TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4404 - CHAPTER: A child who commits a crime that is subject to a had (punishment). - Prescribed punishments (kitab al-hudud) - Sunnan Abu Dawood in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 4 in this chapter
CHAPTER: A child who commits a crime that is subject to a had (punishment).
باب: نابالغ لڑکا حد کا مرتکب ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي عَطِيَّةُ الْقُرَظِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ مِنْ سَبْيِ بَنِي قُرَيْظَةَ فَكَانُوا يَنْظُرُونَ فَمَنْ أَنْبَتَ الشَّعْرَ قُتِلَ وَمَنْ لَمْ يُنْبِتْ لَمْ يُقْتَلْ فَكُنْتُ فِيمَنْ لَمْ يُنْبِتْ .
Narrated Atiyyah al-Qurazi: I was among the captives of Banu Qurayzah. They (the Companions) examined us, and those who had begun to grow hair (pubes) were killed, and those who had not were not killed. I was among those who had not grown hair.
عطیہ قرظی کہتے ہیں کہ بنی قریظہ کے قیدیوں میں میں بھی تھا تو لوگ دیکھتے تھے جس کے زیر ناف کے بال اگے ہوتے انہیں قتل کر دیتے تھے اور جن کے بال نہیں اگے تھے انہیں قتل نہیں کرتے، تو میں ان لوگوں میں سے تھا جن کے بال نہیں اگے تھے۔
4404
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan Abi Dawud 4404 In-book reference : Book 40, Hadith 54 English translation : Book 39, Hadith 4390
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/السیر ۲۹ (۱۵۸۴)، سنن النسائی/الطلاق ۲۰ (۳۴۶۰)، قطع السارق ۱۴ (۴۹۸۴)، سنن ابن ماجہ/الحدود ۴ (۲۵۴۲)، (تحفة الأشراف: ۹۹۰۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ۴/۳۱۰، ۳۸۳، ۵/۳۱۲، ۳۸۳)

Related Chapters

856
1
CHAPTER: If an insane person steals or commits a crime that is subject to a had.
باب: دیوانہ اور پاگل چوری کرے یا حد کا ارتکاب کرے تو کیا حکم ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
2
(26) CHAPTER. If a husband hints that he suspects his paternity to a child.
جب اشاروں سے اپنی بیوی کے بچے کا انکار کرے اورصاف نہ کہہ سکے کہ یہ میرا لڑکا نہیں ہے تو کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
3
(34) CHAPTER. Whoever ordered somebody other than the ruler to carry out the legal punishment in the absence of the ruler.
جو شخص حاکم اسلام کے پاس نہ ہو ( کہیں اور ہو ) لیکن اس کو حد لگانے کے لیے حکم دیا جائے
Sahih Bukhari
4
Chapter: What Has Been Related About The Imam Getting Up Forgetfully After Two Rak'ah
باب: امام دو رکعت کے بعد بیٹھنے کے بجائے بھول کر کھڑا ہو جائے تو کیا حکم ہے؟
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About When A Boy Is Ordered To Perform Salat
باب: بچے کو نماز کا حکم کب دیا جائے گا؟
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About The Fasting Person Who Is Overcome By Vomiting
باب: روزہ دار کو (خودبخود) قے آ جائے اس کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About The Rewards For One Whose Child Died Before Him
باب: اس شخص کے ثواب کا بیان جس نے کوئی لڑکا ذخیرہ آخرت کے طور پر پہلے بھیج دیا ہو
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About a Man Who Died Before Stipulating The Dowry For Her
باب: آدمی شادی کرے اور مہر مقرر کرنے سے پہلے مر جائے تو کیا حکم ہے؟
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About When A Man In Debt Becomes Bankrupt And One's Goods Are Found With Him
باب: قرض دار مفلس ہو جائے اور آدمی اس کے پاس اپنا سامان پائے تو اس کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About Averting The Legal Punishments From The One Who Confessed If He Changes His Mind
باب: مجرم اپنے اقرار سے پھر جائے تو اس سے حد ساقط کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Shoots Some Game Then He Loses Sight Of It
باب: آدمی شکار کو تیر مارے اور شکار غائب ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About Whoever Takes An Oath And Then Sees That Something Else Is Better Than It
باب: کسی کام پر قسم کھانے کے بعد اس سے بہتر کام جان جائے تو اس کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What has been Related About A Man Negating The Legitimacy Of His Child
باب: باپ اپنے بچے کا انکار کر دے تو اس کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
14
اس پانی کے حکم کا بیان، جس کے ساتھ نجاست مل جائے اور بئرِ بضاعہ کی تفصیل
Musnad Ahmad
15
غسل خانے سے باہر آ کر پاؤں کو دھونے، تولیہ وغیرہ سے پانی خشک کرنے کے حکم اور نماز کا ارادہ رکھنے والے کا وضو کی بجائے غسل پر اکتفا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
16
اس امام کے حکم کا بیان، جس کو (دورانِ نماز) یہ یاد آجائے کہ وہ بے وضو ہے
Musnad Ahmad
17
دو رکعت نماز جمعہ ہونے کا بیان، اس آدمی کا حکم جس سے ایک رکعت رہ جائے یا ہجوم کر دیا جائے اور جمعہ کے صحیح ہونے کے لیے مسجد کی شرط لگانے والے کا بیان
Musnad Ahmad
18
نمازِ خوف کی مشروعیت کا سبب، اس کا حکم اور یہ کب ادا کی جائے گی نماز خوف کی اقسام میں سے پہلی قسم کا بیان
Musnad Ahmad
19
مصیبت زدہ کی تعزیت کرنا، صبر کرنے کا ثواب، صبر کرنے کا حکم اور ایسی صورتوں میں کیا کہا جائے، ان سب امور کا بیان
Musnad Ahmad
20
حد قائم کرنے کی ترغیب اور جب مقدمہ حکمران تک پہنچ جائے تو اس کی معافی کے لیے سفارش کرنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
21
اس چیز کے سنت ہونے کا بیان کہ گواہ خود سنگسار کرنے کی ابتداء کرے اور زانی کے اقرار کرنے کی صورت میں حکمران ابتداء کرے، نیز اس چیز کا بیان کہ شادی شدہ زانی کو کوڑے لگا کر رجم کیا جائے
Musnad Ahmad
22
جب غلام، آقا کی چوری کرے تو کیا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، نیز بھاگے ہوئے غلام کا حکم کیا ہے، جب وہ چوری کرے
Musnad Ahmad
23
جس آدمی سے شراب کا نشہ یا اس کی بو محسوس کی جا رہی ہو، کیا اس پر حکم ثابت ہو جائے گی، اگرچہ وہ اعتراف نہ کرے؟
Musnad Ahmad
24
شریعت میں کہانت کے حکم اور اس کے مصدر کا بیان، نیز بعض امور میں کاہن کی کیسے تصدیق کی جائے گی؟
Musnad Ahmad
25
کیا دودھ پلانے والی خاتون کے خاوند اور اس کے رشتہ داروں کے لیے بھی رضاعت کا حکم ثابت ہو جائے گا یا نہیں
Musnad Ahmad
26
اس چیز کا بیان کہ تمام اشیاء کا اصل حکم اباحت کا ہے، جب تک منع نہ کر دیا جائے یا فرض نہ قرار دیا جائے
Musnad Ahmad
27
(65) CHAPTER. If the (traces of) Janaba (semen) or other spots are not removed completely on washing.
اگر منی یا کوئی اور نجاست ( مثلاً حیض کا خون ) دھوئے اور ( پھر ) اس کا اثر نہ جائے ( تو کیا حکم ہے ؟ )
Sahih Bukhari
28
CHAPTER. If the clothes of a praying person in prostration touched his wife [would that make his Salat (prayer) invalid]?
جب سجدے میں آدمی کا کپڑا اس کی عورت سے لگ جائے تو کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
29
(6) CHAPTER. The superiority of the person whose child dies and he faces the event with patience hoping for Allah's reward.
اس شخص کی فضیلت جس کی کوئی اولاد مر جائے اور وہ اجر کی نیت سے صبر کرے
Sahih Bukhari
30
(62) CHAPTER. The offering of the funeral Salat (prayer) of a woman who died during the delivery (of a child).
اگر کسی عورت کا نفاس کی حالت میں انتقال ہو جائے تو اس پر نماز جنازہ پڑھنا
Sahih Bukhari
31
(91) CHAPTER. What is said regarding the dead children of Muslims.
