Surat us Shams
Surah: 91
Verse: 7
سورة الشمس
وَ نَفۡسٍ وَّ مَا سَوّٰىہَا ۪ۙ﴿۷﴾
And [by] the soul and He who proportioned it
قسم ہے نفس کی اور اسے درست بنانے کی
وَ نَفۡسٍ وَّ مَا سَوّٰىہَا ۪ۙ﴿۷﴾
And [by] the soul and He who proportioned it
قسم ہے نفس کی اور اسے درست بنانے کی
By Nafs, and Ma Sawwaha (Who apportioned it). meaning, He created it sound and well-proportioned upon the correct nature (Al-Fitrah). This is as Allah says, فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفاً فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِى فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لاَ تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ So set you your face towards the religion, Hanif. Allah's Fitrah with which He has created mankind. No change let there be in the Khalqillah. (30:30) The Messenger of Allah said, كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ كَمَا تُولَدُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ Every child that is born, is born upon the Fitrah, but his parents make him a Jew, a Christian, or a Zoroastrian. This is just as the animal is born, complete with all of its parts. Do you notice any mutilation in it? Both Al-Bukhari and Muslim recorded this Hadith from Abu Hurayrah. In Sahih Muslim, it has been narrated from `Iyad bin Himar Al-Mujashi`i that the Messenger of Allah said, يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ فَجَاءَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِم Allah the Mighty and Majestic says, "Verily I created My servants Hunafa' (as monotheists), but then the devils came to them and distracted them from their religion." Then Allah says, فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا
7۔ 1 یا جس نے اس درست کیا۔ درست کرنے کا مطلب اسے مناسب الا عضاء بنایا بےڈھنگا نہیں بنایا۔
[٧] انسان فطرتاً نیک اور موحد پیدا کیا گیا :۔ یعنی نفس کو پیدا کرنے کے بعد اس میں وہ تمام ظاہری اور باطنی قوتیں رکھ دیں جن سے کام لے کر وہ ایسے سب کام سرانجام دے سکے جن کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے۔ سَوّٰھَا کے مفہوم میں یہ بات شامل ہے کہ انسان پیدائشی طور پر نہ گنہگار پیدا ہوا ہے جیسا کہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے اور اسی غرض سے انہوں نے کفارہ مسیح کا عقیدہ اختراع کیا اور نہ ہی انسان شرپسند پیدا ہوا ہے جیسا کہ بعض گمراہ فرقوں کا خیال ہے۔ بلکہ انسان کی فطرت میں راستی اور سچائی ودیعت کی گئی ہے۔ جھوٹ بولنا وہ بعد میں سیکھتا ہے۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ خیر خواہی کے جذبہ سے مل جل کر رہنا چاہتا ہے، دوسروں کی بدخواہی اور ایذا پہنچانا وہ بعد میں سیکھتا ہے۔ اس کی فطرت میں توحید ہے، شرک کرنا وہ بعد میں سیکھتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ ہر بچہ اسلام کی فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) (مزید تفصیل کے لیے سورة بقرہ آیت نمبر ٢١٣ پر حاشیہ نمبر ٢٨١ ملاحظہ فرمائیے)
وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا (and by the soul, and the One who made it well,...91:7) If, in this phrase, the particle ma is taken to function as infinitival particle, it signifies &by the human soul and its perfection&. If ma is taken in the sense of man ( ), it signifies &by the soul and the One who proportioned it&. The
ساتویں قسم ونفس وماسوھا، اس میں ما کو مصدریہ لیا جائے تو معنے یہ ہیں کہ قسم ہے انسانی جان کی اور اسکے درست ومتناسب کرنے کی اور گرما کو بمعنے من لیا جائے تو معنے یہ ہوں گے کہ قسم ہے نفس کی اور اسکے برابر و درست کرنیوالے کی۔ تسویہ یعنی درست اور برابر کرنے کا مفہوم اس سے پہلے سورتوں میں آچکا ہے۔
وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰىہَا ٧ نفس الَّنْفُس : الرُّوحُ في قوله تعالی: أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ [ الأنعام/ 93] قال : وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ [ البقرة/ 235] ، وقوله : تَعْلَمُ ما فِي نَفْسِي وَلا أَعْلَمُ ما فِي نَفْسِكَ [ المائدة/ 116] ، وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، وهذا۔ وإن کان قد حَصَلَ من حَيْثُ اللَّفْظُ مضافٌ ومضافٌ إليه يقتضي المغایرةَ ، وإثباتَ شيئين من حيث العبارةُ- فلا شيءَ من حيث المعنی سِوَاهُ تعالیٰ عن الاثْنَوِيَّة من کلِّ وجهٍ. وقال بعض الناس : إن إضافَةَ النَّفْسِ إليه تعالیٰ إضافةُ المِلْك، ويعني بنفسه نُفُوسَنا الأَمَّارَةَ بالسُّوء، وأضاف إليه علی سبیل المِلْك . ( ن ف س ) النفس کے معنی روح کے آتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ [ الأنعام/ 93] کہ نکال لو اپنی جانیں ۔ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ [ البقرة/ 235] اور جان رکھو جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا کو سب معلوم ہے ۔ اور ذیل کی دونوں آیتوں ۔ تَعْلَمُ ما فِي نَفْسِي وَلا أَعْلَمُ ما فِي نَفْسِكَ [ المائدة/ 116] اور جو بات میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے اور جو تیرے ضمیر میں ہے میں اسے نہیں جنتا ہوں ۔ وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے اور یہاں نفسہ کی اضافت اگر چہ لفظی لحاظ سے مضاف اور مضاف الیہ میں مغایرۃ کو چاہتی ہے لیکن من حیث المعنی دونوں سے ایک ہی ذات مراد ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ ہر قسم کی دوائی سے پاک ہے بعض کا قول ہے کہ ذات باری تعالیٰ کی طرف نفس کی اضافت اضافت ملک ہے اور اس سے ہمارے نفوس امارہ مراد ہیں جو ہر وقت برائی پر ابھارتے رہتے ہیں ۔ ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] أي : نعم شيئا يعظکم به، وقوله : فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] فقد أجيز أن يكون ما نكرة في قوله : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها [ البقرة/ 26] ، وقد أجيز أن يكون صلة، فما بعده يكون مفعولا . تقدیره : أن يضرب مثلا بعوضة الثالث : الاستفهام، ويسأل به عن جنس ذات الشیء، ونوعه، وعن جنس صفات الشیء، ونوعه، وقد يسأل به عن الأشخاص، والأعيان في غير الناطقین . وقال بعض النحويين : وقد يعبّر به عن الأشخاص الناطقین کقوله تعالی: إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] ، إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] وقال الخلیل : ما استفهام . أي : أيّ شيء تدعون من دون اللہ ؟ وإنما جعله كذلك، لأنّ «ما» هذه لا تدخل إلّا في المبتدإ والاستفهام الواقع آخرا . الرّابع : الجزاء نحو : ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ الآية [ فاطر/ 2] . ونحو : ما تضرب أضرب . الخامس : التّعجّب نحو : فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] . وأمّا الحروف : فالأوّل : أن يكون ما بعده بمنزلة المصدر كأن الناصبة للفعل المستقبَل . نحو : وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] فإنّ «ما» مع رَزَقَ في تقدیر الرِّزْق، والدّلالة علی أنه مثل «أن» أنه لا يعود إليه ضمیر لا ملفوظ به ولا مقدّر فيه، وعلی هذا حمل قوله : بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] ، وعلی هذا قولهم : أتاني القوم ما عدا زيدا، وعلی هذا إذا کان في تقدیر ظرف نحو : كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] ، كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] ، كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] . وأما قوله : فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] فيصحّ أن يكون مصدرا، وأن يكون بمعنی الذي . واعلم أنّ «ما» إذا کان مع ما بعدها في تقدیر المصدر لم يكن إلّا حرفا، لأنه لو کان اسما لعاد إليه ضمیر، وکذلک قولک : أريد أن أخرج، فإنه لا عائد من الضمیر إلى أن، ولا ضمیر لهابعده . الثاني : للنّفي وأهل الحجاز يعملونه بشرط نحو : ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] «1» . الثالث : الکافّة، وهي الدّاخلة علی «أنّ» وأخواتها و «ربّ» ونحو ذلك، والفعل . نحو : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ، إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] ، كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] وعلی ذلك «ما» في قوله : رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] ، وعلی ذلك : قَلَّمَا وطَالَمَا فيما حكي . الرابع : المُسَلِّطَة، وهي التي تجعل اللفظ متسلِّطا بالعمل، بعد أن لم يكن عاملا . نحو : «ما» في إِذْمَا، وحَيْثُمَا، لأنّك تقول : إذما تفعل أفعل، وحیثما تقعد أقعد، فإذ وحیث لا يعملان بمجرَّدهما في الشّرط، ويعملان عند دخول «ما» عليهما . الخامس : الزائدة لتوکيد اللفظ في قولهم : إذا مَا فعلت کذا، وقولهم : إمّا تخرج أخرج . قال : فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] ، وقوله : إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما[ الإسراء/ 23] . ( ما ) یہ عربی زبان میں دو قسم پر ہے ۔ اسمی اور حر فی پھر ہر ایک پانچ قسم پر ہے لہذا کل دس قسمیں ہیں ( 1 ) ما اسمی ہو تو واحد اور تذکیر و تانیث کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے ۔ پھر لفظا مفرد ہونے کے لحاظ سے اس کی طرف ضمیر مفرد بھی لوٹ سکتی ہے ۔ اور معنی جمع ہونے کی صورت میں ضمیر جمع کا لانا بھی صحیح ہوتا ہے ۔ یہ ما کبھی بمعنی الذی ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] اور یہ ( لوگ ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پر ستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں ۔ تو یہاں ما کی طرف یضر ھم میں مفرد کی ضمیر لوٹ رہی ہے اس کے بعد معنی جمع کی مناسب سے هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] آگیا ہے اسی طرح آیت کریمہ : ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جوان کو آسمانوں اور زمین میں روزیدینے کا ذرہ بھی اختیار نہیں رکھتے میں بھی جمع کے معنی ملحوظ ہیں اور آیت کریمہ : ۔ بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] کہ تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے ۔ میں بھی جمع کے معنی مراد ہیں اور کبھی نکرہ ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] بہت خوب نصیحت کرتا ہے ۔ تو یہاں نعما بمعنی شیئا ہے نیز فرمایا : ۔ فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] تو وہ بھی خوب ہیں ایت کریمہ : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها[ البقرة/ 26] کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کیس چیز کی میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما نکرہ بمعنی شیاء ہو اور یہ بھی کہ ماصلہ ہو اور اس کا ما بعد یعنی بعوضۃ مفعول ہو اور نظم کلام دراصل یوں ہو أن يضرب مثلا بعوضة اور کبھی استفھا فیہ ہوتا ہے اس صورت میں کبھی کبھی چیز کی نوع یا جنس سے سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی کسی چیز کی صفات جنسیہ یا نوعیہ کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی غیر ذوی العقول اشخاص اور اعیان کے متعلق سوال کے لئے بھی آجاتا ہے ۔ بعض علمائے نحو کا قول ہے کہ کبھی اس کا اطلاق اشخاص ذوی العقول پر بھی ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] مگر ان ہی بیویوں یا ( کنیزوں سے ) جو ان کی ملک ہوتی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں خواہ وہ کچھ ہی ہو خدا اسے جانتا ہے ۔ میں خلیل نے کہا ہے کہ ماتدعون میں ما استفہامیہ ہے ای شئی تدعون من دون اللہ اور انہوں نے یہ تکلف اس لئے کیا ہے کہ یہ ہمیشہ ابتداء کلام میں واقع ہوتا ہے اور مابعد کے متعلق استفہام کے لئے آتا ہے ۔ جو آخر میں واقع ہوتا ہے جیسا کہ آیت : ۔ ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُالآية [ فاطر/ 2] خدا جو اپنی رحمت کا در وازہ کھول دے اور مثال ماتضرب اضرب میں ہے ۔ اور کبھی تعجب کے لئے ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] یہ ( آتش جہنم کیسی بر داشت کرنے والے ہیں ۔ ما حرفی ہونے کی صورت میں بھی پانچ قسم پر ہے اول یہ کہ اس کا بعد بمنزلہ مصدر کے ہو جیسا کہ فعل مستقبل پر ان ناصبہ داخل ہونے کی صورت میں ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ تو یہاں ما رزق بمعنی رزق مصدر کے ہے اور اس ما کے بمعنی ان مصدر یہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کی طرف کہیں بھی لفظا ما تقدیر اضمیر نہیں لوٹتی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] اور ان کے جھوٹ بولتے کے سبب ۔ میں بھی ما مصدر ری معنی پر محمول ہے ۔ اسی طرح اتانیالقوم ماعدا زیدا میں بھی ما مصدر یہ ہے اور تقدیر ظرف کی صورت میں بھی ما مصدر یہ ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] جب بجلی ( چمکتی اور ) ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں ۔ كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] یہ جب لڑائی کے لئے آگ جلاتے ہیں ۔ خدا اس کو بجھا دیتا ہے ۔ كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] جب ( اس کی آگ ) بجھنے کو ہوگی تو ہم ان کو ( عذاب دینے ) کے لئے اور بھڑ کا دیں گے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] پس جو حکم تم کو ( خدا کی طرف سے ملا ہے وہ ( لوگوں ) کو سنا دو ۔ میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما مصدر یہ ہوا اور یہ بھی کہ ما موصولہ بمعنی الذی ہو ۔ یاد رکھو کہ ما اپنے مابعد کے ساتھ مل کر مصدری معنی میں ہونے کی صورت میں ہمیشہ حرفی ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ اسی ہو تو اس کی طرف ضمیر کا لوٹنا ضروری ہے پس یہ ارید ان اخرک میں ان کی طرح ہوتا ہے جس طرح ان کے بعد ضمیر نہیں ہوتی جو اس کی طرف لوٹ سکے اسی طرح ما کے بعد بھی عائد ( ضمیر نہیں آتی ۔ دوم ما نافیہ ہے ۔ اہل حجاز اسے مشروط عمل دیتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] یہ آدمی نہیں ہے تیسرا ما کا فہ ہے جو ان واخواتھا اور ( رب کے ساتھ مل کر فعل پر داخل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] نہیں بلکہ ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں ۔ كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] گویا موت کی طرف دھکیلے جارہے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے ۔ میں بھی ما کافہ ہی ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ قلما اور لما میں بھی ما کافہ ہوتا ہے ۔ چہارم ما مسلمۃ یعنی وہ ما جو کسی غیر عامل کلمہ کو عامل بنا کر مابعد پر مسلط کردیتا ہے جیسا کہ اذا ما وحیتما کا ما ہے کہ ما کے ساتھ مرکب ہونے سے قبل یہ کلمات غیر عاملہ تھے لیکن ترکیب کے بعد اسمائے شرط کا سا عمل کرتے ہیں اور فعل مضارع کو جز م دیتے ہیں جیسے حیثما نقعد اقعد وغیرہ پانچواں مازائدہ ہے جو محض پہلے لفظ کی توکید کے لئے آتا ہے جیسے اذا مافعلت کذا ( جب تم ایسا کرو ماتخرج اخرج اگر تم باہر نکلو گے تو میں بھی نکلو نگا قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] اگر تم کسی آدمی کو دیکھوں ۔ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما [ الإسراء/ 23] اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھا پے کو پہنچ جائیں ۔ سوا ( مساوات برابر) الْمُسَاوَاةُ : المعادلة المعتبرة بالذّرع والوزن، والکيل، وتَسْوِيَةُ الشیء : جعله سواء، إمّا في الرّفعة، أو في الضّعة، وقوله : الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ [ الانفطار/ 7] ، أي : جعل خلقتک علی ما اقتضت الحکمة، وقوله : وَنَفْسٍ وَما سَوَّاها [ الشمس/ 7] ، فإشارة إلى القوی التي جعلها مقوّمة للنّفس، فنسب الفعل إليها، وکذا قوله : فَإِذا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي [ الحجر/ 29] ، ( س و ی ) المسا واۃ کے معنی وزن کیل یا مسا حت کے لحاظ سے دو چیزوں کے ایک دوسرے کے برابر ہونے کے ہیں التسویۃ کے معنی کسی چیز کو ہموار کرنے ہیں اور آیت : ۔ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ [ الانفطار/ 7] دو ہی تو ہے ) جس نے تجھے بنایا اور تیرے اعضاء کو ٹھیک کیا ۔ میں سواک سے مراد یہ ہے کہ انسان کی خلقت کو اپنی حکمت کے اقتضاء کے مطابق بنایا اور آیت : ۔ وَنَفْسٍ وَما سَوَّاها [ الشمس/ 7] اور انسان کی اور اس کی جس نے اس کے قوی کو برابر بنایا ۔ اسی طرح آیت کریمہ : ۔ فَإِذا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي [ الحجر/ 29] جب اس کو ( صورت انسانیہ میں ) درست کرلوں اور اس میں ( اپنی بےبہا چیز یعنی ) روح پھونک دوں ۔
(7 ۔ 10) اور قسم ہے جان کی اور اس ذات کی جس نے اس کے تمام اعضاء کو درست بنایا اور پھر اس کو ان باتوں کا القاء کیا ہے جو کرنے کی ہیں اور ان باتوں کا جن سے بچنا چاہیے، وہ کامیاب ہوا جس کو حق نے ہدایت و توفیق اور معرفت عطا فرمائی اور وہ نامراد ہوا جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی توفیق دی۔
4 "Balanced it" : gave man such a body which by virtue of its erect stature, its hands and feet, and its brain was most appropriate for him to live as man in the world. He blessed him with the senses of sight, hearing, touch, taste and smell which on account of their combination and their characteristics could become the best means of obtaining knowledge for him. He endowed him with the faculties of thinking and reasoning, imagination, memory, discrimination, judgement, will-power and such other mental powers by virtue of which he is able to perform the functions fit for man in the world. In addition, balancing also means that man was not created a sinner by birth and a criminal by instinct but on right and sound nature, anti was not characterised with any inborn crookedness because of which he may be unable to adopt the right path even if he wanted to do so. This same thing has been expressed in Surah Ar-Rum, saying: "Be steadfast on the nature whereupon Allah has created mankind." (v. 30) , and the same has been explained by the Holy Prophet (upon whom be peace ) in a Hadith, saying: "Every new-born child is born on true human nature; it is his parents who make him a"Jew or a Christian or a Magian afterwards. Its example is of an animal giving birth to complete and sound young one. Do you find any one with a torn or slit ear ?" (Bukhari, Muslim) . That is, it is the polytheistic people who on account of their superstitions of ignorance tear and slit the ears of animals after wards; otherwise God does not cause an animal to be born with torn ears from its mother's belly. In another Hadith the Holy Prophet said: "My Lord says: I had created all My servants on true Faith (i.e. on sound nature) ; then the satans came and led them astray from their Faith (i.e.. the true natural Faith) and made unlawful what I had made lawful for them, and commanded them to associate with Me those for whom I had sent down no authority." (Musnad Ahmad; Muslim also has related a saying from the Holy Prophet in similar words) .
