Surat us Shams

Surah: 91

Verse: 3

سورة الشمس

وَ النَّہَارِ اِذَا جَلّٰىہَا ۪ۙ﴿۳﴾

And [by] the day when it displays it

قسم ہے دن کی جب سورج کو نمایاں کرے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

By the day as it Jallaha. Mujahid said, "When it illuminates." Thus, Mujahid said, وَالنَّهَارِ إِذَا جَلَّـهَا By the day as it Jallaha. "This is similar to Allah's statement, وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى By the day as it Tajalla. (92:2)" And they have said concerning Allah's statement, وَالَّيْلِ إِذَا يَغْشَـهَا

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

3۔ 1 یا تاریکی کو دور کرے، ظلمت کا پہلے ذکر تو نہیں ہے لیکن سیاق اس پر دلالت کرتا ہے۔ (فتح القدیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣] یعنی جب دن کے وقت سورج پوری روشنی کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے اور تمام اشیاء کو نمایاں کردیتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

والنھا اذا جلھا :” جلی یجلی تجلیۃ “ (تفعیل) ظاہر کرنا، روشن کرنا اور دن کی قسم جب وہ اس سورج کو ظاہر کرتا ہے ! یعنی جب اس میں سورج پوری روشنی اور گریم کے ساتھ چمکتا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَالنَّهَارِ‌ إِذَا جَلَّاهَا (and by the day when it shows its brightness...91:3). The attached pronoun ha &its& may possibly refer to the earth or the world, although neither of the nouns precedes it. Such usage in Arabic is commonplace, especially if the phenomenon, such as the earth or the world, with which man is generally familiar. In such a case Arabs commonly refer to the phenomenon simply by using a pronoun without making prior reference to it. The addressee understands the meaning by implication. The Qur&an has many examples of, and bears ample testimony to, this grammatical phenomenon. The verse thus signifies &by the day and by the world or the earth which the day has brightened up&. In other words, &by the day when it is fully bright&. Another possibility, which is more pertinent to the context, is that the pronoun &its& refers to the &sun& in which case it signifies &by the day when it brightens up the sun&. This relation of attribution, in this case, would be a metaphorical relationship. Although the sun is usually understood to be the cause of the day to come out, here the day is said to brighten up the sun. Thus the verse would signify &when the sun is seen brightened up because the day is out.

