Surat ul Balad
Surah: 90
Verse: 10
سورة البلد
وَ ہَدَیۡنٰہُ النَّجۡدَیۡنِ ﴿ۚ۱۰﴾
And have shown him the two ways?
ہم نے دکھا دیئے اس کو دونوں راستے ۔
وَ ہَدَیۡنٰہُ النَّجۡدَیۡنِ ﴿ۚ۱۰﴾
And have shown him the two ways?
ہم نے دکھا دیئے اس کو دونوں راستے ۔
And shown him the two ways, This refers to the two paths. Sufyan Ath-Thawri narrated from `Asim, from Zirr, from `Abdullah bin Mas`ud that he said, وَهَدَيْنَـهُ النَّجْدَينِ And shown him the two ways, "The good and the evil." Similar to this has been reported from `Ali, Ibn `Abbas, Mujahid, `Ikrimah, Abu Wa'il, Abu Salih, Muhammad bin Ka`b, Ad-Dahhak, and `Ata' Al-Khurasani among others. Similar to this Ayah is Allah's statement, إِنَّا خَلَقْنَا الاِنسَـنَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَـهُ سَمِيعاً بَصِيراً إِنَّا هَدَيْنَـهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِراً وَإِمَّا كَفُوراً Verily, We have created man from Nutfah Amshaj, in order to try him: so We made him hearer and seer. Verily, We showed him the way, whether he be grateful or ungrateful. (76:2-3)
10۔ 1 یعنی خیر کی بھی شر کی بھی اور ایمان کی بھی، سعادت کی بھی اور بدبختی کی بھی، جیسے فرمایا، بعض نے یہ ترجمہ کیا ہے، ہم نے انسان کی (ماں کے) دو پستانوں کی طرف رہنمائی کردی یعنی وہ عالم شیر خوارگی میں ان سے خوراک حاصل کرے لیکن پہلا مفہوم زیادہ صحیح ہے۔
[٨] اس آیت کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ ہم نے انسان کے پیدا ہوتے ہی اس کی ماں کی چھاتیوں کی طرف رہنمائی کردی تاکہ وہ نشوونما پاسکے۔ اعضائے انسانی کے ذکر کے لحاظ سے یہ مطلب بھی درست ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اسے بھلائی اور برائی کے دونوں راستے بتا دیے۔ اسی کا نام قوت تمیز اور عقل ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انبیاء بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر ان راہوں کی پوری وضاحت بھی کردی۔
وَہَدَيْنٰہُ النَّجْدَيْنِ ١٠ ۚ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] ، وقوله : وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ [ التغابن/ 11] الرّابع : الهداية في الآخرة إلى الجنّة المعنيّ بقوله : سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5] ، وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43]. ( ھ د ی ) الھدایتہ کے معنی لطف وکرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کیا ہے ۔ ( 1 ) وہ ہدایت ہے جو عقل وفطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے کی ہے اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمع مکلفین کا و شامل ہے بلکہ ہر جاندار کو حسب ضرورت اس سے بہرہ ملا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى[ طه/ 50] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کا اس کی ( خاص طرح کی ) بناوٹ عطا فرمائی پھر ( ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی ) راہ دکھائی ۔ ( 2 ) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ تجارت کی طرف دعوت دی ہے چناچہ ایت : ۔ وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا[ الأنبیاء/ 73] اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ( دین کے ) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ( لوگوں کو ) ہدایت کرتے تھے ۔ میں ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں ۔ ( 3 ) سوم بمعنی توفیق خاص ایا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] جو لوگ ، وبراہ ہیں قرآن کے سننے سے خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔ ۔ ( 4 ) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5]( بلکہ ) وہ انہیں ( منزل ) مقصود تک پہنچادے گا ۔ اور آیت وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43] میں فرمایا ۔ نجدین : مثنّى نجد، اسم بمعنی الطریق المرتفع وقصد به هنا طریق الخیر والشرّ ، وقیل هما الثدیان .. ووزن نجد فعل بفتح فسکون . نجد النَّجْد : المکانُ الغلیظُ الرّفيعُ ، وقوله تعالی: وَهَدَيْناهُ النَّجْدَيْنِ [ البلد/ 10] فذلک مثلٌ لطریقَيِ الحقِّ والباطلِ في الاعتقاد، والصّدق والکذب في المقال، والجمیل والقبیح في الفعال، وبيَّن أنه عرَّفهما کقوله : إِنَّا هَدَيْناهُ السَّبِيلَ الآية [ الإنسان/ 3] ، والنَّجْدُ : اسم صقع، وأَنْجَدَهُ : قَصَدَهُ ، ورجل نَجِدٌ ونَجِيدٌ ونَجْدٌ. أي : قويٌّ شدیدٌ بَيِّنُ النَّجدة، واسْتَنْجَدْتُهُ : طلبت نَجْدَتَهُ فَأَنْجَدَنِي . أي : أعانني بنَجْدَتِهِ. أي : شَجَاعته وقوّته، وربما قيل اسْتَنْجَدَ فلانٌ. أي : قَوِيَ ، وقیل للمکروب والمغلوب : مَنْجُودٌ ، كأنه ناله نَجْدَة . أي : شِدَّة، والنَّجْدُ : العَرَق، ونَجَدَهُ الدَّهر أي : قَوَّاه وشدَّده، وذلک بما رأى فيه من التّجرِبَة، ومنه قيل : فلان ابن نَجْدَةِ كَذَا ، والنِّجَادُ : ما يُرْفَعُ به البیت، والنَّجَّادُ : مُتَّخِذُهُ ، ونِجَادُ السَّيْف : ما يُرْفَع به من السَّيْر، والنَّاجُودُ : الرَّاوُوقُ ، وهو شيءٌ يُعَلَّقُ فيُصَفَّى به الشَّرَابُ. ( ن ج د ) النجد کے معنی بلند اور سخت جگہ کے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَهَدَيْناهُ النَّجْدَيْنِ [ البلد/ 10] اور اس کو ( خیر دشر کے ) دونوں رستے بھی دکھا دیئے میں نجد ین کا لفظ حق و باطل صدق وکزب اور حسن وقبیح قول وعمل کے لئے بطور مثال ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں راستے واضح کردیئے ہیں جسیے فرمایا : ۔ إِنَّا هَدَيْناهُ السَّبِيلَ الآية [ الإنسان/ 3] اور اسے رستہ بھی دکھایا ۔ النجد ( ایضا ) ایک علاقے کا نام ہے اور انجدہ کے معی نجد کا قصد کرنے کے ہیں اور رجل نجید ونجید ونجد کے معنی مشہور طاقت ور اور بہادر آدمی کے ہیں اور استنجدۃ فا نجدنی کے معنی ہیں میں نے اس سے فریاد کی تو اس نے بہادری اور قوت سے میری مدد کی اور کبھی استنجد فلان کے معنی قوی ہونا کے بھی آجاتے ہیں ۔ اور تکلیف ادہ اور مغلوب آدمی کو منجود کہا جاتا ہے گویا وہ نجد ۃ یعنی شدت میں گر فتار ہے ۔ النجد ( ایضا ) پسینہ مجد ہ الدھر کے معنی کسی کو قوی کردینے کے ہیں گویا وہ تجربہ حاصل کر کے قوی ہوگیا ۔ اسی سے فلان ابن نجد ۃ کذا کا محاورہ ہے یعنی وہ اس کام میں ماہر ہے ۔ النجادۃ مکان کی آراستگی کا سامان یہ نجد ) کی جمع ہے ۔ نجاد ۔ فرش سازو آنچہ بستر وبالین ودزور ۔ نجاد السیف تلوار لٹکانے کا پر تلہ ۔ النا جود ۔ شراب کرنے کی صافی راؤ دق ۔
آیت ١٠{ وَہَدَیْنٰـہُ النَّجْدَیْنِ ۔ } ” اور ہم نے اس کو راہ دکھلا دی دو گھاٹیوں کی۔ “ عام مفسرین کے نزدیک دو گھاٹیوں سے مراد نیکی اور بدی کے دو راستے ہیں۔ البتہ ایک رائے یہ بھی ہے کہ اس سے ماں کی دو چھاتیاں مراد ہیں۔ نجد کے لغوی معنی ابھری ہوئی چیز کے ہیں۔ بلند سطح پر جو راستہ ہو اس کو بھی نجد کہتے ہیں۔ چناچہ ” النَّجْدین “ کے معنی ” دو بلند (واضح ) راستے “ بھی ہوسکتے ہیں اور ” دواُبھار “ بھی۔ اور مجھے موخر الذکر رائے زیادہ پسند ہے۔ انسان کی زبان ‘ اس کے دو ہونٹوں اور پھر ماں کی چھاتیوں کے ذکر کے حوالے سے دراصل یہاں انسان کی اس جبلی اور پیدائشی ہدایت کا ذکر مقصود ہے جس کے بارے میں ہم سورة الاعلیٰ کی آیت { وَالَّذِیْ قَدَّرَ فَھَدٰی ۔ } میں پڑھ آئے ہیں۔ ظاہر ہے ایک بچہ اپنی پیدائش کے فوراً بعد نہ صرف ماں کے دودھ کی تلاش شروع کردیتا ہے بلکہ جونہی اس کی رسائی ماں کی چھاتیوں تک ہوتی ہے تو وہ دودھ چوسنے بھی لگتا ہے۔ اس نومولود کو آخر اپنی غذا کی تلاش کا یہ شعور کس نے دیا ہے ؟ اور اس مرحلے پر زبان اور ہونٹوں کے اس خاص استعمال کا طریقہ اسے کس نے سکھایا ہے ؟ ظاہر ہے یہ شعور ‘ یہ آگہی اور یہ ہدایت اس کی اس فطرت اور جبلت کا حصہ ہے جو اسے اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے اور اس اعتبار سے بچے کا یہ عمل اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
10 That is, "We have not left him alone after granting him the faculties of thinking and reasoning so that he may have to search out his own way, but We have also guided him and opened up before him both the highways of good and evil, virtue and vice, so that he may consider them seriously and choose and adopt one or the other way on his own responsibility. This same subject has been expressed in Surah Ad-Dahr: 2-3, thus: "Indeed We created man from a mixed sperm-drop, to try him, and so We made him capable of hearing and seeing. We showed him the way, whether to be grateful or disbelieving. " For explanation, see E.N.'s 3 to S of Ad-Dahr.
