TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

CHAPTER: Regarding The Incidents With An-Nadir. - باب: بنو نضیر سے جنگ کا بیان ۔ - Tribute, spoils, and rulership (kitab al-kharaj, wal-fai' wal-imarah) - Sunnan Abu Dawood with Urdu and English Translation

Chapter 23 of Tribute, spoils, and rulership (kitab al-kharaj, wal-fai' wal-imarah) in Sunnan Abu Dawood. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 23 of 40 · 2 Hadith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَنَّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ كَتَبُوا إِلَى ابْنِ أُبَيٍّ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ مَعَهُ الأَوْثَانَ مِن الأَوْسِ وَ الْخَزْرَجِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ بِالْمَدِينَةِ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ إِنَّكُمْ آوَيْتُمْ صَاحِبَنَا وَإِنَّا نُقْسِمُ بِاللَّهِ لَتُقَاتِلُنَّهُ أَوْ لَتُخْرِجُنَّهُ أَوْ لَنَسِيرَنَّ إِلَيْكُمْ بِأَجْمَعِنَا حَتَّى نَقْتُلَ مُقَاتِلَتَكُمْ وَنَسْتَبِيحَ نِسَاءَكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ مِنْ عَبَدَةِ الأَوْثَانِ اجْتَمَعُوا لِقِتَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهُمْ فَقَالَ:‏‏‏‏ لَقَدْ بَلَغَ وَعِيدُ قُرَيْشٍ مِنْكُمُ الْمَبَالِغَ مَا كَانَتْ تَكِيدُكُمْ بِأَكْثَرَ مِمَّا تُرِيدُونَ أَنْ تَكِيدُوا بِهِ أَنْفُسَكُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تُقَاتِلُوا أَبْنَاءَكُمْ وَإِخْوَانَكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا سَمِعُوا ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَفَرَّقُوا، ‏‏‏‏‏‏فَبَلَغَ ذَلِكَ كُفَّارَ قُرَيْشٍ فَكَتَبَتْ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَعْدَ وَقْعَةِ بَدْرٍ إِلَى الْيَهُودِ إِنَّكُمْ أَهْلُ الْحَلْقَةِ وَالْحُصُونِ وَإِنَّكُمْ لَتُقَاتِلُنَّ صَاحِبَنَا أَوْ لَنَفْعَلَنَّ كَذَا وَكَذَا وَلَا يَحُولُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَدَمِ نِسَائِكُمْ شَيْءٌ وَهِيَ الْخَلَاخِيلُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا بَلَغَ كِتَابُهُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْمَعَتْ بَنُو النَّضِيرِ بِالْغَدْرِ فَأَرْسَلُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْرُجْ إِلَيْنَا فِي ثَلَاثِينَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِكَ وَلْيَخْرُجْ مِنَّا ثَلَاثُونَ حَبْرًا حَتَّى نَلْتَقِيَ بِمَكَانِ الْمَنْصَفِ فَيَسْمَعُوا مِنْكَ فَإِنْ صَدَّقُوكَ وَآمَنُوا بِكَ آمَنَّا بِكَ فَقَصَّ خَبَرَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ غَدَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْكَتَائِبِ فَحَصَرَهُمْ فَقَالَ:‏‏‏‏ لَهُمْ إِنَّكُمْ وَاللَّهِ لَا تَأْمَنُونَ عِنْدِي إِلَّا بِعَهْدٍ تُعَاهِدُونِي عَلَيْهِ ، ‏‏‏‏‏‏فَأَبَوْا أَنْ يُعْطُوهُ عَهْدًا فَقَاتَلَهُمْ يَوْمَهُمْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ غَدَا الْغَدُ عَلَى بَنِي قُرَيْظَةَ بِالْكَتَائِبِ وَتَرَكَ بَنِي النَّضِيرِ وَدَعَاهُمْ إِلَى أَنْ يُعَاهِدُوهُ فَعَاهَدُوهُ فَانْصَرَفَ عَنْهُمْ وَغَدَا عَلَى بَنِي النَّضِيرِ بِالْكَتَائِبِ فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى نَزَلُوا عَلَى الْجَلَاءِ فَجَلَتْ بَنُو النَّضِيرِ وَاحْتَمَلُوا مَا أَقَلَّتِ الإِبِلُ مِنْ أَمْتِعَتِهِمْ وَأَبْوَابِ بُيُوتِهِمْ وَخَشَبِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَ نَخْلُ بَنِي النَّضِيرِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهَا وَخَصَّهُ بِهَا فَقَالَ:‏‏‏‏ وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلا رِكَابٍ سورة الحشر آية 6، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ بِغَيْرِ قِتَالٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَعْطَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَهَا لِلْمُهَاجِرِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَسَمَهَا بَيْنَهُمْ وَقَسَمَ مِنْهَا لِرَجُلَيْنِ مِنَ الأَنْصَارِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَا ذَوِي حَاجَةٍ لَمْ يَقْسِمْ لِأَحَدٍ مِنَ الأَنْصَارِ غَيْرِهِمَا، ‏‏‏‏‏‏وَبَقِيَ مِنْهَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي أَيْدِي بَنِي فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا.