سورة الشَّمْس حاشیہ نمبر :4 ہموار کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس کو ایسا جسم عطا کیا جو اپنے قامت راست اور اپنے ہاتھ پاؤں اور اپنے دماغ کے اعتبار سے انسان کی سی زندگی بسر کرنے کے لیے موزوں ترین تھا ۔ اس کو دیکھنے ، سننے ، چھونے ، چکھنے اور سونگھنے کے ایسے حواس عطا کیے جو اپنے تناسب اور اپنی خصوصیات کی بنا پر اس کے لیے بہترین ذریعہ علم بن سکتے تھے ۔ اس کو قوت عقل و فکر ، قوت استدلال و استنباط ، قوت خیال ، قوت حافظہ ، قوت تمیز ، قوت فیصلہ ، قوت ارادی اور دوسری ایسی ذہنی قوتیں عطا کیں جن کی بدولت وہ دنیا میں اس کام کے قابل ہوا جو انسان کے کرنے کا ہے ۔ اس کے علاوہ ہموار کرنے میں یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ اسے پیدائشی گناہ گار اور جبلی بدمعاش بنا کر نہیں بلکہ راست اور سیدھی فطرت پر پیدا کیا اور اسکی ساخت میں کوئی خلقی کجی نہیں رکھ دی کہ وہ سیدھی راہ اختیار کرنا چاہے بھی تو نہ کر سکے ۔ یہی بات ہے جسے سورہ روم میں بایں الفاظ بیان کیا گیا ہے کہ فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ، قائم ہو جاؤ اس فطرت پر جس پر اللہ تعالی نے انسانوں کو پیدا کیا ، ( آیت 30 ) ۔ اور اس بات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں یوں بیان فرمایا ہے کہ کوئی بچہ ایسا نہیں ہے جو فطرت کے سوا کسی اور چیز پر پیدا ہوتا ہو ، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں ۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے جانور کے پیٹ سے پورا کا پورا صحیح و سالم بچہ پیدا ہوتا ہے کیا تم ان میں کسی کا کان کٹا ہوا پاتے ہو؟ ( بخاری و مسلم ) ۔ یعنی یہ مشرکین ہیں جو بعد میں اپنے اوہام جاہلیت کی بنا پر جانوروں کے کان کاٹتے ہیں ، ورنہ خدا کسی جانور کو ماں کے پیٹ سے کٹے ہوئے کان لے کر پیدا نہیں کرتا ۔ ایک اور حدیث میں حضور کا ا رشاد ہے میرا رب فرماتا ہے کہ میں نے اپنے تمام بندوں کو حنیف ( صحیح الفطرت ) پیدا کیا تھا ، پھر شیاطین نے آ کر ان کو ان کے دین ( یعنی ان کے فطری دین ) سے گمراہ کر دیا اور ان پر وہ چیزیں حرام کر دیں جو میں نے ان کے لیے حلال کی تھیں اور ان کو حکم دیا کہ میرے ساتھ ان کو شریک کریں جن کے شریک ہونے پر میں نے کوئی دلیل نازل نہیں کی ۔ ( مسند احمد ، مسلم نے بھی اس سے ملتے جلتے الفاظ میں حضور کا یہ ارشاد نقل کیا ہے ) ۔
(91:7) ونفس وما سوھا۔ واؤ قسمیہ۔ نفس۔ نفس انسانی، انسانی جان واؤ ثانی عاطفہ یا قسمیہ ہے۔ ما مصدریہ یا موصولہ ہے۔ سوی ماضی واحد مذکر غائب تسویۃ (تفعیل) مصدر سے۔ بمعنی کسی چیز کو بلندی یا پستی میں برابر بنانا۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب کا مرجع نفس ہے۔ ترجمہ :۔ (بصورت ما مصدریہ کے) اور قسم ہے انسان کی جان کی اور اس کی آراستگی کی۔ ترجمہ :۔ (بصورت ما موصولہ کے) اور قسم ہے انسانی جان کی اور اس کی کہ جس نے اس کو آراستہ کیا۔ فائدہ : علامہ پانی پتی تحریر فرماتے ہیں :۔ (آیات 567 میں) اول دوسرا۔ تیسرا واؤ باتفاق علماء واؤ قسمیہ ہے اور اس کے بعد والے واؤ میں اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک وہ بھی قسم کے لئے ہے بہرحال پہلے تینوں واؤ عطف کے لئے نہیں ہیں۔
ونفس وما ............................ من دسھا (7:91 تا 10) ” اور نفس انسانی کی اور اس ذات کی قسم جس نے اسے ہموار کیا ، پھر اس کی بدی اور اس کی پرہیز گاری اس پر الہام کردی ، یقینا فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اس کو دبادیا “۔ ان چار آیات میں اسلام کا نظریہ نفس بیان کیا گیا ہے۔ اس کی طرف سورة ماقبل ، سورة البلد میں بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ وھدینہ الندین (10:90) ” اور ہم نے اسے دورا ہیں دکھادیں “۔ نیز سورة دھر میں بھی اسی نکتہ کی طرف اشارہ ہے۔ انا ھدینہ ........................ کفورا (3:76) ” ہم نے اسے راہ دکھادی۔ اب وہ یا تو شکر گزار بنے گا یا ناشکرا “۔ اس نظریہ کا خلاصہ یہ ہے کہ نفس انسانی میں ازروئے فطرت دو صلاحیتیں ہیں جیسا کہ سورة ص میں کہا گیا ہے۔ اذقال ................................ سجدین (71:38 ۔ 