Surat ul Balad
Surah: 90
Verse: 3
سورة البلد
وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَ ۙ﴿۳﴾
And [by] the father and that which was born [of him],
اور ( قسم ہے ) انسانی باپ اور اولاد کی ۔
وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَ ۙ﴿۳﴾
And [by] the father and that which was born [of him],
اور ( قسم ہے ) انسانی باپ اور اولاد کی ۔
And by the begetter and that which he begot. Mujahid, Abu Salih, Qatadah, Ad-Dahhak, Sufyan Ath-Thawri, Sa`id bin Jubayr, As-Suddi, Al-Hasan Al-Basri, Khusayf, Shurahbil bin Sa`d and others have said, "Meaning, by the begetter, Adam, and that which he begot is his children." This view that Mujahid and his companions have chosen is good and strong. This is supported by the fact that Allah swears by the Mother of the Towns, which are dwellings. Then after it He swears by the dwellers therein, who is Adam, the father of mankind, and his children. Abu `Imran Al-Jawni said, "It refers to Ibrahim and his progeny." Ibn Jarir recorded this statement as did Ibn Abi Hatim. Ibn Jarir preferred the view that it is general and it refers to every father and his children. This meaning is also acceptable. Allah then says, لَقَدْ خَلَقْنَا الاِْنسَانَ فِي كَبَدٍ
3۔ 1 بعض نے اس سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد لی ہے اور بعض کے نزدیک یہ عام ہے، ہر باپ اور اس کی اولاد اس میں شامل ہے۔
[٣] فی کبد کا مفہوم :۔ تیسری قسم آدم اور تمام اولاد آدم یعنی تمام نوع انسان کی زندگی کو شاہد بنا کر اٹھائی گئی ہے۔ اور تینوں قسمیں اس بات پر اٹھائی گئیں کہ انسان کی تخلیق ہی اس انداز پر ہوئی ہے کہ وہ ساری عمر سختیاں جھیلتا رہے۔ دکھ اور رنج سہتا رہے۔ یہ رنج اور مصیبتیں خواہ قدرتی ہوں یا دوسروں نے اسے پہنچائی ہوں یا اپنی ہی وجہ سے اسے پہنچ رہی ہوں۔ کبد کا معنی جگر ہے جو مشہور عضو انسانی ہے۔ اور اس لفظ میں سختی اور قوت کا مفہوم پایا جاتا ہے اور فی کبد محاورۃً استعمال ہوتا ہے اور یہ انسانی فطرت کا اظہار کرتا ہے۔ انسان کے دل میں ایک خواہش پیدا ہوتی ہے۔ جسے پورا کرنے کے لیے کئی طرح کے رنج و الم سہتا ہے اور وہ ابھی پوری نہیں ہو پاتی کہ اتنے میں چند اور خواہشیں پیدا ہوجاتی ہیں۔ اب وہ انہیں پورا کرنے اور رنج و محن سہنے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اس کی تمام عمر بیت جاتی ہے۔ پھر قدرتی تکلیفیں اور دوسروں کے ہاتھوں پہنچنے والی تکلیفیں اور ان کی مدافعت کا سلسلہ مستزاد ہوتا ہے۔
وَوَالِدٍ وَمَا وَلَدَ (and by the father and that which he begot,...90:3) The word walid refers to Holy Prophet &Adam (علیہ السلام) the father of mankind, and the phrase مَا وَلَدَ &that which he begot& refers to his children from the inception of the world to the end of the world. Thus this phrase swears an oath by Holy Prophet &Adam (علیہ السلام) and all his children. The subject of the oath follows next, thus:
وَوَالِدٍ وَّمَا وَلَدَ ٣ ۙ ولد الوَلَدُ : المَوْلُودُ. يقال للواحد والجمع والصّغير والکبير . قال اللہ تعالی: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ [ النساء/ 11] ، ( و ل د ) الولد ۔ جو جنا گیا ہو یہ لفظ واحد جمع مذکر مونث چھوٹے بڑے سب پر بولاجاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ [ النساء/ 11] اور اگر اولاد نہ ہو ۔
اور قسم ہے حضرت آدم کی اور ان کی اولاد کی یا یہ کہ باپ کی خواہ کوئی ہو۔
آیت ٣{ وَوَالِدٍ وَّمَا وَلَدَ ۔ } ” اور قسم ہے والد کی اور اولاد کی۔ “ اس قسم میں اس مشقت اور ذمہ داری کی طرف اشارہ ہے جو ایک والد کو اپنی اولاد کی پرورش اور تربیت وغیرہ کے حوالے سے برداشت کرنی پڑتی ہے۔ اب اگلی آیت میں اس حقیقت یعنی مقسم علیہ کا ذکر ہے جس پر یہ قسمیں کھائی جا رہی ہیں :
4 As the words "father and children he begot" have been used indefinitely, and this is followed by the mention of man, father could only imply Adam (peace be on him) and children the human beings who existed in the world, exist today and will exist in the future.