Narrated A man from the companions of the Prophet: Abdur Rahman ibn Kab ibn Malik reported on the authority of a man from among the companions of the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم: The infidels of the Quraysh wrote (a letter) to Ibn Ubayy and to those who worshipped idols from al-Aws and al-Khazraj, while the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم was at that time at Madina before the battle of Badr. (They wrote): You gave protection to our companion. We swear by Allah, you should fight him or expel him, or we shall come to you in full force, until we kill your fighters and appropriate your women. When this (news) reached Abdullah ibn Ubayy and those who were worshippers of idols, with him they gathered together to fight the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. When this news reached the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم, he visited them and said: The threat of the Quraysh to you has reached its end. They cannot contrive a plot against you, greater than what you yourselves intended to harm you. Are you willing to fight your sons and brethren? When they heard this from the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم, they scattered. This reached the infidels of the Quraysh. The infidels of the Quraysh again wrote (a letter) to the Jews after the battle of Badr: You are men of weapons and fortresses. You should fight our companion or we shall deal with you in a certain way. And nothing will come between us and the anklets of your women. When their letter reached the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم, they gathered Banu an-Nadir to violate the treaty. They sent a message to the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم: Come out to us with thirty men from your companions, and thirty rabbis will come out from us till we meet at a central place where they will hear you. If they testify to you and believe in you, we shall believe in you. The narrator then narrated the whole story. When the next day came, the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم went out in the morning with an army, and surrounded them. He told them: I swear by Allah, you will have no peace from me until you conclude a treaty with me. But they refused to conclude a treaty with him. He therefore fought them the same day. Next he attacked Banu Quraysh with an army in the morning, and left Banu an-Nadir. He asked them to sign a treaty and they signed it. He turned away from them and attacked Banu an-Nadir with an army. He fought with them until they agreed to expulsion. Banu an-Nadir were deported, and they took with them whatever their camels could carry, that is, their property, the doors of their houses, and their wood. Palm-trees were exclusively reserved for the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. Allah bestowed them upon him and gave them him as a special portion. He (Allah), the Exalted, said: What Allah has bestowed on His Messenger (and taken away) from them, for this ye made no expedition with either camel corps or cavalry. He said: Without fighting. So the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم gave most of it to the emigrants and divided it among them; and he divided some of it between two men from the helpers, who were needy, and he did not divide it among any of the helpers except those two. The rest of it survived as the sadaqah of the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم which is in the hands of the descendants of Fatimah (Allah be pleased with her).
عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ کفار قریش نے اس وقت جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آ گئے تھے اور جنگ بدر پیش نہ آئی تھی عبداللہ بن ابی اور اس کے اوس و خزرج کے بت پرست ساتھیوں کو لکھا کہ تم نے ہمارے ساتھی ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اپنے یہاں پناہ دی ہے، ہم اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ تم اس سے لڑ بھڑ ( کر اسے قتل کر دو ) یا اسے وہاں سے نکال دو، نہیں تو ہم سب مل کر تمہارے اوپر حملہ کر دیں گے، تمہارے لڑنے کے قابل لوگوں کو قتل کر دیں گے اور تمہاری عورتوں کو اپنے لیے مباح کر لیں گے۔ جب یہ خط عبداللہ بن ابی اور اس کے بت پرست ساتھیوں کو پہنچا تو وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کے لیے جمع ہوئے، جب یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ جا کر ان سے ملے اور انہیں سمجھایا کہ قریش کی دھمکی اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی دھمکی ہے، قریش تمہیں اتنا ضرر نہیں پہنچا سکتے جتنا تم خود اپنے تئیں ضرر پہنچا سکتے ہو، کیونکہ تم اپنے بیٹوں اور اپنے بھائیوں سے لڑنا چاہتے ہو، جب ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا تو وہ آپس میں ایک رائے نہیں رہے، بٹ گئے، ( جنگ کا ارادہ سب کا نہیں رہا ) تو یہ بات کفار قریش کو پہنچی تو انہوں نے واقعہ بدر کے بعد پھر اہل یہود کو خط لکھا کہ تم لوگ ہتھیار اور قلعہ والے ہو تم ہمارے ساتھی ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) سے لڑو نہیں تو ہم تمہاری ایسی تیسی کر دیں گے ( یعنی قتل کریں گے ) اور ہمارے درمیان اور تمہاری عورتوں کی پنڈلیوں و پازیبوں کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو گی، جب ان کا خط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ لگا، تو بنو نضیر نے فریب دہی و عہدشکنی کا پلان بنا لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہلا بھیجا کہ آپ اپنے اصحاب میں سے تیس آدمی لے کر ہماری طرف نکلئے، اور ہمارے بھی تیس عالم نکل کر آپ سے ایک درمیانی مقام میں رہیں گے، وہ آپ کی گفتگو سنیں گے اگر آپ کی تصدیق کریں گے اور آپ پر ایمان لائیں گے تو ہم سب آپ پر ایمان لے آئیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے ان کی یہ سب باتیں بیان کر دیں، دوسرے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا لشکر لے کر ان کی طرف گئے اور ان کا محاصرہ کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: اللہ کی قسم ہمیں تم پر اس وقت تک اطمینان نہ ہو گا جب تک کہ تم ہم سے معاہدہ نہ کر لو گے ، تو انہوں نے عہد دینے سے انکار کیا ( کیونکہ ان کا ارادہ دھوکہ دینے کا تھا ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس دن جنگ کی، پھر دوسرے دن آپ نے اپنے لشکر کو لے کر قریظہ کے یہودیوں پر چڑھائی کر دی اور بنو نضیر کو چھوڑ دیا اور ان سے کہا: تم ہم سے معاہدہ کر لو ، انہوں نے معاہدہ کر لیا کہ ( ہم آپ سے نہ لڑیں گے اور نہ آپ کے دشمن کی مدد کریں گے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو قریظہ سے معاہدہ کر کے واپس آ گئے، دوسرے دن پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوجی دستے لے کر بنو نضیر کی طرف بڑھے اور ان سے جنگ کی یہاں تک کہ وہ جلا وطن ہو جانے پر راضی ہو گئے تو وہ جلا وطن کر دئیے گئے، اور ان کے اونٹ ان کا جتنا مال و اسباب گھروں کے دروازے اور کاٹ کباڑ لاد کر لے جا سکے وہ سب لاد کر لے گئے، ان کے کھجوروں کے باغ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص ہو گئے، اللہ نے انہیں آپ کو عطا کر دیا، اور آپ کے لیے خاص کر دیا، اور ارشاد فرمایا: «وما أفاء الله على رسوله منهم فما أوجفتم عليه من خيل ولا ركاب» اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو کافروں کے مال میں سے جو کچھ عطا کیا ہے وہ تمہارے اونٹ اور گھوڑے دوڑانے یعنی جنگ کرنے کے نتیجہ میں نہیں دیا ہے ( سورۃ الحشر: ۶ ) ۔ راوی کہتے ہیں: «فما أوجفتم عليه من خيل ولا ركاب» کے معنی ہیں جو آپ کو بغیر لڑائی کے حاصل ہوا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا زیادہ تر حصہ مہاجرین کو دیا اور انہیں کے درمیان تقسیم فرمایا اور اس میں سے آپ نے دو ضرورت مند انصاریوں کو بھی دیا، ان دو کے علاوہ کسی دوسرے انصاری کو نہیں دیا، اور جس قدر باقی رہا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقہ تھا جو فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد کے ہاتھ میں رہا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۵۶۲۲)
3004
Zaeef
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ:‏‏‏‏ يَهُودَ بَنِي النَّضِيرِ وَقُرَيْظَةَ حَارَبُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَجْلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي النَّضِيرِ وَأَقَرَّ قُرَيْظَةَ وَمَنَّ عَلَيْهِمْ حَتَّى حَارَبَتْ قُرَيْظَةُ بَعْدَ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَتَلَ رِجَالَهُمْ وَقَسَمَ نِسَاءَهُمْ وَأَوْلَادَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا بَعْضَهُمْ لَحِقُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّنَهُمْ وَأَسْلَمُوا وَأَجْلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودَ الْمَدِينَةِ كُلَّهُمْ بَنِي قَيْنُقَاعَ وَهُمْ قَوْمُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ وَيَهُودَ بَنِي حَارِثَةَ وَكُلَّ يَهُودِيٍّ كَانَ بِالْمَدِينَةِ.
