Surat us Shams

Surah: 91

Verse: 0

سورة الشمس

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

In the name of Allah , the Entirely Merciful, the Especially Merciful.

شروع کرتا ہوں اللہ تعا لٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

نام : پہلے ہی لفظ الشمس کو اس کا نام قرار دیا گیا ہے ۔ زمانۂ نزول : مضمون اور انداز بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت بھی مکۂ معظمہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہے ۔ مگر اس کا نزول اس زمانے میں ہوا جب مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت خوب زور پکڑ چکی تھی ۔ موضوع اور مضمون : اس کا موضوع نیکی اور بدی کا فرق سمجھانا اور ان لوگوں کو برے انجام سے ڈرانا ہے جو اس فرق کو سمجھنے سے انکار اور بدی کی راہ چلنے پر اصرار کرتے ہیں ۔ مضمون کے لحاظ سے یہ سورت دو حصوں پر مشتمل ہے ۔ پہلا حصہ سورت کے آغاز سے شروع ہو کر آیت 10 پر ختم ہوتا ہے ، اور دوسرا حصہ آیت 11 سے آخر تک چلتا ہے ۔ پہلے حصہ میں تین باتیں سمجھائی گئی ہیں ۔ ایک یہ کہ جس طرح سورج اور چاند ، دن اور رات ، زمین اور آسمان ایک دوسرے سے مختلف اور اپنے آثار و نتائج میں متضاد ہیں ، اسی طرح نیکی اور بدی بھی ایک دوسرے سے مختلف اور اپنے آثار و نتائج میں متضاد ہیں ۔ یہ دونوں نہ اپنی شکل میں یکساں ہیں اور نہ ان کے نتائج یکساں ہو سکتے ہیں ۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالٰی نے نفس انسانی کو جسم ، حواس اور ذہن کی قوتیں دے کر دنیا میں بالکل بے خبر نہیں چھوڑ دیا ہے بلکہ ایک فطری الہام کے ذریعہ سے اس کے لاشعور میں نیکی اور بدی کا فرق ، بھلے اور برے کا امتیاز ، اور خیر کے خیر اور شر کے شر ہونے کا احساس اتار دیا ہے ۔ تیسرے یہ کہ انسان کے مستقبل کا انحصار اس پر ہے کہ اس کے اندر تمیز ، ارادے اور فیصلے کی جو قوتیں اللہ نے رکھ دی ہیں ان کو استعمال کر کے وہ اپنے نفس کے اچھے اور برے رجحانات میں سے کس کو ابھارتا ہے اور کس کو دباتا ہے ۔ اگر وہ اچھے رجحانات کو ابھارے اور برے رجحانات سے اپنے نفس کو پاک کرے تو فلاح پائے گا ۔ اور اس کے برعکس اگر وہ نفس کی اچھائی کو دبائے اور برائی کو ابھارے تو نامراد ہوگا ۔ دوسرے حصے میں قوم ثمود کی تاریخی نظیر کو پیش کرتے ہوئے رسالت کی اہمیت سمجھائی گئی ہے ۔ رسول دنیا میں اس لیے بھیجا جاتا ہے کہ بھلائی اور برائی کا جو الہامی علم اللہ نے انسان کی فطرت میں رکھ دیا ہے وہ بجائے خود انسان کی ہدایت کے لیے کافی نہیں ہے ، بلکہ اس کو پوری طرح نہ سمجھنے کی وجہ سے ہی انسان خیر و شر کے غلط فلسفے اور معیار تجویز کر کر کے گمراہ ہوتا رہا ہے ۔ اس بنا پر اللہ تعالٰی نے اس فطری الہام کی مدد کے لیے انبیاء علیہم السلام پر واضح اور صاف صاف وحی نازل فرمائی تاکہ وہ لوگوں کو کھول کر بتائیں کہ نیکی کیا ہے اور بدی کیا ۔ ایسے ہی ایک نبی ، حضرت صالح علیہ السلام قوم ثمود کی طرف بھیجے گئے تھے ۔ مگر وہ اپنے نفس کی برائی میں غرق ہو کر اتنی سرکش ہو گئی تھی کہ اس نے ان کو جھٹلا دیا ، اور اس کا منہ مانگا معجزہ جب انہوں نے ایک اونٹنی کی شکل میں پیش کیا تو ان کی تنبیہ کے باوجود اس قوم کے ایک شریر ترین آدمی نے ساری قوم کی خواہش اور طلب کے مطابق اسے بھی قتل کر دیا ۔ اس کا نتیجہ آخر کار یہ ہوا کہ پوری قوم تباہ کر کے رکھ دی گئی ۔ ثمود کا یہ قصہ پیش کرتے ہوئے پوری سورت میں کہیں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ اے قوم قریش ، اگر تم ثمود کی طرح اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جھٹلاؤ گے تو وہی انجام دیکھو گے جو ثمود نے دیکھا ہے ۔ مکہ میں اس وقت حالات وہی موجود تھے جو صالح علیہ السلام کے مقابلے میں قوم ثمود کے اشرار نے پیدا کر رکھے تھے ۔ اس لیے ان حالات میں یہ قصہ سنا دینا بجائے خود اہل مکہ کو یہ سمجھا دینے کے لیے کافی تھا کہ ثمود کی یہ تاریخی نظیر ان پر کس طرح چسپاں ہو رہی ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi