Surat us Shams
Surah: 91
Verse: 5
سورة الشمس
وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰہَا ۪ۙ﴿۵﴾
And [by] the sky and He who constructed it
قسم ہے آسمان کی اور اس کے بنانے کی ۔
وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰہَا ۪ۙ﴿۵﴾
And [by] the sky and He who constructed it
قسم ہے آسمان کی اور اس کے بنانے کی ۔
By the heaven and Ma Banaha. The meaning here could be for descriptive purposes, meaning "By the heaven and its construction." This was said by Qatadah. It could also mean "By the heaven and its Constructor." This was stated by Mujahid. Both views are interrelated, and construction means raising. This is as Allah says, وَالسَّمَأءَ بَنَيْنَـهَا بِأَيْدٍ With Hands did We construct the heaven. (51:47) meaning, with strength. وَالسَّمَأءَ بَنَيْنَـهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ وَالاٌّرْضَ فَرَشْنَـهَا فَنِعْمَ الْمَـهِدُونَ Verily, We are able to extend the vastness of space thereof. And We have spread out the earth: how excellent a spreader are We! (51:47-48) This is also similar to Allah's statement, وَالاٌّرْضِ وَمَا طَحَـهَا
[٥] اس کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ مَا کو مَن کے معنی میں لیا جائے اور اس کی مثالیں بھی قرآن میں موجود ہیں۔ اس لحاظ سے اس کا ترجمہ وہی ہوگا جو اوپر مذکور ہے۔ اور دوسرا یہ کہ ما کو ما کے معنی میں ہی سمجھا جائے اس صورت میں معنی یہ ہوگا۔ اور آسمان کی قسم جیسا کہ اسے شان و عظمت والا بنایا ہے۔
والسمآء وما بنھا :” والسمآء وما بنھا :” بنی یبنی بنائ “ (ض) بنانا۔ واضح رہے کہ عام طور پر ” من “ علم والوں، مثلاً اللہ تعالیٰ ، فرشتوں اور انسانوں کے لئے آتا ہے، جبکہ ” ما “ ان کے علاوہ کے لئے آتا ہے، مگر بعض اوقات کسی خاص مقصد کی وجہ سے اس کا الٹ بھی ہوجاتا ہے اور ” ما “ علم والوں کیلئے بھی آجاتا ہے، جیسا کہ ” ما “ یہاں اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال ہوا ہے۔ یعنی اور قسم ہے آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اسے بنایاچ یہاں ” من “ کے بجائے ” ما “ اس لئے لایا گیا ہے کہ وہ یہاں ” الذی “ کے معنی میں ہے اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ قرآن مجید میں ” ما “ کا لفظ علم والوں کے لئے متعدد مقامات پر آیا ہے، مثلاً :(ولا انتم عبدون ما اعبد) (الکافرون : ٣)” اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔ “ اور فرمایا :(فانکحوا ما طب لکم من النسآئ) (النسائ : ٣)” سو عورتوں میں سے جو تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کرلو۔ “
The fifth oath is: وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا (and by the sky, and the One who built it...91:5). Most clearly the context suggests that the ma may be taken as infinitival particle [ masdariyyah ], signifying &by the sky and its make & as elsewhere in the Qur&an غَفَرَ لِي رَبِّي &...how my Lord has forgiven me [ 36:27] & (1) 1. It should be kept in mind that the translation of the text is not based on this construction. It is based on taking &ma& as mousulah in the sense of &the one& as adopted by Maulana Thanawi, and explained by the author in the following verse. word taswiyah means, to proportion, balance, perfect. The meaning of this word has been explained in the previous Surah.
پانچویں قسم والسما وما بنھا، اس سے میں سابق نظم کے اعتبار سے زیادہ واضح بات یہ ہے کہ مابنھا میں صرف ما کو مصدر یہ قرار دے کر معنے یہ لئے جاویں کہ قسم ہے آسمان اور اس کے بنانے کی جیسا قرآن کریم میں ہے۔ بما غفرلی ربی،
وَالسَّمَاۗءِ وَمَا بَنٰىہَا ٥ سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ بنی يقال : بَنَيْتُ أَبْنِي بِنَاءً وبِنْيَةً وبِنًى. قال عزّ وجلّ : وَبَنَيْنا فَوْقَكُمْ سَبْعاً شِداداً [ النبأ/ 12] . والبِنَاء : اسم لما يبنی بناء، قال تعالی: لَهُمْ غُرَفٌ مِنْ فَوْقِها غُرَفٌ مَبْنِيَّةٌ [ الزمر/ 20] ، والبَنِيَّة يعبر بها عن بيت اللہ تعالیٰ «2» . قال تعالی: وَالسَّماءَ بَنَيْناها بِأَيْدٍ [ الذاریات/ 47] ، وَالسَّماءِ وَما بَناها [ الشمس/ 5] ، والبُنيان واحد لا جمع، لقوله تعالی: لا يَزالُ بُنْيانُهُمُ الَّذِي بَنَوْا رِيبَةً فِي قُلُوبِهِمْ [ التوبة/ 110] ، وقال : كَأَنَّهُمْ بُنْيانٌ مَرْصُوصٌ [ الصف/ 4] ، قالُوا : ابْنُوا لَهُ بُنْياناً [ الصافات/ 97] ، وقال بعضهم : بُنْيَان جمع بُنْيَانَة، فهو مثل : شعیر وشعیرة، وتمر وتمرة، ونخل ونخلة، وهذا النحو من الجمع يصح تذكيره وتأنيثه . و ( ب ن ی ) بنیت ابنی بناء وبنیتہ وبنیا کے معنی تعمیر کرنے کے ہیں قرآن میں ہے ۔ { وَبَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًا } ( سورة النبأ 12) اور تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان بنائے { وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ } ( سورة الذاریات 47) اور آسمانوں کو ہم ہی نے ہاتھوں سے بنایا ۔ { وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا } ( سورة الشمس 5) اور آسمان اور اس ذات کی ( قسم ) جس نے اسے بنایا ۔ البنیان یہ واحد ہے جمع نہیں ہے جیسا کہ آیات ۔ { لَا يَزَالُ بُنْيَانُهُمُ الَّذِي بَنَوْا رِيبَةً فِي قُلُوبِهِمْ } ( سورة التوبة 110) یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں ( موجب ) خلجان رہے گی ۔ { كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ } ( سورة الصف 4) کہ گویا سیساپلائی ہوئی دیوار ہیں :{ قَالُوا ابْنُوا لَهُ بُنْيَانًا فَأَلْقُوهُ فِي الْجَحِيمِ } ( سورة الصافات 97) وہ کہنے لگے کہ اس کے لئے ایک عمارت بناؤ ۔ سے معلوم ہوتا ہے ۔ بعض کے نزدیک یہ بنیانۃ کی جمع ہے اور یہ : شعیر شعیر وتمر وتمر ونخل ونخلتہ کی طرح ہے یعنی جمع اور مفرد میں تا کے ساتھ فرق کرتے ہیں اور جمع کی اس قسم میں تذکر وتانیث دونوں جائز ہوتے ہیں لَهُمْ غُرَفٌ مِنْ فَوْقِها غُرَفٌ مَبْنِيَّةٌ [ الزمر/ 20] ان کے لئے اونچے اونچے محل ہیں جن کے اوپر بالا خانے بنے ہوئے ہیں ۔ بناء ( مصدر بمعنی مفعول ) عمارت جمع ابنیتہ البنیتہ سے بیت اللہ مراد لیا جاتا ہے
3 "Who established it": Who established it like a vault over the earth. In this verse and in the two succeeding verses, the word ma has been used. A section of the commentators has taken this ma as an infinitive, and interpreted these verses to mean "By the heaven and its being established, by the earth and its being spread out, and by the human self and its being balanced. " But this meaning is not correct for the reason that the following sentence: "then inspired it with its wickedness and its piety", does not fit in with the context. Other commentators have taken ma here in the meaning of mun or alladhi and they interpret the sentence to mean: "Who established the heaven, who spread out the earth, and who balanced the human self. " This second meaning is correct in our view, and no one can object that ma in Arabic is used of lifeless things and irrational creatures, For in the Qur'an itself there are numerous instances that ma has been used in the meaning of mun, e.g. we la antum `abiduna ma a `bud ("nor are you the worshippers of Him Whom I worship") , fankihu ma taba lakun~-mia-an-nisa `("so, marry from among the women those whom you like") .wa la tanlkihu ma nakaha abaa ukum min-nisa' ("do not marry those women whom your fathers had married") .