سورة الْبَلَد حاشیہ نمبر :10 یعنی ہم نے محض عقل و فکر کی طاقتیں عطا کر کے اسے چھوڑ نہیں دیا کہ اپنا راستہ خود تلاش کرے ، بلکہ اس کی رہنمائی بھی کی اور اس کے سامنے بھلائی اور برائی ، نیکی اور بدی کے دونوں راستے نمایاں کر کے رکھ دیے تاکہ وہ خوب سوچ سمجھ کر ان میں سے جس کو چاہے اپنی ذمہ داری پر اختیار کر لے ۔ یہ وہی بات ہے جو سورہ دھر میں فرمائی گئی ہے کہ ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا تاکہ اس کا امتحان لیں اور اس غرض کے لیے ہم نے اسے سننے اور دیکھنے والا بنایا ۔ ہم نے اسے راستہ دکھا دیا خواہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا ۔ ( آیات 2 ۔ 3 ) تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد ششم ، الدھر ، حواشی 3 تا 5 ۔
6: اِنسان کو اللہ تعالیٰ نے نیکی اور بدی کے دونوں راستے دِکھادئے ہیں، اور اختیار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے جو راستہ چاہو اِختیار کرسکتے ہو، لیکن بدی کا راستہ اختیار کروگے تو سزا ہوگی۔
(90:10) وھدینہ النجدین۔ واؤ عاطفہ۔ ھدینا ماضی جمع متکلم ھدایۃ (باب ضرب) مصدر۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ النجدین مفعول ثانی ھدینا کا۔ اور ہم نے اسے (حق و باطل کے) دونوں راستے دکھا دئیے۔ النجدین۔ اسم تثنیہ منصوب۔ دو روشن راستے۔ یعنی نیکی اور بدی کے راستے النجد۔ کے لغوی معنی بلند اور سخت جگہ کے ہیں۔
ف 1 اچھا راستہ ایمان کا اور برا راستہ کفر و شرک کا اچھا راستہ اس لئے بتایا گیا کہ اسے اختیار کرے اور برا راستہ اس لئے کہ اس سے بچے یہ بتلانا اجمالی وطر پر فطرت و عقل سے ہوا اور تفصیلی طور پر انبیاء (علیہم السلام) ہی زبان سے
وھدینہ النجدین (10:90) ” اور دونوں راستے اسے دکھائے “۔ کہ نیکی وبدی میں سے وہ جس راستے کو چاہے اختیار کرے۔ اس کو ایسی طاقت دی کہ وہ نیکی اور بدی میں سے جس کو چاہے ، اپنائے اور انسان کی تخلیق میں یہ دوہری قوت رکھی گئی اور یہی اللہ کی حکمت تخلیق تھی۔ پھر اللہ نے ہر چیز کو خلقت بخشی اور اس کائنات میں اس کے لئے اس کا فریضہ منصبی آسان کردیا۔ یہ آیت اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ انسان کی فطرت کیا ہے اور سورة شمس میں اس کی مزید وضاحت کی گئی ہے۔ ونفس وما سواھا ................................ دسھا (7:90 تا 10) ” قسم ہے نفس انسانی کی اور اس کی ساخت کی۔ اور پھر اسے بتایا کہ فجور کیا ہے اور تقویٰ کیا ہے۔ بیشک کامیاب ہوا وہ شخص جس نے نفس کو پاک کیا اور ناکام ہوا۔ وہ شخص جس نے اسے برباد کیا “۔ ان آیات میں نفس کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر بیان کیا گیا ہے۔ اس کی تفصیلات سورة شمس میں بیان کریں گے۔ یہ اللہ کی نعمتیں ہیں جو اللہ نے بنی نوع انسان کو عطا کی ہیں اور ہر انسان کے نفس میں یہ نعمتیں رکھ دی گئی ہیں ، ان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ہدایت قبول کرے ، اس کی آنکھوں کا یہ فرض ہے کہ یہ کائنات میں قدرت الٰہیہ کے دلائل مشاہدہ کریں اور اشارات ایمان تلاش کریں اور دلائل قدرت اور اشارات ایمان اس کائنات میں ہر طرف بکھرے پڑے ہیں۔ پھر انسان کی زبان اور اس کے ہونٹ کلام اور بیان کے ذرائع ہیں۔ اور ان دونوں کی وجہ سے انسان اس کرہ ارض پر بہت کچھ کرتا ہے ، بعض اوقات ایک لفظ توار اور بم کا کام کرتا ہے اور کبھی وہ اس کے تلفظ کرنے والے کو آگ میں گرادیا ہے۔ غرض یہ الفاظ ہی ہیں جو انسان کو اٹھاتے اور گراتے ہیں ، یعنی اس آگ میں : ” حضرت معاذ ابن جبل (رض) سے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں تھا۔ ایک دن میں آپ کے قریب آگیا اور ساتھ ساتھ چلنے لگا ۔ تو میں نے حضور اکرم سے پوچھا اے رسول خدا ! مجھے ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں پہنچا دے اور دوزخ سے بچائے۔ آپ نے فرمایا تو نے تو بہت بڑی بات پوچھی ، مگر یہ بڑی بات ان لوگوں کے لئے آسان ہے جن کے لئے اللہ آسان کردے۔ وہ یہ کہ تم اللہ کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ، نماز قائم کرو ، زکوٰة ادا کرو ، رمضان شریف کے روزے رکھو ، بیت اللہ کا حج کرو ۔ پھر آپ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں یہ نہ بتادوں کہ خیر کے دروازے کیا ہیں ؟ تو میں نے کہا ضرور۔ تو فرمایا : روزہ ڈھال ہے اور صدقہ گناہوں کو اس طرح مٹاتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھاتا ہے اور رات کے نصف آخر میں نماز نیک لوگوں کا شعار وعلامت ہے۔ اور آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : تتجافی ........................ المضاجع ” ان کے پہلو رات کو بستروں سے جدا ہوجاتے ہیں “۔ پھر فرمایا کیا میں تمہیں نہ بتاﺅں کہ اس معاملہ (دین) کا سرا کیا ہے ؟ اس کا ستون کیا ہے ؟ اور اس کی بلند ترین چوٹی کیا ہے ؟ تو حضرت معاذ (رض) نے کہا اللہ کے رسول ضرور بتائیے۔ تو فرمایا اس معاملے کا سرا اسلام ہے ، ستون نماز ہے ، اور بلند ترین چوٹی جہاد ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کیا میں تمہیں نہ بتاﺅں کہ ان سب چیزوں کا دارومدار کس چیز پر ہے تو میں نے کہا اللہ کے رسول ضرور بتائیے ، تو فرمایا اس پر (زبان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) قابو رکھو ، تو میں نے کہا ، اے رسول خدا جو کچھ ہم بولتے ہیں اس پر بھی ہم سے مواخذہ ہوگا ، آپ نے فرمایا : تمہاری ماں تمہیں روئے کہ لوگ اپنی زبان کی کاٹی ہوئی فصل کی وجہ سے منہ کے بل یا فرمایا ناک کے بل جہنم میں گرائے جاتے ہیں “۔ (احمد ، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ)
(10) اور ہم نے اس کو دونوں راستے اور دونوں راہیں دکھادیں اور بتلا دیں یعنی دیکھنے کو دو آنکھیں اور بولنے اور مانی الضمیر کو ظاہر کرنے کے لئے ایک زبان اور منہ کی خوبصورتی اور منہ کو بند رکھنے اور خارجی اثرات سے بچانے کے لئے دو ہونٹ نہیں بنائے۔ یہ تو ظاہری آراستگی اور برے بھلے کی تمیز کا سامان ہوا۔ پھر دونوں راہیں بتادیں یعنی خیر وشر، حق و باطل ہدایت و ضلالت کے دونوں راستے یا ماں کی دونوں چھاتیاں دودھ حاصل کرنے اور دودھد پینے کو نہیں بنائیں، کما قالہ ابن عباس (رض) حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی کفر اور ایمان یا دودھ کے دو پستان۔ خلاصہ : یہ کہ ان تمام باتوں کا تقاضا یہ تھا کہ انسان مضر چیزوں سے بچتا اور نفع دینے والی چیزوں کو اختیار کرتا مگر۔