مسلمانوں کی نابالغ اولاد کہاں رہے گی ؟
Sahih Bukhari
32
(92) CHAPTER. What is said regarding the (dead) children of Al-Mushrikun.
مشرکین کی نابالغ اولاد کا بیان
Sahih Bukhari
33
(57) CHAPTER. Zakat of dates should be taken during their plucking season. Can a child touch the dates collectd as Zakat?
کھجور کے پھل توڑنے کے وقت زکوٰۃ لی جائے
Sahih Bukhari
34
(95) CHAPTER. In cases where there is no fixed judgement, the traditions and conventions of each community are to be referred to, to deduce a judgement in such matters as sales, renting, measuring and weighing.
خریدوفروخت اور اجارے میں ہر ملک کے دستور کے موافق حکم دیا جائے گا
Sahih Bukhari
35
(23) CHAPTER. The defendant has to take an oath wherever it becomes legally compulsory, and it is not imperative to take him from his place to another place (i.e., a sacred place like a mosque) for this purpose.
مدعیٰ علیہ پر جہاں قسم کھانے کا حکم دیا جائے وہیں قسم کھا لے یہ ضروری نہیں کہ کسی دوسری جگہ پر جا کر قسم کھائے
Sahih Bukhari
36
(5) CHAPTER. If a patient gives an evident clear sign by nodding, (is that sign to be taken as a valid evidence?).
اگر مریض اپنے سر سے کوئی صاف اشارہ کرے تو اس پر حکم دیا جائے گا ؟
Sahih Bukhari
37
(183) CHAPTER. (It is permissible for) somebody to take over the leadership of the army during a battle with being appointed when there is danger from the enemy.
جو شخص میدان جنگ میں جبکہ دشمن کا خوف ہو امام کے کسی نئے حکم کے بغیر امیر لشکر بن جائے
Sahih Bukhari
38
(18) CHAPTER. Not taking the Khumus from the spoils of a killed infidel.
مقتول کے جسم پر جو سامان ہو ﴿ کپڑے ، ہتھیار وغیرہ ﴾ وہ سامان تقسیم میں شریک ہو گا نہ اس میں سے خمس لیا جائے گا بلکہ وہ سارا قاتل کو ملے گا اور امام کا ایسا حکم دینے کا بیان
Sahih Bukhari
39
(39) CHAPTER. Giving one's young children in marriage (is permissible).
آدمی اپنی نابالغ لڑکی کا نکاح کر سکتا ہے ۔
Sahih Bukhari
40
(35) CHAPTER. The child is to be given to the lady (accused by her husband for an illegal sexual intercourse).
لعان کے بعد عورت کا بچہ ( جس کو مرد کہے کہ یہ میرا بچہ نہیں ہے ) ماں سے ملادیا جائے گا ( اسی کا بچہ کہلائے گا ) ۔
Sahih Bukhari
41
(3) CHAPTER. The game killed by the broad side of Al-Mirad. (i.e., a sharp-edged piece of wood or a piece of wood provided with a sharp piece of iron for hunting).
جب بے پر کے تیر یا لکڑی کے عرض سے شکار مارا جائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
42
(23) CHAPTER. Any domestic animal that runs away should be treated like a wild animal.
اس بیان میں کہ جو پالتو جانور بدک جائے وہ جنگلی جانور کے حکم میں ہے ۔
Sahih Bukhari
43
(34) CHAPTER. If a mouse falls into solid or liquid butter-fat (As-Samn).
جب جمے ہوئے یا پگھلے ہوئے گھی میں چوہا پڑ جائے تو کیا حکم ہے ۔
Sahih Bukhari
44
(19) CHAPTER. Al-Wala is for the manumitter. (Regarding) the inheritance of Al-Laqit (a small child or an insane person, who has nobody to be responsible for him).
غلام لونڈی کا ترکہ وہی لے گا جو اسے آزاد کرے اور جو لڑکا راستہ میں پڑا ہوا ملے اس کی وراثت کا بیان
Sahih Bukhari
45
(3) CHAPTER. Whoever ordered that the legal punishment was to be carried out at home.