سورة الشَّمْس حاشیہ نمبر :3 یعنی چھت کی طرح اسے زمین پر اٹھا کھڑا کیا ۔ اس آیت اور اس کے بعد کی دو آیتوں میں ما کا لفظ استعمال ہوا ہے یعنی مَا بَنَاهَا ، اور مَا طَحَاهَا اور مَا سَوَّاهَا اس لفظ ما کو مفسرین کے ایک گروہ نے مصدری معنوں میں لیا ہے اور وہ ان آیتوں کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ آسمان اور اس کے قائم کیے جانے کی قسم ، زمین اور اس کے بچھائے جانے کی قسم ، اور نفس اور اس کے ہموار کیے جانے کی قسم ۔ لیکن یہ معنی اس لیے درست نہیں ہیں کہ ان تین فقروں کے بعد یہ فقرہ کہ پھر اس کی بدی اور اس کی پرہیز گاری اس پر الہام کر دی اس سلسلہ کلام کے ساتھ ٹھیک نہیں بیٹھتا ۔ دوسرے مفسرین نے یہاں ما کو من یا الذی کے معنی میں لیا ہے ، اور وہ ان فقروں کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ جس نے آسمان کو قائم کیا ، جس نے زمین کو بچھایا اور جس نے نفس کو ہموار کیا ۔ یہی دوسرا مطلب ہمارے نزدیک صحیح ہے ، اور اس پر یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ ما عربی زبان میں بے جان اشیاء اور بے عقل مخلوقات کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ خود قرآن میں اس کی بکثرت مثالیں موجود ہیں کہ ما کو من کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے ۔ مثلاً وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ ( اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں ) ۔ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ ( پس عورتوں میں سے جو تمہیں پسند آئیں ان سے نکاح کر لو ) ۔ وَلَا تَنكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُم مِّنَ النِّسَاءِ ( اور جن عورتوں سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہو ان سے نکاح نہ کرو ) ۔
(91:5) والسماء وما بنھا۔ واؤ قسمیہ ہے۔ واؤ دوم میں اختلاف ہے کہ قسمیہ ہے یا عاطفہ ہے۔ ما کی دو صورتیں ہیں۔ (1) ما مصدریہ ہے۔ (2) ما موصولہ بمعنی من ہے۔ بنی ماضی واحد مذکر غائب ہے بناء (باب ضرب) مصدر سے ہے۔ اس نے بنایا۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب کا مرجع السماء ہے اس نے آسمان کو بنایا۔ ترجمہ : (بصورت ما مصدریہ) اور قسم ہے آسمان کی اور (اس آسمان) کی بناوٹ کی (آسمان کی بناوٹ جو قدرت کاملہ کا نمونہ ہے ترجمہ :۔ (بصورت موصولہ) اور قسم ہے آسمان کی اور (قسم ہے) اس (آسمان) کے بنانے والے کی۔
ف 14 بنانے سے مراد یہ ہے کہ اس کے اعضا اور قویٰ کو ٹھیک کی۔
10۔ مراد اللہ تعالیٰ ہے اور مخلوق کی قسم کو خالق کی قسم پر مقدم فرمانا دلیل ہے مدلول کی طرف انتقال ہے کہ مصنوع دلیل ہے صانع پر، پس اس میں استدلال علی التوحید کی طرف بھی اشارہ ہوگیا۔
والسماءوما بنھا (5:91) ” اور آسمان کی قسم اور اس ذات کی قسم “۔ ما یہاں عربی گرامر کے لحاظ سے اپنے مابعد آنے والے فعل کو مصدر بنادیتی ہے۔ آسمان سے ہم کچھ سمجھتے وہ ایک نیلگوں قبہ ہے جو ہمارے سروں پر ہے اور اس قبے کو جب ہم دیکھتے ہیں تو اس کے اندر ستارے اور سیارے بکھرے پڑے ہیں ، اور سیارے اس کی فضاﺅں اور مداروں میں پھرتے ہیں۔ اس کی حقیقت کیا ہے ؟ تو اصل حقیقت ہم نہیں جانتے ، ہم اپنے سروں پر جو چیز دیکھ رہے ہیں یہ ایک ایسی چیز ہے جس طرح ایک عظیم الشان عمارت ہو ، باہم پیوستہ اور نہایت مضبوط۔ یہ عظیم ہال کس طرح بنا ہوا ہے اور اس کے اجزاء کس طرح باہم پیوست ہیں اور وہ بکھر نہیں رہے۔ اور ایک ایسی فضا میں تیر رہے ہیں جس کے نہ آغاز کا ہمیں علم ہے اور نہ انجام کا ہمیں علم ہے۔ یہی وہ چیز ہے ، جس کی حقیقت ہم نہیں جانتے۔ اس آسمان کے بارے میں آج تک اہل علم نے جو کچھ بھی لکھا ہے وہ نظریات ہی ہیں اور وہ ترمیم اور رد قبول کرتے ہیں۔ یہ نظریات کسی دور میں بھی اپنے پاﺅں پر کھڑے نہیں رہے اور ہمیشہ قرار وثبات سے محروم رہے ہیں۔ ہمارا نظریہ اور ایمان سب سے مضبوط ہے کہ دست قدرت نے انہیں تھام رکھا ہے۔ ان اللہ ........................................ من بعدہ (41:35) ” وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو ڈھلکنے سے روک رکھا ہے۔ اگر وہ ہٹ جائیں تو پھر اللہ کے سوا کوئی انہیں اپنی جگہ قائم نہ کرسکے “۔ یہی وہ علم ہے جو نہایت مستحکم ہے ، اس کے سوا یقینی بات کوئی اور نہیں ہے۔ اس کے بعد زمین اور اس کے بچھائے جانے کی قسم ہے۔