Ibn Umar said “The Jews Al Nadir and Quraizah fought with the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم, so the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم expelled Banu Al Nadir and allowed the Quraizah to stay and favored them. The Quraizah thereafter fought (with the Prophet). ” So he killed their men and divided their women, property and children among Muslims except some of them who associated with the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. He gave them protection and later on they embraced Islam. The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم expelled all the Jews of Madeenah in Toto, Banu Qainuqa, they were the people of Abd Allaah bin Salam, the Jews of Banu Harith and any of Jews who resided in Madeenah.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بنو نضیر اور بنو قریظہ کے یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کی آپ نے بنو نضیر کو جلا وطن کر دیا، اور بنو قریظہ کو رہنے دیا اور ان پر احسان فرمایا ( اس لیے کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے معاہدہ کر لیا تھا ) یہاں تک کہ قریظہ اس کے بعد لڑے ۱؎ تو ان کے مرد مارے گئے، ان کی عورتیں، ان کی اولاد، اور ان کے مال مسلمانوں میں تقسیم کر دئیے گئے، ان میں کچھ ہی لوگ تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر ملے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں امان دی، وہ مسلمان ہو گئے، باقی مدینہ کے سارے یہودیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ سے نکال بھگایا، بنو قینقاع کے یہودیوں کو بھی جو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی قوم سے تھے اور بنو حارثہ کے یہودیوں کو بھی اور جو کوئی بھی یہودی تھا سب کو مدینہ سے نکال باہر کیا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المغازي ۱۴ (۴۰۲۸)، صحیح مسلم/الجھاد ۲۰ (۱۷۶۶)، (تحفة الأشراف: ۸۴۵۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۱۴۹)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : جنگ خندق کے موقع پر انہوں نے بد عہدی کی اور در پردہ قریش کی اعانت کی۔
3005
Sahih

Chapters

40
01
CHAPTER: What Is Required Upon The Imam In The Case Of Those Under Him.
باب: امام ( حکمراں ) پر رعایا کے کون سے حقوق لازم ہیں ؟
1 Hadith
02
CHAPTER: What Has Been Related About Seeking A Position Of Leadership.
باب: حکومت و اقتدار کو طلب کرنا کیسا ہے ؟
2 Hadith
03
CHAPTER: Regarding A Blind Man Being Given A Position Of Leadership.
باب: اندھے کو حاکم بنانا درست ہے ۔
1 Hadith
04
CHAPTER: Regarding Appointing A Minister.
باب: وزیر مقرر کرنے کا بیان ۔
1 Hadith
05
CHAPTER: Regarding Al-’Arafah.
باب: عرافت کا بیان ۔
2 Hadith
06
CHAPTER: Regarding Appointing A Secretary (Katib).
باب: سکریٹری اور منشی رکھنے کا بیان ۔
1 Hadith
07
CHAPTER: On Collecting Charity.
باب: زکاۃ وصول کرنے کا بیان ۔
3 Hadith
08
CHAPTER: Regarding The Appointment Of The Khalifah.
باب: خلیفہ ( اپنے بعد ) خلیفہ نامزد کر سکتا ہے ۔
1 Hadith
09
CHAPTER: What Has Been Related About The Bai’ah (Pledge of Allegiance).
باب: بیعت کا بیان ۔
3 Hadith
10
CHAPTER: Regarding Granting Provision To (Government) Employees.
باب: ملازمین کی تنخواہ کا بیان ۔
3 Hadith
11
CHAPTER: Regarding Gifts For An Employee (In Government).
باب: ملازمین کو ہدیہ لینا کیسا ہے ؟
1 Hadith
12
CHAPTER: Ghulul In Charity.
باب: صدقہ و زکاۃ میں چوری اور خیانت کی سزا کا بیان ۔
1 Hadith
13
CHAPTER: Regarding Matters Of Those Who Are Under Imam, His Duties, And Him Secluding Himself From Them.
باب: امام پر رعایا کے کیا حقوق ہیں ؟ اور ان حقوق کے درمیان رکاوٹ بننے کا وبال ۔
3 Hadith
14
CHAPTER: Regarding Dividing The Fai’.
باب: فے یعنی جنگ کے بغیر حاصل ہونے والے مال غنیمت کی تقسیم کا بیان ۔
3 Hadith
15
CHAPTER: Regarding Providing For Offspring.
باب: مسلمانوں کی اولاد کو وظیفہ دینے کا بیان ۔
3 Hadith
16
CHAPTER: The Age Upon Which A Man Is Entitled (To A Share) Due To Fighting.
باب: لڑائی میں کس عمر کے مرد کا حصہ لگایا جائے ؟
1 Hadith
17
CHAPTER: The Disapproval of Taking Share In Later Times.