تیسری قسم والنھار اذا جلھا، جلھا کی ضمیر زمین یا دنیا کی طرف بھی راجع ہوسکتی ہے اگرچہ اس سے پہلے زمین اور دنیا کا ذکر نہیں آیا مگر محاورات عرب میں ایسی چند چیزیں جو عموماً انسانوں کے سامنے رہتی ہیں ان کی طرف بغیر ذکر ماسبق کے بھی ضمیر راجع کردینا مشہور و معروف ہے اور قرآن کریم میں بھی اس کی نظائر موجود ہیں۔ اس اعتبار سے معنے یہ ہوئے کہ قسم ہے دن کی اور دنیا کی یا زمین کی جس کو دن نے روشن کردیا ہے اس میں بھی اشارہ اس طرف ہے کہ دن کی قسم اس حالت کے اعتبار سے ہے جبکہ وہ پوری طرح روشن ہوجائے۔ اور عبارت کے اعتبار سے ظاہر یہ ہے کہ یہ ضمیر آفتاب کی طرف راجع ہو اس صورت میں معنے یہ ہوں گے کہ قسم ہے دن کی جبکہ وہ آفتاب کو روشن کردے۔ یہ اسناد مجازی ہوگی اور مطلب یہ ہوگا کہ جب دن نکل آنے کے سبب آفتاب روشن نظر آنے لگے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَالنَّہَارِ اِذَا جَلّٰىہَا۝ ٣ نهار والنهارُ : الوقت الذي ينتشر فيه الضّوء، وهو في الشرع : ما بين طلوع الفجر إلى وقت غروب الشمس، وفي الأصل ما بين طلوع الشمس إلى غروبها . قال تعالی: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] ( ن ھ ر ) النھر النھار ( ن ) شرعا طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب کے وقت گو نھار کہاجاتا ہے ۔ لیکن لغوی لحاظ سے اس کی حد طلوع شمس سے لیکر غروب آفتاب تک ہے ۔ قرآن میں ہے : وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بیانا ۔ جلَ الجَلَالَة : عظم القدر، والجلال بغیر الهاء : التناهي في ذلك، وخصّ بوصف اللہ تعالی، فقیل : ذُو الْجَلالِ وَالْإِكْرامِ [ الرحمن/ 27] ، ولم يستعمل في غيره، والجلیل : العظیم القدر . ووصفه تعالیٰ بذلک إمّا لخلقه الأشياء العظیمة المستدلّ بها عليه، أو لأنه يجلّ عن الإحاطة به، أو لأنه يجلّ أن يدرک بالحواس . وموضوعه للجسم العظیم الغلیظ، ولمراعاة معنی الغلظ فيه قوبل بالدقیق، وقوبل العظیم بالصغیر، فقیل : جَلِيل ودقیق، وعظیم وصغیر، وقیل للبعیر : جلیل، وللشاة : دقیق، اعتبارا لأحدهما بالآخر، فقیل : ما له جلیل ولا دقیق وما أجلّني ولا أدقّني . أي : ما أعطاني بعیرا ولا شاة، ثم صار مثلا في كل كبير وصغیر . وخص الجُلَالةَ بالناقة الجسیمة، والجِلَّة بالمسانّ منها، والجَلَل : كل شيء عظیم، وجَلَلْتُ كذا : تناولت، وتَجَلَّلْتُ البقر : تناولت جُلَالَه، والجَلَل : المتناول من البقر، وعبّر به عن الشیء الحقیر، وعلی ذلک قوله : كلّ مصیبة بعده جلل . والجَلَل : ما معظم الشیء، فقیل : جَلَّ الفرس، وجل الثمن، والمِجَلَّة : ما يغطی به الصحف، ثمّ سمیت الصحف مَجَلَّة . وأمّا الجَلْجَلَة فحكاية الصوت، ولیس من ذلک الأصل في شيء، ومنه : سحاب مُجَلْجِل أي : مصوّت . فأمّا سحاب مُجَلِّل فمن الأول، كأنه يُجَلِّل الأرض بالماء والنبات . ( ج ل ل ) الجلالتہ کے معنی ہیں عظیم القدر یعنی قدرو منزلہ میں بڑا یعنی بلند مرتبہ ہونا کے ہیں اور ( ۃ ) کے بغیر الجلال کہا جائے تو اس کے معنی ہوتے ہیں عظمت کی آخری حد جس کے بعد اور مرتبہ نہ ہو ۔ اسی لئے یہ اللہ تعالیٰ کی وصف کے ساتھ مختص ہے ۔ اور دوسروں کے حق میں استعمال نہیں ہوتا چناچہ قرآن میں ہے ۔ ذُو الْجَلالِ وَالْإِكْرامِ [ الرحمن/ 27] صاحب جلال و عظمت ۔ الجلیل اور یہ باری تعالیٰ کے ساتھ مختص نہیں ہے اللہ تعالیٰ کو الجلیل یا تو اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس نے بڑ ی بڑی عظیم الشان چیزوں کو پیدا کیا ہے جن سے اس کی ذات با برکت پر استدلال ہوسکتا ہے اور یا اللہ تعالیٰ کی ذلت الجلیل اس لئ ہے کہ وہ احاطہ سے بلند ہے اور یا اس لئے کہ جو اس کے ذریعہ اس کا ادراک نہیں ہوسکتا ۔ اصل وضع کے اعتبار سے جلیل کا لفظ ہر اس چیز پر بولا جاتا ہے جو جسامت کے اعتبار سے بڑی بھی ہو اور غلیظ یعنی موٹی اور سخت بھی پھر معنی غلظت کے اعتبار سے یہ دقین کے مقابلہ میں استعمال ہونے لگا ہے اور عظیم کا لفظ صغیر کے مقابلہ میں چناچہ کہا جاتا ہے جلیل ودقیق وعظیم وصغیر اور باہم مقابلہ کے اعتبار سے اونٹ کو جلیل اور بھڑ بکری کو حقیر کہا جاتا چناچہ محارورہ ہے مالہ جلیل ولادقیق جی اس کے پاس نہ اونٹ ہے اور نہ بھڑ بکری مااجلنی ولاادقنی اس نے مجھے نہ اونٹ دیئے اور نہ بھیڑ بکری ) یہ اس کے اصل معنی ہیں پھر یہ لفظ ہر بڑی اور چھوٹی چیز پر بولا جاتا ہے ۔ اجلۃ کلاں سال کو ۔ الجلل ہر بڑی چیز کار بزرگ جللت کذا میں نے اس کا بڑا حصہ لے لیا ۔ تجلت البیعر میں نے کلاں جسم اونٹ یا ان کی بڑی مقدار لی ۔ الجلل ( ایضا) جو مینگنی اٹھائی جائے ۔ اسی سے کنایہ ہر حقیر چیز کو جلل ( ایضا ) جو مینگنی اٹھائی جائے ۔ اسی سے کنایہ ہر حقیر کو جلل کہا جاتا ہے شاعر نے کہا ہے ۔ کہ ہر مصیبت اس کے بعد حقیر ہے ۔ الجل کے معنی مصحف کے غلاف کے ہیں پھر اس سے مصحف کے غلاف کے ہیں پھر اس سے مصحف کو مجلۃ کہا جانے لگا ہے ۔ الجلجلۃ جس کے معنی حکایت صوت کے ہیں وہ اس مادہ سے نہیں ہے اور اسی سے سحاب مجلجل کا محاورہ ہے جس کے معنی گرجنے والے یا دل گے ہیں ۔ سحاب مجلل کا محاورہ اس مادہ سے ہے ۔ جس کے معنی عام بارش برسانے والے بادل کے ہیں ۔ گویا وہ اپنی اور نباتات سے زمین کو چھپا دیتا ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣{ وَالنَّہَارِ اِذَا جَلّٰٹہَا ۔ } ” اور قسم ہے دن کی جب وہ اس (سورج) کو روشن کردیتا ہے۔ “ اگرچہ بظاہر صورت حال تو یہ ہوتی ہے کہ سورج سے دن روشن ہوتا ہے ‘ لیکن یہاں اسی بات کے اندر یہ لطیف نکتہ پیدا کیا گیا ہے کہ دن ہوتا ہے تو سورج نظر آتا ہے۔ گویا دن سورج کو روشن کرتا ہے۔ آیت کے اس اسلوب کا تعلق دراصل اگلی آیت کے اسلوب سے ہے۔ اگلی آیت میں رات کا ذکر بالکل اسی انداز میں ہوا ہے :

