Surat ut Tauba

Surah: 9

Verse: 23

سورة التوبة

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡۤا اٰبَآءَکُمۡ وَ اِخۡوَانَکُمۡ اَوۡلِیَآءَ اِنِ اسۡتَحَبُّوا الۡکُفۡرَ عَلَی الۡاِیۡمَانِ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۲۳﴾

O you who have believed, do not take your fathers or your brothers as allies if they have preferred disbelief over belief. And whoever does so among you - then it is those who are the wrongdoers.

اے ایمان والو! اپنے باپوں کو اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ بناؤ اگر وہ کفر کو ایمان سے زیادہ عزیز رکھیں ۔ تم میں سے جو بھی ان سے محبت رکھے گا وہ پورا گنہگار ظالم ہے

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Prohibition of taking the Idolators as Supporters, even with Relatives Allah says; يَا أَيُّهَا الَّذِينَ امَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ ابَاءكُمْ وَإِخْوَانَكُمْ أَوْلِيَاء إَنِ اسْتَحَبُّواْ الْكُفْرَ عَلَى الاِيمَانِ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَأُوْلَـيِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ O you who believe! Take not as supporters your fathers and your brothers if they prefer disbelief to belief. And whoever of you befriends them, then he is one of the wrongdoers. Allah commands shunning the disbelievers, even if they are one's parents or children, and prohibits taking them as supporters if they choose disbelief instead of faith. Allah warns, لااَّ تَجِدُ قَوْماً يُوْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الااٌّخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَأدَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُواْ ءَابَأءَهُمْ أَوْ أَبْنَأءَهُمْ أَوْ إِخْوَنَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُوْلَـيِكَ كَتَبَ فِى قُلُوبِهِمُ الااِيمَـنَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِّنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّـتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الااٌّنْهَـرُ You will not find any people who believe in Allah and the Last Day, making friendship with those who oppose Allah and His Messenger, even though they were their fathers or their sons or their brothers or their kindred (people). For such He has written (predetermined) faith in their hearts, and strengthened them with a Ruh (proof, light and true guidance) from Himself. And He will admit them to Gardens (Paradise) under which rivers flow. (58:22) Al-Hafiz Al-Bayhaqi recorded that Abdullah bin Shawdhab said, "The father of Abu Ubaydah bin Al-Jarrah was repeatedly praising the idols to his son on the day of Badr, and Abu Ubaydah kept avoiding him. When Al-Jarrah persisted, his son Abu Ubaydah headed towards him and killed him. Allah revealed this Ayah in his case, لااَّ تَجِدُ قَوْماً يُوْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الااٌّخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَأدَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ You will not find any people who believe in Allah and the Last Day, making friendship with those who oppose Allah and His Messenger." (58:22) Allah commanded His Messenger to warn those who prefer their family, relatives or tribe to Allah, His Messenger and Jihad in His cause,

ترک موالات و مودت کا حکم اللہ تعالیٰ کافروں سے ترک موالات کا حکم دیتا ہے ان کی دوستیوں سے روکتا ہے گوہ وہ ماں باپ ہوں بہت بھائی ہوں ۔ بشرطیکہ وہ کفر کو اسلام پر ترجیح دیں اور آیت میں ہے ( آیت لا تجد قوما یومنوں باللہ الخ ، ) اللہ پر اور قیامت پر ایمان لانے والوں کو تو ہرگز اللہ رسول کے دشمنوں سے دوستی کرنے والا نہیں پائے گا گو وہ ان کے باپ ہوں بیٹے یا بھائی ہوں یا رشتے دار ہوں یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں ایمان رکھ دیا گیا ہے اور اپنی خاص روح سے ان کی تائید فرمائی ہے ۔ انہیں نہروں والی جنت میں پہنچائے گا ۔ بیہقی میں ہے حضرت ابو عبیدبن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے باپ نے بدر والے دن ان کے سامنے اپنے بتوں کی تعریفیں شروع کیں آپ نے اسے ہر چند روکنا چاہا لیکن وہ بڑھتا ہی چلا گیا ۔ باپ بیٹوں میں جنگ شروع ہوگئی آپ نے اپنے باپ کو قتل کر دیا ۔ اس پر آیت لا تجد نازل ہوئی ۔ پھر ایسا کرنے والوں کو ڈراتا ہے اور فرماتا ہے کہ اگر وہ رشتے دار اپنے حاصل کئے ہوئے مال اور مندے ہو جانے کی دہشت کی تجارتیں اور پسندیدہ مکانات اگر تمہیں اللہ اور رسول سے اور جہاد سے بھی زیادہ مرغوب ہیں تو تمہیں اللہ کے عذاب کے برداشت کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ ایسے بدکاروں کو اللہ بھی راستہ نہیں دکھاتا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ساتھ جا رہے تھے حضرت عمر کا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تھا ۔ حضرت عمر کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے ہر چیز سے زیادہ عزیز ہیں بجز میری اپنی جان کے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میرا نفس ہے تم میں سے کوئی مومن نہ ہوگا جب تک کہ وہ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز نہ رکھے ۔ حضرت عمر نے فرمایا اللہ کی قسم اب آپ کی محبت مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ ہے ۔ آپ نے فرمایا اے عمر ( تو مومن ہو گیا ) ( بخاری شریف ) صحیح حدیث میں آپ کا فرمان ثابت ہے کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی ایماندار نہ ہوگا جب تک میں اسے اس کے ماں باپ سے اولاد اور دنیا کے کل لوگوں سے زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں مسند احمد اور ابو داؤد میں ہے آپ فرماتے ہیں جب تم عین کی خرید و فروخت کرنے لگو گے اور گائے بیل کی دمیں تھام لو گے اور جہاد چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت مسلط کرے گا وہ اس وقت تک دور نہ ہوگی جب تک کہ تم اپنے دین کی طرف نہ لوٹ آؤ ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

23۔ 1 یہ وہی مضمون ہے جو قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان کیا گیا ہے (چونکہ اس کی اہمیت واضح ہے اس لئے) اسے یہاں بھی بیان کیا گیا ہے یعنی جہاد و ہجرت میں تمہارے لئے تمہارے باپوں اور بھائیوں وغیرہ کی محبت آڑے نہ آئے، کیونکہ وہ ابھی تک کافر ہیں، تو پھر وہ تمہارے دوست ہو ہی نہیں سکتے، بلکہ وہ تمہارے دشمن ہیں اگر تم ان سے محبت کا تعلق رکھو گے تو یاد رکھو تم ظالم قرار پاؤ گے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢١] ایمان کی تکمیل کب ؟ :۔ یعنی ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اگر باپ یا بھائی کافر ہوں تو ان سے قرابت تو کیا رفاقت بھی نہ رکھی جائے اور اگر مومن یا مسلمان اس معیار پر پورا نہیں اترتا تو سمجھ لے کہ اس کا ایمان مکمل نہیں۔ اس مضمون کو کتاب و سنت میں متعدد مقامات پر مختلف پیرایوں میں بیان کیا گیا ہے چناچہ ایک دفعہ سیدنا عمر نے آپ سے کہا کہ آپ مجھے اپنی ذات کے سوا سب سے زیادہ محبوب ہیں تو آپ نے فرمایا && ابھی تمہارا ایمان مکمل نہیں ہوا۔ && پھر کسی وقت سیدنا عمر نے آپ سے کہا && اللہ کی قسم ! آپ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔ && آپ نے فرمایا && اب تمہارا ایمان مکمل ہوا۔ && (بخاری۔ کتاب الایمان والنذور۔ باب کیف کانت یمین النبی )

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْٓا اٰبَاۗءَكُمْ : یعنی بعض لوگ دل سے مسلمان ہیں لیکن برادری سے تعلق توڑ بھی نہیں سکتے کہ اپنے اسلام کا اعلان کردیں، ان کا حال یہاں سے سمجھو۔ ( موضح) مزید دیکھیے سورة مجادلہ (٢٢) ، سورة ممتحنہ (١ تا ٣) ، سورة آل عمران (٢٨، ١١٨) اور سورة مائدہ (٥١) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

These verses mention the merits of Hijrah and Jihad which require that one leaves his country, relatives, friends, companions, wealth and property, all in one stroke. As obvious, surrendering all these attach¬ments is most difficult and painful. Therefore, in the next verse (23), the text disapproves of limitless attachment with these things and thereby prepares Muslim minds to welcome Hijrah and Jihad. It was said: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا آبَاءَكُمْ وَإِخْوَانَكُمْ أَوْلِيَاءَ إِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ‌ عَلَى الْإِيمَانِ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ﴿٢٣﴾. 0 those who believe, do not take your fathers and your broth¬ers as friends, if they prefer infidelity over Faith. And whoev¬er from you has friendship with them, then such people are the wrongdoers. As for the need to maintain strong bonds of kinship with parents, brothers and sisters and other kinsfolk and to treat all of them gener¬ously, the Qur&an remains full of relevant instructions. But, this verse has made it very clear that each relationship has a limit. Every rela¬tionship out of these, whether that of parents and children or that of real brother and sister, has to be bypassed when it stands in competi¬tion with one&s relationship with Allah and His Messenger. Should these two relationships come on a collision course on some occasion, then, the relationship that has to be kept intact is one&s relationship with Allah and His Messenger. All relationships competing against it are to be ignored. Some special notes and rulings Some special notes and rulings emerging from verses 19 - 23 are be¬ing given below: 1. &Iman (faith) is the moving spirit of ` Amal (deed). A deed devoid of it, no matter how good, is nothing but a lifeless form, and simply un¬acceptable. It has no worth in terms of the salvation in the Hereafter. Of course, there is no injustice with Allah Ta` ala. He would not let even good deeds of disbelievers that are devoid of the essential light of faith go waste in toto. Their return is given to them right here in this world of their experience. They are given possessions and wealth to procure articles and means of comfort and self-satisfaction as desired. Thus, their account stands all settled, something the Holy Qur&an takes up in several verses of the Holy Qur&an. 2. Sin and disobedience spoil human reason. One starts taking good as bad and bad as good. The statement: وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ (And Al¬lah does not lead the wrongdoing people to the right path -19) releases a hint in this direction. Similarly, it has been counterbalanced in an-other verse of the Qur&an by saying: إِن تَتَّقُوا اللَّـهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْ‌قَانًا : |"0 those who believe, if you fear Allah, He will provide you with a criterion (to dis¬tinguish between right and wrong) - 8:29.|" This gives a clear indication that the attitude of obeying Allah and fearing Him gives polish and luster to human reason, balance and poise to thinking and a never-failing ability to distinguish between good and bad. 3. Even good deeds have a mutual rivalry for precedence. Corre¬spondingly, the same element of precedence operates in the ranks of those who do good deeds. All doers of deeds cannot be placed in the same rank since things depend, not on abundance, but on the quality of deeds. It was said in Surah al-Mulk: لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا (so that He might test you as to who among you is better in deed - 67:2). 4. For blessings to remain everlasting two things are necessary - that there is no end to them and that they are not separated from those who are blessed with them. Therefore, a guarantee was given to the favored servants of Allah on both counts. By saying: (Gardens having an everlasting bliss for them -21), it was declared that the blessings were eternal. Then, by saying: خالدین فیھآ ابداً (where they shall dwell forever -22), these successful people were assured that they shall never be separated from these blessings. The real bond is the bond of Islam and’ man - all bonds of lineage and country must be sacrificed for it 5. The fifth point elaborated here is of basic importance. It settles that the, relation with Allah and His Messenger should be given prece¬dence over all relations of kinship and friendship. The relation that clashes against it deserves to be broken. This was the way of the noble Companions. This was why they rose to be the superior most people of the Muslim Ummah. It was some trail they blazed by sacrificing all that was with them, their life, wealth, property, relatives and bonds of all sorts, only for the sake of Allah and His Messenger. That the bond of Islam was supreme and universal stood proved when Bill from Ethiopia, Suhayb from Byzantium, Salman from Persia, the Quraysh from Makkah and the Ansar from Madinah became brothers to each other. And that the bonds of lineage and tribe had to be cast aside was also demonstrated when, on the battlefields of Badr and &Uhud, swords were crossed between father and son and between brother and broth¬er. These are significant evidences of the creed they held dear. اَللِّھُمَّ اَرزُقنَا اِتِّبِاعَھُم وَاجعَل حّبُّکَ اَحَبَّ الاَشیَآِء اِلَینَا وَ خَشیَتَکَ اَخوَفَ & Ya Allah, bless us with the ability to follow them, and make Your love the dearest of everything in our sight and make Your fear the most fear-worthy of everything with us.

