Surat ul Balad

Surah: 90

Verse: 20

سورة البلد

عَلَیۡہِمۡ نَارٌ مُّؤۡصَدَۃٌ ﴿۲۰﴾٪  15

Over them will be fire closed in.

انہی پر آگ ہوگی جو چاروں طرف سے گھیری ہوئی ہوگی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Upon them Fire will Mu'sadah. meaning, it will be sealed over them and there will be no way for them to avoid it, nor will they have any way out. Abu Hurayrah, Ibn `Abbas, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Mujahid, Muhammad bin Ka`b Al-Qurazi, `Atiyah Al-`Awfi, Al-Hasan, Qatadah and As-Suddi, all said, مُّوْصَدَةُ Mu'sadah, "This means shut." Ibn `Abbas said, "Its doors will be closed." Ad-Dahhak said, مُّوْصَدَةُ Mu'sadah. "It will be sealed over them and it will have no door." Qatadah said, مُّوْصَدَةُ Mu'sadah. "It will be shut and there will be no light in it, no crevice (escape), and no way out of it forever." This is the end of the Tafsir of Surah Al-Balad, and all praise and blessings are due to Allah.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

20۔ 1 یعنی ان کو آگ میں ڈال کر چاروں طرف بند کردیا جائے گا تاکہ ایک تو آگ کی پوری شدت و حرارت ان کو پہنچے، دوسرے وہ بھاگ کر کہیں نہ جاسکیں گے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٤] اور جو لوگ اللہ کے، آخرت کے اور اللہ کی آیات کے منکر ہیں یہی لوگ اپنی شامت اعمال کے نتیجہ میں ماخوذ ہوں گے۔ انہیں اعمال نامہ بھی پیٹھ کے پیچھے سے بائیں ہاتھ میں تھمایا جائے گا اور انہیں پابند زنجیر و سلاسل جہنم میں پھینک کر جہنم کے سب دروازے بند کردیئے جائیں گے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

عَلَيْہِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَۃٌ۝ ٢٠ ۧ نار والنَّارُ تقال للهيب الذي يبدو للحاسّة، قال : أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] ، ( ن و ر ) نار اس شعلہ کو کہتے ہیں جو آنکھوں کے سامنے ظاہر ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] بھلا دیکھو کہ جو آگ تم در خت سے نکالتے ہو ۔ وصد الوَصِيدَةُ : حُجْرَةٌ تجعل للمال في الجبل، يقال : أَوْصَدْتُ البابَ وآصَدْتُهُ. أي : أطبقته وأحكمته، وقال تعالی: عَلَيْهِمْ نارٌ مُؤْصَدَةٌ [ البلد/ 20] وقرئ بالهمز «3» : مطبقة، والوَصِيدُ المتقارب الأصول . ( و ص د ) الوصید ۔ اصل میں اس احاطہ کو کہتے ہیں جو مویشی کے لئے پہاڑ میں بنالیا جائے اور آیت میں اس کے معنی غار کا صحن یا دروازے کی چوکھٹ کے ہیں اسی سے او صدقت الباب واصدتہ کا محاورہ ہے جس کے معنی ہیں میں نے در واے کو بند کردیا چناچہ قرآن میں ہے عَلَيْهِمْ نارٌ مُؤْصَدَةٌ [ البلد/ 20] یہ لوگ آگ میں بند کردیئے جائیں گے ۔ ایک قرات موصد ۃ ہمزہ کے ساتھ ہے ۔ اور آیت کے معنی ہیں اس آگ کو ان پر بند کردیا جائے گا ۔ الوصید ( ایضا ) پودا جس کی جڑیں زیادہ گہری نہ ہوں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٠{ عَلَیْہِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَۃٌ ۔ } ” ان پر آگ بند کردی جائے گی۔ “ تاکہ پریشر ککر کی طرح آگ کی ساری تپش اندر ہی رہے اور انہیں شدید ترین عذاب ملے۔ اللہ کی پناہ ! اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایسے عذاب سے محفوظ رکھے اور اپنی رحمت اور شان غفاری کے طفیل اصحابِ جنت میں شامل فرمائے۔ آمین !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

16 That is, fire will be so covering them from every side that they will find no way of escape from it.

سورة الْبَلَد حاشیہ نمبر :16 یعنی آگ اس طرح ان کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہو گی کہ اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ ہو گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

10: یعنی اس کے دروازے بند کردئیے جائیں گے، تاکہ دوزخیوں کے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہ رہے، والعیاذ باللہ العظیم۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(90:20) علیہم نار موصدۃ۔ یہ صفت ہے نار کی۔ اسم مفعول واحد مؤنث۔ ایصاد (افعال) مصدر سے۔ بند کی ہوئی۔ صاحب تفسیر حقانی لکھتے ہیں :۔ موصدۃ۔ قرأ الجمھود بالواو وقری بالھمزۃ والمعنی واحد والمراد علیہم نار ابوابھا مغلقۃ۔ لا تفتح ابدا۔ (جمہور نے اسے واؤ کے ساتھ پڑھا ہے ہمزہ کے ساتھ بھی اسے پڑھا گیا ہے معنی ہر دو صورت میں ایک ہی ہیں۔ مراد یہ ہے کہ وہ آگ کے اندر ہوں گے جس کے دروازے بند ہوں گے اور ابد تک نہیں کھولے جائیں گے۔ صاحب ضیاء القرآن تحریر فرماتے ہیں :۔ جب دروازے کو بالکل بند کردیا جائے تو اہل عرب کہتے ہیں اوصدت الباب ای اغلقتہ۔ یعنی ان کو آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ اور دروازے بند کر دئیے جائیں گے اور نکلنے کی کوئی صورت باقی نہ رہے گی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

8۔ یعنی دوزخیوں کو دوزخ میں بھر کر آگے سے دروازہ بند کردیں گے کیونکہ خلود کی وجہ سے نکلنا تو ملے گا ہی نہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿ عَلَيْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ (رح) ٠٠٢٠﴾ (ان پر آگ ہوگی بند کی ہوئی) یعنی ان کو دوزخ میں دال کر دروازے بند کردیئے جائیں گے۔ قولہ تعالیٰ موصدة قال معالم التنزیل مطبقة علیھم ابوابھا لا یدخل فیھا روح ولا یخرج منھا غم قرأ ابو عمرو و حمزة وحفص بالھمزة ھاھنا وفی الھمزة المطبقة وغیر الھمزة المغلقة۔ وھذا آخر تفسیر سورة البلد والحمد للہ الواحد الاحد الصمد والصلٰوة علی من بعث الی کل والد وما ولد وعلی اصحابہ فی کل یوم وغد۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(20) ان پر چاروں طرف سے بند کی ہوئی آگ مسلط ہوگی یعنی ایسی آگ جو چاروں طرف سے بند ہوگی۔ مطلب یہ ہے کہ دوزخ کے دروازے سب طرف سے بند ہوں گے دوزخ میں داخل کرکے دروازے بند کردیئے جائیں گے نہ اندر ہوا جاسکے اور نہ اہل نار باہر نکل سکیں۔ تم تفسیر سورة البلد