سورة الْبَلَد حاشیہ نمبر :4 چونکہ مطلقاً باپ اور اس سے پیدا ہونے والی اولاد کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں اور آگے انسان کا ذکر کیا گیا ہے ، اس لیے باپ سے مراد آدم علیہ السلام ہی ہو سکتے ہیں ۔ اور ان سے پیدا ہونے والی اولاد سے مراد وہ تمام انسان ہیں جو دنیا میں پائے گئے ہیں ، اب پائے جاتے ہیں اور آئندہ پائے جائیں گے ۔
2: باپ سے مراد حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور چونکہ تمام اِنسان انہیں کی اولاد ہیں، اس لئے اس آیت میں تمام نوعِ اِنسانی کی قسم کھائی گئی ہے۔
(90:3) ووالد وما ولد : واؤ عاطفہ ہے۔ والد کا عطف بلد پر ہے والد سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں یا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ یا ہر والد (کوئی ہو) ۔ والد ولادۃ سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ۔ باپ۔ وما ولد : واؤ عاطفہ ہے اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے ما کا لفظ تنکیر پر دلالت کر رہا ہے اور تنکیر اظہار عظمت کے لئے ہے من کی جگہ ما استعمال تعجب کے لئے ہے جیسے واللہ اعلم بما وضعت (3:36) میں من کی بجائے ما کا ذکر کیا گیا ہے۔ ولد ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ ولادۃ (باب ضرب) مصدر سے (جس کا) وہ باپ ہوا۔ ماولد بمعنی اولاد مراد اس سے کل اولاد آدم ۔ یا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل کے پیغمبر یا حضرت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ (تفسیر مظہری)
ف 12 اللہ تعالیٰ نے پہلے مکہ معظمہ کی قسم کھائی اور آگے بھی ” والد وما ولد “ کی قسم آرہی ہے۔ آرہی ہے۔ درمیان میں بطور جملہ معترضہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک دن آپ اس شہر میں آزاد ہوں گے یعنی آپ کے لئے اس میں لڑنا اور کافروں کو قتل کرنا جائز ہوگا حالانکہ یہ حرم ہے اور کسی کے لئے اس میں لڑنا جائز نہیں ہے۔ یہ فتح مکہ کی پیشین گوئی ہے جو 8 میں پوری ہوئی۔ “ مکہ معظمہ کے متعلق نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے :” اس میں لڑنا مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں ہوا اور نہ میرے بعد کسی کے لئے حلال ہوگا۔ اور میرے لئے بھی صرف ایک گھڑی یعنی عصر سے مغرب تک کے لئے حلال کیا گیا ہے (پھر اپنی حرمت کی طرف پلٹ آیا) “ … آیت کا یہ مطلب اس صورت میں ہے جب ” حل “ کے معنی حلال یا محل ہوں یعنی وہ شخص جس پر حرمت کی قید نہ ہو۔ بعض مفسرین نے اس کے معنی حال یا نازل یعنی ” رہنے والا “ کئے ہیں۔ اس حافظ سے آیت کا ترجمہ یہ ہوگا کہ ” میں اس شہر مکہ کی قسم کھاتا ہوں بحالیکہ آپ اس میں قیام پذیر رہیں۔ “ یعنی یہ شہر خود بھی بڑی فضیلت والا ہے لیکن اس کی فضیلت اس لحاظ سے دو چند ہوگئی ہے کہ آپ اس میں قیام پذیر ہیں۔۔13 یا باپ سے مراد حضرت ابراہیم ہیں اور اولاد سے مراد ان کی اولاد، دقیل غیر ذلک
2۔ ساری اولاد کے باپ آدم (علیہ السلام) ہیں، پس آدم (علیہ السلام) اور نبی آدم سب کی قسم ہوئی۔
فہم القرآن ربط کلام : مکہ شہر کی قسم اٹھانے کے بعد باپ اور اس کی اولاد کی قسم اٹھا کر ہر انسان کو ایک حقیقت بتلائی گئی ہے۔ مکہ کی قسم اٹھا کر بین السطور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آپ کی دعوت کی کامیابی کی خبر دی گئی ہے، اس کے بعد فرمایا کہ مجھے باپ اور اس کی اولاد کی قسم ! ہم نے انسان کو مشقت جھیلنے کے لیے پیدا کیا ہے لیکن انسان سمجھتا ہے کہ کوئی اس پر قابو نہیں پاسکے گا۔ باپ اور اولاد سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی پوری اولاد ہے۔ کچھ اہل علم نے باپ سے مراد ابراہیم (علیہ السلام) اور اولاد سے مراد بنی اسماعیل (علیہ السلام) لیے ہیں۔ لیکن مناسب یہ ہے کہ باپ سے مراد آدم (علیہ السلام) لیے جائیں اور اولاد سے مراد ان کی پوری اولادسمجھی جائے اس میں ابراہیم (علیہ السلام) اور بنی اسماعیل بھی آجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے باپ اور اس کی اولاد کی قسم اٹھا کر انسان کو اس کے ماں، باپ کے مرتبہ سے آگاہ فرمایا ہے، اس کے ساتھ ہی انسان کو بتلایا ہے کہ تجھے سختی جھیلنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس سختی سے مراد انسان کی پیدائش کے مختلف مراحل ہیں۔ اس میں وہ سختیاں بھی شامل ہیں جن کے ساتھ انسان کو زندگی میں واسطہ پڑتا ہے۔ انسان کو ان سختیوں کے ساتھ دوچار کرنے میں ایک حکمت یہ ہے کہ انسان قدم قدم پر اس ہستی کی طرف متوجہ رہے جو ذات سختیوں کو آسانیوں میں تبدیل کرنے والی ہے، ان سختیوں میں دوسری حکمت یہ ہے کہ انسان ہر دم یہ خیال رکھے کہ میں خودمختار نہیں بلکہ مختار قوت اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو ہر وقت میری نگرانی کررہی ہے، اور جب چاہے مجھے مشکل میں ڈال سکتی ہے لہٰذا مجھے سرکش اور باغی بننے کی بجائے مختار کل ہستی کے تابع رہ کر زندگی بسر کرنی چاہیے۔ اس کے لیے تیسرا سبق یہ ہے کہ اسے اپنا مال اور صلاحیتیں ایسے کاموں پر صرف کرنی چاہیے جہاں خرچ کرنے سے اس کا خالق راضی ہوتا ہے یہ تبھی ہوسکتا ہے جب انسان اپنے خالق کے بارے میں یہ عقیدہ رکھے کہ میرا خالق میری زندگی کے ایک ایک لمحہ کی نگرانی کررہا ہے اور وہی مجھے رزق دینے والا ہے، جس نے اپنے خالق کو پہچان اور نگران سمجھ لیا وہ زیادہ دیر تک فطرت کی بغاوت اور اپنے خالق کی سرکشی نہیں کرسکتا اور نہ ہی خالق کے دئیے ہوئے مال کو بےجا لٹاسکتا ہے۔ یہاں مال لوٹانے سے مراد نیکی کے کاموں پر خرچ کرنا نہیں بلکہ نمود ونمائش پر خرچ کرنا ہے جس کا ہر صورت حساب لیا جائے گا اور ایسے شخص کو دنیا میں بھی پچھتاوا ہوگا۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لِرَجُلٍ وَہُوَ یَعِظُہٗ اِغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ شَبَابَکَ قَبْلَ ہَرَمِکَ وَصِحَّتِکَ قَبْلَ سَقْمِکَ وَغِنَاکَ قَبْلَ فَقْرِکَ وَفِرَاغَکَ قَبْلَ شُغُلِکَ وَحَیَاتَکَ قَبْلَ مَوْتِکَ ) (رواہ الحاکم) ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک آدمی کو وعظ و نصیحت فرما رہے تھے۔ آپ نے فرمایا پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو، جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، تندرستی کو بیماری سے پہلے، خوشحالی کو تنگدستی سے پہلے فارغ وقت کو مصروف ہونے سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) اور اس کی اولاد کی قسم اٹھا کر فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو مشکلیں جھیلنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ ٢۔ باغی انسان سمجھ بیٹھتا ہے کہ اسے کوئی قابو کرنے والا نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی نگرانی کرنے والا ہے۔ ٣۔ انسان بہت سامال فضول کاموں پر لوٹا دیتا ہے اور بعد میں اسے حسرت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہر وقت انسان کی نگرانی کرنے والا ہے : ١۔ تم جو بھی عمل کرتے ہو وہ اللہ کے علم میں ہوتا ہے۔ (یونس : ٦١) ٢۔ اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کو جاننے والا ہے۔ (یٰس : ٧٩) ٣۔ جو لوگ جہالت کی وجہ سے برائی کرتے ہیں، پھر جلدی سے توبہ کرلیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرتا ہے اور اللہ ہر چیز کو جاننے اور حکمت والا ہے۔ (النساء : ١٧) ٤۔ اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرو یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ (النساء : ٣٢) ٥۔ جو کچھ تم اللہ کے دیے ہوئے میں سے خرچ کرتے ہو اللہ اس کو جاننے والا ہے۔ (النساء : ٣٩) ٦۔ قیامت کا، بارش کے نازل ہونے کا، اور جو کچھ رحموں میں ہے اور انسان کل کیا کمائے گا اور اسے کہاں موت آئے گی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (لقمان : ٣٤) ٨۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور چھپاتے ہو۔ وہ تو سینے کے رازوں کو بھی جاننے والا ہے۔ (ہود : ٥)
(3) اور قسم کھاتا ہوں باپ کی اور اس کی جو باپ سے پیدا ہوا یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) اور اولاد آدم (علیہ السلام) کی قسم کھاتا ہوں، بعض نے والد سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مراد لئے ہیں۔ اور ماولد سے مراد ذریت آدم (علیہ السلام) یا حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مراد ہیں، بعض کا قول ہے والد سے مراد حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ماولد سے آپ کی امت مراد ہے۔ واللہ اعلم۔ قول راجح پہلا قول ہے آگے قسم کا جواب ہے۔