Surat ul Balad

Surah: 90

Verse: 13

سورة البلد

فَکُّ رَقَبَۃٍ ﴿ۙ۱۳﴾

It is the freeing of a slave

کسی گردن ( غلام لونڈی ) کو آزاد کرنا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَكُّ رَقَبَۃٍ۝ ١٣ ۙ فكك الفَكَكُ : التّفریج، وفَكُّ الرّهن : تخلیصه، وفَكُّ الرّقبة : عتقها . وقوله : فَكُّ رَقَبَةٍ [ البلد/ 13] ، قيل : هو عتق المملوک وقیل : بل هو عتق الإنسان نفسه من عذاب اللہ بالکلم الطيّب والعمل الصّالح، وفكّ غيره بما يفيده من ذلك، والثاني يحصل للإنسان بعد حصول الأوّل، فإنّ من لم يهتد فلیس في قوّته أن يهدي كما بيّنت في ( مکارم الشّريعة) والفَكَكُ : انفراج المنکب عن مفصله ضعفا، والْفَكَّانِ : ملتقی الشّدقین . وقوله : لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنْفَكِّينَ [ البینة/ 1] ، أي : لم يکونوا متفرّقين بل کانوا کلّهم علی الضّلال، کقوله : كانَ النَّاسُ أُمَّةً واحِدَةً ... الآية [ البقرة/ 213] ، و ( ما انْفَكَّ ) يفعل کذا، نحو : ما زال يفعل کذا . ( ف ک ک ) الفک : اس کے اصل معنی جدا کردینے کے ہیں جیسے فک الرھن گردی چیز کو چھڑانا فک الرقبۃ گردن کا آزاد کرنا ۔ اور آیت کریمہ : فَكُّ رَقَبَةٍ [ البلد/ 13] کسی کی گردن کا چھڑانا ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ غلام کو آزاد کرانا مراد ہے اور بعض نے کہا ہے ک کلمات طیبہ اور اعمال صالحہ کے ذریعہ انسان کا اپنے آپ اور دوسرے کو عذاب الہی سے آزاد کرانا مراد ہے ۔ لیکن دوسروں کو جھبی آزاد کراسکتا ہے ہے جب پہلے اپنے آپ کو رہا کروالے ورنہ جو شخص خود ہدایت یافتہ نہیں ہے وہ دوسری کو کب ہدایت کرسکتا ہے جیسا کہ ہم اپنی کتاب ، ، مکارم الشریعہ میں اس کی وضاحت کرچکے ہیں : الفکک کے معنی کمزوری کی وجہ سے شانہ کے اپنی جگہ سے ہٹ جانے کے ہیں ۔ اور دونوں جبڑوں کے ملنے کی جگہ کو فکان کہاجاتا ہے اور آیت کریمہ : لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنْفَكِّينَ [ البینة/ 1] جو لوگ کافر ہیں ( یعنی اہل کتاب اور مشرک وہ کفر سے باز آنے والے نہ تھے ۔ میں منفکین کے معنی یہ ہیں کہ ( البی نہ کے آنے تک ان میں اختلاف نہیں تھا بلکہ سب گمراہی پر متفق تھے ۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا : كانَ النَّاسُ أُمَّةً واحِدَةً ... الآية [ البقرة/ 213]( پہلے تو سب ) لوگوں کا ایک ہی مذہب تھا ۔ وہ برابر ایسے کرتا رہا ۔ رقب الرَّقَبَةُ : اسم للعضو المعروف، ثمّ يعبّر بها عن الجملة، وجعل في التّعارف اسما للمماليك، كما عبّر بالرّأس وبالظّهر عنالمرکوب ، فقیل : فلان يربط کذا رأسا، وکذا ظهرا، قال تعالی: وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِناً خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ [ النساء/ 92] ، وقال : وَفِي الرِّقابِ [ البقرة/ 177] ، أي : المکاتبین منهم، فهم الذین تصرف إليهم الزکاة . ورَقَبْتُهُ : أصبت رقبته، ورَقَبْتُهُ : حفظته . ( ر ق ب ) الرقبۃ اصل میں گردن کو کہتے ہیں پھر رقبۃ کا لفظ بول کر مجازا انسان مراد لیا جاتا ہے اور عرف عام میں الرقبۃ غلام کے معنوں میں استعمال ہونے لگا ہے جیسا کہ لفظ راس اور ظھر بول کر مجازا سواری مراد لی جاتی ہے ۔ چناچہ محاورہ ہے :۔ یعنی فلاں کے پاس اتنی سواریاں میں ۔ قرآن ہیں ہے : وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِناً خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ [ النساء/ 92] کہ جو مسلمان کو غلطی سے ( بھی ) مار ڈالے تو ایک مسلمان بردہ آزاد کرائے۔ اور رقبۃ کی جمع رقاب آتی ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ وَفِي الرِّقابِ [ البقرة/ 177] اور غلام کو آزاد کرنے میں ۔ مراد مکاتب غلام ہیں ۔ کیونکہ مال زکوۃ کے وہی مستحق ہوتے ہیں اور رقبتہ ( ن ) کے معنی گردن پر مارنے یا کسی کی حفاظت کرنے کے ہیں ۔ جیسے فرمایا : لا يَرْقُبُونَ فِي مُؤْمِنٍ إِلًّا وَلا ذِمَّةً [ التوبة/ 10] کسی مسلمان کے بارے میں نہ تو قرابت کا پاس ملحوظ رکھتے ہیں اور نہ ہی عہد و پیمان کا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