آیات مذکورہ میں ہجرت اور جہاد کے فضائل کا بیان آیا ہے، جن میں وطن اور اعزاء و اقارب اور احباب و اصحاب اور اموال و املاک سب کو چھوڑنا پڑتا ہے اور ظاہر ہے کہ انسان کی طبیعت پر یہ کام سب سے زیادہ شاق اور دشوار ہیں، اس لئے اگلی آیت میں ان چیزوں کے ساتھ حد سے زیادہ تعلق اور محبت کی مذمت فرما کر مسلمانوں کے ذہنوں کو ہجرت و جہاد کے لئے آمادہ کیا گیا ہے، ارشاد فرمایا (آیت) يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْٓا اٰبَاۗءَكُمْ وَاِخْوَانَكُمْ اَوْلِيَاۗءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَي الْاِيْمَانِ ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ ، “ یعنی اے ایمان والو تم اپنے باپ دادا اور بھائیوں کو رفیق مت بناؤ اگر وہ لوگ کفر کو بمقابلہ ایمان کے عزیز رکھیں اور تم میں سے جو شخص ان کے ساتھ باوجود ان کے کفر کے رفاقت رکھے گا سو ایسے لوگ بڑے نافرمان ہیں “۔ ماں باپ بھائی بہن اور تمام رشتہ داروں سے تعلق کو مضبوط رکھنے اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی ہدایات سے سارا قرآن بھرا ہوا ہے، مگر اس آیت میں یہ بتلادیا کہ ہر تعلق کی ایک حد ہے، ان میں سے ہر تعلق خواہ ماں باپ اور اولاد کا ہو، یا حقیقی بھائی بہن کا، اللہ اور اس کے رسول کے تعلق کے مقابلہ میں نظر انداز کرنے کے قابل ہے، جس موقع پر یہ دونوں رشتے ٹکرا جائیں، تو پھر رشتہ وتعلق اللہ و رسول کا ہی قائم رکھنا ہے، اس کے مقابلہ میں سارے تعلقات سے قطع نظر کرنا ہے۔ آیات مذکورہ کے متعلق چند فوائد اور مسائل : مذکورہ پانچ آیتوں سے چند فوائد اور مسائل حاصل ہوئے : اول یہ کہ ایمان روح عمل ہے، اس کے بغیر کیسا ہی اچھا عمل ہو وہ صرف صورت بےجان اور ناقابل قبول ہے، نجات آخرت میں اس کی کوئی قیمت نہیں، ہاں اللہ تعالیٰ کے یہاں بےانصافی نہیں کافروں کے ایسے بےروح اعمال حسنہ بھی بالکل ضائع نہیں کئے جاتے، ان کا بدلہ ان کو دنیا ہی میں آرام و عیش اور دولت ور احت دے کر بیباق کردیا جاتا ہے، جس کا بیان قرآن کریم کی متعدد آیات میں آیا ہے۔ دوسرا فائدہ ان آیات سے یہ حاصل ہوا کہ معصیت و نافرمانی سے انسان کی عقل بھی خراب ہوجاتی ہے اچھے کو برا اور برے کو اچھا سمجھنے لگتا ہے۔ انیسویں آیت کے آخر میں (آیت) وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ فرما کر اس طرف اشارہ کردیا ہے جیسا کہ اس کے بالمقابل ایک آیت میں (آیت) اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا فرما کر اس طرف اشارہ کردیا ہے کہ اطاعت وتقوی سے انسان کی عقل کو جلا ہوتی ہے، سلامت فکر نصیب ہوتی ہے، وہ اچھے برے کی تمیز میں غلطی نہیں کرتا۔ تیسرا مسئلہ یہ معلوم ہوا کہ نیک اعمال میں بھی باہمی تفاضل ہے اور اسی کی مناسبت سے عمل کرنے والوں کے درجات میں تفاضل قائم ہوتا ہے، سب عمل کرنے والے ایک درجہ میں نہیں رکھے جاسکتے اور مدار کثرت عمل پر نہیں بلکہ حسن عمل پر ہے، سورة ملک میں آیا ہے : (آیت) لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا، یعنی اللہ تعالیٰ تمہاری آزمائش کریں گے کہ کون زیادہ اچھا عمل کرنیوالا ہے۔ چوتھا فائدہ یہ حاصل ہوا کہ راحت و نعمت کے دائمی رہنے کے لئے دو چیزیں ضروری ہیں۔ ایک یہ کہ وہ نعمتیں کسی وقت ختم نہ ہوجائیں، دوسرے یہ کہ کسی وقت ان لوگوں کو ان نعمتوں سے جدا نہ کیا جائے، اس لئے اللہ کے مقبول بندوں کے لئے دونوں چیزوں کی ضمانت دے دیگئی نَعِيْمٌ مُّقِيْمٌ فرما کر نعمتوں کا دائمی ہونا بیان فرمایا اور خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا فرما کر ان لوگوں کو کبھی ان نعمتوں سے الگ نہ کرنے کا اطمینان دلا دیا۔ اصل رشتہ اسلام و ایمان کا رشتہ ہے نسبی و وطنی تعلقات سب اس پر قربان کرتے ہیں : پانچواں مسئلہ ایک بنیادی مسئلہ ہے کہ رشتہ داری اور دوستی کے سارے تعلقات پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تعلق مقدم ہے، جو تعلق اس سے ٹکرائے وہ توڑنے کے قابل ہے، صحابہ کرام کا وہ عمل جس کی وجہ سے وہ ساری امت سے افضل و اعلی قرار پائے یہی چیز تھی کہ انہوں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اپنی جان و مال اور ہر رشتہ وتعلق کو قربان کرکے زبان حال سے کہا تو نخل خوش ثمر کیستی کہ سرو و سمن ہمہ زخویش بریدند و با تو پیوستند بلال حبشی، صہیب رومی، سلمان فارسی اور قریش مکہ انصار مدینہ تو سب آپس میں بھائی بھائی ہوگئے، اور بدر و احد کے میدانوں میں باپ بیٹے، بھائی بھائی کی تلواریں آپس میں ٹکرا کر اس کی شہادت دی کہ ان کا مسلک یہ تھا کہ ہزار خویش کہ بیگانہ از خدا باشد فدائے یک تن بیگانہ کاشنا باشد اللھم ارزقنا اتباعھم واجعل حبک احب الاشیاء الینا و خشیتک اخوف الاشیاء عندنا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْٓا اٰبَاۗءَكُمْ وَاِخْوَانَكُمْ اَوْلِيَاۗءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَي الْاِيْمَانِ۝ ٠ ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّہُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ۝ ٢٣ أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم يقابلوه بالشکر ( اخ ذ) الاخذ الاتخاذ ( افتعال ) ہے اور یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوکر جعل کے جاری مجری ہوتا ہے جیسے فرمایا :۔ { لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ } ( سورة المائدة 51) یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔ { وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ } ( سورة الزمر 3) جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ۔ { فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا } ( سورة المؤمنون 110) تو تم نے اس تمسخر بنالیا ۔ { أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ } ( سورة المائدة 116) کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو ۔ اور آیت کریمہ : { وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ } ( سورة النحل 61) میں صیغہ مفاعلہ لاکر معنی مجازات اور مقابلہ پر تنبیہ کی ہے جو انعامات خدا کی طرف سے انہیں ملے ان کے مقابلہ میں انہوں نے شکر گذاری سے کام نہیں لیا ۔ أب الأب : الوالد، ويسمّى كلّ من کان سببا في إيجاد شيءٍ أو صلاحه أو ظهوره أبا، ولذلک يسمّى النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم أبا المؤمنین، قال اللہ تعالی: النَّبِيُّ أَوْلى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْواجُهُ أُمَّهاتُهُمْ [ الأحزاب/ 6] ( اب و ) الاب ۔ اس کے اصل معنی تو والد کے ہیں ( مجازا) ہر اس شخص کو جو کسی شے کی ایجاد ، ظہور یا اصلاح کا سبب ہوا سے ابوہ کہہ دیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ ۔ { النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ } [ الأحزاب : 6] میں آنحضرت کو مومنین کا باپ قرار دیا گیا ہے ۔ استحباب وحقیقة الاستحباب : أن يتحرّى الإنسان في الشیء أن يحبّه، واقتضی تعدیته ب ( علی) معنی الإيثار، وعلی هذا قوله تعالی: وَأَمَّا ثَمُودُ فَهَدَيْناهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمى عَلَى الْهُدى [ فصلت/ 17] میں ایسا معنی تلاش کرنے کے ہیں جس کی بناء پر اس سے محبت کی جائے مگر یہ ان علی ( صلہ ) کی وجہ سے اس میں ایثار اور ترجیح کے معنی پیدا ہوگئے ہیں اسی طرح آیت کریمہ : ۔ وَأَمَّا ثَمُودُ فَهَدَيْناهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمى عَلَى الْهُدى [ فصلت/ 17] کے معنی بھی یہ ہیں کہ انہوں نے اندھا پن کو ہدایت پہ ترجیح دی ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی سب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