جس نے گھر میں حد مارنے کا حکم دیا ۔
Sahih Bukhari
46
(12) CHAPTER. Intercession is not recommended in the matter of legal punishment after the case has been filed with the authorities.
جب حدی مقدمہ حاکم کے پاس پہنچ جائے پھر سفارش کرنا منع ہے بلکہ گناہ عظیم ہے ۔
Sahih Bukhari
47
(26) CHAPTER. If somebody commits a sin which is less than what deserve the legal punishment; and then informs the ruler, no punishment is to be inflicted on him after his repentance to Allah if he comes to the ruler with the intention of asking for a verdict about his sin.
جس نے کوئی ایسا گناہ کیا جس پر حد نہیں ( مثلاً اجنبی عورت کو بوسہ دیا یا اس سے مساس کیا )
Sahih Bukhari
48
(37) CHAPTER. The legal regulation for non-Muslims under the protection of a Muslim state. The fact that a non-Muslim is married, is to be taken into consideration when he commits illegal sexual intercourse and is brought to the Iman (Muslim ruler).
لونڈی کو شرعی سزا دینے کے بعد پھر ملامت نہ کرے نہ لونڈی جلاوطن کی جائے
Sahih Bukhari
49
(42) CHAPTER. What Punishment may be inflicted on the person so that he may not commit the same sin again, or so that he may learn good manners.
اگر کسی شخص کی بےحیائی اور بے شرمی اور آلودگی پر گواہ نہ ہوں پھر قرائن سے یہ امر کھل جائے
Sahih Bukhari
50
(46) CHAPTER. Can a ruler order somebody to inflict the legal punishment on someone without himself being present? Umar did so (during his caliphate).
اگر امام کسی شخص کو حکم کرے کہ جا فلاں شخص کو حد لگا جو غائب ہو ( یعنی امام کے پاس موجود نہ ہو ) حضرت عمر رضیاللہعنہ نے ایسا کیا ہے ۔
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,394
Sunnan Abu Dawood
3589
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى ابْنِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا يَقْضِي الْحَكَمُ بَيْنَ اثْنَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ غَضْبَانُ .
Abdur-Rahman bin Abi Bakrah reported on the authority of his father that he wrote to his son: The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: A judge should not decide between the two while he is in anger.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے اپنے بیٹے کے پاس لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: غصے کی حالت میں قاضی دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے ۔
Jam e Tirmazi
429
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ هُوَ:‏‏‏‏ الْعَقَدِيُّ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُؤْمِنِينَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍوَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَاخْتَارَ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنْ لَا يُفْصَلَ فِي الْأَرْبَعِ قَبْلَ الْعَصْرِ وَاحْتَجَّ بِهَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ إِسْحَاق:‏‏‏‏ وَمَعْنَى قَوْلِهِ أَنَّهُ يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِالتَّسْلِيمِ يَعْنِي التَّشَهُّدَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَأَى الشافعي،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ صَلَاةَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى يَخْتَارَانِ الْفَصْلَ فِي الْأَرْبَعِ قَبْلَ الْعَصْرِ.
Ali narrated: Allah's Messenger (S) would pray four Rak'ah before Al-Asr separating between them with At-Taslim upon the angels that are close (to Allah) and those who follow them among the Muslims and the believers.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے تھے، اور ان کے درمیان: مقرب فرشتوں اور ان مسلمانوں اور مومنوں پر کہ جنہوں نے ان کی تابعداری کی ان پر سلام کے ذریعہ فصل کرتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے۔ ۲- اس باب میں ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ اسحاق بن ابراہیم ( ابن راہویہ ) نے عصر سے پہلے کی چار رکعتوں میں فصل نہ کرنے کو ترجیح دی ہے، اور انہوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے۔ اسحاق کہتے ہیں: ان کے ( علی کے ) قول ”سلام کے ذریعے ان کے درمیان فصل کرنے“ کے معنی یہ ہیں کہ آپ دو رکعت کے بعد تشہد پڑھتے تھے، اور شافعی اور احمد کی رائے ہے کہ رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے اور وہ دونوں عصر سے پہلے کی چار رکعتوں میں سلام کے ذریعہ فصل کرنے کو پسند کرتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
681
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :‏‏‏‏ إِنْ الْمَسْأَلَةَ كَدٌّ يَكُدُّ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ إِلاَّ أَنْ يَسْأَلَ الرَّجُلُ سُلْطَانًا أَوْ فِي أَمْرٍ لاَ بُدَّ مِنْهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Samurah bin Jundub narrated that : the Messenger of Allah said: Asking is a labor that toils on a man's face, except if a man asks for something from the Sultan (ruler), or he asks for something that he cannot do without.