مکاتب کو صدقات سے مال دینا قول باری ہے (فک رقبۃ ۔ کسی گردن کو غلامی سے چھڑانا) مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک شخص نے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا عمل سکھا دیجئے جو مجھے جنت میں لے جائے۔ آپ نے فرمایا (اعتق النسمۃ وفک الرقبۃ۔ جان کو آزاد کرو اور گردن چھڑائو) ۔ اس شخص نے عرض کیا۔ اللہ کے رسول ! کیا یہ دونوں باتیں ایک نہیں ہیں ؟ “ آپ نے فرمایا (لا عتق النسمۃ ان تنفرد بعتقھا وفک الرقیۃ ان تعین فی ثمنھا۔ نہیں یہ دونوں باتیں ایک نہیں ہیں۔ جان آزاد کرنا یہ ہے کہ تم تنہا کسی کو آزاد کردو اور گردن چھڑانا یہ ہے کہ تم اس کی قیمت کی ادائیگی میں مدد کرو۔ ) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت مکاتب کو صدقات میں سے دینے کے جواز کی مقتضی ہے کیونکہ یہ بات اس کی قیمت کی ادائیگی میں مدد کی صورت ہے۔ اس کی مثال وہ قول باری ہے جو صدقات کے سلسلے میں مذکور ہے یعنی (وفی الرقاب اور گردنوں کو چھڑانے میں) ۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٣{ فَکُّ رَقَـبَۃٍ ۔ } ” کسی گردن کا چھڑا دینا۔ “ یعنی مال خرچ کر کے کسی غلام کو آزاد کرا دینا ‘ یا کسی مقروض کا قرض ادا کردینا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(90:13) فک رقبۃ۔ ای ہی فک رقبۃ۔ فک (باب نصر سے) مصدر ہے بمعنی چھڑا دینا۔ آزاد کرنا۔ مضاف۔ رقبۃ مضاف الیہ۔ کسی گردن کا آزاد کرنا۔ غلام کو آزاد کرنا۔ یا قیمت دے کر آزاد کرانا۔ رقبۃ۔ گردن۔ غلام۔ باندی۔ اس کے اصل معنی گردن کے ہیں پھر اس کو بول کر انسان مراد لیا جانے لگا۔ پھر عرف عام میں غلام کا نام پڑگیا۔ جیسا کہ رأس اور ظھر بول کر مرکوب (جس پر سواری کی جائے) اور سواری مراد لی جاتی ہے۔ مطلب یہ کہ عقبۃ غلام آزاد کرانے کو کہتے ہیں۔ غلام آزاد کرنا۔ یتیم اور مسکین کو کھانا کھلانا۔ عقبۃ کی تفسیر ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 یعنی غلام آزاد کرنا یا کسی قرضدار کی گردن قرض سے آزاد کرانا۔ احادیث میں گردن آزاد کرنے کی فضیلت مذکور ہے۔ (فتح القدر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