دین میں رشتوں کی اہمیت قول باری ہے (یا ایھا الذین امنوا لا تتنخذوا اباء کم و اخوانکم اولیاء ان استحبوا الکفر علی الایمان۔ اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، اپنے باپوں اور بھائیوں کو بھی اپنا رفیق نہ بنائو اگر وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیں) آیت میں مسلمانوں کو کافروں سے دوستی کرنے، ان کی مدد کرنے، ان سے مدد حاصل کرنے اور اپنے معاملات ان کے حوالے کرنے سے روک دیا گیا ہے نیز ان سے بیزاری کا اظہار اور ان کی ترک تعظیم و تکریم واجب کردی گئی ہے۔ اس معاملے میں باپ بھائی سب یکساں حیثیت رکھت ہیں تاہم کافر باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور معروف طریقے سے وقت گزارنے کا حکم دیا گیا ہے چناچہ ارشاد باری ہے (ووصینا الانسان بوالدیہ۔ ہم نے انسان کو اس کے والدین کے بارے میں وصیت کی ہے) تا قول باری (وان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعھما و صاحبھما فی الدنیا معروفا اور اگر وہ تم پر دبائو ڈالیں کہ تم میرے ساتھ ایسی چیز کو شریک ٹھہرائو جس کی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں تو تم ان کا کہا نہ مانو اور دنیا میں ان کے ساتھ اچھے طریقے سے وقت گزارتے رہو۔ آیت زیر بحث میں مسلمانوں کو یہ حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ منافقین سے بالکل الگ اور جدا نظر آئیں کیونکہ منافقین جب کافروں سے ملتے تو ان کے ساتھ دوستی گانٹھتے اور ان کی تعظیم و تکریم کا اظہار کرتے نیز انہیں اپنی و رفاقت کا یقین دلاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے زیر بحث آیت میں جس چیز کا حکم دیا ہے اسے مسلمانوں اور منافقوں کے درمیان علامت اور فرق کا پیمانہ قرار دیا ہے اور ساتھ ہی یہ بتادیا ہے کہ جو شخص ایسا نہیں کرے گا وہ خود اپنا نقصان کرے گا اور اپنے رب کی طرف سے سزا کا مستحق قرار پائے گا۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٣) اور جو کافر رشتہ دار مکہ مکرمہ میں ہیں، اگر وہ کفر کو ایمان کے مقابلہ میں عزیز سمجھیں تو ان کو رفیق مت بناؤ اور جو ان کے ساتھ رفاقت رکھیں گے وہ ان ہی جیسے کافر ہیں۔ یا یہ کہ اے مومنوا اپنے ان مسلمان والدین اور بھائیوں کو جو مکہ مکرمہ میں ہیں اور تمہیں ہجرت سے روکتے ہیں، ان کو مدد میں اپنا رفیق مت بناؤ اگر وہ دار الکفر یعنی مکہ مکرمہ کو دار الاایمان یعنی مدینہ منورہ سے عزیز سمجھیں اور جو تم میں سے ان کے ساتھ رفاقت کرے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٣ (یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوْٓا اٰبَآءَ کُمْ وَاِخْوَانَکُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْکُفْرَ عَلَی الْاِیْمَانِ ط) اگر اب بھی تمہارے دلوں میں اپنے کافر اقرباء کے لیے محبت موجود ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پھر ایمان کے ساتھ تمہارا رشتہ مضبوط نہیں ہے۔ اللہ ‘ اس کے دین اور توحید کے لیے تمہارے جذبات میں غیرت وحمیت نہیں ہے۔ (وَمَنْ یَّتَوَلَّہُمْ مِّنْکُمْ فَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ ) اب وہ آیت آرہی ہے جو اس موضوع پر قرآن کریم کی اہم ترین آیت ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

17: اس کا مطلب یہ ہے کہ ان سے ایسے تعلقات نہ رکھو جو تمہارے لئے دینی فرائض کی ادائیگی میں رکاوٹ بن جائیں۔ جہاں تک اپنے ایمان اور دینی فرائض کا تحفظ کرتے ہوئے ان کے ساتھ حسن سلوک کا تعلق ہے، اس کو قرآنِ کریم نے مستحسن قراردیا ہے۔ (دیکھئے سورۂ لقمان ۳۱:۱۵اور سورۂ ممتحنہ ۶۰:۸)

