حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَتَذَاكَرْنَا مُتْعَةَ النِّسَاءِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: رَبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي أَنَّهُ حَدَّثَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ .
Al Zuhri said “we were with Umar bin Abd Al Aziz, there we discussed temporary marriage. A man called Rabi bin Saburah said “I bear witness that my father told me that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم had prohibited it at the Farewell Pilgrimage. ”
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ ہم عمر بن عبدالعزیز کے پاس تھے تو عورتوں سے نکاح متعہ ۱؎ کا ذکر ہم میں چل پڑا، تو ان میں سے ایک آدمی نے جس کا نام ربیعہ بن سبرہ تھا کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میرے والد نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر متعہ سے منع کر دیا ہے ۲؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/النکاح ۳ (۱۴۰۶)، سنن النسائی/النکاح ۷۱ (۳۳۷۰)، سنن ابن ماجہ/النکاح ۴۴ (۱۹۶۲)، ( تحفة الأشراف: ۳۸۰۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۴۰۴، ۴۰۵)، سنن الدارمی/النکاح ۱۶ (۲۲۴۲) (حجة الوداع کا لفظ شاذ ہے صحیح مسلم میں فتح مکہ ہے ، اور یہی صحیح ہے)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : متعین مدت کے لئے نکاح کرنے کو نکاح متعہ کہتے ہیں۔ ۲؎ : یہ نکاح کئی بار حلال ہوا پھر آخر میں حرام ہو گیا، اور اب اس کی حرمت قیامت تک کے لئے ہے، ائمہ اسلام اور علماء سنت کا یہی مذہب ہے۔
2072
Zaeef