Surat ul Lail
Surah: 92
Verse: 6
سورة الليل
وَ صَدَّقَ بِالۡحُسۡنٰی ۙ﴿۶﴾
And believes in the best [reward],
اور نیک بات کی تصدیق کرتا رہے گا ۔
وَ صَدَّقَ بِالۡحُسۡنٰی ۙ﴿۶﴾
And believes in the best [reward],
اور نیک بات کی تصدیق کرتا رہے گا ۔
And believes in Al-Husna. meaning, in the compensation for that. This was said by Qatadah. Khusayf said, "In the reward." Then Allah says, فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى
6۔ 1 یا اچھے صلے کی تصدیق کرے گا، یعنی اس بات پر یقین رکھے گا کہ انفاق اور تقوی اللہ کی طرف سے عمدہ صلہ ملے گا۔
[٢] یعنی لوگوں کے اعمال اور ان کے نتائج جو ایک دوسرے سے متضاد اور مختلف ہیں۔ ان میں سے ایک گروہ کے اعمال یہ ہیں کہ : ١۔ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہا۔ ٢۔ اس نے اپنی ساری زندگی اللہ سے ڈرتے ہوئے اور اس کی فرمانبرداری میں گزار دی اور ٣۔ ہر بھلی بات کی تصدیق کی۔ بھلی بات سے مراد ایمان بالغیب بھی ہے۔ اللہ کی آیات بھی ہیں۔ اللہ کی توحید بھی، رسول کی تصدیق بھی اور اخلاق فاضلہ کی بجا آوری بھی۔ گویا ان تین مختصر سے الفاظ میں پوری شریعت کا خلاصہ پیش فرما دیا کہ جو شخص یہ اور یہ کام کرے گا اللہ اس کے لیے احکام شریعت پر چلنا & اور جنت میں داخلہ کا مستحق ہونا آسان بنا دیتا ہے۔ اسے نیکی کے کاموں کی توفیق دیتا ہے حتیٰ کہ بدی کی راہ پر چلنا اس کے لیے دشوار ہوجاتا ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسی راہ کو اللہ تعالیٰ نے سورة البلد کی آیت نمبر ١١ میں گھاٹی کی دشوار گزار راہ قرار دیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ راہ چونکہ خواہشات نفسانی کے مخالف ہے۔ اس لیے ابتدائ ً یہ فی الواقع انسان کی طبیعت پر بوجھ اور دشوار گزار راستہ معلوم ہوتا ہے لیکن جب عزم صمیم کے ساتھ اس راستہ پر گامزن ہوجاتا ہے تو یہی راستہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے آسان بنا دیتا ہے بلکہ اسے یہی راہ آسان معلوم ہونے لگتی ہے جس کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس کے لیے رزق حلال اور کسب حلال کے دروازے کھلتے جاتے ہیں اور حرام کی کمائی کا حصول اسے سخت ناگوار محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہ ایک فریق کا حال ہے۔
وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰى ٦ ۙ صدق وکذب الصِّدْقُ والکذب أصلهما في القول، ماضیا کان أو مستقبلا، وعدا کان أو غيره، ولا يکونان بالقصد الأوّل إلّا في القول، ولا يکونان في القول إلّا في الخبر دون غيره من أصناف الکلام، ولذلک قال : وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ص دق) الصدق ۔ الکذب یہ ایک الکذب کی ضد ہے اصل میں یہ دونوں قول کے متعلق استعمال ہوتے ہیں خواہ اس کا تعلق زمانہ ماضی کے ساتھ ہو یا مستقبل کے ۔ وعدہ کے قبیل سے ہو یا وعدہ کے قبیل سے نہ ہو ۔ الغرض بالذات یہ قول ہی کے متعلق استعمال ہوتے ہیں پھر قول میں بھی صرف خبر کے لئے آتے ہیں اور اس کے ماسوا دیگر اصناف کلام میں استعمال نہیں ہوتے اسی لئے ارشاد ہے ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ وہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ حسنة والحسنةُ يعبّر عنها عن کلّ ما يسرّ من نعمة تنال الإنسان في نفسه وبدنه وأحواله، والسيئة تضادّها . وهما من الألفاظ المشترکة، کالحیوان، الواقع علی أنواع مختلفة کالفرس والإنسان وغیرهما، فقوله تعالی: وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] ، أي : خصب وسعة وظفر، وَإِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ أي : جدب وضیق وخیبة «1» ، يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِكَ قُلْ : كُلٌّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] والفرق بين الحسن والحسنة والحسنی أنّ الحَسَنَ يقال في الأعيان والأحداث، وکذلک الحَسَنَة إذا کانت وصفا، وإذا کانت اسما فمتعارف في الأحداث، والحُسْنَى لا يقال إلا في