باب: آخری زمانہ میں عطیہ لینے کی کراہت کا بیان ۔
2 Hadith
18
CHAPTER: Registering The Names Of Those Who Are Given Something.
باب: وظیفہ کے مستحقین کے ناموں کو رجسٹر میں لکھنے کا بیان ۔
3 Hadith
19
CHAPTER: Regarding Allocating A Special Portion For The Messenger Of Allah (saws) From Wealth.
باب: مال غنیمت میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے جو مال منتخب کیا اس کا بیان ۔
15 Hadith
20
CHAPTER: The Division Of The Khumus And The Share Of His Relatives.
باب: خمس کے مصارف اور قرابت داروں کو حصہ دینے کا بیان ۔
13 Hadith
21
CHAPTER: The Special Portion (As-Safi) Of The Prophet (saws) That Was taken From The Spoils Of War.
باب: خمس سے پہلے صفی یعنی جس مال کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے منتخب کر لیتے تھے کا بیان ۔
9 Hadith
22
CHAPTER: How Were The Jews Expelled From Al-Madinah?
باب: مدینہ سے یہود کیسے نکالے گئے ۔
4 Hadith
23
CHAPTER: Regarding The Incidents With An-Nadir.
باب: بنو نضیر سے جنگ کا بیان ۔
2 Hadith
24
CHAPTER: What Has Been Related About The Ruling On The Land Of Khaibar.
باب: خیبر کی زمینوں کے حکم کا بیان ۔
15 Hadith
25
CHAPTER: The Conquest Of Makkah.
باب: فتح مکہ کا بیان ۔
4 Hadith
26
CHAPTER: The Conquest Of At-Ta’if.
باب: فتح طائف کا بیان ۔
1 Hadith
27
CHAPTER: The Ruling On The Land Of Yemen.
باب: یمن کی زمین کے حکم کا بیان ۔
3 Hadith
28
CHAPTER: The Expulsion Of The Jews From Arabia.
باب: جزیرہ عرب سے یہود کے نکالنے کا بیان ۔
6 Hadith
29
CHAPTER: Making Endowments Of The Lands Of As-Sawad, And The Lands That Were Conquered By Force.
باب: کافروں سے جنگ میں ہاتھ آ نے والی نیز سواد نامی علاقے کی زمینوں کو مصالح عامہ کے لیے روک رکھنے اور اسے غنیمت میں تقسیم نہ کرنے کا بیان ۔
2 Hadith
30
CHAPTER: Regarding Levying The Jizyah.
باب: جزیہ لینے کا بیان ۔
5 Hadith
31
CHAPTER: Levying Jizyah On The Zoroastrians.
باب: مجوس سے جزیہ لینے کا بیان ۔
3 Hadith
32
CHAPTER: Harshness In Takin Jizyah.
باب: جزیہ کے وصول کرنے میں ظلم کرنا ناجائز ہے ۔
1 Hadith
33
CHAPTER: Levying The ’Ushur On Ahl Adh-Dhimmah If They Deal In Trade.
باب: ذمی مال تجارت لے کر پھریں تو ان سے عشر ( دسواں حصہ ) وصول کیا جائے گا ۔
7 Hadith
34
CHAPTER: If A Dhimmi Becomes Muslim During Part Of The Year, Does He Have To Pay Jizyah?
باب: ذمی اگر دوران سال مسلمان ہو جائے تو کیا اس سے گزری مدت کا جزیہ لیا جائے گا ؟
2 Hadith
35
CHAPTER: Regarding The Imam Accepting Gifts From Idolaters.
باب: امام کا کفار و مشرکین سے ہدیہ قبول کرنا ۔
3 Hadith
36
CHAPTER: Allocation Of Land.
باب: زمین جاگیر میں دینے کا بیان ۔
23 Hadith
37
CHAPTER: What Has Been Related About Entering Kharaj Lands.
باب: خراج کی زمین میں رہنے کا بیان ۔
2 Hadith
38
CHAPTER: Land Protected By A Ruler Or By A Man.
باب: امام یا کوئی اور شخص زمین ( چراگاہ اور پانی ) اپنے لیے گھیر لے تو کیسا ہے ؟
2 Hadith
39
CHAPTER: Ar-Rikaz (Buried Treasure) And The Levy Due On It.
باب: دفینہ کے حکم کا بیان ۔
3 Hadith
40
CHAPTER: Digging Up Ancient Graves In Which There Is Wealth.
باب: مدفون مال کے لیے پرانی قبروں کی کھدائی کا بیان ۔
1 Hadith
No chapter matched that.