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مانگنا ایک زخم ہے جس سے آدمی اپنا چہرہ زخمی کر لیتا ہے، سوائے اس کے کہ آدمی حاکم سے مانگے ۱؎ یا کسی ایسے کام کے لیے مانگے جو ضروری اور ناگزیر ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
1311
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي الثَّمَرِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ أَسْلَفَ، ‏‏‏‏‏‏فَلْيُسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ، ‏‏‏‏‏‏وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏أَجَازُوا السَّلَفَ فِي الطَّعَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَالثِّيَابِ وَغَيْرِ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏مِمَّا يُعْرَفُ حَدُّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَصِفَتُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَاخْتَلَفُوا فِي السَّلَمِ فِي الْحَيَوَانِ، ‏‏‏‏‏‏فَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏السَّلَمَ فِي الْحَيَوَانِ جَائِزًا، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ الشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وَكَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏السَّلَمَ فِي الْحَيَوَانِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَهْلِ الْكُوفَةِ، ‏‏‏‏‏‏أَبُو الْمِنْهَالِ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُطْعِمٍ.
Narrated Ibn 'Abbas: When the Prophet (ﷺ) arrived in Al-Madinah, they were paying in advance for fruits. So he said: 'Whoever pays in advance, then let him pay in advance for known measurements (of dates), and known weights for a specified period of time.' He said: There are narrations on this topic from Ibn Abi Awfa and 'Abdur-Rahman bin Abza. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Ibn 'Abbas is a Hasan Sahih Hadith. This is acted upon according to the people of knowledge among the Companions of the Prophet (ﷺ) and others. They allow for advanced payments on food, garments and other things in which the limits and description are known. They differed over delay in delivery of animals. Some of the people of knowledge among the Companions of the Prophet (ﷺ) and others thought that delay in delivery of animals is allowed. This is the view of Ash-Shafi'i, Ahmad and Ishaq. Some of the people of knowledge among the Companions of the Prophet (ﷺ) and others, disliked delay in delivery of animals. This is the saying of Sufyan and the people of Al-Kufah. And Abu Al-Minhal's (a narrator) name is 'Abdur-Rahman bin Mut'im.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے اور اہل مدینہ پھلوں میں سلف کیا کرتے تھے یعنی قیمت پہلے ادا کر دیتے تھے، آپ نے فرمایا: ”جو سلف کرے وہ متعین ناپ تول اور متعین مدت میں سلف کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن ابی اوفی اور عبدالرحمٰن بن ابزی رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ غلہ، کپڑا، اور جن چیزوں کی حد اور صفت معلوم ہو اس کی خریداری کے لیے پیشگی رقم دینے کو جائز کہتے ہیں، ۴- جانور خریدنے کے لیے پیشگی رقم دینے میں اختلاف ہے، ۵- بعض اہل علم جانور خریدنے کے لیے پیشگی رقم دینے کو جائز کہتے ہیں۔ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔ اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے جانور خریدنے کے لیے پیشگی دینے کو مکروہ سمجھا ہے۔ سفیان اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔
Jam e Tirmazi
1357
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،‏‏‏‏ عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ،‏‏‏‏ عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ الثَّعْلَبِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ غُلَامًا بَيْنَ أَبِيهِ وَأُمِّهِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب،‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو،‏‏‏‏ وَجَدِّ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،‏‏‏‏ وَأَبُو مَيْمُونَةَ اسْمُهُ:‏‏‏‏ سُلَيْمٌ،‏‏‏‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ،‏‏‏‏ قَالُوا:‏‏‏‏ يُخَيَّرُ الْغُلَامُ بَيْنَ أَبَوَيْهِ إِذَا وَقَعَتْ بَيْنَهُمَا الْمُنَازَعَةُ فِي الْوَلَدِ،‏‏‏‏ وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ أَحْمَدَ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق،‏‏‏‏ وَقَالَا:‏‏‏‏ مَا كَانَ الْوَلَدُ صَغِيرًا،‏‏‏‏ فَالْأُمُّ أَحَقُّ،‏‏‏‏ فَإِذَا بَلَغَ الْغُلَامُ سَبْعَ سِنِينَ،‏‏‏‏ خُيِّرَ بَيْنَ أَبَوَيْهِ ،‏‏‏‏ هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ:‏‏‏‏ هُوَ هِلَالُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أُسَامَةَ وَهُوَ مَدَنِيٌّ،‏‏‏‏ وَقَدْ رَوَى عَنْهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ،‏‏‏‏ وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ،‏‏‏‏ وَفُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ.