72) ” اور اس بات کو یاد کرو کہ جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں ایک بشر کو مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں تو جب میں اسے مکمل بنادوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدہ ریز ہوجاﺅ“۔ مذکورہ بالا آیات میں نفس انسانی کے متعلق جو کچھ کہا گیا ، یہ امور اسلام کے نظریہ فردی ذمہ داری سے بھی مربوط ہے جیسا کہ سورة المدثر میں کہا گیا ہے۔ کل نفس ........................ رھینة ” ہر نفس اپنی کمائی اور عمل کا ذمہ دار ہے “۔ اور یہ موضوع اس آیت سے بھی متعلق ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اللہ کا معاملہ ہر انسان کے ساتھ اس کے اعمال کے مطابق ہوتا ہے جیسا کہ سورة الرعد میں صراحت سے کہا گیا۔ ان اللہ ........................ بانفسھم ” اللہ کی کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں “۔ ان تمام آیات میں ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے بارے میں اسلام اور قرآن کا نقطہ نظر کیا ہے اور انسان کے خودخال کیا ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ مخلوق اپنے اندر دو پہلو رکھتی ہے۔ اس کی صلاحیتیں بھی دو رخ رکھتی ہیں ، اس کی ذات کے اندر دو صلاحیتیں ہیں۔ اس سے ہماری مراد یہ ہے کہ اس کی تخلیق کا ایک رخ مادی ہے یعنی وہ خاک جس سے اسے بنایا گیا اور دوسرا رخ اس روح کا ہے جو اس کے اندر پھونکی گئی ہے اور یہ روح اللہ کی روح ہے۔ چناچہ خاک کی صلاحیت شر کی طرف جاتی ہے اور روح کی صلاحیت اسے خیر کی طرف لے جاتی ہے۔ اپنی تخلیق کے اعتبار سے یہ خیر وشر اور ہدایت وضلالت دونوں کی طرف جاسکتا ہے اور خیر وشر کی تمیز کا ملکہ بھی اسے دیا گیا ہے اور اسے یہ اختیار بھی دیا گیا کہ وہ اپنے نفس کو خیر کی طرف موڑدے یا شر کی طرف موڑ دے۔ یہ طاقت ، اختیار اور صلاحیت ازروئے تخلیق اس کے اندر موجود ہے۔ اس کی طرف قرآن نے کبھی تو الہام کے لفظ سے اشارہ کیا ہے۔ ونفس وما .................... وتقواھا (8:91) اور نفس انسانی کی اور اس ذات کی قسم جس نے اسے ہموار کیا ، پھر اس کی بدی اور اس کی پرہیز گاری اس پر الہام کردی “۔ اور کبھی اس کی طرف لفظ ہدایت اشارہ کیا گیا ہے۔ وھدینہ النجدین (10:90) ” ہم نے اسے دوراہوں کی ہدایت کردی “۔ تو یہ صلاحیت اس مخلوق کی ذات میں ازروائے تخلیق رکھ دی گئی ہے۔ تمام رسولوں کی جدوجہد ، تمام اچھے لوگوں کی ہدایت اور تمام خارجی موثرات اور عوامل دراصل اس صلاحیت کو جگاتے ہیں ، اسے ایک رخ اور سمت دیتے ہیں ، اسے تیز یا کند کرتے ہیں ، خارجی عوامل اس صلاحیت کی تخلیق نہیں کرتے کیونکہ یہ صلاحیت دو رخی صلاحیت ، ازروئے فطرت تخلیق ، ازروئے طبیعت ، ازروئے الہام الٰہی بشر کے اندر موجود ہے۔
4:۔ ” ونفس “ یہاں بھی ما مصدریہ ہے تسویہ سے مراد یہ ہے کہ اس کی ظاہری و باطنی قوتوں میں اعتدال پیدا کی اور اس کے اعضاء متناسب بنائے۔ ای انشاھا وابدعہا مستعدۃ لکمالہا وذلک بتعدیل اعضائہا وقوھا الظاہرۃ والباطنۃ (روح ج 30 ص 142) ۔ ” فالہمہا فجورھا وتقاھا “ پیدا کرنے کے بعد اس کو فجور وتقوی، طاعت و معصیت اور نیکی اور بدی کی راہیں دکھا دیں تاکہ وہ اپنے اختیار سے دونوں میں سے ایک راہ کو منتخب کرلے۔
(7) اور قسم ہے انسان جان کی اور اس کی جس نے اسے ٹھیک بنایا آسمان کی قسم اور اس کی قسم جس نے اپنی حکمت اور اپنی خالقیت سے اس کو بنایا اور محیط کیا اور زمین کی قسم اور اس کی قسم جس نے اپنی حکمت کے موافق اس کو بچھایا اگر ھا کو مصدر یہ لیا جائے جیسا کہ بعض کا قول ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ والسماء وبناء ھا والارض وبسطھا و سطحبھا علی الماء نفس سے مراد خواہ جس انسانی ہو خواہ قوت مدبرہ ہو مطلب یہ ہے کہ حواس ظاہری اور باطنی اور قوائے طبیعیہ نفسانیہ سب سے اس کو مزین و آراستہ کیا یعنی جسم کی ساخت اور بناوٹ میں بھی اعتدال اور مزاج میں بھی اعتدال قوت مفکرہ اور مخلیہ غرض ہو تمام قوتیں عطا فرمائیں جو کسی جاندار کو مکلف بنانے کے لئے کافی ہیں چونکہ ان قوی کی تکمیل تکلیف اور مکلف بنانے کے لئے ہے اسی لئے صاحب خازن نے اس سے تمام مکلفین انسان وجنات مراد لئے ہیں۔