الأحداث دون الأعيان، والحسن أكثر ما يقال في تعارف العامة في المستحسن بالبصر، يقال : رجل حَسَنٌ وحُسَّان، وامرأة حَسْنَاء وحُسَّانَة، وأكثر ما جاء في القرآن من الحسن فللمستحسن من جهة البصیرة، وقوله تعالی: الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ [ الزمر/ 18] ، أي : الأ بعد عن الشبهة، ( ح س ن ) الحسن الحسنتہ ہر وہ نعمت جو انسان کو اس کے نفس یا بدن یا اس کی کسی حالت میں حاصل ہو کر اس کے لئے مسرت کا سبب بنے حسنتہ کہلاتی ہے اس کی ضد سیئتہ ہے اور یہ دونوں الفاظ مشترکہ کے قبیل سے ہیں اور لفظ حیوان کی طرح مختلف الواع کو شامل ہیں چناچہ آیت کریمہ ۔ وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] اور ان لوگوں کو اگر کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے ۔ میں حسنتہ سے مراد فراخ سالی وسعت اور نا کامی مراد ہے الحسن والحسنتہ اور الحسنی یہ تین لفظ ہیں ۔ اور ان میں فرق یہ ہے کہ حسن اعیان واغراض دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے اسی طرح حسنتہ جب بطور صفت استعمال ہو تو دونوں پر بولا جاتا ہے اور اسم ہوکر استعمال ہو تو زیادہ تر احدث ( احوال ) میں استعمال ہوتا ہے اور حسنی کا لفظ صرف احداث کے متعلق بو لاجاتا ہے ۔ اعیان کے لئے استعمال نہیں ہوتا ۔ اور الحسن کا لفظ عرف عام میں اس چیز کے متعلق استعمال ہوتا ہے جو بظاہر دیکھنے میں بھلی معلوم ہو جیسے کہا جاتا ہے رجل حسن حسان وامرءۃ حسنتہ وحسانتہ لیکن قرآن میں حسن کا لفظ زیادہ تر اس چیز کے متعلق استعمال ہوا ہے جو عقل وبصیرت کی رو سے اچھی ہو اور آیت کریمہ : الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ [ الزمر/ 18] جو بات کو سنتے اور اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں ۔
آیت ٦{ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی ۔ } ” اور اس نے تصدیق کی اچھی بات کی۔ “ یہ خیر کے راستے کی تیسری شرط یا اس کا تیسرا وصف ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ جب بھلائی اور حق کی کوئی بات انسان کے سامنے آئے اور اس کا دل گواہی دے دے کہ ہاں یہ بات حق ہے تو وہ بلاتردّد اس کی تصدیق کردے۔ یعنی وہ بھلائی ‘ سچائی اور حق کی تصدیق کرنے کے لیے عواقب و نتائج کی پروا نہ کرے۔ حق کو حق جان کر اس کی تصدیق و توثیق کے لیے سود و زیاں کا ترازو نصب کر کے نہ بیٹھ جائے اور نہ ہی اس حوالے سے اپنی انا کو آڑے آنے دے۔ جیسے کہ ہماری روز مرہ کی زندگی میں اکثر ہوتا ہے کہ دو آدمیوں کی بحث کے دوران ایک آدمی پر واضح ہوجاتا ہے کہ دوسرے کی بات درست ہے مگر وہ صرف اپنی انا کی وجہ سے اس کے موقف کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
2 This is the first kind of endeavours, which includes three things, and a little consideration shows that they comprehend all virtues: (1) That Tnan should refrain from wealth-worship, but should spend whatever Allah has given him generously in rendering Allah's and His servants' rights, for good works and for helping others; (2) that he should fear God and refrain from things which cause His displeasure in his moral, social, economic and other dealings with the people; (3) that he should believe in goodness. Goodness is a comprehensive word, which includes goodness of belief, morals and acts. Goodness of belief means that one should give up polytheism; atheism, and disbelief, and affirm faith in Tauhid, . the . Hereafter and Prophethood. Affirming belief in goodness of morals and acts is that one should not be doing good and right merely unconsciously, outside a definite system, but one should acknowledge as right and sound the system of goodness which God has sent, which combines every kind of goodness in all its forms and aspects into a system comprehensively called the Divine Shari'ah.