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٣۔ اس آیت کی نشان نزول میں مفسروں نے اختلاف کیا ہے مجاہد کہتے ہیں کہ اس آیت کو اوپر کی آیتوں سے لگاؤ ہے عباس (رض) اور طلحہ (رض) کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی کہ جب یہ دونوں مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے سے رک گئے تو یہ فرمایا کہ تم لوگ جب ایمان لا چکے تھے تو تم کو اپنے باپ بھائی کے سبب سے ہجرت کو نہ چھوڑنا چاہئے تھا کیونکہ وہ رشتہ دار تو ایسے ہیں جو کفر پر جمے ہوئے ہیں اور ایمان کے مقابلہ میں کفر کو اچھا جانتے ہیں اس لئے جو کوئی ان کی رفاقت کریگا تو وہ ظالم ہے اور حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کا قول یہ ہے کہ اس میت کی شان نزول یوں ہے کہ جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنیکا حکم دیا تو ان کے بال بچوں نے قسمیں دلائیں اور کہنے لگے کہ کیا ہم کو اکیلا چھوڑے جاتے ہو اس لئے ان کے دل میں بھی الفت پیدا ہوگئی اور وہ لوگ مکہ میں رہ گئے اس پر یہ آیت اتری تفسیر مقاتل میں یہ ہے کہ وہ نو شخص جو مرتد ہو کر مدینہ سے مکہ چلے گئے تھے ان کے حق میں یہ آیت اتری جس میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو منع کیا کہ ان سے تعلق نہ رکھو حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے قول کے حوالہ سے جو شان نزول اوپر بیان کی گئی یہ قول حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کا تفسیر خازن وغیرہ میں ہے اور اسی شان نزول کی ایک روایت حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی معتبر سند سے ترمذی میں بھی ہے مگر اس روایت میں اس آیت کے نزول کا ذکر نہیں ہے بلکہ اس میں سورة تغابن کی آیت یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِکُمْ وَاَوْلَا دِکُمْ عد وَّلکُمْ فَاحُذَ روھُمْ کا ذکر ہے۔ رفع اس اختلاف کا یہ ہے کہ جن علماء نے ہجرت سے رک جانے والے لوگوں کی شان میں آیت کا نازل ہونا بیان کیا ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ ایسے لوگوں کی شان میں بھی میت کا مضمون صادق آسکتا ہے ورنہ یہ تو اوپر گذر چکا ہے کہ مکہ ٨ ھ؁ میں فتح ہوا اور فتح مکہ کے سال بھر کے بعد ٩ ھ؁ میں یہ ساری سورت نازل ہوئی اور اس سال آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر صدیق (رض) اور حضرت علی (رض) کو مکہ بھیجا کہ وہ اس سورت کی دس آیتیں مشرکین مکہ کو سنادیویں پھر فتح مکہ کے بعد ہجرت کی تاکید میں کوئی آیت کیونکر نازل ہوسکتی ہے کیونکہ صحیح بخاری وغیرہ کی حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی روایت میں یہ صاف آچکا ہے کہ فتح مکہ کے بعد مکہ سے ہجرت کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہی حاصل کلام یہ ہے کہ اس آیت کی شان نزول عام ہے اور اس میں سب ایمانداروں کو حکم ہے کہ وہ اپنے مخالف شریعت رشتہ داروں سے ایسی رفاقت نہ رکھیں جس سے ان ایمانداروں کے دین میں فتور پڑے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ (رض) اشعری کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے برے رفیق کی مثال کھال دھونکنے والے شخص کی فرمائی ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوسعید خدری (رض) کی حدیث بھی ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مخالف شریعت بات سے ولی نفرت کا رکھا یہ آدمی کے ضعیف ایمان کا ایک درجہ ہے ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ضعیف الایمان شخص کو بھی مخالف شریعت رشتہ داروں سے دلی نفرت کا رکھنا اور ان کی رفاقت سے بچنا ضروری ہے ورنہ کھال دھونکنے والے شخص کے رفیق پر ایک نہ ایک دن جس طرح آگ کی چنگاری اڑ کر آن پڑنے کا خوف ہے اسی طرح مخالف رشتہ داروں کی رفاقت سے ہر ایماندار آدمی کے دین کو ایک نہ ایک دن کچھ نہ کچھ ضرر پہنچنے کا خوف ہے ایسی رفاقت کے نباہنے والوں کو ظالم اس لئے فرمایا کہ انہوں نے اپنی جان پر ظلم کیا جو مخالف شریعت رشتہ داروں کی رفاقت سے اپنے آپ کو گنہگار بنایا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(9:23) لا تتخذو اولیائ۔ تم دوست مت بناؤ۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ اتخاذ (افتعال) سے۔ استحبوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ استحباب (استفعال) سے (اگر) وہ عزیز رکھیں۔ یتولہم۔ مضارع مجزوم واحد مذکر غائب۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب تولیٰ سے جو ان سے دوستی رکھے گا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 یعنی بعض لوگ دل سے مسلمان ہیں لیکن برادری سے تعلق توڑ بھی نہیں سکتے کہ اپنے اسلام کا اعلان کردیں ان کا حال یہاں سے سمجھو۔ ( از مو ضح )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 24 لاتنخذوا (تم نہ بنائو) ابآء کم (اپنے باپ داداکو) اخوانکم (تمہارے اپنے بھائیوں کو) اولیاء (دوست) ان استحبوا (اگر وہ پسند کریں) عشیرۃ (خاندانی، کنبہ والے ) افتر فتموا (تم نے اس کو کمایا) تخشون (تم ڈرتے ہو) کساد (تجارتی نقصان) مسکن (گھر) ترضون (تم پسند کرتے ہو) احب (زیادہ محبوب، پسندیدہ) تربصوا (انتظار کرو) حتی یاتی (یہاں تک کہ آجائے) تشریح : آیت نمبر 23 تا 24 یہ دو آیتیں گزشتہ مضامین کے پس منظر میں ایک خاص اہمیت رکھتی ہیں جن کے گہرے اثرات معاشرت، معیشت، تمدن و تہذیب، ملکی اور غیر ملکی اور صلح و جنگ وغیرہ سب پر پڑتے ہیں۔ (1) یہ آیتیں خونی اور ایمانی رشتوں کی سرحدوں کو متعین کردیتی ہیں۔ (2) یہ آیات بتاتی ہیں کہ نازک حالات میں کس پر اعتماد کیا جائے۔ ملکی اور خاندانی زندگی کی ذمہ داریاں کن لوگوں کے سپرد کی جائیں۔ (3) کہاں دھوکا ہو سکتا ہے اور کہاں نہیں ہو سکتا۔ رشتہ داروں، قربات والوں خصوصاً والدین، بھائی، بہن، بیوی اور بچوں کے حقوق کو صحیح طور پر ادا کرنے پر قرآن نے بہت زیادہ زور دیا ہے مگر آیت نمبر 23 میں بتا دیا گیا کہ ان رشتوں اور تعلقات کی ایک حد مقرر ہے۔ جہاں رشتہ داریاں اور خون کے تعلقات ایمان سے ٹکرا جائیں۔ وہاں ایمانی رشتہ ہی سب سے بڑھ کر رشتہ ہے۔ اس وقت وہی دوست ہے وہی ساتھی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔ اگر ایک طرف اللہ و رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فرماں برداری، فریضہ جہاد، اسلام کی بقاء و ترقی کا سوال ہوا اور دوسری طرف رشتہ داریوں کا خیال ہو، مال، تجارت، کھیتی باڑی، باغات اور محلات ہوں اور وہ سب کچھ ہو جس کے دام فریب میں زندگی پھنسائے رکھتی ہے تو اس وقت مومن کا رخ کس طرح ہوگا۔ خون کے رشتوں کی طرف اپنے وقتی مفادات کی طرف یا اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دین کی سچائیوں کی طرف۔ اس کا فیصلہ خود ہر شخص کو کرنا ہے اور اس کو اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقابلے میں یہ تعلقات اور رشتہ داریاں زیادہ عزیز ہیں تو ایسے لوگوں کو اللہ کی طرف سے آنے والے عذاب کا منتظر رہنا چاہئے۔ وہ کون سی چیزیں ہیں جو انسان کو اللہ، اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، جہاد اور ہجرت سے روکنے والی ہیں۔ رشتہ داروں کی محبت، مکان، دوکان، جائیداد، مال اور منصب۔ یہی وہ چیزیں ہیں جنہوں نے کلمہ پڑھنے والوں کو ہجرت مدینہ سے روکا مگر غزوہ بدر میں وہ عظیم خلوص بھی موجزن تھا کہ جہاں اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے بھائی بھائی اور باپ بیٹا آپس میں ٹکرا گئے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ مطلب یہ کہ برامانع ہجرت سے ان لوگوں کا تعلق ہے اور خوددہی جائز نہیں پھر ہجرت میں کیا دشواری ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جہاد کا حق تب ادا ہوسکتا ہے جب مومن اللہ ہی کے لیے محبت کرے اور اسی کی خاطر کسی سے دشمنی رکھے۔ قرآن مجید نے مختلف الفاظ اور انداز میں یہ بات بار بار باور کروائی گئی ہے کہ مسلمانوں کو کفار اور مشرکین کے ساتھ قلبی محبت نہیں رکھنی چاہیے۔ جس کا بدیہی تقاضا ہے کہ ایمان اور مسلمانوں کو ہر چیز سے مقدم سمجھا جائے یہی امت کو متحد اور منظم رکھنے کا آخری اور بنیادی اصول ہے۔ اس کے لیے حکم دیا گیا ہے کہ اے مسلمانو ! اگر تمہارے والدین اور بھائی ایمان پر کفر کو ترجیح دینے والے ہوں تو انھیں بھی اپنا رشتہ دار اور خیر خواہ مت سمجھو اگر تم نے اس حکم کے باوجود ان سے قلبی دوستی اور رشتے ناطے قائم رکھے تو پھر تم بھی ظالموں کے ساتھ شمار کیے جاؤ گے۔ مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر یہ بات سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے کہلوائی گئی ہے کہ آپ واشگاف اعلان فرمائیں کہ اے مسلمانو ! اگر تمہارے والدین، بیٹے، بھائی، تمہاری بیویاں، تمہارے رشتے دار اور جو مال تم کماتے ہو، تجارت جس کے نقصان سے تم ڈرتے ہو اور تمہارے مکانات جو تمہیں بہت پسند ہیں اللہ، اس کے رسول اور جہاد فی سبیل اللہ سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر اللہ کے حکم کا انتظار کرو۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایسے مسلمان نافرمان ہیں۔ جنکی وہ کبھی رہنمائی نہیں کرتا۔ مال عزت کا باعث اور زندگی گزارنے کا مستحکم ذریعہ ہے مال کی بڑھوتری کے لیے تجارت لازمی چیز