ایمان قبول کرنے کے بعد بہت سے تقاضے پورے کرنا لازم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے پر بھی نفس کو آمادہ کرنا پڑتا ہے اور مخلوق کے بھی حقوق ادا کرنے ہوتے ہیں ان میں حقوق واجبہ بھی ہوتے ہیں اور مستحب چیزیں بھی ہوتی ہیں۔ اس بارے میں فرمایا کہ انسان اس گھاٹی سے کیوں نہ گزرا جس میں نفس پر قابو پایا جاتا ہے پھر تفخیم شان کے لیے فرمایا کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ کیا گھاٹی ہے ؟ پھر بطور مثال تین چیزیں ذکر فرمائیں : 1 ﴿ فَكُّ رَقَبَةٍۙ٠٠١٣﴾ (گردن کا چھڑانا) یعنی اللہ کی رضا کے لیے غلام اور باندی کا آزاد کرنا یہ آزاد کرنا کفارات واجبہ میں بھی ہوتا ہے اور مستحب بھی ہوتا ہے جس میں ایک صورت مکاتب بنانے کی ہے اور دوسری صورت مدبر کرنے کی بھی ہے۔ ان مسائل کو کتب فقہ میں کتاب العتاق کا مطالعہ کرنے سے یا کسی عالم سے معلوم کرنے سے سمجھا جاسکتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی نے مسلمان شخص کو آزاد کردیا اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے عوض آزاد کرنے والے کو دوزخ کی آگ سے آزاد فرما دے گا یہاں تک کہ اس کی شرمگاہ کو بھی دوزخ سے بچا دے گا۔ حضرت براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ ایک اعرابی (دیہات کا رہنے والا) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کیا کہ آپ مجھے ایسا عمل بتادیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے، آپ نے فرمایا : ( اعتق النسمة وفک الرقبة) سائل نے کہا : کیا دونوں کا ایک ہی مطلب نہیں ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں عتق نسمة یہ ہے کہ قیمت میں مدد کرے (مثلاً کسی مکاتب غلام کی قسطوں کی ادائیگی میں مدد کر دے) اور اعمال جنت میں سے یہ بھی ہے کہ تو کسی کو خوب دودھ دینے والے جانور ہبہ کر دے اور یہ کہ تو کسی ظالم رشتہ دار پر بھلائی کے ساتھ توجہ کرے اگر یہ نہ کرسکتا ہو تو بھوکے کو کھانا کھلا اور پیاسے کو پانی پلا اور اچھے کاموں کا حکم کر اور برے کاموں سے روک دے، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان کو اچھی باتوں کے علاوہ دوسری باتوں سے روکے ركھ۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان کما فی المشکوٰۃ صفحہ ٢٩٤) 2 بھوک کے دن میں کسی یتیم رشتہ دار کو کھانا کھلائے۔ 3 مسکین کو کھانا کھلانا جو مٹی والا ہے یعنی ایسا مسکین ہے کہ اس کے پاس اپنی جان کے سوا کچھ نہیں ہے زمین میں اپنی جان کو لگائے ہوئے ہے ایسے مسکین کو کھانا کھلانا بھی ایمان کے تقاضوں میں سے ہے اور بڑے ثواب کا کام ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

7:۔ ” فک رقبۃ “ یہ العبقۃ کا بیان ہے۔ حاصل یہ ہے کہ ان صحیح مصرفوں میں مال خرچ کرنے کی مشقت اٹھاؤ نجات پاؤ گے اور مسکینوں کو کھانا کھلانا یہ ہے وہ گھاٹی جس پر چڑھنے سے ان کو نجات ملے گی اور یہ ہیں خرچ کرنے کے صحیح مصارف جن پر خرچ کرنے سے ان کو ثواب ملے گا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(13) وہ کسی کی گردن کو بندگی کی قید سے آزاد کردینا اور چھڑا دینا ہے۔