سورة الَّیْل حاشیہ نمبر :2 یہ انسانی مساعی کی ایک قسم ہے جس میں تین چیزیں شمار کی گئی ہیں اور غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام خوبیوں کی جامع ہیں ۔ ایک یہ کہ انسان زبردستی میں مبتلا نہ ہو بلکہ کھلے دل سے اپنا مال ، جتنا کچھ بھی اللہ نے اسے دیا ہے ، اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرنے ، نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ، اور خلق خدا کی مدد کرنے میں صرف کرے ۔ دوسرے یہ کہ اس کے دل میں خدا کا خوف ہو اور وہ اخلاق ، اعمال ، معاشرت ، معیشت ، غرض اپنی زندگی کے ہر شعبے میں ان کاموں سے پرہیز کرے جو خدا کی ناراضی کے موجب ہوں ۔ تیسرے یہ کہ وہ بھلائی کی تصدیق کرے ۔ بھلائی ایک وسیع المعنی لفظ ہے جس میں عقیدے ، اخلاق اور اعمال ، تینوں کی بھلائی شامل ہے ۔ عقیدے میں بھلائی کی تصدیق یہ ہے کہ آدمی شرک اور دہریت اور کفر کو چھوڑ کر توحید ، آخرت اور رسالت کو برحق مانے ۔ اور اخلاق و اعمال میں بھلائی کی تصدیق یہ ہے کہ آدمی سے بھلائیوں کا صدور محض بے شعوری کے ساتھ کسی متعین نظام کے بغیر نہ ہو رہا ہو ، بلکہ وہ خیر و صلاح کے اس نظام کو صحیح تسلیم کرے جو خدا کی طرف سے دیا گیا ہے ، جو بھلائیوں کو ان کی تمام اشکال اور صورتوں کے ساتھ ایک نظم میں منسلک کرتا ہے ، جس کا جامع نام شریعت الہیہ ہے ۔
2: سب سے اچھی بات سے مراد دینِ اسلام اور اُس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی جنت ہے۔
(92:6) وصدق بالحسنی۔ واؤ عاطفہ۔ اس کا عطف فاما من اعطی پر ہے۔ صدق ماضی واحد مذکر غائب تصدیق (تفعیل) مصدر اس نے سچ مانا۔ اس نے تصدیق کی۔ وہ یقین لایا۔ الحسنی : حسن سے بروزن فعلی افعل التفضیل کا صیغہ واحد مؤنث ہے ۔ اچھی۔ عمدہ بات۔ (یعنی کلمہ توحید) اور اس نے نیک بات (کلمہ توحید) کو سچ جانا۔
(6) اور بھلی بات کی یعنی ملت اسلام کی تصدیق کی یعنی جس شخص نے اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہا یعنی ہرنامناسب بات سے بچتا رہا اور بھلی بات کی تصدیق کی یعنی ملت اسلام کی عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا ، لا الہ الا اللہ کی تصدیق کی یا اس امر کی تصدیق کی کہ خیرات کرنے والے کو اللہ تعالیٰ اس کے مال کا بدل اور خلیفہ عطا فرماتا ہے یعنی اس کا یقین رکھتا ہے کہ جو مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا ثواب عطا فرماتا ہے۔