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(91:3) والنھار اذا جلہا۔ واؤ قسمیہ ہے اذا ظرف زمان ہے۔ جلی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ ضمیر فاعل النھار کی طرف راجع ہے۔ جلی تجلیۃ (باب تفعیل) مصدر سے ہے۔ جس کے معنی ہیں روشن کرنا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الشمس کے لئے ہے قسم ہے دن کی جب کہ وہ (آفتاب کو) روشن (یعنی نمایاں) کرے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 12 یعنی جب سورج اس میں پوری تابناکی کے ساتھ چمکے۔13 یعنی جب خوب تاریکی پھیل جائے اور سورج کی کوئی روشنی باقی نہ رہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

والنھار اذا جلھا (3:91) ” اور دن کی قسم جب کہ وہ (سورج کو) نمایاں کردیتا ہے “۔ اس آیت میں یہ اشارہ ہے کہ (ضحھا) سے مراد ایک محدود وقت ہے ، پورا دن نہیں ہے اور جلا کی ضمیر شمس کی طرف راجع ہے جو اس سیاق کلام میں مذکور ہے۔ لیکن یہاں سیاق کلام میں یہ اشارہ ملتا ہے کہ مراد ” زمین ‘ ہے۔ قرآن کریم میں اس قسم کا بسلوب بارہا اختیار کیا گیا ہے کہ کوئی ضمیر کسی ایسی چیز کی طرح راجع ہو ، جو اگرچہ سیاق میں مذکور نہ ہو ، لیکن معہود فی الذہن ہو اور انسانی شعور میں ہر وقت حاضر ہو ، یہاں سیاق کلام کا تقاضا یہ ہے کہ اس ضمیر کا مرجع زمین ہو۔ چناچہ دن اس زمین کو روشن کردیتا ہے اور لوگ اسے اچھی طرح دیکھتے ہیں۔ انسانی زندگی میں دن کا جو کردار ہے وہ سب کو معلوم ہے۔ انسان کی حالت یہ ہے کہ دن اور رات کے مزے مسلسل لے لے کر وہ اس کا ذوق ہی بھول گیا ہے۔ چناچہ یہاں گردش لیل ونہار کی ایک جھلک دکھا کر اس کی رعنائیوں کو قلب انسانی میں تازہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ انسان کے احساسات کو زندہ کرکے اور تیز کرکے اس کو اس منظر سے لطف اندوز کیا جائے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

3:۔ ” ولنہار “ اسی دن جب سورج کو ظاہر دیتا ہے اور وہ افق پر نمایاں ہوجاتا ہے اور رات جب سورج کو اپنی تاریکی میں چھپا لیتی ہے۔ ” والسماء “ آسمان اور اس کی بلندی، زمین اور اس کی ہمواری اور پستی یہ بھی شاہد ہیں کہ نفس زکیہ اور نفس خبیثہ برابر نہیں ہیں۔ ما دونوں جگہوں میں مصدریہ ہے ای بنیانہا و طحوھا (قرطبی) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(3) اور قسم ہے دن کی جب وہ آفتاب کے خوب نمایاں اور روشن کردے۔