Background and detailed insights on Surat ul Balad (سورة البلد), a Meccan Surah of 20 verses meaning “The City”.
تعارف : اللہ تعالیٰ نے ” بلدامین “ یعنی مکہ مکرمہ جیسے محترم شہر کی، فتح مکہ کی خوش خبری کی، حضرت آدم (علیہ السلام) اور اولاد آدم (علیہ السلام) کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ انسان بےمقصد پیدا نہیں کیا گیا بلکہ اس کا مقصد زندگی اخلاق کی بلندیوں تک پہنچنے اور دنیا و آخرت میں کامیابیان حاصل کرنے کے لئے بےانتہا ایثار و قربانیوں اور محنت و مشقت سے کام لینا ہے۔ اسے نفسانی خواہشوں اور اخلاقی پستیوں کے لئے پید انہیں کیا گیا۔ اس میں شک نہیں کہ اخلاقی عظمتوں اور بلندیوں کو حاصل کرنا کسی پہاڑ کی وادیوں پر چڑھنے کا اور عزم و ہمت کا دوسرا نام ہے۔ ایک مشکل اور کٹھن راستہ ہے جس میں قدم قدم پر اپنی وقتی نفسانی خواہشات اور تمناؤں کا گلا گھونٹنا پڑتا ہے۔ یتیموں کے ساتھ حسن سلوک ، غلاموں کی دستگیری، ضرورت مندوں کی امداد و اعانت اور ان لوگوں سے ہمدردی کا معاملہ کرنا پڑتا ہے جنہیں حالات نے بری طرح کچل کر مٹی میں ملا دیا ہو۔ حق و صداقت کی سر بلندی کے لئے خود صبر کرتے ہوئے دوسروں کو صبر کی تلقین کرتا ہے۔ اللہ کی مخلوق و رحم و کرم کرتا ہے اور دوسروں کو اس پر آمادہ کرتا ہے۔ فرمایا کہ یہ کانٹوں بھراراستہ ضرور ہے مگر آخرت کی حقیقی کامیابی اور نجات کا دارومدار بھی اسی پر ہے۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جو اپنا مقصد زندگی بھلاکر اخلاقی گراوٹ اور کردار کی پستیوں کو زندگی سمجھ بیٹھے ہوں جو اپنی نفسانی لذتوں اور خواہشات کی دلدل میں پھنس گئے ہوں جن کے ہر کام میں دکھائوا، ریارکاری، منافقت، جھوٹ، دھوکہ دہی اور سستی شہرت حاصل کرنے کا جذبہ رچ بس گیا ہو ہر سچائی کو ٹھکرانا جن کا مزاج بن گیا وہ وہ دنیاوی اعتبار سے کتنے ہی بلند کیوں نہ ہوجائیں ان کی دنیا اور آخرت دونون برباد ہو کر رہتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں راستوں کا انجام وضاحت سے ارشاد فرمادیا ہے۔ اب یہ ہر شخص کا اپنا اختیار ہے کہ وہ اخلاق و کردار کی بلندی کو اختیار کرتا ہے یا اخلاق و کردار کی پستی اور گراوٹ کی طرف مائل ہوتا ہے۔ اسی بات کو سورة البلد میں بیان فرمایا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے۔ میں اس شہر (مکہ مکرمہ) کی قسم کھاتا ہوں جو آپ کے لئے (جنگ کے واسطے) حلال ہونے والا ہے۔ باپ اور بیٹے (حضرت آدم اور نسل انسانی) کی قسم کھاتا ہوں کہ ہم نے انسان کو محنت و مشقت کیلئے پیدا کیا ہے۔ کیا اس نے یہ سمجھ رکھا ہیے کہ اس کو دیکھنے والا کوئی نہیں ہے ۔ کہتا ہے میں نے (دنیا دکھاوے کیلئے) ڈھیروں مال خرچ کرڈالا ہے ( مجھ سے پوچھنے والا کوئی نہیں ہے) ۔ کیا وہ سمجھتا ہے کہ اس کو کسی نے نہیں دیکھا ؟ کیا ہم نے اس کو دو آنکھیں ، ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں دئیے ؟ اور اس کو ہدایت و گمراہی کے دونوں راستوں کے متعلق کھول کو بیان نہیں کیا ؟ مگر اس نے دشوار گزار اور کٹھن گھاٹی سے گزرنے کی ہمت نہ کی۔ کیا تمہیں معلوم ہے وہ دشوار ترین مشکل اور کٹھن گھاٹی کون سی ہے ؟ کسی کی گردن (غلامی یا قرض سے) چھڑا دینا، فاقے کے دن کسی قریبی اور رشتہ دار یتیم بچے کو یا اس کو جو حالات میں خاک نشین بن گیا ہو کھانا کھلانا ہے۔ مشکل گھاٹی یہ ہے کہ آدمی ان لوگوں میں شامل ہوجائے جو ایمان لائے۔ جنہوں نے ایک دوسرے کو صبر دلانے اور اللہ کی مخلوق پر رحم کرنے کی تلقین کی۔ جو ایسا کریں گے وہ آخرت میں داہنے ہاتھ والے یعنی نجات پانے والوں میں سے ہوں گے۔ لیکن جو لوگ ہماری آیتوں کا انکار کریں گے وہ بائیں ہاتھ والے ہیں یعنی جہنم میں ڈالے جانے والے۔ ایسی جہنم کی آگ جو ان پر چاروں طرف سے چھا جانے والی ہوگی۔
سورة البلد کا تعارف یہ مکی سورت ہے اس کا نام اس کی پہلی آیت کے آخر میں موجود ہے یہ بیس آیات پر مشتمل ہے جنہیں ایک رکوع شمار کیا گیا ہے یہ سورت مکہ معظمہ کے اس دور میں نازل ہوئی جب کفار مکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے تھے اس میں انسان کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس پر کوئی قابو پانے والا نہیں بالخصوص مال دار آدمی اپنی دولت کے خمار میں مبتلا ہو کر یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کوئی دیکھنے والا نہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اسے دو آنکھیں ایک زبان اور دو ہونٹ دیے ہیں اور اس کی رہنمائی کا انتظام فرمایا۔ لیکن بالخصوص بخیل آدمی ایسا نیکی کا کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر مال خرچ کرنا پڑے حالانکہ کامیابی کا راستہ یہ ہے کہ انسان بالخصوص غریبوں پر ترس کھائے اور ایک دوسرے کو صبر کرنے کی تلقین کرے جو لوگ یہ کردار اختیار کریں گے وہ قیامت کے دن دائیں بازو والے ہوں گے اور جو یہ کردار اختیار نہیں کریں گے وہ بائیں بازو والے ہوں گے اور ان پر جہنم کی آگ مسلط کردی جائے گی۔
سورة البلد ایک نظر میں یہ نہایت مختصر صورت ہے ، اس میں انسان کی زندگی سے متعلق حقائق کی بہت بڑی مقدار سمیٹ لی گئی ہے جن میں گہرے اشارات ، موج در موج امنڈتے چلے آرہے ہیں اور پردہ احساس کو حساس تر بنانے کے لئے چٹکیاں بھری جاتی ہیں۔ قرآن کے علاوہ کسی تحریر میں حقائق کی اس قدر تعداد اتنی مختصر عبارت میں نہ دیکھی گئی ہے اور نہ آئندہ دیکھی جائے گی۔ انداز بیان ایسا ہے کہ قلب ونظر کی تاروں کے اندر نہایت تیز اور گہرا ارتعاش پیدا کیا جاتا ہے۔ اس سورت کا آغاز ایک قسم سے ہوتا ہے اور یہ قسم ایک ایسی حقیقت پر اٹھائی گئی ہے جو حیات انسانی کی مسلم حقیقت ہے۔