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اب اگلی آیات میں مسلمانوں کی سوچوں ، شعور اور باہمی روابط کو پاک وصاف کردیا جاتا ہے اس طرح کہ وہ دین رب العالمین کے لیے یکسو ہوجائیں چناچہ تمام رشتہ داریوں کی محبت ، ہر قسم کے مفادات اور تمام انسانی لذات اور خوشیوں کو ترازوں کے ایک پلڑے میں رکھا جاتا ہے اور اللہ ، رسول اللہ اور جہاد فی سبیل اللہ کو دوسرے پلڑے میں رکھا جاتا ہے اور مسلمانوں کو اختیار دیا جاتا ہے کہ آپ اب جو چاہیں ، پسند کرلیں۔ اسلامی نظریہ حیات بھی اس بات کو گوارا نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ قلب مومن میں کوئی شریک ہو ، یا تو ہم اپنے دل میں صرف اسلامی نظریہ حیات کو جگہ دیں گے اور یا پھر ہم اسے ترک کرکے دوسری محبتوں کو دل میں جگہ دیں۔ لیکن یہاں مطلوب یہ نہیں ہے کہ ایک مسلمان اپنے اہل و عیال ، اپنے خاندان ، اپنی بیوی خاندان ، اپنی بیوی خاوند ، اپنے مال و اولاد ، اپنے مال و اولاد ، اپنے کاروبار و سامان اور دنیاوی لذتوں سے قطع تعلق کرلے اور وہ رہبان اور تارک الدنیا بن جائے ، یہ ہر گز نہیں ہے ، لیکن اسلامی نظریہ حیات کا مطالبہ یہ ہے کہ ایک مسلمان اسلام کو عزیز و محبوب رکھے ، اس کے دل اور اس کی سوچ پر فکر جائے تو پھر ایسا مومن دنیا کی تمام سرگرمیوں میں شریک ہوسکتا ہے لیکن معیار یہ ہے کہ جب اسلامی انقلاب کا تقاضا ہو تو وہ اپنی تمام سرگرمیاں چھوڑ کر اس تقاضے کو پورا کرنے کے لیے اٹھ کھڑا ہو۔ ان دو پوزیشنوں میں کیا لائن ہے ، جو فرق و امتیاز کرتی ہے ؟ یہ کہ آپ کے دل و دماغ اور زندگی پر نظریہ چھایا ہوا ہے یاد دنیا کا ساز و سامان۔ آپ کا پہلا نعرہ اور پہلی گفتگو اسلام کے لیے ہے یا اس دنیا کے اغراض و مطالبات میں سے کسی غرض کے لیے ہے۔ جب ایک مومن مطمئن ہوجائے کہ اس کا دل اور اس کی سوچ پر اسلامی نظریہ حیات چھا گیا ہے تو اس کے بعد اس پر کوئی گرفت نہ ہوگی۔ اگر وہ بچوں ، بھائیوں ، بیوی خاوند ، خاندان اور مال و دولت اور سازوسامان لطف اندوز ہو اور زندگی کے تمام کاروبار میں شریک ہو ، وہ زیب وزینت بھی اختیار کرسکتا ہے اور اچھا کھا پی سکتا ہے ، بغیر اسراف کے اور بغیر تکبر کے۔ بلکہ ایسے حالات اور ایسے تصورات کے درمیان اس کے لیے یہ تلذذ اور متاع کا استعمال مستحب ہے۔ اس طرح کہ یہ بھی شکر الہی کا ایک رنگ ہوتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو یوں بھی نوازتا ہے جبکہ ان کا عقیدہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ رزق منعم اور وہاب ہے۔ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْٓا اٰبَاۗءَكُمْ وَاِخْوَانَكُمْ اَوْلِيَاۗءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَي الْاِيْمَانِ : " اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اپنے باپوں اور بھائیوں کو بھی اپنا رفیق نہ بناؤ، اگر وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیں " یوں خالص خون اور نسب کے رابطوں کو توڑ دیا جاتا ہے۔ اگر ایسے افراد کے درمیان نظریاتی روابط ٹوٹ جاتے ہیں ، اگر اللہ کی قرابت داری ختم ہوجائے تو خاندانی رشتے بھی ختم ہوجاتے ہیں۔ اصل دوستی اللہ کی ہے اور اللہ ہی کے نام پر پوری انسانیت جمع ہوسکتی ہے اور اگر نظریاتی اتحاد نہ ہو تو تمام اتحاد اور رابطے ٹوٹ جاتے ہیں۔ رسی ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتی ہے۔ وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ : " تم میں سے جو ان کو رفیق بنائیں گے وہی ظالم ہوں گے " یہاں ظالمون سے مراد ہے مشرکون۔ اگر قوم اور خاندان ایمان کے مقابلے میں کفر کو پسند کرتا ہو تو اس قوم اور خاندان کی دوستی کرنا کفر اور شرک ہے۔ یہ صورت حال ایمان کی کیفیات کے ساتھ لگا نہیں کھاتی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ کی محبت کے سامنے باپ، بھائی، بیوی، کنبہ، قبیلہ، مکان، دکان، آل اولاد کی کوئی حقیقت نہیں گزشتہ آیات میں جہاد اور ہجرت کی فضیلت بیان فرمائی۔ جب ہجرت کا حکم ہوا تھا اس وقت ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے اسلام تو قبول کرلیا لیکن ہجرت کرنے میں پس و پیش کرتے تھے اور ہجرت کی ہمت کرنے سے عاجز بنے ہوئے تھے۔ یہ آیات ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئیں۔ معالم التنزیل (ص ٢٧٦ ج ٢) میں حضرت ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے کہ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ منورہ کو ہجرت کرنے کا حکم فرمایا ( اور یہ وہ وقت تھا جبکہ مدینہ منورہ ہی دارالاسلام تھا اور مدینہ منورہ کو ہجرت کرنا فرض تھا) تو بعض لوگوں نے ہجرت کرنے کا ارادہ کیا اہل و عیال نے ان کو ہجرت کرنے سے روکا اور انہوں نے کہا کہ آپ ہمیں ضائع نہ کریں ان کی یہ بات سن کر ان پر ترس آگیا اور ہجرت کا ارادہ چھوڑ دیا اس پر اللہ تعالیٰ شانہٗ نے یہ آیت (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْٓا) (الآیۃ) نازل فرمائی۔ اس آیت میں مسلمانوں کو حکم دیا کہ تمہارے باپ اور بھائی اگر کفر کو ایمان پر ترجیح دیتے ہیں اور ایمان کے مقابلہ میں انہیں کفر محبوب ہے تو انہیں دوست نہ بناؤ کیونکہ وہ محبت اور دوستی کے لائق نہیں ہیں ان پر لازم ہے کہ وہ بھی ایمان قبول کرلیتے اور تمہارے ساتھ ہجرت کرتے اب وہ کافر ہیں اور تم مومن ہو، تمہارا دین تو قبول کرتے نہیں اور یوں کہتے ہیں کہ تم ہجرت کر کے جاؤ گے تو ہم ضائع ہوجائیں گے، جو لوگ اللہ کے فرمانبر دار نہیں بنتے حق کو قبول نہیں کرتے وہ اس قابل نہیں ہیں کہ ان سے دوستی کی جائے۔ وہ تو ایمان قبول کرنے کو تیار نہیں اور تم ان پر اتنے مہربان ہو رہے ہو کہ ان کی وجہ سے ہجرت (جو فرض ہے اور ایمان کا جزو ہے) نہیں کرتے وہ تو ایمان پر نہیں آتے اور تم ان کے لیے اپنا ایمان ضائع کر رہے ہو ! یہ تو تمہاری اپنی جانوں پر ظلم ہوا۔ اس آخری بات کو یوں بیان فرمایا (وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِّنْکُمْ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ ) (اور تم میں سے جو لوگ ان سے دوستی رکھیں تو وہ لوگ ہی ظلم کرنے والے ہیں) یعنی ان سے دوستی رکھنا جبکہ ان کو کفر محبوب ہے ظلم کی بات ہے اور یہ اپنی جانوں پر ظلم ہے۔ جب ایمان لے آئے اللہ کے ہوگئے تو اللہ کے حکموں کے سامنے کوئی تعلق اور کوئی رشتہ داری لائق توجہ نہیں جو اللہ کے احکام پر عمل کرنے سے روکے، مومن کا اپنا وہی ہے جو اللہ کا فرمانبر دار ہو جو اللہ کا نہیں ہے وہ ہمارا بھی نہیں ہے۔ بزار خویش کہ بیگانہ از خدا باشد فدائے یک تن بیگانہ کو آشنا باشد جب آیت بالا (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا) نازل ہوئی تو بعض وہ لوگ جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا اور ہجرت نہیں کی تھی کہنے لگے کہ اگر ہم ہجرت کرتے ہیں تو ہمارے مال ضائع ہوجائیں گے اور تجارتیں ختم ہوجائیں گی اور گھر ویران ہوجائیں گے اور رشتہ داریاں کٹ جائیں گی اس پر دوسری آیت (قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ ) (الآیۃ) نازل ہوئی۔ (معالم التنزیل ص ٢٧٧ ج ٢) جس میں واضح طور پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی یہ اعلان کروا دیا کہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بیویاں اور کنبہ اور تمہارے مال جو تم نے کما رکھے ہیں اور وہ تجارت جس میں تم مشغول ہو اور ہجرت کرنے کی وجہ سے اس کے نا کام ہونے کا تمہیں ڈر ہے اور رہنے کے گھر جنہیں تم پسند کرتے ہو اگر یہ چیزیں تمہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے کی نسبت زیادہ محبوب ہیں۔ تو تم اللہ کے حکم کا انتظار کرو۔ یہ دنیاوی چیزیں تمہیں ہجرت سے روک رہی ہیں یہ تمہارے لیے عذاب کا باعث ہیں یہ جو عذاب دنیا میں بھی آسکتا ہے اور آخرت میں تو بہرحال ترک ہجرت کرنے پر عذاب ہے ہی۔ اگر اس حالت میں مرگئے کہ ہجرت نہ کی جبکہ اس کے بغیر ایمان مقبول نہیں۔ قال صاحب الروح أی بعقوبتہ سبحانہ لکم عاجلا او اجلا علی ما روی عن الحسن (صاحب روح المعانی فرماتے ہیں یعنی اپنے اوپر اللہ کے غضب سے ڈرو جلدی آئے یا دیر سے۔ حضرت حسن سے جو مروی ہے اس کے مطابق یہی مطلب ہے) (ص ٧١ ج ١) سورۂ نساء (آیت ٥٨) میں ہجرت پر قدرت ہوتے ہوئے ہجرت نہ کرنے والوں کے لیے (فَاُولٰءِکَ مَاْوٰیھُمْ جَھَنَّمُ وَ سَآءَ تْ مَصِیْرًا) فرمایا ہے اللہ کی وعید پر نظر نہ رکھنا اور رشتہ داریوں اور تجارتوں اور گھروں کا دھیان رکھنا اور ان کی محبت میں جہاد اور ہجرت کو چھوڑ دینا یہ ایمان سے بھی دور ہے اور عقل سے بھی۔ آخر میں فرمایا (وَ اللّٰہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ ) اور جو لوگ فاسق ہیں اللہ کی فرمانبر داری نہیں کرتے کافروں سے دوستی رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت نہیں دے گا کہ وہ اپنی عقل سے کام لیں اور اپنے نفع اور ضرر کو سمجھیں۔ دنیا کو اللہ کی رضا کے مقابلہ میں جو ترجیح دی اس کی سزا میں ان کا یہ حال ہوا۔ فائدہ : ایمان قبول کرنے کے بعد ایمان کے تقاضے انسان کو شرعی احکام پر عمل کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ شرعی احکام میں بہت سی ایسی چیزیں آجاتی ہیں جو نفس پر گراں ہوتی ہیں ان میں سے ہجرت بھی ہے جہاد بھی ہے حرام مال کا چھوڑنا بھی ہے۔ شریعت کے مطابق اپنوں سے قطع تعلق کرنا بھی ہے اور بہت سے امور ہیں جو نفس کو نا گوار ہیں۔ جو لوگ یہ جانتے ہیں اور مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارا خالق ومالک ہے اور اس کا حق سب سے زیادہ ہے اور مال بھی اس نے دیا ہے اور رشتہ داریاں بھی اسی نے پیدا فرمائی ہیں انہیں اسلامی احکام پر عمل کرنے میں کچھ بھی دشواری نہیں ہوتی وہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت کو ہر چیز پر ترجیح دیتے ہیں۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کے اندر تین چیزیں ہوں گی ان کی وجہ سے وہ ایمان کی مٹھاس پالے گا۔ پہلا : وہ شخص جسے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوسری تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہوں۔ دوسرا : وہ شخص جو کسی بندہ سے صرف اللہ ہی کے لیے محبت کرے۔ تیسرا : وہ شخص جسے اللہ نے کفر سے بچا دیا وہ واپس کفر میں جانے کو ایسا ہی برا سمجھے جیسے آگ میں ڈالے جانے کو برا سمجھتا ہے۔ (رواہ البخاری ص ٧ ج ١) نیز حضرت انس (رض) سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہ ہوگا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔ (رواہ البخاری ص ٧ ج ١) ایمان کی مٹھاس سے یہ مراد ہے کہ طاعات اور عبادات میں لذت محسوس ہونے لگے اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رضا مندی حاصل کرنے کے لیے ہر طرح کی مشقتیں اور تکلیفیں برداشت کرنا آسان ہوجائے۔ فائدہ : محبت دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک محبت طبعی جس میں اختیار نہیں ہوتا اور دوسری محبت اختیاری یہ محبت عقلی ہوتی ہے اوپر جس محبت کا تذکرہ ہوا اس سے محبت اختیاری مراد ہے چونکہ غیر اختیاری امور کا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو مکلف نہیں بنایا (اور طبعی محبت اختیاری نہیں ہے) اس لیے اوامر شرعیہ میں محبت عقلی اور اختیاری ہی مراد ہے۔ اگر کسی شخص کے دل میں طبعی طور پر آل اولاد اور رشتہ داروں کی اور مال کی محبت ہو تو اس پر مواخذہ نہیں ہے بشرطیکہ یہ طبعی محبت عقلی اور اختیاری محبت پر غالب نہ آجائے۔ یعنی طبعی محبت اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکام کی خلاف ورزی پر آمادہ نہ کر دے۔ ایمانی تقاضوں کا پورا کرنا بعض مرتبہ آل اولاد، مال اور دکانداری کی محبت کی وجہ سے دشوار ہوجاتا ہے اور غیر اللہ کی محبت میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر لگ جاتے ہیں۔ بچوں کو خوش کرنے کے لیے تصویریں خرید دیں۔ گھر میں ٹیوی لے آئے انہیں غیر شرعی لباس پہنا دیا ان کی رواجی ضرورتیں پورا کرنے کے لیے رشوت لے لی۔ ان کے لیے زیادہ مال فراہم کرنے کی نیت سے سود لے لیا۔ حرام محکموں میں ملازمت کرلی یا کسی طرح کے گناہوں میں ملوث ہوگئے۔ دوستوں کو خوش کرنے کے لیے داڑھی مونڈ لی، نصرانی لباس پہن لیا حرام کمائی والے کی دعوت کھالی یہ ہوتا رہتا ہے۔ اور ایسے مواقع میں عقلی ایمانی محبت اور طبعی محبت میں مقابلہ کی صورت بن جاتی ہے۔ عموماً لوگ طبعی محبت سے مغلوب ہوجاتے ہیں اور ایمانی تقاضوں کو چھوڑ بیٹھتے ہیں۔ (اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ جِھَادٍ فِیْ سَبِیْلِہٖ ) کے عموم میں اس طرح کی سب باتیں آجاتی ہیں۔ بہت سے نیک بندوں کو ایمانیات کی محنتیں کرتے ہوئے اور جنت کا یقین رکھتے ہوئے اعمال صالحہ انجام دیتے ہوئے یہ مقام حاصل ہوجاتا ہے کہ طبعی محبت بھی اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی سے زیادہ ہوجاتی ہے۔ یہ مقام بہت مبارک ہے اور برتر وبالا ہے۔ زہے نصیب جسے حاصل ہوجائے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

