Surat us Shams

The Sun

Surah: 91

Verses: 15

Ruku: 1

Listen to Surah Recitation
Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

تعارف : اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے سات چیزوں کی قسم کھا کر اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ انسان دن رات ان چیزوں کو دیکھتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے مقابل ہیں اور یکساں نہیں ہیں تو پھر وہ اس حقیقت سے اپنی آنکھیں کیوں بند کرلیتا ہے کہ برائی اور نیکی کا انجام بھی ایک جیسا نہیں ہوسکتا ہے۔ جو لوگ اللہ کی نافرمانی کرتی ہیں اس کے رسول کی تعلیم کو جھٹلاتے اور اس کا کہنا نہیں مانتے ان کا انجام ان جیسا کیسے ہوسکتا ہے جو اللہ و رسول کے فرماں بردار اور نیکیوں کو اختیار کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کی مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر وہ لوگ اپنے نبی حضرت صالح (علیہ السلام) کی بات مان کر ان کی اطاعت کرلیتے اور وہ اونٹنی جو انکی فرمائش پر ایک معجزہ کے طور پر دی گئی تھی اس کو قتل نہ کرتے تو ان کو دین و دینا کی ساری سربلندیاں عطا کردی جاتیں مگر انہوں نے تو نافرمانیاں کرکے اپنی تباہی کا سامان کیا اور بری طرح ہلاک کر دئیے گئے۔ ان تمام باتوں کو اللہ تعالیٰ نے سورة الشمس میں یبان فرمایا ہے۔ خلاصہ یہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سات ایسی چیزوں کی قسمیں کھائی ہیں جو ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ فرمایا کہ جس طرح یہ ناممکن ہے کہ سورج ہو اور دھوپ اور چمک نہ ہو۔ چاند ہو اور وہ سورج کے چھپ جانے کے بعد چمکتا نہ ہو۔ دن ہو اور روشنی نہ ہو، رات ہو اور تاریک نہ ہو، آسمان ہو اور بلند نہ ہو، زمین ہو اور پست نہ ہو، نفس انسانی ہو اور خیر و شرک کا مجموعہ نہ ہو اسی طرح یہ بھی ناممکن ہے کہ جس آدمی نے اپنے آپکو روحانی اعتبار سے پاک کرلیا ہو وہ کامیاب نہ ہو اور جس نے اپنے نفس کو اپنی خواہشات کے نیچے دبا لیا ہو وہ ناکام نہ ہو۔ قوم ثمود کی مثال دیتے ہوئے اسی حقیقت کو بیان فرمایا ہے کہ قومثمود نے اپنے نبی حضرت صالح (علیہ السلام) کے احکامات سے سرکشی کی یعنی ان کی کسی بات کو نہ مانا اور ہمیشہ ان کو جھٹلایا۔ جب ان کی قوم کا ایک ظالم شخص اس اونٹنی کو ذبح کرنے پر آمادہ ہوگیا جو اس قوم کو ان ہی کے مطالبہ پر معجزاتی طور پر عطا کی گی تھی جب کہ حضرت صالح نے صاف الفاظ کے ساتھ فرمایا کہ دیکھو اس اونٹنی کو بری نیت سے ہاتھ مت لگانا اور جب وہ اپنی باری پر تمہارے کنویں سے پانی پیئے تو اس میں رکاوٹ مت ڈالنا مگر اس قوم کی مرضی سے ایک شخص اٹھا اور اس نے اس اونٹنی کو مار ڈالا۔ اس وقت اسے یا قوم کو ذرا بھی اللہ کا خوف نہ تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر اللہ کا عذاب آیا جس نے ان کو تبارہ و برباد کر کے رکھ دیا اور آج ان کی بلڈنگیں کھنڈر بن کر نشان عبرت بنی ہوئی ہیں۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

سورة الشمس کا تعارف یہ سورت اپنے نام سے شروع ہوتی ہے اس کا ایک رکوع ہے جو پندرہ آیات پر مشتمل ہے یہ سورت بھی مکہ معظمہ میں نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں سات قسمیں کھا کر بتلایا ہے کہ اس نے انسان کے ضمیر میں نیکی اور بدی کا امتیاز اور شعور رکھا ہے جس نے اپنے آپ کو فسق و فجور سے پاک رکھا وہ کامیاب ہوگا اور جو اپنے رب کی نافرمانی کرتا رہا اس نے اپنے آپ کو ناکام کرلیا اس کا انجام قوم ثمود کی طرح ہوگا۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سورة الشمس ایک نظر میں یہ مختصر سی سورت جس کا قافیہ ایک ہے ، جس کا انداز ترنم ایک ہے۔ اس میں متعدد وجدانی اشارات ہیں ، یہ وجدانی اشارات ، ان مظاہر قدرت اور مناظر فطرت سے نکلتے ہیں جن کے ساتھ اس سورت میں بات کا آغاز کیا گیا ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ مناظر اس عظیم حقیقت کا فریم ہیں ، جو اس سورت میں بیان کی گئی ہے۔ یہ کیا حقیقت ہے ؟ یہ کہ نفس انسانی کی اصلیت کیا ہے ؟ نفس انسانی کی فطری استعداد کیا ہے ؟ انسان کا خود اپنے نفس کے بارے میں کیا کردار ہے اور اس نفس کے انجام کے سلسلے میں انسان کی ذمہ داری کیا ہے ؟ یہ ہے وہ عظیم حقیقت جس کا ربط یہ سورت اس کائنات کے مشاہد اور دوسرے حقائق کے ساتھ قائم کرتی ہے۔ یوں یہ سورت اس کائنات کے فریم میں بات کرتی ہے۔ اس سورت میں قصہ ثمود کا بھی ذکر ہے ، جس نے اپنے نبی کی صریح تنبیہات کو رد کردیا اور نبی کی تکذیب کی۔ ناقتہ اللہ کو قتل کردیا اور اس کے بعد اس قوم کو تباہ وبرباد کردیا گیا اور قوم ثمود کا قصہ ایک نمونہ ہے اس قوم کی ناکامی کا جو اپنے نفس کا تزکیہ نہیں کرتی۔ ایسی اقوام نفس کو فسق وفجور کے لئے آزاد چھوڑ دیتی ہیں اور خدا کا خوف ان کے نفوس سے غائب ہوجاتا ہے ، اور اس بات کو سورت کے پہلے ہی پیراگراف میں بتایا گیا ہے۔ قدافلح ........................ دسھا (10:91) ” یقینا فلاح پا گیا جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا جس نے اس کو دبا دیا “۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi