ دیا کہ ہم اس معاملہ پر تیار ہیں، آپ کی حفاظت اپنی عورتوں بچوں کی طرح کریں گے، اور آپ کے مقابلہ پر اگر دنیا کے کالے اور گورے سب جمع ہوجائیں تو ہم سب کا مقابلہ کریں گے۔ جہاد کی سب سے پہلی یہی آیت ہے : مکہ معظمہ میں جہاد و قتال کے احکام نہیں تھے، یہ سب سے پہلی آیت ہے جو مکہ مکرمہ ہی میں قتال کے متعلق نازل ہوئی، اور اس کا عمل ہجرت کے بعد شروع ہوا، اس کے بعد دوسری آیت نازل ہوئی، (آیت) اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ جب یہ بیعت عقبہ کفار قریش مکہ سے خفیہ مکمل ہوگئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام کو مکہ مکرمہ سے مدینہ کی ہجرت کا حکم دیدیا، اور تدریجا صحابہ کرام کی ہجرت کا سلسلہ شروع ہوگیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حق تعالیٰ کی طرف سے اجازت ملنے کے منتظر رہے، صدیق اکبر نے ہجرت کا قصد کیا تو آپ نے ان کو اپنے ساتھ کے لئے روک لیا ( یہ پورا واقعہ تفسیر مظہری میں حوالہ کے ساتھ مذکور ہے ) ۔ (آیت) يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ( الی) فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ وَالْقُرْاٰنِ ، اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد و قتال کا حکم تمام پچھلی امتوں کے لئے بھی سب کتابوں میں نازل کیا گیا، اور یہ جو مشہور ہے کہ انجیل میں جہاد کا حکم نہیں، ممکن ہے کہ بعد کے لوگوں نے جو تحریفات اس میں کی ہیں اس میں احکام جہاد کو خارج کردیا گیا ہو، واللہ اعلم۔ (آیت) فَاسْـتَبْشِرُوْا بِبَيْعِكُمُ ، اس واقعہ بیعت عقبہ میں جو معاہدہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہوا اس کی ظاہری صورت بیع و شراء کی بن گئی، اس لئے شروع آیت میں شراء کے لفظ سے تعبیر کیا گیا تھا، اس جملہ میں مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ معاملہ یبع تمہارے لئے نفع کا سودا اور مبارک ہے، کیونکہ ایک فانی چیز جان و مال دے کر ہمیشہ باقی رہنے والی چیز بدلے میں مل گئی اور غور کیا جائے تو خرچ صرف مال ہوا، جان تو یعنی روح تو مرنے کے بعد بھی باقی رہے گی اور ہمیشہ رہے گی، اور مال پر غور کیا جائے تو وہ بھی تو حق تعالیٰ ہی کا عطیہ ہے، انسان تو اپنی پیدائش کے وقت خالی ہاتھ آیا تھا، اسی نے سب سامان اور مال و دولت کا اس کو مالک بنایا ہے، اپنے ہی عطیہ کو آخرت کی نعمتوں اور جنت کا معاوضہ بنا کر جنت دیدی، اسی لئے حضرت فاروق اعظم نے فرمایا کہ یہ عجیب یبع ہے کہ مال اور قیمت دونوں تمہیں ہی دے دیے۔ حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ سنو ! یہ کیسی نفع کی تجارت ہے جو اللہ نے ہر مومن کیلئے کھول دی ہے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہی تمہیں مال بخشا ہے تم اس میں سے تھوڑا خرچ کرکے جنت خرید لو ( مظہری ) ۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ اللہَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّۃَ۝ ٠ ۭ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ فَيَقْتُلُوْنَ وَيُقْتَلُوْنَ۝ ٠ ۣ وَعْدًا عَلَيْہِ حَقًّا فِي التَّوْرٰىۃِ وَالْاِنْجِيْلِ وَالْقُرْاٰنِ۝ ٠ ۭ وَمَنْ اَوْفٰى بِعَہْدِہٖ مِنَ اللہِ فَاسْـتَبْشِرُوْا بِبَيْعِكُمُ الَّذِيْ بَايَعْتُمْ بِہٖ۝ ٠ ۭ وَذٰلِكَ ھُوَالْفَوْزُ الْعَظِيْمُ۝ ١١١ شری الشِّرَاءُ والبیع يتلازمان، فَالْمُشْتَرِي دافع الثّمن، وآخذ المثمن، والبائع دافع المثمن، وآخذ الثّمن . هذا إذا کانت المبایعة والْمُشَارَاةُ بناضّ وسلعة، فأمّا إذا کانت بيع سلعة بسلعة صحّ أن يتصور کلّ واحد منهما مُشْتَرِياً وبائعا، ومن هذا الوجه صار لفظ البیع والشّراء يستعمل کلّ واحد منهما في موضع الآخر . وشَرَيْتُ بمعنی بعت أكثر، وابتعت بمعنی اشْتَرَيْتُ أكثر، قال اللہ تعالی: وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ [يوسف/ 20] ، أي : باعوه، ( ش ر ی ) شراء اور بیع دونوں لازم ملزوم ہیں ۔ کیونکہ مشتری کے معنی قیمت دے کر اس کے بدلے میں کوئی چیز لینے والے کے ہیں ۔ اور بائع اسے کہتے ہیں جو چیز دے کہ قیمت لے اور یہ اس وقت کہا جاتا ہے جب ایک طرف سے نقدی اور دوسری طرف سے سامان ہو لیکن جب خریدو فروخت جنس کے عوض جنس ہو ۔ تو دونوں میں سے ہر ایک کو بائع اور مشتری تصور کرسکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ بیع اور شراء کے الفاظ ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوتے ہیں اور عام طور پر شربت بمعنی بعت اور ابتعت بمعنی اشتریت آتا ہے قرآن میں ہے ۔ وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ [يوسف/ 20] اور اس کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ ڈالا ۔ نفس الَّنْفُس : الرُّوحُ في قوله تعالی: أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ [ الأنعام/ 93] قال : وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ [ البقرة/ 235] ، وقوله : تَعْلَمُ ما فِي نَفْسِي وَلا أَعْلَمُ ما فِي نَفْسِكَ [ المائدة/ 116] ، وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، وهذا۔ وإن کان قد حَصَلَ من حَيْثُ اللَّفْظُ مضافٌ ومضافٌ إليه يقتضي المغایرةَ ، وإثباتَ شيئين من حيث العبارةُ- فلا شيءَ من حيث المعنی سِوَاهُ تعالیٰ عن الاثْنَوِيَّة من کلِّ وجهٍ. وقال بعض الناس : إن إضافَةَ النَّفْسِ إليه تعالیٰ إضافةُ المِلْك، ويعني بنفسه نُفُوسَنا الأَمَّارَةَ بالسُّوء، وأضاف إليه علی سبیل المِلْك . ( ن ف س ) النفس کے معنی روح کے آتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ [ الأنعام/ 93] کہ نکال لو اپنی جانیں ۔ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ [ البقرة/ 235] اور جان رکھو جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا کو سب معلوم ہے ۔ اور ذیل کی دونوں آیتوں ۔ تَعْلَمُ ما فِي نَفْسِي وَلا أَعْلَمُ ما فِي نَفْسِكَ [ المائدة/ 116] اور جو بات میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے اور جو تیرے ضمیر میں ہے میں اسے نہیں جنتا ہوں ۔ وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے اور یہاں نفسہ کی اضافت اگر چہ لفظی لحاظ سے مضاف اور مضاف الیہ میں مغایرۃ کو چاہتی ہے لیکن من حیث المعنی دونوں سے ایک ہی ذات مراد ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ ہر قسم کی دوائی سے پاک ہے بعض کا قول ہے کہ ذات باری تعالیٰ کی طرف نفس کی اضافت اضافت ملک ہے اور اس سے ہمارے نفوس امارہ مراد ہیں جو ہر وقت برائی پر ابھارتے رہتے ہیں ۔ ميل المَيْلُ : العدول عن الوسط إلى أَحَد الجانبین، والمَالُ سُمِّي بذلک لکونه مائِلًا أبدا وزَائلا، ( م ی ل ) المیل اس کے معنی وسط سے ایک جانب مائل ہوجانے کے ہیں اور المال کو مال اس لئے کہا جاتا ہے ۔ کہ وہ ہمیشہ مائل اور زائل ہوتا رہتا ہے ۔ جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2) جنۃ عدن (3) جنۃ النعیم (4) دار الخلد (5) جنۃ المآوٰی (6) دار السلام (7) علیین ۔ قتل أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ( ق ت ل ) القتل ( ن ) الموت کی طرح اس کے معنی بھی جسم سے روح کو زائل کرنے کے ہیں لیکن موت اور قتل میں فرق یہ ہے کہ اگر اس فعل کو سرا انجام دینے والے کا اعتبار کیا جائے تو اسے قتل کہا جاتا ہے اور اگر صرف روح کے فوت ہونے کا اعتبار کیا جائے تو اسے موت کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں قرآن میں ہے : ۔ أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] سبل السَّبِيلُ : الطّريق الذي فيه سهولة، وجمعه سُبُلٌ ، قال : وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] ( س ب ل ) السبیل ۔ اصل میں اس رستہ کو کہتے ہیں جس میں سہولت سے چلا جاسکے ، اس کی جمع سبل آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] دریا اور راستے ۔ وعد الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ، ( وع د ) الوعد ( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر الوعید کا لفظ خاص کر شر ( یعنی دھمکی اور تہدید ) کے لئے بولا جاتا ہے ۔ اور اس معنی میں باب اوعد ( توقد استعمال ہوتا ہے ۔ اور واعدتہ مفاعلۃ ) وتوا عدنا ( تفاعل ) کے معنی باہم عہدو پیمان کر نا کے ہیں ( قرآن کریم میں ودع کا لفظ خرٰم و شر دونوں کے لئے استعمال ہوا ہے ( چناچہ وعدہ خیر کے متعلق فرمایا إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] جو ودعے خدا نے تم سے کیا تھا وہ تو سچا تھا ۔ أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا ۔ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ توراة التوراة التاء فيه مقلوب، وأصله من الوری، وبناؤها عند الکوفيين : ووراة، تفعلة «4» ، وقال بعضهم : هي تفعلة نحو تنفلة ولیس في کلامهم تفعلة اسما . وعند البصريين وورية، هي فوعلة نحو حوصلة . قال تعالی: إِنَّا أَنْزَلْنَا التَّوْراةَ فِيها هُدىً وَنُورٌ [ المائدة/ 44] ، ذلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْراةِ ، وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ [ الفتح/ 29] . ( ت و ر ) التوراۃ آسمانی کتاب جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کی گئی یہ وری سے مشتق ہے اور تاؤ واو سے مبدل سے علماء کوفہ کے نزدیک یہ وؤراۃ بروزن نفعلۃ ہے اور بعض کے نزدیک تفعل کے وزن پر ہے جیسے تنفل لیکن کلام عرب میں تفعل کے وزن پر اسم کا صیغہ نہیں آتا ۔ علماء بصرہ کے نزدیک یہ وؤری بروزن فوعل ہے جیسے قل قرآن میں ہے ؛۔ إِنَّا أَنْزَلْنَا التَّوْراةَ فِيها هُدىً وَنُورٌ [ المائدة/ 44] بیشک ہم نے تو رات نازل فرمائی جس میں ہدایت اور روشنی ہے ۔ ذلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْراةِ ، وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ [ الفتح/ 29] . ان کے اوصاف تو رات میں ( مرقوم ) ہیں اور یہی اوصاف انجیل میں ہیں ۔ قرآن والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما أشار تعالیٰ إليه بقوله : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] ( ق ر ء) قرآن القرآن ۔ یہ اصل میں کفران ورحجان کی طرف مصدر ہے چناچہ فرمایا :إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] اس کا جمع کرنا اور پڑھوانا ہمارے ذمہ جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم ( اس کو سننا کرو ) اور پھر اسی طرح پڑھا کرو ۔ حضرت ابن عباس نے اس کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ جب ہم قرآن تیرے سینہ میں جمع کردیں تو اس پر عمل کرو لیکن عرف میں یہ اس کتاب الہی کا نام ہے جو آنحضرت پر نازل ہوگئی ا وریہ اس کتاب کے لئے منزلہ علم بن چکا ہے جیسا کہ توراۃ اس کتاب الہی کو کہاجاتا ہے جو حضرت موسیٰ ٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی ۔ اور انجیل اس کتاب کو کہا جاتا ہے جو حضرت عیسیٰ پر نازل کی گئی ۔ بعض علماء نے قرآن کی وجہ تسمیہ یہ بھی بیان کی ہے کہ قرآن چونکہ تمام کتب سماویہ کے ثمرہ کو اپنے اندر جمع کئے ہوئے ہے بلکہ تمام علوم کے ماحصل کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اس لئے اس کا نام قرآن رکھا گیا ہے جیسا کہ آیت : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] اور ہر چیز کی تفصیل کرنے والا ۔ وُفِّيَتْ وتَوْفِيَةُ الشیءِ : ذله وَافِياً ، واسْتِيفَاؤُهُ : تناوله وَافِياً. قال تعالی: وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ ما كَسَبَتْ [ آل عمران/ 25] اور توفیتہ الشیئ کے معنی بلا کسی قسم کی کمی پورا پورادینے کے ہیں اور استیفاء کے معنی اپنا حق پورا لے لینے کے ۔ قرآن پا ک میں ہے : ۔ وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ ما كَسَبَتْ [ آل عمران/ 25] اور ہر شخص اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ پائے گا ۔ عهد العَهْدُ : حفظ الشیء ومراعاته حالا بعد حال، وسمّي الموثق الذي يلزم مراعاته عَهْداً. قال : وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كانَ مَسْؤُلًا[ الإسراء/ 34] ، أي : أوفوا بحفظ الأيمان، قال : لا يَنالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ [ البقرة/ 124] ( ع ھ د ) العھد ( ض ) کے معنی ہیں کسی چیز کی پیہم نگہہ داشت اور خبر گیری کرنا اس بنا پر اس پختہ وعدہ کو بھی عھد کہاجاتا ہے جس کی نگہداشت ضروری ہو ۔ قرآن میں ہے : وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كانَ مَسْؤُلًا[ الإسراء/ 34] اور عہد کو پورا کرو کہ عہد کے بارے میں ضرور پرسش ہوگی ۔ یعنی اپنی قسموں کے عہد پورے کرو ۔ لا يَنالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ [ البقرة/ 124] کہ ظالموں کے حق میں میری ذمہ داری پوری نہیں ہوسکتی ۔ بشر واستبشر : إذا وجد ما يبشّره من الفرح، قال تعالی: وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] ، يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ [ آل عمران/ 171] ، وقال تعالی: وَجاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ [ الحجر/ 67] . ويقال للخبر السارّ : البِشارة والبُشْرَى، قال تعالی: هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ، وقال تعالی: لا بُشْرى يَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ [ الفرقان/ 22] ، وَلَمَّا جاءَتْ رُسُلُنا إِبْراهِيمَ بِالْبُشْرى [هود/ 69] ، يا بُشْرى هذا غُلامٌ [يوسف/ 19] ، وَما جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرى [ الأنفال/ 10] . ( ب ش ر ) البشر التبشیر کے معنی ہیں اس قسم کی خبر سنانا جسے سن کر چہرہ شدت فرحت سے نمٹما اٹھے ۔ مگر ان کے معافی میں قدر سے فرق پایا جاتا ہے ۔ تبیشتر میں کثرت کے معنی ملحوظ ہوتے ہیں ۔ اور بشرتہ ( مجرد ) عام ہے جو اچھی وبری دونوں قسم کی خبر پر بولا جاتا ہے ۔ اور البشرتہ احمدتہ کی طرح لازم ومتعدی آتا ہے جیسے : بشرتہ فابشر ( یعنی وہ خوش ہوا : اور آیت کریمہ : { إِنَّ اللهَ يُبَشِّرُكِ } ( سورة آل عمران 45) کہ خدا تم کو اپنی طرف سے بشارت دیتا ہے میں ایک قرآت نیز فرمایا : لا تَوْجَلْ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ عَلِيمٍ قالَ : أَبَشَّرْتُمُونِي عَلى أَنْ مَسَّنِيَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُونَ قالُوا : بَشَّرْناكَ بِالْحَقِّ [ الحجر/ 53- 54] مہمانوں نے کہا ڈریے نہیں ہم آپ کو ایک دانشمند بیٹے کی خوشخبری دیتے ہیں وہ بولے کہ جب بڑھاپے نے آپکڑا تو تم خوشخبری دینے لگے اب کا ہے کی خوشخبری دیتے ہو انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو سچی خوشخبری دیتے ہیں ۔ { فَبَشِّرْ عِبَادِ } ( سورة الزمر 17) تو میرے بندوں کو بشارت سنادو ۔ { فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَأَجْرٍ كَرِيمٍ } ( سورة يس 11) سو اس کو مغفرت کے بشارت سنادو استبشر کے معنی خوش ہونے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] اور جو لوگ ان کے پیچھے رہ گئے ( اور شہید ہوکر ) ان میں شامل ہیں ہوسکے ان کی نسبت خوشیاں منا رہے ہیں ۔ يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ [ آل عمران/ 171] اور خدا کے انعامات اور فضل سے خوش ہورہے ہیں ۔ وَجاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ [ الحجر/ 67] اور اہل شہر ( لوط کے پاس ) خوش خوش ( دورے ) آئے ۔ اور خوش کن خبر کو بشارۃ اور بشرٰی کہا جاتا چناچہ فرمایا : هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی ۔ لا بُشْرى يَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ [ الفرقان/ 22] اس دن گنہگاروں کے لئے کوئی خوشی کی بات نہیں ہوگی ۔ وَلَمَّا جاءَتْ رُسُلُنا إِبْراهِيمَ بِالْبُشْرى [هود/ 69] اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشخبری سے کرآئے ۔ يا بُشْرى هذا غُلامٌ [يوسف/ 19] زہے قسمت یہ تو حسین ) لڑکا ہے ۔ وَما جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرى [ الأنفال/ 10] اس مدد کو تو خدا نے تمہارے لئے رذریعہ بشارت ) بنایا بيع البَيْع : إعطاء المثمن وأخذ الثّمن، والشراء : إعطاء الثمن وأخذ المثمن، ويقال للبیع : الشراء، وللشراء البیع، وذلک بحسب ما يتصور من الثمن والمثمن، وعلی ذلک قوله عزّ وجل : وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ [يوسف/ 20] ، وقال عليه السلام : «لا يبيعنّ أحدکم علی بيع أخيه» أي : لا يشتري علی شراه . وأَبَعْتُ الشیء : عرضته، نحو قول الشاعر : فرسا فلیس جو ادنا بمباع والمبَايَعَة والمشارة تقالان فيهما، قال اللہ تعالی: وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبا [ البقرة/ 275] ، وقال : وَذَرُوا الْبَيْعَ [ الجمعة/ 9] ، وقال عزّ وجل : لا بَيْعٌ فِيهِ وَلا خِلالٌ [إبراهيم/ 31] ، لا بَيْعٌ فِيهِ وَلا خُلَّةٌ [ البقرة/ 254] ، وبَايَعَ السلطان : إذا تضمّن بذل الطاعة له بما رضخ له، ويقال لذلک : بَيْعَة ومُبَايَعَة . وقوله عزّ وجل : فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بايَعْتُمْ بِهِ [ التوبة/ 111] ، إشارة إلى بيعة الرضوان المذکورة في قوله تعالی: لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ [ الفتح/ 18] ، وإلى ما ذکر في قوله تعالی: إِنَّ اللَّهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ الآية [ التوبة/ 111] ، وأمّا الباع فمن الواو بدلالة قولهم : باع في السیر يبوع : إذا مدّ باعه . ( ب ی ع ) البیع کے معنی بیجنے اور شراء کے معنی خدید نے کے ہیں لیکن یہ دونوں &؛ہ ں لفظ ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور مبیع کے لحاظ سے ہوتا ہے اسی معنی میں فرمایا : ۔ وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ [يوسف/ 20] اور اس کو تھوڑی سی قیمت ( یعنی ) معددے ہموں پر بیچ ڈالا ۔ اور (علیہ السلام) نے فرمایا کہ کوئی اپنے بھائی کی خرید پر خرید نہ کرے ۔ ابعت الشئی کسی چیز کو بیع کے لئے پیش کرنا ۔ شاعر نے کہا ہے یعنی ہم عمدہ گھوڑی فروخت کے لئے پیش نہیں کریں گے ۔ المبایعۃ والمشارۃ خریدو فروخت کرنا ۔ وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبا [ البقرة/ 275] حالانکہ سودے کو خدا نے حلال کیا ہے اور سود کو حرام وَذَرُوا الْبَيْعَ [ الجمعة/ 9] اور خرید فروخت ترک کردو ) لا بَيْعٌ فِيهِ وَلا خِلالٌ [إبراهيم/ 31] جس میں نہ ( اعمال کا ) سودا ہوگا نہ دوستی ( کام آئے گی ) بایع السلطان ( بادشاہ کی بیعت کرنا ) اس قلیل مال کے عوض جو بادشاہ عطا کرتا ہے اس کی اطاعت کا اقرار کرنا ۔ اس اقرار یبعۃ یا مبایعۃ کہا جاتا ہے اور آیت کریمہ : ۔ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بايَعْتُمْ بِهِ [ التوبة/ 111] تو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو ۔ میں بیعت رضوان کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر کہ آیت : ۔ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ [ الفتح/ 18] اے پیغمبر جب مومن تم سے درخت کے نیچے بیعت کررہے تھے تو خدا ان سے خوش ہوا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّ اللَّهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ الآية [ التوبة/ 111] میں پایا جاتا ہے ۔ الباع ( دونوں بازوں کے پھیلانے کی مقدار جو تقریبا 2 فٹ ہوتی ہے ) یہ مادہ وادی سے ہے کیونکہ باع فی السیر یبوع کہا جاتا ہے ۔ جس کے معنی گھوڑے کے لمبے لمبے قدم رکھنا کے ہیں ۔ فوز الْفَوْزُ : الظّفر بالخیر مع حصول السّلامة . قال تعالی: ذلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيرُ [ البروج/ 11] ، فازَ فَوْزاً عَظِيماً [ الأحزاب/ 71] ، ( ف و ز ) الفوز کے معنی سلامتی کے ساتھ خیر حاصل کرلینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ ذلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيرُ [ البروج/ 11] یہی بڑی کامیابی ہے ۔ فازَ فَوْزاً عَظِيماً [ الأحزاب/ 71] تو بیشک بڑی مراد پایئکا ۔ یہی صریح کامیابی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