18: یہ مانع ثالث کا جواب ہے۔ یعنی مشرکین سے جہاد کرنے میں یہ خیال ہر حائل نہ ہونا چاہئے کہ ان میں تمہارے قریبی اور عزیز ترین رشتہ دار موجود ہیں۔ یاد رکھو اگر تمہارے ماں باپ اور تمہارے بھائی اور دیگر اعزہ ایمان کے مقابلے میں کفر و شرک کو ترجیح دیتے اور پسند کرتے ہیں تو تم ان سے ہرگز دوستی نہ رکھو۔ ان سے محبت و شفقت کا رشتہ توڑ لو اور اللہ کے دین کو سربلند کرنے کیلئے ان سے جہاد کرو۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

23 ایمان والو اگر تمہارے باپ اور بھائی ایمان کے مقابلہ میں کفر کو پسند کریں تو ایسے باپ اور بھائیوں کو اپنا رفیق نہ بنائو اور جو لوگ تم میں سے ایسے باپ اور بھائیوں کے ساتھ رفاقت رکھیں گے تو ایسے ہی لوگ ظالم اور ناانصاف۔ بعض صحابہ (رض) ان تعلقات کی وجہ سے ہجرت نہ کرسکے اور ہجرت سے رک گئے ان کو تنبیہہ کی گئی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بعضے شخص دل سے مسلمان ہیں لیکن برادری سے توڑ نہیں سکتے کہ ظاہر مسلمان ہوجاویں ان کا حال یہاں سے سمجھو۔ 12