خدا کی خریداری کا مطلب قول باری ہے ان اللہ اشتری من المومنین انفسھم واموالھم بان لھم الجنۃ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کے نفس اور ان کے مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں ۔ یہاں خریدنے کا ذکر بطور مجاز کیا گیا ہے اس لیے کہ حقیقت میں خریدار وہ ہوتا ہے جو ایسی چیز کی خریداری کرتا ہے جو اس کی ملکیت میں نہیں ہوتی جبکہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہماری جانوں اور اموال کا مالک ہے ۔ لیکن یہ طرز بیان اسی طرح ہے جس طرح یہ قول ہے من ذالذی یقرض اللہ قرضا ً حسنا ً کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے ؟ اللہ نے آیت زیر بحث میں اسے خرید کر نام سے موسوم کیا جس طرح یہاں صدقہ کو قرض کے نام سے موسوم کیا اس لیے کہ دونوں صورتوں میں ثواب کی ضمانت دی گئی ہے اس لیے لفظ کو اس صورت پر محمول کیا گیا جس میں معاملہ کرنے والا مالک نہیں ہوتا اس کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو جہاد اور صدقہ کی ترغیب دی جائے اور انہیں اس طرف مائل کیا جائے۔ قول باری ہے السائعون اللہ کی طرف بار بار پلٹنے والے ایک قول کے مطابق اس سے مراد روز دار ہیں ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا سیاحۃ امتی الصوم روزہ میری امت کے لیے سیاحت ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) ، حضرت ابن عباس (رض) ، سعید بن جبیر اور مجاہد سے مروی ہے کہ اس سے مراد روزہ ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١١١) اللہ تعالیٰ نے خالص مسلمانوں سے ان کی جانوں اور مالوں کو جنت کے بدلہ میں خرید لیا یعنی وہ لوگ اطاعت خداوندی میں لڑتے ہیں جس میں کبھی دشمن کو قتل کرتے ہیں اور کبھی دشمن ان کو قتل کردیتا ہے، اس قتال اور جہاد پر ان سے ایسا سچا وعدہ کیا گیا ہے جس کو اللہ تعالیٰ ضرور پورا کریں گے، اور یہ بات طے شدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ اپنے وعدہ کو کون پورا کرنے والا ہے تو اب تم اپنی تجارت پر جس کا تم نے اللہ تعالیٰ سے معاہدہ ٹھہرایا ہے جنت کی خوشخبری مناؤ اور جنت کا ملنا تمہارے حق بہت ہی بڑی کامیابی ہے۔ شان نزول : (آیت) ” ان اللہ اشتری “۔ (الخ) ابن جریر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے محمد بن کعب قرظی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کیا ہے کہ عبدالل بن رواحہ (رض) نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ اپنے پروردگار کے لیے اور اپنی ذات کے لیے جو آپ چاہیں شرط قرار دیدیں، آپ نے فرمایا اپنے پروردگار کے لیے تو یہ شرط قرار دیتا ہوں کہ صرف اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ اور اپنی ذات کے لیے یہ شرط قرار دیتا ہوں کہ جن سے اپنی حفاظت کرتے ہو ان سے میری حفاظت کرو، صحابہ کرام (رض) یہ سن کر بولے یہ تجارت تو بہت ہی کامیاب ہے نہ ہم اس کو واپس دیں گے اور نہ واپس لیں گے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کی جانیں جنت کے بدلے میں خرید لی ہیں۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١١١ (اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَہُمْ وَاَمْوَالَہُمْ بِاَنَّ لَہُمُ الْجَنَّۃَ ط) یہ دو طرفہ سودا ہے جو ایک صاحب ایمان بندے کا اپنے رب کے ساتھ ہوجاتا ہے۔ بندہ اپنے جان و مال بیچتا ہے اور اللہ اس کے جان و مال کو جنت کے عوض خرید لیتا ہے۔ (یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیَقْتُلُوْنَ وَیُقْتَلُوْنَ قف) جیسے جنگ بدر میں مسلمانوں نے ستر کافروں کو جہنم رسید کیا ‘ اور میدان احد میں ستر اہل ایمان شہید ہوگئے۔ (وَعْدًا عَلَیْہِ حَقًّا فِی التَّوْرٰٹۃِ وَالْاِنْجِیْلِ وَالْقُرْاٰنِ ط) یہاں بین السطور میں دراصل یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ یہ سودا اگرچہ ادھار کا سودا ہے مگر یہ ایک پختہ عہد ہے جس کو پورا کرنا اللہ کے ذمہ ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں کوئی وسوسہ تمہارے دلوں میں نہ آنے پائے۔ دراصل یہ اس سوچ کا جواب ہے جو طبع بشری کی کمزوری کے سبب انسانی ذہن میں آتی ہے۔ انسان کو بنیادی طور پر نو نقد نہ تیرہ ادھار والا فلسفہ ہی اچھا لگتا ہے کہ کامیاب سودا تو وہی ہوتا ہے جو ایک ہاتھ دو اور دوسرے ہاتھ لو کے اصول کے مطابق ہو۔ مگر یہاں تو دنیوی زندگی میں سب کچھ قربان کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے اور اس کے انعام کے لیے وعدۂ فردا کا انتظار کرنے کو کہا جا رہا ہے کہ اس قربانی کا انعام مرنے کے بعد آخرت میں ملے گا۔ لہٰذا ایک عام انسان اس جنت موعودہ کا ہلکا سا تصور ہی اپنے ذہن میں لاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں یقین کی پختگی تو صرف خواص کو ہی نصیب ہوتی ہے۔ چناچہ اہل ایمان کو ادھار کے اس سودے پر اطمینان دلایا جا رہا ہے کہ اللہ کی طرف سے اس وعدے کی توثیق تین دفعہ ہوچکی ہے ‘ تورات میں ‘ انجیل میں اور پھر قرآن مجید میں بھی۔ (وَمَنْ اَوْفٰی بِعَہْدِہٖ مِنَ اللّٰہِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِکُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِہٖط وَذٰلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ) بَایَعْتُمْ بِہٖیعنی آپس میں جو سودا تم نے کیا۔ مبایعت باب مفاعلہ بایَعَ یُبَایِعُ (آپس میں سودا کرنا) ثلاثی مجرد باع یَبِیْعُ (بیچنا) سے ہے۔ یہیں سے لفظ بیعت نکلا ہے۔ ایک بندہ جو بیعت کرتا ہے اس میں وہ اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کرتا ہے۔ لہٰذا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ پر صحابہ (رض) نے جو بیعت کی ‘ اس کا مطلب یہی تھا کہ انہوں نے خود کو اللہ کے سپرد کردیا۔ اللہ تو چونکہ سامنے موجود نہیں تھا اس لیے بظاہر یہ بیعت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ مبارک پر ہوئی تھی ‘ مگر اللہ نے اسے اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں دراصل وہ اللہ سے ہی بیعت کرتے ہیں اور وقت بیعت ان کے ہاتھوں کے اوپر ایک تیسرا غیر مرئی ہاتھ اللہ کا بھی موجود ہوتا ہے۔ ( الفتح : ١٠) یہ سودا اور یہ بیع جس کا ذکر آیت زیر نظر میں ہوا ہے ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو یہ سودا کرنے کی توفیق عطافرمائے کہ ہم اللہ کے ہاتھ اپنی جانیں اور اپنے اموال بیچ دیں۔ اب اس سودے کے اثرات عملی طور پر جب انسانی شخصیت پر مترتب ہوں گے تو اس میں سے اعمال صالحہ کا ظہور ہوگا۔ لہٰذا اس کیفیت کا نقشہ آئندہ آیت میں کھینچا گیا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :106 یہاں ایمان کے اس معاملے کو جو خدا اور بندے کے درمیان طے ہوتا ہے ، بیع سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ایمان محض ایک مابعد الطبعیاتی عقیدہ نہیں ہے بلکہ فی الواقع وہ ایک معاہدہ ہے جس کی رو سے بندہ اپنا نفس اور اپنا مال خدا کے ہاتھ فروخت کر دیتا ہے اور اس کے معاوضہ میں خدا کی طرف سے اس وعدے کو قبول کر لیتا ہے کہ مرنے کے بعد دوسری زندگی میں وہ اسے جنت عطا کرے گا ۔ اس اہم مضمون کے تضمنات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس بیع کی حقیقیت کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیا جائے ۔ جہاں تک اصل حقیقت کا تعلق ہے ، اس کے لحاظ سے تو انسان کی جان و مال کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے ، کیونکہ وہی اس کا اور ان ساری چیزوں کا خالق ہے جو اس کے پاس ہیں اور اسی نے وہ سب کچھ اسے بخشا ہے جس پر وہ تصرف کر رہا ہے ۔ لہٰذا اس حیثیت سے تو خرید و فروخت کا کوئی سوال پیدا ہی نہیں ہوتا ۔ نہ انسان کا اپنا کچھ ہے کہ وہ اسے بیچے ، نہ کوئی چیز خدا کی ملکیت سے خارج ہے کہ وہ اسے خریدے ۔ لیکن ایک چیز انسان کے اندر ایسی بھی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے کلیۃ اس کے حوالے کر دیا ہے ، اور وہ ہے اس کا اختیار یعنی اس کا اپنے انتخاب وارادہ میں آزاد ہونا اس اختیار کی بنا پر حقیقت نفس الامری تو نہیں بدلتی مگر انسان کو اس امر کی خود مختاری حاصل ہو جاتی ہے کہ چاہے تو حقیقت کو تسلیم کرے ورنہ انکار کر دے ۔ بالفاظ دیگر اس اختیار کے معنی یہ نہیں ہیں کہ انسان فی الحقیقت اپنے نفس کا اور اپنے ذہن و جسم کی قوتوں کا اور ان اقتدارات کا جو اسے دنیا میں حاصل ہیں ، مالک ہو گیا ہے اور اسے یہ حق مل گیا ہے کہ ان چیزوں کو جس طرح چاہے استعمال کرے ۔ بلکہ اس کے معنی صرف یہ ہیں کہ اسے اس امر کی آزادی دے دی گئی ہے کہ خدا کی طرف سے کسی جبر کے بغیر وہ خود اپنی ذات پر اور اپنی ہر چیز پر خد ا کے مالکانہ حقوق کو تسلیم کرنا چاہے تو کرے ورنہ آپ ہی اپنا مالک بن بیٹھے اور اپنے زعم میں یہ خیال کرے کہ وہ خدا سے بے نیاز ہو کر اپنے حدود اختیار میں اپنے حسب منشا تصرف کرنے کا حق رکھتا ہے ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے بیع کا سوال پیدا ہوتا ہے ۔ دراصل یہ بیع اس معنی میں نہیں ہے کہ جو چیز انسان کی ہے خدا اسے خریدنا چاہتا ہے ۔ بلکہ اس معاملہ کی صحیح نوعیت یہ ہے کہ جو چیز خدا کی ہے ، اور جسے اس نے امانت کے طور پر انسان کے حوالے کیا ہے ، اور جس میں امین رہنے یا خائن بن جانے کی آزادی اس نے انسان کو دے رکھی ہے ، اس کے بارے میں وہ انسان سے مطالبہ کرتا ہے کہ تو برضا و رغبت ( نہ کہ بمجبوری ) میری چیز کو میری ہی چیز مان لے ، اور زندگی بھر اس میں خود مختار مالک کی حیثیت سے نہیں بلکہ امین ہونے کی حیثیت سے تصرف کرنا قبول کر لے ، اور خیانت کی جو آزادی تجھے میں نے دی ہے اس سے خود بخود دست بردار ہو جا ۔ اس طرح اگر تو دنیا کی موجودہ عارضی زندگی میں اپنی خودمختاری کو ( جو تیری حاصل کردہ نہیں بلکہ میری عطا کردہ ہے ) میرے ہاتھ فروخت کر دے گا تو میں تجھے بعد کی جاودانی زندگی میں اس کی قیمت بصورت جنت ادا کروں گا ۔ جو انسان خدا کے ساتھ بیع کا یہ معاملہ طے کر لے وہ مومن ہے اور ایمان دراصل اسی بیع کا دوسرا نام ہے ۔ اور جو شخص اس سے انکار کر دے ، یا اقرار کرنے کے باوجود ایسا رویہ اختیار کرے جو بیع نہ کرنے کی صورت ہی میں اختیار کیا جا سکتا ہے ، وہ کافر ہے اور اس بیع ہی سے گریز کا اصطلاحی نام کفر ہے ۔ بیع کی اس حقیقت کو سمجھ لینے کے بعد اب اس کے تضمنات کا تجزیہ کیجیے: ( ۱ ) اس معاملہ میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو دو بہت بڑی آزمائشوں میں ڈالا ہے ۔ پہلی آزمائش اس امر کی کہ آزاد چھوڑ دیے جانے پر یہ اتنی شرافت دکھاتا ہے یا نہیں کہ مالک ہی کو مالک سمجھے اور نمک حرامی و بغاوت پر نہ اتر آئے ۔ دوسری آزمائش اس امر کی کہ یہ اپنے خدا پر اتنا اعتماد کرتا ہے یا نہیں کہ جو قیمت آج نقد نہیں مل رہی ہے بلکہ مرنے کے بعد دوسری زندگی میں جس کے ادا کرنے کا خدا کی طرف سے وعدہ ہے ، اس کے عوض اپنی آج کی خودمختاری اور اس کے مزے بیچ دینے پر بخوشی راضی ہو جائے ۔ ( ۲ ) دنیا میں جس فقہی قانون پر اسلامی سوسائٹی بنتی ہے اس کی رو سے تو ایمان بس چند عقائد کے اقرار کا نام ہے جس کے بعد کوئی قاضی شرع کسی کے غیر مومن یا خارج از ملت ہونے کا حکم نہیں لگا سکتا جب تک اس امر کا کوئی صریح ثبوت اسے نہ مل جائے کہ وہ اپنے اقرار میں جھوٹا ہے ۔ لیکن خدا کے ہاں جو ایمان معتبر ہے اس کی حقیقت کہ ہے کہ بندہ خیال اور عمل دونوں میں اپنی آزادی و خودمختاری کو خدا کے ہاتھ بیچ دے اور اس کے حق میں اپنے ادعائے ملکیت سے کلیۃ دست بردار ہو جائے ۔ پس اگر کوئی شخص کلمہ اسلام کا اقرار کرتا ہو اور صوم و صلوٰۃ وغیرہ احکام کا بھی پابند ہو لیکن اپنے جسم و جان کا ، اپنے دل و ماغ اور بدن کی قوتوں کا ، اپنے مال اور وسائل و ذرائع کا ، اور اپنے قبضہ و اختیار کی ساری چیزوں کا مالک اپنے آپ ہی کو سمجھتا ہو اور ان میں اپنے حسب منشا تصرف کرنے کی آزادی اپنے لیے محفوظ رکھتا ہو ، تو ہو سکتا ہے کہ دنیا میں وہ مومن سمجھا جاتا رہے ، مگر خدا کے ہاں یقینا وہ غیر مومن ہی قرار پائے گا کیونکہ اس نےخدا کے ساتھ وہ بیع کا معاملہ سرے سے کیا ہی نہیں جو قرآن کی رو سے ایمان کی اصل حقیقت ہے ۔ جہاں خدا کی مرضی ہو وہاں جان و مال کھپانے سے دریغ کرنا اور جہاں اس کی مرضی نہ ہو وہاں جان و مال کھپانا ، یہ دونوں طرز عمل ایسے ہیں جو اس بات کا قطعی فیصلہ کر دیتے ہیں کہ مدعی ایمان نے یا تو جان و مال کو خدا کے ہاتھ بیچا نہیں ہے ، یا بیع کا معاہدہ کر لینے کے بعد بھی وہ بیچی ہوئی چیز کو بدستور اپنی سمجھ رہا ہے ۔ ( ۳ ) ایمان کی یہ حقیقت اسلامی رویہ زندگی اور کافرانہ رویہ زندگی کو شروع سے آخر تک بالکل ایک دوسرے سے جدا کر دیتی ہے ۔ مسلم جو صحیح معنی میں خدا پر ایمان لایا ہو ، اپنی زندگی کے ہر شعبے میں خدا کی مرضی کا تابع بن کر کام کرتا ہے اور اس کے رویہ میں کسی جگہ بھی خود مختاری کا رنگ نہیں آنے پاتا ۔ الا یہ کہ عارضی طور پر کسی وقت اس پر غفلت طاری ہو جائے اور وہ خدا کے ساتھ اپنے معاہدہ بیع کو بھول کر کوئی خود مختارانہ حرکت کر بیٹھے ۔ اسی طرح جو گروہ اہل ایمان سے مرکب ہو وہ اجتماعی طور پر بھی کوئی پالیسی ، کوئی سیاست ، کوئی طرز تمدن و تہذیب ، کوئی طریق معیشت و معاشرت اور کوئی بین الاقوامی رویہ خدا کی مرضی اور اس کے قانون شرعی کی پابندی سے آزاد ہو کر اختیار نہیں کر سکتا ۔ اور اگر کسی عارضی غفلت کی بنا پر اختیار کر بھی جائے تو جس وقت اسے تنبیہ ہوگی اسی وقت وہ آزادی کا رویہ چھوڑ کر بندگی کے رویہ کی طرف پلٹ آئے گا ۔ خدا سے آزاد ہو کر کام کرنا اور اپنے نفس و متعلقات نفس کے بارے میں خود یہ فیصلہ کرنا کہ ہم کیا کریں اور کیا نہ کریں ، بہر حال ایک کافرانہ رویہ زندگی ہے خواہ اس پر چلنے والے لوگ ”مسلمان“ کے نام سے موسوم ہوں یا ”غیر مسلم“ کے نام سے ۔ ( ٤ ) اس بیع کی رو سے خدا کی جس مرضی کا اتباع آدمی پر لازم آتا ہے وہ آدمی کی اپنی تجویز کردہ مرضی نہیں بلکہ وہ مرضی ہے جو خدا خود بتائے ۔ اپنے آپ کسی چیز کو خدا کی مرضی ٹھیرا لینا اور اس کا اتباع کرنا خدا کی مرضی کا نہیں بلکہ اپنی ہی مرضی کا اتباع ہے اور یہ معاہدہ بیع کے قطعی خلاف ہے ۔ خدا کے ساتھ اپنے معاہدہ بیع پر صرف وہی شخص اور وہی گروہ قائم سمجھا جائے گا جو اپنا رویہ ٔزندگی خدا کی کتاب اور اس کے پیغمبر کی ہدایت سے اخذ کرتا ہو ۔ یہ اس بیع کے تضمنات ہیں ، اور ان کو سمجھ لینے کے بعد یہ بات بھی خود بخود سمجھ میں آجاتی ہے کہ اس خرید و فروخت کے معاملہ میں قیمت ( یعنی جنت ) کو موجودہ دنیوی زندگی کے خاتمہ پر کیوں مؤخر کیا گیا ہے ۔ ظاہر ہے کہ جنت صرف اس اقرار کا معاوضہ نہیں ہے کہ ”بائع نے اپنا نفس و مال خدا کے ہاتھ بیچ دیا “ ۔ بلکہ وہ اس عمل کا معاوضہ ہے کہ” بائع اپنی دنیوی زندگی میں اس بیچی ہوئی چیز پر خود مختارانہ تصرف چھوڑ دے اور خدا کا امین بن کر اس کی مرضی کے مطابق تصرف کرے“ ۔ لہٰذا یہ فروخت مکمل ہی اس وقت ہو گی جب کہ بائع کی دنیوی زندگی ختم ہو جائے اور فی الواقع یہ ثابت ہو کہ اس نے معاہدہ بیع کرنے کے بعد سے اپنی دنیوی زندگی کے آخری لمحہ تک بیع کی شرائط پوری کی ہیں ۔ اس سے پہلے وہ از روئے انصاف قیمت پانے کا مستحق نہیں ہو سکتا ۔ ان امور کی توضیح کے ساتھ یہ بھی جان لینا چاہیے کہ اس سلسلہ بیان میں یہ مضمون کس مناسبت سے آیا ہے ۔ اوپر سے جو سلسلہ تقریر چل رہا تھا اس میں ان لوگوں کا ذکر تھا جنہوں نے ایمان لانے کا اقرار کیا تھا ۔ مگر جب امتحان کا نازک موقع آیا تو ان میں سے بعض نے تساہل کی بنا پر ، بعض نے اخلاص کی کمی کی وجہ سے ، اور بعض نے قطعی منافقت کی راہ سے خدا اور اس کے دین کی خاطر اپنے وقت ، اپنے مال ، اپنے مفاد اور اپنی جان کو قربان کرنے میں دریغ کیا ۔ لہٰذا ان مختلف اشخاص اور طبقوں کے رویہ پر تنقید کرنے کے بعد اب ان کو صاف صاف بتایا جا رہا ہے کہ وہ ایمان ، جسے قبول کرنے کا تم نے اقرار کیا ہے ، محض یہ مان لینے کا نام نہیں ہے کہ خدا ہے اور وہ ایک ہے ، بلکہ دراصل وہ اس امر کا اقرار ہے کہ خدا ہی تمہارے نفس اور تمہارے مال کا مالک ہے ، پس یہ اقرار کرنے کے بعد اگر تم اس نفس و مال کو خدا کے حکم پر قربان کر نے سے جی چراتے ہو ، اور دوسری طرف اپنے نفس کی قوتوں کو اور اپنے ذرائع کو خدا کے منشاء کے خلاف استعمال کرتے ہو ، تو یہ اس امر کی دلیل ہے کہ تم اپنے اقرار میں جھوٹے ہو ۔ سچے اہل ایمان صرف وہ لوگ ہیں جو واقعی اپنا نفس و مال خدا کے ہاتھ بیچ چکے ہیں اور اسی کو ان چیزوں کا مالک سمجھتے ہیں ۔ جہاں اس کا حکم ہوتا ہے وہاں انہیں بے دریغ قربان کرتے ہیں ، اور جہاں اس کا حکم نہیں ہوتا وہاں نفس کی طاقتوں کا کوئی ادنی سا جز اور مالی ذرائع کا کوئی ذرا سا حصہ بھی خرچ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے ۔ سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :107 اس امر پر بہت اعتراضات کیے گئے ہیں کہ جس وعدے کا یہاں ذکر ہے وہ توراۃ اور انجیل میں موجود نہیں ہے ۔ مگر جہاں تک انجیل کا تعلق ہے یہ اعتراضات بے بنیاد ہیں ۔ جو اناجیل اس وقت دنیا میں موجود ہیں ان میں حضرت مسیح علیہ السلام کے متعدد اقوال ہم کو ایسے ملتے ہیں جو اس آیت کے ہم معنی ہیں ، مثلا ” مبارک ہیں وہ جو راستبازی کے سبب ستائے گئے ہیں ، کیونکہ آسمان کی بادشاہت انہی کی ہے“ ( متی ۱۰:۵ ) ”جو کوئی اپنی جان بچاتا ہے اسے کھوئے گا اور جو کوئی میرے سبب اپنی جان کھوتا ہے اسے بچائے گا“ ( متی ۳۹:۱۰ ) ” جس کسی نے گھروں یا بھائیوں یا بہنوں یا باپ یا ماں یا بچوں یا کھیتوں کو میرے نام کی خاطر چھوڑ دیا ہے اس کو سو گنا ملے گا اور ہمیشہ کی زندگی کا وارث ہوگا “ ( متی ۲۹:۱۹ ) البتہ توراۃ جس صورت میں اس وقت موجود ہے اس میں بلاشبہہ یہ مضمون نہیں پایا جاتا ، اور یہی مضمون کیا ، وہ تو حیات بعد الموت اور یوم الحساب اور اخروی جزا و سزا کے تصور ہی سے خالی ہے ۔ حالانکہ یہ عقیدہ ہمیشہ سے دین حق کا جزو لاینفک رہا ہے ۔ لیکن موجودہ توراۃ میں اس مضمون کے نہ پائے جانے سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ واقعی توراۃ اس سے خالی تھی ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہود اپنے زمانہ تنزل میں کچھ ایسے مادہ پرست اور دنیا کی خوشحالی کے بھوکے ہو گئے تھے کہ ان کے نزدیک نعمت اور انعام کے کوئی معنی اس کے سوا نہ رہے تھے کہ وہ اسی دنیا میں حاصل ہو ۔ اسی لیے کتاب الہٰی میں بندگی و اطاعت کے بدلے جن جن انعامات کے وعدے ان سے کیے گئے تھے ان سب کو وہ دنیا ہی میں اتار لائے اور جنت کی ہر تعریف کو انہوں نے فلسطین کی سرزمین پر چسپاں کر دیا جس کے وہ امیدوار تھے ۔ مثال کے طور پر توراۃ میں متعدد مقامات پر ہم کو یہ مضمون ملتا ہے : ” سن اے اسرائیل ! خداوند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے ۔ تو اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت سے خداوند اپنے خدا سے محبت کر“ ( استثناء ٦ : ٤ : ۵ ) اور یہ کہ: ” کیا وہ تمہارا باپ نہیں جس نے تم کو خریدا ہے؟ اسی نے تم کو بنایا اور قیام بخشا “ ( استثنا ۳۲ : ٦ ) لیکن اس تعلق باللہ کی جو جزا بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ تم اس ملک کے مالک ہو جاؤ گے جس میں دودھ اور شہد بہتا ہے ، یعنی فلسطین ۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ توراۃ جس صورت میں اس وقت پائی جاتی ہے اول تو وہ پوری نہیں ہے ، اور پھر وہ خالص کلام الہٰی پر بھی مشتمل نہیں ہے بلکہ اس میں بہت سا تفسیری کلام خدا کے کلام کے ساتھ ساتھ شامل کر دیا گیا ہے ۔ اس کے اندر یہودیوں کی قومی روایات ، ان کے نسلی تعصبات ، ان کے اوہام ، ان کی آرزؤوں اور تمناؤں ، ان کی غلط فہمیوں ، اور ان کے فقہی اجتہادات کا ایک معتدبہ حصہ ایک ہی سلسلہ عبارت میں کلام الہٰی کے ساتھ کچھ اس طرح رل مل گیا ہے کہ اکثر مقامات پر اصل کلام کو ان زوائد سے ممیز کرنا قطعا غیر ممکن ہو جاتا ہے ۔ ( ملاحظہ ہو سورہ آل عمران ، حاشیہ نمبر۲ ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١١١۔ منیٰ کی گھائی کی بیت کے وقت جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لوگ بیعت کر رہے تھے تو عبداللہ بن رواحہ (رض) نے کہا کہ آپ اپنے اور خدا کی طرف سے کچھ شرط مقرر کرلیں آپ نے فرمایا خدا کی طرف سے شرط یہ ہے کہ اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور میرے لئے یہ شرط ہے کہ جن چیزوں سے تم اپنی جان اور مال کو بچاتے ہو اس سے مجھے بھی بچاؤ۔ عبداللہ بن رواحہ (رض) نے کہا پھر کیا ملے گا آپ نے فرمایا کہ جنت۔ اسی وقت یہ آیت اتری ١ ؎ اور یہ ارشاد ہوا کہ خدا کی راہ میں جہاد کرنے والے خواہ قتل ہوجائیں یا کافروں کو قتل کریں ہر حالت میں ان کے لئے جنت ہے۔ بخاری ومسلم میں ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ جو شخص فقط جہاد کی خاطر اپنے گھر سے نکلا تو خدا اس کا کفیل ہوگیا اگر اس نے وفات پائی تو جنت میں داخل ہوگا اگر صحیح سلامت رہا تو مال غنیمت لے کر گھر آوے ٢ ؎ گا تورات ‘ انجیل ‘ قرآن مجید ان سب کتابوں میں یہی حکم ہے۔ جابر بن عبداللہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ حضور مسجد میں تھے جب یہ آیت اتری ہے لوگ اکثر کہنے لگے اس شخص انصار میں سے چادر اوڑھے ہوئے تھا کہنے لگا یا حضرت کیا یہ آیت نازل ہوئی ہے آپ نے فرمایا ہاں اس مرد نے کہا یہ سودا تو نفع کا ہے اس سے معلوم ٣ ؎ ہوتا ہے کہ عبداللہ (رض) بن رواحہ نے جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات چیت کی وہ بیعت عقبہ کے وقت تھی اور آپ ہجرت کے بعد مدینہ میں نازل ہوئی یہی قول صحیح معلوم ہوتا ہے کیونکہ بیعت عقبہ کی صحیح روایتوں میں آیت کے نازل ہونے کا ذکر نہیں ہے یہ بیعت عقبہ ہجرت سے پہلے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منی کی گھاٹی میں موسم حج کے وقت انصار سے کی تھی عقبہ گھاٹی کو کہتے ہیں منی کے پہاڑ کی گھائی میں جو یہ بیعت ہوئی تھی اس لئے اس بیعت کا نام بیعت عقبہ مشہور ہوگیا۔ سورت حشر میں اس بیعت کا قصہ تفصیل سے آویگا۔ تبوک کی لڑائی میں جو لوگ سستی سے پیچھے رہ گئے تھے ان کو اولا ہٹا دینے کے لئے اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو دین کی لڑائی میں چست اور جان ومال سے حاضر تھے تو رات میں جو جہاد کا جو حکم ہے وہی شریعت عیسوی میں قائم ہے اس لئے جہاد کے مسئلہ میں تو رات ‘ انجیل ‘ قرآن تینوں کا نام فرمایا پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ خدا کی راہ میں دشمنوں کو یہ قتل کرتے ہیں آپ بھی قتل ہوتے ہیں اس لئے یہ جنت کے حق دار ہوگئے۔ ١ ؎ تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٣٩١ ٢ ؎ صحیح بخاری ج ١ ص ٣٩١ باب افصل الناس مومن مجاہد الخ و تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٣٩١۔ ٣ ؎ تفسیر الدر المنثور ج ٣ ص ٢٨٠ و تفسیر فت البیان ج ٢ ص ٣٠٨۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(9:111) اشتری۔ اس نے خرید لیا۔ اس نے خریدا۔ اشتری یشتری اشتراء (افتعال) سے ماضی واحد مذکر غائب۔ اشتراء کے معنی خریدنے اور بیچنے دونوں کے آتے ہیں۔ وعدا۔ اسم ومصدر۔ وعدا علیہ حقا۔ حقا وعدا کی صفت ہے اور وعدا بوجہ فعل محذوف منصوب ہے گویا تقدیر کلام یوں ہے۔ وعدہم علیہ (علی ذلک الامر) وعدا حقا۔ اس بات پر اس نے ان کے ساتھ سچا وعدہ کر رکھا ہے۔ علیہ کے معنی لازم علیہ بھی ہوسکتے ہیں۔ اس صورت میں تقدیر کلام یوں ہوگی :۔ وعدہم وعدا حقا لازم علیہ۔ اس نے ان سے ایک سچا وعدہ کر رکھا ہے جس کا پورا کرنا اس نے اپنے ذمہ لیا ہوا ہے۔ فی التوراۃ والنجیل والقرآن یعنی اس وعدہ کا ذکر تورات، انجیل اور قرآن میں ہے ۔ او فی۔ زیادہ وعدہ پورا کرنے والا۔ اور اللہ سے بڑھ کر اپنا وعدہ پورا کرنے والا کون ہے ؟ افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ فاستبشروا ببیعکم الذی بایعتم بہ۔ فاستبشروا۔ خوشیاں مناؤ۔ بشارت پاؤ۔ استبشار (استفعال) سے جس کے معنی بشارت پانے کے ہیں۔ ببیعکم۔ اپنے سودے پر۔ الذی بایعتم اللہ بہ۔ جو سودا تم نے اللہ کے ساتھ کیا ہے ہ ضمیر واحد مذکر۔ سودا کی طرف راجع ہے۔ ذلک۔ ای البیع۔ اور یہی سودائ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 منافقین کے بیان سے فارغ ہونے کے بعد اب اس آیت میں جہاد کی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ مروی ہے کہ لیلتہ العقبہ میں جب ستر آدمیوں سے آپ نے بیعت تو شرط کی کہ ایک اللہ کی عبادت کرنا اور اس کے ساتھ شرک نہ کرنا اور میری ذات کی اس طرح حفاظت کرنا جس طرح تم اپنے جان و مال کی حفاظت کرتے ہو۔ انصار نے کہا اگر ہم یہ کرلیں تو ہمارے لئے کیا ہوگا ؟ فرمایا ” الجنہ “ کہ تمہارے لئے اس کے بدلہ جنت ہوگی۔ انصار نے اس پر اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور کہا ہمیں منظور ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی : ذکرہ الحافظ (کبیر۔ ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ١١١ تا ١١٨ اسرار و معارف رہے مومن تو ان کا اپنا کچھ ہے ہی نہیں وہ تو اپنی جان اپنا مال بیچ چکے اور اللہ نے خرید لیا ہے ان سے اور اس کی قیمت بھی طے ہوگئی ۔ اللہ کی جنت جو اس کی رضا کا مظہر ہے ۔ مفسرین کرام کے مطابق یہ آیہ کریمہ بعیت عقبہ والے صحابہ (رض) اور صحابیات (رض) کے حق میں نازل ہوئی بعیت عقبہ منٰی میں حج کے موقع پر مدینہ منورہ سے آکر ستر ٧٠ کے قریب مردوکواتین نے اس شرط کی تھی کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں گے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حفاظت اپنی جانوں اور مال واولاد سے بڑھ کر کریں گے یہ مفصل قصہ سیرت وتاریخ میں بھی تفاسیر میں بھی دسند کے ساتھ موجود ہے مگر معنی عام ہے اور ایمان کی کیفیت و تفصیل نہایت خوبصورتی سے بیان کرتا ہے ۔ ایمان کی حقیقت اور ایمان کے اثرات عملی زندگی پر ایمان کی حقیقت یہ ہے ایمان لانے ولا شخص اپنی جان اپنا بیچ دیتا ہے اور اللہ سے جنت خرید لیتا ہے جنت جو اللہ کے قرب کا مقام بھی ہے اور اس کی رضا مندی کی سند بھی سیدنا فاروق اعظم (رض) فرمایا کرتے تھے کہ عجیب سودا ہے سب کچھ اپنی طرف عطا فرمایا اور پھر مزید نعمتیں دے کر اسے خرید فرمالیا انسان کے پلے سے تو کچھ بھی نہ گیا کہ اس کا اپنا تھا ہی کچھ نہیں چناچہ اس کیفیت کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں کفار سے لڑتے ہیں ان کو مارتے ہیں یا خود مرتے ہیں انھیں اس کی پرواہ نہیں ہوتی کہ مال کا نقصان ہو یا جان جائے وہ سب کچھ پہلے ہی بیچ چکے جس ہستی نے کریدا ہے اس کا حکم ہے کہ یہاں الٹا دوتولٹ جائے ان کا اس میں کیا ہے یہ سود اگر ی پہلی بار نہیں بلکہ پہلی امتوں میں بھی ہوتی رہی جس کا ثبوت پہلی کتابوں سے ہوتا ہے کہ یہ کھراوعدہ تورات وانجیل میں بھی تھا اور قرآن حکیم میں بھی موجود ہے ۔ اب یہ فریق ثابی پر یعنی بندے پر موقوف ہے کہ اللہ سے کئے گئے اس سودے کو کس حدتک پورا کرتا ہے اگر جان ومال اللہ کا ہے تو اس کی نافرمانی کرکے مال بڑھا نے کی ضرورت نہیں رہتی اگر جان اس کے ہاتھ بیچ دی تو حرام کھانے یافعل حرام کرنے یا خواہشات نفس کی تکمیل کے لئے اللہ کی نافرمانی کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔ اگر کوئی بندہ ایمان قبول کرنے کے بعد ان باتوں میں ملوث ہوتا ہے تو گو وہ اپنے سودے سے پھر رہا ہے اس کی بات الگ ہے مگر ایسے عالی ہمت لوگ جو اس سودے کو نبا ہتے ہیں اور اپنے قول کا پاس رکھتے ہیں انھیں یہ سودا مبارک ہو کہ اگر وہ اپنے پورے خلوص سے اسے نباہ رہے ہیں تو اللہ کریم اس سے ہرگز نہ پھریں گے بلکہ اللہ کی جنت اب ان کی ہوگئی اور یہ معمولی بات نہیں ، بہت بڑی کا میابی ہے۔ میدان جنگ میں تو بعض اوقات ایسے لوگ بھی کود پڑتے ہیں جو عملی زندگی میں بھلے نہیں ہوتے کہ یہ ایک جذباتی لمحہ ہوتا ہے اور لوگ جذبات سے مغلوب ہوکرٹکراسکتے ہیں مگر جو جذبات میں بہہ کر نہیں کمال ایمان کے سبب جہاد کرتے ہیں ان کی عملی زندگی میدان جہاد سے باہر بھی بدل جاتی ہے وہ ہمیشہ توبہ کرنے والے ہوتے ہیں اور باربار اللہ سے طلب مغفرت اور اپنی دیدہ ونا دیدہ لغزشوں کی معافی طلب کرتے رہتے ہیں اللہ کی عبادت کرنے کر والے ہوتے ہیں اور ہر حال میں اللہ کا شکر بجالا نے والے ہوتے ہیں ۔ یہ دیکھا گیا ہے اکثر بےعمل افراد کو اللہ سے شکایت ہی رہتی ہے اور شعوری یا غیرشعوری طور پر اپنی تکالیف ہی گنواتے رہتے ہیں مگر ایمان مضبوط ہو تو ہر حال میں شکر کی توفیق نصیب ہوتی ہے عبادات کو صرف پوراہی نہیں کرتے رکوع و سجود کی لذتوں سے آشنا ہوتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں غرض اللہ کی قائم کردہ حدود کے پاسبان بن جاتے ہیں نہ صرف یہ کہ خود نہیں توڑتے حتی الا مکان کسی دوسرے کو بھی ان حدود سے متجاوز نہیں ہونے دیتے ان صفات سے متصف ایمان والوں کو بشارت دے دیجئے کہ قبل محشرعرصہ محشر کی کامیابی پہ یہ چیزیں ایک مضبوط دلیل ہیں ۔ آج ہم دنیا وآخرت میں ایسے ہی انعامات کی امیدتو رکھتے ہیں مگر اپنی طرف سے سود انہ صرف بھول چکے ہیں بلکہ ایک طرح سے منسوخ کردیا ہے اللہ کریم ہمیں اس سودے پر قائم رہنے کی توفیق بخشے ، آمین۔ ابو طالب کا انجام اور اس کا سبب جو لوگ یہ سودا کرتے ہی نہیں اور کفر پہ قائم رہتے ہوئے دنیا سے چلے جاتے ہیں ان کا بھلاتو کیا ہوگا ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مومنین کو ان کی نجات کے لئے دعا کرنا بھی نہ زیب ہی دیتا ہے اور نہ اس کی اجازت ہے ۔ مفسرین کرام کے مطابق آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حچا ابو طالب کی وفات ہوگئی ۔ زندگی میں انھوں نے آپ کی بہت حمایت کی اور کسی کا کہا نہ مانا ۔ وقت وفات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوشش فرمائی کہ اگر میرے کا ن میں بھی کلمہ پڑھ دیں تو میں آپ کی شفاعت کروں گا مگر ابوجہل جو پاس بیٹھا تھا۔ ہر بار کہہ اٹھتا کہ اب مرتے وقت عبدالمطلب کا دین یعنی آبائی مذہب چھوڑدوگے چناچہ اس کا آخری کلمہ یہی تھا کہ میں آبائی مذہب پر جان دے رہا ہوں ۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں ان کے لئے دعا تو کروں گا یہ الگ بات ہے کہ اللہ کریم ہی روک دیں چناچہ یہ آیہ کریمہ نازل ہوئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کرنا ترک فرمادیا۔ یہاں ایک بہت بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا ابو طالب نے آپ کی حمایت آخری دم تک کی اور کسی کی ناراضگی خاطر میں نہ لائے تو انھیں توبہ کی توفیق کیوں نہ ملی ؟ یہاں ایک بات کی اصلاح بھی ضروری ہے کہ ابو طالب نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حمایت ضرور کی مگر یہ غلط مشہور ہے کہ آپ کی پرورش بھی کی سیرت کی کتاب محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو مصر کی طبع شدہ ہے میں موجو ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو طالب کے کنبہ کی پر درش کی کہ جب ان کے ساتھ لگے تو آپ نے بچپن میں ہی مزدوری پر بکریاں چرانا شروع کردیں اور جو ملتا وہ چچاکودیتے جو غریب بھی تھے اور کثیر الا دلاد بھی جب شادی کرکے الگ ہوئے تو ایک بچہ پاس رکھ لیا کہ چچا کی مدد ہوسکے یہی بچہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ تھے ۔ لیکن چچانے حمایت اپنی جان کی پرواہ نہ کرکے بھی کی تو اسکا صحیح اور آسان جواب یہ ہے کہ ابو طالب نے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حمایت نہیں کی بلکہ اپنے بھتیجے محمد بن عبداللہ کی حمایت کرتے رہے اگر نبوت و رسالت کی طرف متوجہ ہوتے تو کبھی خالی نہ رہتے ۔ مومن کی دعا بہرحال یہ قانون بیان کردیا گیا کہ کسی مشرک کے لئے دعا بھی نہ کی جائے ۔ اس سے یہ بھی ثابت ہے کہ مومنین کے حق میں مومنین کی دعا بھی اللہ کا انعام ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا کی تو بات ہی کیا ہے ۔ ان کا کرم پھر ان کا کرم ہے ان کے کرم کی بات نہ پوچھو۔ اور اس نعمت سے محرومی شرک جیسے ظلم کی سزا کے طور پر ہے بہرحال زندگی میں کافر ومشرک کی نجات کی دعا بھی جائز ہے کہ زندگی میں نجات سے مراد ایسے اعمال کی توفیق ہے جو باعث نجات ہوں جیسے ایمان اور عمل صالح احد میں رخ انور زخمی ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے ۔ اللھم اغفرقومی فانھم لا یعلمون ۔ اے اللہ ! میری قوم کو بخش دے وہ مجھے جانتے نہیں ۔ وہی بات کہ محمد بن عبداللہ سے لڑ رہے ہیں تیرے رسول کی عظمت سے ناواقف ہیں اور جب کفر پر کسی کا خاتمہ ہواتو واضح ہوگیا کہ یہ ہمیشہ کے لئے جہنم کا ایندھن ہے لہٰذا اس کے لئے دعانہ کی جائے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے والد کی بخشش کے لئے دعا کی تھی یہ بات جو مشہور ہے درست ہے کہ مشرکین میں بھی دین ابراہیمی کی عزت بھی تھی اور کچھ باتیں بھی محفوظ تھیں جن میں یہ بات بھی تھی تو اللہ نے تصدیق فرمائی کہ انھوں نے کی تھی کہ دین تو پوری محنت سے اور کھری کھری باتیں کرکے پہنچا یا مگر جب وہ نہ مانے تو جدا ہوتے وقت وعدہ فرمایا تھا کہ ساسستغفرلک ربی میں اپنے رب سے تمہاری بخشش مانگوں گا کہ حضرت ابراھیم بہت ہی نرم خو اور حلیم الطبع تھے لہٰذا اپنے وعدے کا پاس کرتے ہوئے دعاضرورفرمائی مگر جب انھیں یہ یقین ہوگیا کہ وہ تو آخری دم تک کفر پر اور اللہ کی مخالفت پر قائم رہے تو ان سے اپنی برأت کا اعلان کردیا اور یہی ایمان کا اثر ہے کہ جس دل میں نور ایمان نہ ہو اس سے کوئی رشتہ نہیں رہتا۔ اللہ کریم کی شان سے یہ بعید ہے کہ وہ کسی کے گمراہ کافر ہونے کا اعلان فرمادے اور اس کفر کی سزائیں جاری کردے یابندہ ایمان لائے اور وہ اسے محروم کردے ایسا کبھی نہیں ہوتا ۔ ہاں ! قاعدہ یہ ہے کہ ضابطے اور قانون بتادیئے جاتے ہیح ۔ نبی بھیج کر کتاب نازل کرکے حدود متعین فرمادی جاتی ہیں ۔ اب جو ان حدود کو قبول ہی نہیں کرتے یا کرنے کے بعد ان سے نکل جاتے ہیں تو یہ ہلاکت اپنے لئے وہ خود اختیار کرتے ہیں کہ اللہ کریم ان کے ہر حال سے واقف ہے خواہ وہ زبانی کچھ کہیں بھی اجرتو عمل پر مرتب ہوتا ہے اور یہ اختیار اس نے خود بندوں کو بخشا ہے ورنہ وہ مختار کل ہے ساری کائنات اس کی اور صرف اسی کی ہے آسمانوں کی سلطنت ہو یا زمین کی اصل حاکم تو دہی ہے زندگی بھی وہی بخشتا ہے اور موت بھی اسی سے اجازت پاکروارد ہوتی ہے ۔ اور لوگومت بھولو اسے چھوڑکریا اس کی اطاعت سے نکل کر تم تنہارہ جاؤگے نہ کوئی تمھارادوست ہی ہوگا اور نہ کوئی ایسا جو تھوڑی بہت بھی مددہی کرسکے ۔ وہ تو ایسا کریم ہے کہ اپنے نبی پر انعامات کی بارش کردی اور ان مہاجرین وانصار پر بھی جو ہر حال میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت پہ کمربستہ رہے ۔ درجات ومقامات قرب کی انتہا نہیں توبہ کا مفہوم صرف گناہ سے معافی نہیں جبکہ یہ ذات باری کی طرف منسوب ہو کہ اس نے توبہ قبول فرمائی تو مراد ترقی درجات ہوتی ہے جیسا کہ یہاں ارشاد ہے لقدتاب علی النبی یعنی اپنے نبی اور ان کے خدام مہاجرین وانصار کے درجات مسلسل بلند کرتا ہے اور جس طرح اس کی ذات لامحدود ہے اسی طرح مقامات قرب کی بھی حد نہیں اور سلوک کبھی ختم نہیں ہوتا نہ ہوگا آخرت میں بھی لذات و کیفیات کے اعتبار سے مسلسل ترقی ہوتی رہے گی ، اگرچہ مقامات کی ترقی کا انحصار دنیا کی عملی زندگی پر ہے ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے اللہ کا خاص سلوک کریمانہ ایسے جان فروش خادم جو ساعت عسرت میں بھی پیچھے نہ ہٹے یعنی انتہائی تنگی کے دنوں میں ، مرادغزوئہ تبوک ہے کہ قحط سخت گرمی لمباسفر اور ایک بہت بڑاطاقتور دشمن ۔ مگر انھوں نے کسی شے کی پرواہ نہ کی بلکہ بعض جو کسی قدر گھبرائے بھی منافقین کی باتوں نے انھیں الجھا بھی دیا اور قریب تھا کہ ان کے قلوب تباہ ہوجاتے بات بدل جاتی مگر اللہ نے ان پر اپنا دامن رحمت پھیلا دیا انھیں قوت بخشی کہ وہ درست فیصلہ کرسکیں کہ ان کے دلوں میں خلوص تھا تو اللہ نے شیطان اور منافقوں کی باتوں سے انھیں بچالیا اور جو لمحہ بھر وہ لڑ کھڑائے تھے اگرچہ یہ بھی انھیں زیبانہ تھا اور ان کی شان کے مطابق تو بہت بڑاجرم تھا دامن عفونے انھیں اس سے پاک کردیا اور اللہ نے یہ سب کچھ بخش دیا کہ وہ بطور خاص ان لوگوں سے تو مہربانی اور رحمت فرماتا ہے ۔ ذرا انہی تین کو دیکھ لوجو اس جہاد میں پیچھے رہ گئے ۔ یہ بات پہلے بھی اشارۃ ہوچکی ہے کہ کچھ مخلصین میں سے بھی سستی کرگئے اور جہاد پہ ہمرکاب نہ ہوسکے مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی واپسی پر حاضر خدمت ہو کر اقرار کرلیا کہ ہمارے خلوص میں کمی نہیں آئی سستی ہوگئی کچھ نے خود کو مسجد نبوی کے ستونوں سے باندھ لیا مگر تین حضرات حضرت کعب ابن مالک ، مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے کو ستونوں سے تو نہ باندھا مگر اقرار جرم کرلیا یہ انصاری بزرگ تھے اور بیعت عقبہ سے لے کر پہلے تمام غزوات تک میں شریک رہے تھے مگر اس بار ذرا سستی ہوگئی تو اس قدرناراضگی کا اظہار ہوا کہ اقرار جرم کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہارا معاملہ اللہ کے سپرد ہے لیکن جب تک کوئی حکم نازل نہیں ہوتا ان سے تمام مسلمان قطع تعلق کرلیں حالانکہ یہ شہور مجاہد اور مدینہ منورہ کی مشہور ہستیاں تھیں ۔ دوحضرات تو عمر رسید ہ تھے مگر کعب ابن مالک (رض) ہنوزجوان تھے اور بہت معروف آدمی تھے فرماتے ہیں سب مسلمانوں نے ہم سے رخ پھیرلیا اور سلام کا جواب بھی کوئی نہ دیتا تھا اس پر جب چالیس دن گزر گئے تو راشاد ہو ا کہ ان کی بیویاں بھی ان سے الگ ہوجائیں ۔ پوری دنیا میں تنہا ہوگئے اور زندگی ان کیلئے مصیبت بن گئی ۔ غسانی سردار نے جو کافر تھا اور قیصر کا دست رست تھا ، حضرت کعب بن مالک (رض) کو لکھا کہ میرے پاس آجاؤ تمہاری بہت عزت ہوگی ۔ آپ (رض) نے وہ چٹھی تنور میں جھونک دی کہ یہ اس کا جواب ہے مگر زندگی تلخ ہوگئی کہ کیا اب کافروں کو مجھ سے امیدیں بندھنے لگیں یعنی ان (رض) کی دنیا تاریک ہوگئی ۔ زمین اپنی فراخی مگر زندگی تلخ ہوگئی کہ کیا اب کافروں کو مجھ سے امیدیں بندھنے لگیں یعنی ان کی دنیا تاریک ہوگئی ۔ زمین اپنی فراخی سمیت ان پر تنگ ہوگئی اور انھیں اپنی زندگی بھی بوجھ نظر آنے لگی حتی کہ انھیں یقین ہوگیا کہ اللہ سے کوئی پناہ نہیں دے سکتا نہ اس کی دی ہوئی مصیبت کوئی دوسرا ٹال سکتا ہے ۔ جب وہ خود ہی اپنا رحم نہ فرمائے توا للہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی پچاس روز کے بعد یہ آیت نازل ہوئی جس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی خوش ہوئے ۔ حضرت کعب (رض) کو جن کا گھرجبل سلع سے دوسری جانب تھا ، خوشخبری دینے کو دوڑے ۔ سب سے آگے ابوبکر صدیق (رض) اور فاروق اعظم (رض) تھے ۔ حضرت عمر (رض) آگے نکل گئے تو حضرت ابوبکر (رض) نے جبل سلع پر چڑھ کر آوازلگا دی کہ اے کعب ! مبارک ہو۔ ذراہم یہاں اپنا کردار سامنے رکھ کرو دیکھیں کہ ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مشن میں کتنا ہاتھ بٹا رہے ہیں ۔ اور کتنے جہاد کر رہے ہیں کہ اللہ سے انعامات کے متمنی ہیں تو شاید اپنی حیثیت کا اندازہ کرسکیں گے ۔ چناچہ رب جلیل تو توبہ قبول کرنے والا ہے اور اتنی بڑی رحمت کا مالک ہے کہ انسان اس کی وسعتوں کا اندازہ کرنے کی سکست نہیں رکھتا ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 111 اشتری (خرید لیا) یقاتلون (وہ لڑتے ہیں، جہاد کرتے ہیں) یقتلون (وہ مارتے ہیں) یقتلون (وہ مارے جاتے ہیں) وعدا علیہ حفا (یہ اس کا سچا وعدہ ہے اس پر) اوفی (پورا کیا) بعھدہ (اپنا وعدہ) استبشروا (خوشیاں منائو) بیع (تجارت) بایعتم (جو تم نے بیچا، فروخت کیا) تشریح : آیت نمبر 111 اس آیت کا ایک مفہوم تو عام ہے کہ جو لوگ صاحب ایمان ہیں اور انہوں نے ایثار و قربانی کا وہ جذبہ پیش کیا کہ اپنی جانوں اور مالوں سے زیادہ دین اسلام کی سربلندی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اہمیت دے کر اپنا سب کچھ لٹا دیا تو گویا انہوں نے اپنی دنیا کے بدلے میں آخرت اور جنت کو خرید لیا ہے اللہ نے فرمایا کہ اس معاملہ پر اللہ کی طرف سے اعلان ہے کہ یہ ایک بہترین سودا ہے اور اس میں بہت بڑی کامیابی ہے اب اگر وہ اللہ کی راہ میں مارے جاتے ہیں یا دشمنوں کا صفایا کرتے ہیں دونوں صورتوں میں ان کو جنت کی ابدی راحتیں عطا کی جائیں گی۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ یہ اللہ کا وہ قانون ہے جس پر توریت اور انجیل بھی گواہ ہیں اور قرآن کریم کی آیات بھی گواہی دے رہی ہیں۔ اس آیت کا دوسرا مفہوم وہ ہے جس کو اکثر مفسرین نے تحریر فرمایا ہے کہ ان آیات کا تعلق ” بیعت اخری “ سے ہے۔ اصل میں منی کے قریب جمرہ عقبہ کے ساتھ جو پہاڑی سلسلہ ہے اس پر آپ نے صحابہ کرام سے تین مرتبہ بیعت لی ہے۔ (1) پہلی بیعت بعثت نبوی کے گیارہویں سال میں لی گئی جس میں چھ حضرات نے اسلام قبول فرمایا۔ (2) اس کے بعد موسم حج میں سات مسلمانوں نے اسلام قبول فرمایا۔ اس موقع پر وہ حضرات بھی موجود تھے جنہوں نے ایک سال پہلے اسلام قبول کیا تھا۔ (3) بعثت نبوی کے تیرہویں سال میں ستر مرد اور عورتیں اسی جگہ جمع ہوئے اور حلقہ بگوش اسلام ہوگئے کچھ ہی عرصہ میں مسلمانوں کی تعداد اتنی بڑھ چکی تھی کہ گھر گھر دین اسلام کا چرچہ ہونے لگا ۔ یہ وقت ایسا تھا جب کہ دین اسلام اور اس کے اصولوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ دشمنوں اور حاسدوں کی بدنگاہیوں اور سازشوں سے بچانے کے لئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حفاظت کی بھی ضرورت تھی اس موقع پر مدینہ کے ان حضرات نے دین کی حفاظت کے ساتھ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اپنی جانیں اور مال نچھاور کرنے کا عہد کیا جس پر بنی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے جاں نثاروں کو جنت کو ابدی راحتوں کی خوش خبری سنائی۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کی شرط کے ساتھ شرط قتال بھی رکھی ہے اگر یہ شرط نہ ہوتی پھر جان و مال خریدنے کی بات بےمعنی ہو کر رہ جاتی ہے۔ یہی وہ شرط خاص تھی جسے مدینہ والوں نے تسلیم کیا ہے۔ اگرچہ سورة توبہ مدنی ہے لیکن اس میں یہی ایک آیت مکی ہے۔ اگرچہ یہ آیت ایک خاص موقع پر نازل کی گئی ہے لیکن اس کا تعلق زمین و زمان کے تمام اہل ایمان ہے۔ ایمان کیا ہے ؟ یہی ناکہ اللہ کے کام میں جان و مال کھپا دینا اور اس کے انعامات میں جنت پانا۔ کہا گیا ہے کہ مومن وہ ہیں جو اللہ کی راہ میں قتال کرتے ہیں مارتے ہیں یا مر جاتے ہیں یعنی یا غازی بنتے ہیں یا شہید۔ ایمان کیا ہے ؟ یہی ناکہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نہ صرف اسلام برتیں گے بلکہ اپنی جان و مال سے اس طریق زندگی کی حفاظت اور تبلیغ کریں گے۔ مال اور جان انسان کی سب سے محبوب اور پسندیدہ چیزیں ہیں کو ن ہے جو ان کی قربانی پر کمر بستہ ہوجائے۔ انبیاء کرام اس کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہی وہ مطالبہ ہے کہ جس کو حضرت نوح ساڑھے نو سو سال تک کرتے رہے اور بہ مشکل مٹھی بھر نفوس مل سکے۔ یہ مطالبہ حضرت موسیٰ و حضرت عیسیٰ فرماتے رہے لیکن سوائے کچھ خوش نصیبوں کے کسی نے اس مطالبہ کو قابل اتفات نہ سمجھا۔ خود نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیرہ سال تک مکرمہ میں ایک ایک گھر جا کر دین اسلام کو پہنچایا لیکن دو سو نفوس سے زیادہ آپ کے اردگرد جمع نہ ہو سکے۔ مدینہ منورہ کے ابتدائی چند برسوں میں مسلمانوں کی تعداد کچھ بہت زیادہ نہ تھی لیکن جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دت رات کی کوششوں کے نتیجے میں ایک ایک شخص کے دل میں اسلام گھر کر گیا تو وہ وقت بھی آیا جب فوج در فوج جماعتوں کی جماعتیں حلقہ بگوش اسلام ہوگئیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت پاک سے یہ بات بالکل واضح ہو کر سامنے آجاتی ہے کہ اللہ کا دین پھیلانے کے لئے جب تک ہر طرح کی جانی و مالی قربانی نہ دی جائے اس وقت تک اس کا رنگ نکھر کر سامنے نہیں آتا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لئے ہر طرح کی قربانیاں پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ یعنی وہ بیع جہاد کرنا ہے خواہ اس میں قاتل ہونے کی نوبت آئے یا مقتول ہونے کی۔ 5۔ کیونکہ اس بیع پر تم کو حسب وعدہ مذکور جنت ملے گی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : منافق اور مخلص مسلمان کے کردار میں فرق۔ منافق کفرو نفاق چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتا جبکہ مخلص مسلمان اپنے رب کی رضا جوئی کے لیے اپنی جان کو ہتھیلی پر لیے پھرتا ہے۔ یہاں نہایت ہی اچھوتے انداز میں منافق اور مسلمان کے کردار کا موازنہ پیش کیا جارہا ہے۔ منافق دنیا کے لیے اپنا ایمان اور غیرت داؤ پر لگا دیتا ہے اس کے مقابلے میں مومن اپنے خالق ومالک کی رضا کی خاطر مال، عزت و اقبال، اقتدار اور اختیار یہاں تک کہ اپنی جان بھی قربان کردیتا ہے۔ مومن کے اسی کردار کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کی جانوں اور مالوں کے عوض جنت کا سودا کر رکھا ہے۔ مومن اس کے حصول کے لیے ہر چیز قربان کرنے اور بڑی سے بڑی دشمنی مول لینے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم پر اللہ کے دشمنوں کو قتل کرتے ہیں اور ان کے ہاتھوں شہید بھی ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے جہاد اور ایثار کے بدلے جنت دینے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ جس کا تذکرہ تورات، انجیل اور قرآن مجید میں پایا جاتا ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی اپنے وعدہ پورا کرنے والا نہیں ہے۔ لہٰذا اے مجاہدو اور مومنو ! اس سوداگری پر خوش ہوجاؤ۔ یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ دنیا میں اس کامیابی کا صلہ یہ ہے کہ اگر مسلمان کامیاب ہوں تو نہ صرف اللہ تعالیٰ کا دین سر بلند ہوتا ہے بلکہ مسلمانوں کی عزت و اقبال میں اضافہ اور انہیں کفار پر غلبہ اور اقتدار حاصل ہوتا ہے۔ آخرت میں غازیوں اور شہیدوں کو اس قدر اعلی مقام پر فائز کیا جائے گا کہ جنتی بھی ان کی طرف حسرت کی نگاہ سے دیکھا کریں گے امام قرطبی (رض) نے اپنی تفسیر میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ پر انصار کی بیعت عقبہ کا ذکر کرتے ہوئے نقل کیا ہے کہ جب انصار کا وفد حج کے موقع پر بیعت کررہا تھا۔ عقبہ پہاڑ کے حصہ کو کہا جاتا ہے یہاں عقبہ سے مراد منیٰ میں جمرہ عقبہ کے ساتھ پہاڑ کا وہ حصہ جہاں نبوت کے گیارہویں سال چھ آدمیوں نے بیعت کی تھی جیسے بیعت عقبہ کہا جاتا ہے۔ اس میں حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کی کہ اللہ کے رسول ہمیں اپنی بیعت کی شرائط بتلائیں آپ نے فرمایا اللہ کے لیے یہ عہد کرو کہ صرف اسی کی عبادت کرو گے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناؤ گے اور میری حفاظت اس طرح کرو گے جس طرح اپنے مال وجان کی کرتے ہو۔ ابن رواحہ نے عرض کی کہ اللہ کے رسول ہمیں اس کے بدلے میں کیا ملے گا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تمہیں اس کے بدلے اللہ جنت عطا فرمائے گا یہ سنتے ہی انصار نے بیک زبان ہو کر کہا کہ ہمیں یہ سودا منظور ہے ہم جیتے جی یہ بیع ٹوٹنے نہیں دیں گے۔ امام رازی (رض) نے یہاں ایک خاص نقطہ اٹھایا ہے۔ فرماتے ہیں کہ چیز وہ خریدی جاتی ہے جو خریدار کے پاس نہ ہو اللہ تعالیٰ تو ہر چیز کا خالق اور مالک ہے پھر خریداری کا کیا معنی ؟ امام محترم (رض) خود ہی اس کا جواب دیتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی ہے کہ مومن کو دی ہوئی چیز اس سے لیتے ہوئے بھی اس کا بدلہ عنایت کرتا ہے۔ (عَنْ اَنَسٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَا مِنْ اَحَدٍ ےَدْخُلُ الْجَنَّۃَ ےُحِبُّ اَنْ یَّرْجِعَ اِلَی الدُّنْےَا وَلَہٗ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَےْئٍ اِلَّا الشَّھِےْدُ ےَتَمَنّٰی اَنْ یَّرْجِعَ اِلَی الدُّنْےَا فَےُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا ےَرٰی مِنَ الْکَرَامَۃِ )[ رواہ مسلم : کتاب الامارۃ، باب فضل الشھادۃ فی سبیل اللّٰہ ] ” حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، جنت میں داخل ہونے کے بعد کوئی بھی شخص دوبارہ دنیا میں آنا پسند نہیں کرے گا۔ اگرچہ اسے دنیا کی تمام چیزیں بھی دی جائیں۔ مگر شہید آرزو کرے گا کہ وہ دنیا میں جائے اور دس بار شہید کیا جائے۔ کیونکہ وہ عزت و شرف دیکھ چکا ہوتا ہے۔ “ (أول ما یہراق من دم الشہید یغفر لہ ذنبہ کلہ إلا الدین )[ حدیث رقم : ٢٥٧٨، فی صحیح الجامع ] ” پہلے قطرہ خون سے شہید کے قرض کے سوا سب گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ “ (عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِیِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُوْلُ رِبَاطُ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ خَیْرٌ مِّنْ صِیَامِ شَہْرٍ وَّ قِیَامِہٖ وَاِنْ مَّاتَ جَرٰی عَلَیْہِ عَمَلُہٗ الَّذِیْ کَانَ یَعْمَلُہٗ وَاُجْرِیَ عَلَیْہِ رِزْقُہٗ وَاَمِنَ الْفَتَّانَ ) [ رواہ مسلم : باب فضل الرباط فی سبیل اللہ ] ” حضرت سلمان فارسی (رض) بیان کرتے ہیں میں نے نبی گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ آپ فرما رہے تھے اللہ کے راستے میں ایک دن اور رات کا پہرہ دینا ایک مہینہ کے روزوں اور قیام سے بہتر ہے اگر وہ فوت ہوجائے تو اس کا عمل برابر جاری رہتا ہے اسے رزق دیا جاتا ہے اور وہ قبر کے فتنہ سے محفوظ رہتا ہے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کے بدلے مومنوں کی جانوں اور مالوں کو خرید لیا ہے۔ ٢۔ اللہ کے ساتھ سودا کرنے والوں کو عظیم خوشخبری دی گئی ہے۔ ٣۔ انسان کی جان اور مال اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ ٤۔ اللہ کے راستے میں قتال کرنا اللہ تعالیٰ سے تجارت کرنا ہے۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ مومنین کی آزمائش کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن مجاہدین کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے وعدے : ١۔ مجاہدین کے ساتھ اللہ نے جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔ (التوبۃ : ١١١) ٢۔ مومنین میں سے مجاہد اور غیر مجاہد برابر نہیں ہوسکتے۔ (النساء : ٩٥) ٣۔ اللہ نے مجاہدین کو بیٹھنے والوں پر فضیلت دی ہے۔ (النساء : ٩٥) ٤۔ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے اللہ کی رحمت کے امید وار ہیں۔ (البقرۃ : ٢١٨) ٥۔ اللہ کی راہ میں مال و جان سے جہاد کرنے والوں کے لیے اچھائیاں اور کامیابی ہے۔ (التوبۃ : ٨٨) ٦۔ اللہ نے مجاہدین کے ساتھ بلند درجات کا وعدہ فرمایا ہے۔ (النساء : ٩٦) ٧۔ ایمان لانے والوں، ہجرت کرنے والوں اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے مغفرت اور رزق کریم ہے۔ (الانفال : ٧٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ان اللہ اشتری من المؤمنین انفسھم واموالھم بان لھم الجنۃ بلاشبہ اللہ نے مؤمنوں سے ان کی جانیں اور مال (اس وعدہ پر) خرید لئے ہیں کہ ان کیلئے (اس کے عوض) جنت ہے۔ جان و مال خرچ کرنے کے عوض عطائے جنت کو اللہ نے خرید وفروخت قرار دیا۔ اہل سیر نے لکھا ہے کہ سب سے پہلے جس نے رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کے دست مبارک پر اپنا ہاتھ مارا ‘ وہ براء بن معرور یا ابوالہثیم یا اسعد تھے اور یہ شرط کی کہ جس (مصیبت) سے وہ اپنے اہل و عیال کی حفاظت کریں گے ‘ اس سے رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کی بھی حفاظت کریں گے اور ہر گورے کالے (یعنی تمام انسانوں) کے مقابل آپ کی حمایت کریں گے۔ سب سے پہلے قتال و جہاد کے بارے میں یہی آیت نازل ہوئی ‘ اس کے بعد اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُوْنَ الخ۔ جب گھاٹی کی رات کو ان حضرات کی یہ بیعت ختم ہوگئی اور کفار قریش سے چھپا کر یہ بیعت ہوئی تھی تو اس کے بعد رسول اللہ نے اپنے ساتھیوں کو مکہ چھوڑ کر مدینہ کو چلے جانے کا حکم دے دیا اور خود مکہ میں ٹھہر کر (ا اللہ کی طرف سے) اجازت ملنے کا انتظار کرتے رہے۔ تیسری گھاٹی کی بیعت سے ایک سال پہلے حضرت ابو سلمہ بن عبدالاسد جو حبشہ سے آئے تھے اور مکہ والوں نے ان کو بڑی تکلیفیں دی تھیں ‘ جب ان کو انصار کے مسلمان ہوجانے کی اطلاع ملی تو مدینہ کو ہجرت کر گئے۔ آپ کا نمبر مدنی مہاجرین میں سب سے پہلا تھا ‘ پھر حضرت عامر بن ربیعہ اور ان کی بیوی لیلیٰ نے ہجرت کی ‘ پھر حضرت عبد اللہ بن حجش نے ‘ پھر پے در پے دوسرے مسلمانوں نے ‘ پھر حضرت عمر بن خطاب اور آپ کے بھائی زید نے اور بیس سواروں کے ساتھ عباس بن ربیعہ نے۔ ان سب نے (مدینہ میں پہنچ کر) حوالی مدینہ میں پڑاؤ کیا۔ پھر حضرت عثمان بن عفان نے ہجرت کی۔ حضرت ابوبکر صدیق نے بارہا حضور ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) سے ہجرت کی درخواست کی مگر حضور ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) فرماتے رہے : جلدی نہ کرو ‘ شاید اللہ کسی کو تمہارا ساتھی کر دے۔ خیال یہ تھا کہ شاید رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) بھی ان کے ساتھ ہی ہجرت کریں۔ اس کے بعد چوپال میں قریش کا اجتماع ہوا (اور رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کو شہید کردینے کی انہوں نے خفیہ سازش کی) سورة الانفال میں قریش کی سازش کا اور رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کے ہجرت کرنے کا بیان آچکا ہے ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مکی ہے۔ یقاتلون فی سبیل اللہ فیقتلون ویقتلون وہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں جس میں قتل کرتے ہیں اور قتل کئے جاتے ہیں۔ یہ کلام ابتدائی ہے ‘ اس میں خریدنے کی غرض کا اظہار کیا گیا ہے۔ بعض اہل تفسیر نے کہا کہ یقاتلون (اگرچہ مضارع کا صیغہ ہے مگر) امر کے معنی میں ہے (یعنی لڑو ‘ مارو اور مارے جاؤ) ۔ وعدا علیہ حقًا اللہ نے (اس) خرید پر (جنت دینے کا) سچا پکا وعدہ کرلیا ہے۔ علیہ کی ضمیر شرائ کی طرف لوٹ رہی ہے اور وعدًا فعل محذوف کا مفعول مطلق (برائے تاکید) ہے۔ حقًّا ‘ وعدًاکی صفت ہے یا یہ بھی فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے۔ فی التورٰۃ والانجیل والقران توریت اور انجیل اور قرآن میں۔ توریت و انجیل میں وعدہ کرنے کی صراحت بتا رہی ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کو بھی جہاد پر مامور کیا گیا تھا اور اس کے بدلہ میں ان سے جنت کا وعدہ کیا گیا تھا۔ ومن اوفٰی بعھدہ من اللہ اور اللہ سے بڑھ کر اپنے وعدہ کو پورا کرنے والا اور کون ہے ؟ (استفہام انکاری ہے) یعنی کوئی نہیں ہے۔ وعدہ کی خلاف ورزی بری ہے اور اللہ سے اس کا صدور ناممکن ہے۔ وعدہ کی وفا کرم ہے اور اللہ سے بڑھ کر کوئی کریم نہیں۔ نفی کو بصورت استفہام ذکر کرنے میں پرزور طور پر وفائے عہد کا اظہار کیا ہے اور تاکیدی طرز کلام کے ساتھ وعدۂ الٰہی کے حق ہونے کی صراحت ہے۔ فاستبشروا ببیعکم الذی بالعتم بہ پس تم لوگ اپنی اس بیع پر جس کا تم نے اللہ سے معاملہ ٹھہرایا ہے ‘ خوشی مناؤ۔ پس تم خوب خوش ہوجاؤ ‘ خوشیاں مناؤ۔ یہ جہاد کرنے والے مؤمنوں کو خطاب ہے۔ پہلے ان کا ذکر غائبانہ تھا ‘ اب مخاطب بنایا گیا۔ بشارت کی وجہ یہ ہے کہ زوال پذیر ‘ حقیر چیز کو دے کر انہوں نے لازوال ‘ اعلیٰ نعمت کو لے لیا۔ اس سے بڑھ کر فائدہ کا سودا اور کیا ہو سکتا ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا : اللہ نے تجھ سے خریدو فروخت کی اور دونوں سودوں کا فائدہ تیرے ہی لئے کردیا۔ قتادہ نے کہا : اللہ نے ان کو قیمت دی اور بہت زیادہ دی۔ حسن نے کہا : سنو فائدہ رساں تجارت کا پیام جس میں اللہ نے ہر مؤمن کے ساتھ خریدو فروخت کر کے اس کو فائدہ پہنچایا ہے۔ یہ بھی حسن بصری کا قول ہے کہ اللہ نے تجھے دنیا عطا کی ‘ تو کچھ دنیا دے کر جنت خرید لے۔ وذلک ھو الفوز العظیم۔ اور یہ (فروخت) ہی بڑی کامیابی ہے جس کا حصول انتہائی مقصد ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے جنت کے عوض ان کی جانوں اور مالوں کو خرید لیا ہے معالم التنزیل (ص ٣٢٩ ج ٢) اور ابن کثیر (ص ٣٩١ ج ٢) میں محمد بن کعب قرظی سے نقل کیا ہے کہ جب حضرات انصار لیلۃ العقبہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیعت کرنے لگے (جو ستر افراد تھے) تو عبداللہ بن رواحہ (رض) نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ اپنے رب کے لیے اور اپنے لیے جو چاہیں مشروط فرما لیں آپ نے فرمایا کہ میں اپنے رب کے لیے اس بات کو مشروط کرتا ہوں کہ اس کی عبادت کرو گے اور کسی چیز کو اس کا شریک نہیں بناؤ گے اور اپنے لیے یہ شرط لگاتا ہوں کہ تم میری اسی طرح حفاظت کرو گے جیسی اپنی جانوں اور مالوں کی حفاظت کرتے ہو۔ انہوں نے عرض کیا کہ ہم ان شرطوں کو پورا کریں گے تو ہمیں کیا ملے گا ؟ اس پر آپ نے فرمایا کہ تمہیں جنت ملے گی۔ کہنے لگے کہ یہ تو نفع کا سودا ہے ہم اس معاملہ کو فسخ نہیں کریں گے اس پر آیت شریفہ (اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی) آخر تک نازل ہوئی۔ اس آیت میں بتادیا کہ اللہ تعالیٰ نے مومنین کی جانوں اور مالوں کو جنت کے بدلہ میں خرید لیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے کہ جان اور مال سب کچھ اسی کا دیا ہوا ہے پھر بھی اس نے نام خریداری رکھ دیا۔ اگر وہ جان و مال خرچ کرنے کا حکم دیتا اور اس کی راہ میں مقتول ہوجانے پر کچھ بھی عطا نہ فرماتا تو اسے اس کا حق تھا۔ لیکن اس نے اپنی راہ میں جان و مال خرچ کرنے پر جنت عطا فرمانے کا وعدہ فرما لیا اور ذرا سی قربانی پر بہت بڑی جنت دینے کا وعدہ فرما دیا۔ یہ اعلان سچا ہے اور وعدہ پکا ہے۔ توریت، انجیل اور قرآن میں یہ وعدہ فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر وعدہ پورا کرنے والا کوئی نہیں ہے کیونکہ اس کا وعدہ سچا بھی ہے اور اسے ہر طرح کی قدرت بھی حاصل ہے۔ دنیا والے بعض مرتبہ وعدہ کرلیتے ہیں اور وعدہ سچا بھی ہوتا ہے لیکن قدرت نہ ہونے کی وجہ سے وعدہ پورا کرنے سے عاجز ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے۔ وہ وعدہ کے پورا کرنے سے عاجز نہیں۔ اللہ تعالیٰ سے جو معاملہ ہوا بندے اس پر خوشی منائیں۔ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ عطاء فرمایا تھا یعنی جان اور مال وہ اس کو اللہ کے لیے خرچ کرتے ہیں اپنا ذاتی کچھ نہیں سمجھتے جو کچھ خرچ کریں گے اس کے عوض انہیں جنت ملے گی۔ جنت کے سامنے اس معمولی سی قربانی کی کوئی حیثیت نہیں۔ دیا تھوڑا سا اور ملا بےحساب وہ بھی دائمی ابدالآباد کے لیے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ حضرت قتادہ نے فرمایا ثامنھم اللہ عزوجل فاغلی لھم کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں سے لین دین کا معاملہ کیا اور بہت زیادہ قیمتی چیز عطا فرمائی، حضرت حسن نے فرمایا کہ اسعوا الی بیعۃٍ ربیحۃٍ یعنی نفع والی بیع کی طرف دوڑو جس کا معاملہ اللہ نے ہر مومن سے کیا ہے۔ آیت کریمہ میں (فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ ) فرمایا کہ مومنین اللہ کی راہ میں قتال کرتے ہیں پھر کافروں کو قتل کرتے ہیں اور مقتول ہوجاتے ہیں۔ دونوں حالتیں مومن کے لیے خیر ہیں اور بعض مجاہدین کو دونوں ہی باتیں نصیب ہوجاتی ہیں اولاً کافروں کو قتل کرتے ہیں پھر خود مقتول ہوجاتے ہیں۔ سورة نساء میں فرمایا (وَ مَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیُقْتَلْ اَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیْہِ اَجْرًا عَظِیْمًا) (اور جو شخص اللہ کی راہ میں لڑے پھر وہ مقتول ہوجائے یا غالب ہوجائے تو ہم اسے عنقریب اجرعظیم عطا کریں گے) مومن کا قاتل ہونے میں بھی فائدہ ہے اور مقتول ہونے میں بھی۔ اگر مال غنیمت مل گیا تو وہ بھی خیر اس سے ثواب باطل نہیں ہوتا۔ جبکہ وہ مقصود نہ ہو۔ مقصود صرف اللہ کی رضا ہو۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے گھر سے نکلا اور اس کا یہ نکلنا (کسی دنیاوی مقصد کے لیے نہیں ہے) صرف اللہ کی رضا مندی کے لیے اور اللہ کے رسولوں کی تصدیق کرتے ہوئے نکلا ہے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی ضمانت ہے کہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا یا اس کو ثواب اور غنیمت کے مال کے ساتھ اس کے گھر واپس لوٹا دے گا جہاں سے وہ گیا تھا۔ (رواہ مالک فی المؤطا اول کتاب الجہاد) مطلب یہ ہے کہ اگر شہید ہوگیا تو اس شہادت کی وجہ سے مستحق جنت ہوگیا اور اگر زندہ واپس آگیا تب بھی نقصان میں نہیں۔ آخرت کا ثواب تو کہیں گیا ہی نہیں۔ اور بعض مرتبہ اس ثواب کے ساتھ مال غنیمت بھی مل جاتا ہے۔ و ھو فی صحیح البخاری (ص ٣٩١ ج ١) تو کل اللہ للمجاھد فی سبیلہ یتوفاہ أن یدخلہ الجنہ أو یرجعہ سالماً مع اجر و غنیمۃ۔ (صحیح بخاری میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجاہد فی سبیل اللہ کے لیے ضمانت دی ہے کہ یا تو اسے شہادت دے کر جنت میں داخل کرے گا یا وہ صحیح سالم واپس لوٹے گا تو اجر اور مال غنیمت کے ساتھ ہیں) فائدہ : جہاد کی فضیلت بتاتے ہوئے جو (وَعْدًا عَلَیْہِ حَقًّا فِی التَّوْرٰیۃِ وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِ ) فرمایا ہے اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی امت کے لیے بھی جہاد مشروع تھا۔ یہ جو مشہور ہے کہ شریعت عیسویہ میں جہاد نہیں تھا یہ ان لوگوں کی تحریف ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف اپنی نسبت کرتے ہیں اور اس نسبت میں جھوٹے ہیں۔ صاحب معالم التنزیل فرماتے ہیں۔ و فیہ دلیل علی أن أھل الملل کلھم امروا بالجھاد علی ثواب الجنۃ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

107:“ اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰي الخ ” یہاں سے لے کر “ وَ بَشِّرِ الْمُوْمِنیْنَ ” تک اللہ کی راہ میں مال و جان سے جہاد کرنیوالوں، اللہ کے احکام و حدود کی پابندی کرنے والوں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ بجا لانیوالوں کے لیے بشارت اخروی ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

1 1 1 بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی جانیں اور ان کے اموال اس قیمت پر اور اس بات کے عوض میں خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی اور جنت میں ان مسلمانوں کے لئے مخصوص ہے۔ وہ مسلمان اللہ تعالیٰ کی راہ میں جنگ کیا کرتے ہیں جس می کبھی دشمن کو قتل کرتے ہیں اور کبھی خود شہید کردیئے جاتے ہیں اس امر پر توریت اور انجیل میں اور قرآن کریم میں سچا وعدہ کیا جاچکا ہے اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر اپنے عہد کا پورا اور اپنے وعدے کا سچا کون ہوسکتا ہے۔ سو اے مسلمانو ! تم اس بیع مذکور پر جس کا تم نے اللہ سے معاملہ کیا ہے مسرت کا اظہار کرو اور خوشی منائو یہ جنت ملنے کا معاملہ بڑی کامیابی ہے۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں ان کے لئے یہ بشارت ہے پھر اس جہاد و قتال میں کبھی دشمن کو ہلاک کرتے ہیں اور کبھی خود کام آجاتے ہیں ایک طرف ان کی جان اور مال ہے دوسری طرف جنت ہے۔ اللہ تعالیٰ مشتری ہے اور مسلمان بائع ہیں۔ وعدے کی توثیق فرمائی گئی ہے۔ وعد اعلیہ حقا یعنی خدا کے ذمہ پر یہ وعدہ حق ہے یا یہ کہ اس معاملہ پر وعدہ سچا ہوچکا۔ چونکہ یہ معاملہ نفع کا ہے اس لئے اس پر خوشی منانے کا حکم دیا گیا جان اور مال جو بہرحال جانے والی چیزیں ہیں اس کے مقابلہ میں دائمی جنت کا مل جانا اس سے بڑی اور کیا کامیابی ہوسکتی ہے۔