Abu Maimunah narrated from Abu Hurairah who said: The Prophet (ﷺ) gave a boy the choice between his father and his mother.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کو اختیار دیا کہ چاہے وہ اپنے باپ کے ساتھ رہے اور چاہے اپنی ماں کے ساتھ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو اور عبدالحمید بن جعفر کے دادا رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ماں باپ کے درمیان بچے کے سلسلے میں اختلاف ہو جائے تو بچے کو اختیار دیا جائے گا چاہے وہ اپنے باپ کے ساتھ رہے اور چاہے وہ اپنی ماں کے ساتھ رہے۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب بچہ کم سن ہو تو اس کی ماں زیادہ مستحق ہے۔ اور جب وہ سات سال کا ہو جائے تو اس کو اختیار دیا جائے، چاہے تو باپ کے ساتھ رہے یا چاہے تو ماں کے ساتھ رہے۔
Jam e Tirmazi
2658
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا وَحَفِظَهَا وَبَلَّغَهَا فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ:‏‏‏‏ إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمُنَاصَحَةُ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَلُزُومُ جَمَاعَتِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ الدَّعْوَةَ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ .
Narrated 'Abdul-Malik bin 'Umair: from 'Abdur-Rahman bin 'Abdullah bin Mas'ud that he narrated from his father, from the Prophet (ﷺ) who said: May Allah beautify a man who hears a saying of mine, so he understands it, remembers it, and conveys it. Perhaps he carries the Fiqh to one who has more understanding than him. There are three with which the heart of a Muslim shall not be deceived. Sincerity in deeds for Allah, giving Nasihah to the A'immah of Muslims, and sticking to the Jama'ah. For indeed the call is protected from behind them.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو میری بات کو سنے اور توجہ سے سنے، اسے محفوظ رکھے اور دوسروں تک پہنچائے، کیونکہ بہت سے علم کی سمجھ رکھنے والے علم کو اس تک پہنچا دیتے ہیں جو ان سے زیادہ سوجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ تین چیزیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے ایک مسلمان کا دل دھوکہ نہیں کھا سکتا، ( ۱ ) عمل خالص اللہ کے لیے ( ۲ ) مسلمانوں کے ائمہ کے ساتھ خیر خواہی ( ۳ ) اور مسلمانوں کی جماعت سے جڑ کر رہنا، کیونکہ دعوت ان کا چاروں طرف سے احاطہٰ کرتی ہے“۔
Jam e Tirmazi
3012
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَامِعٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي رَاشِدٍ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا مِنْ رَجُلٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي عُنُقِهِ شُجَاعًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ سورة آل عمران آية 180 الْآيَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ مَرَّةً:‏‏‏‏ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِصْدَاقَهُ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سورة آل عمران آية 180، ‏‏‏‏‏‏وَمَنِ اقْتَطَعَ مَالَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ بِيَمِينٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ:‏‏‏‏ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ سورة آل عمران آية 77 ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعْنَى قَوْلِهِ شُجَاعهًا أَقْرَعَ يَعْنِي حَيَّةً.
Narrated Abu Wa'il: 'Abdullah [bin Mas'ud] narrating from the Prophet (ﷺ) that he said: 'There is no person who does not pay the Zakat due on his wealth but on the Day of Resurrection Allah will make a Shuja'a around his neck.' Then he recited the Ayah for us from the Book of Allah, the Mighty and Sublime, testifying to that: And let not those who are stringy with that which Allah has bestowed on them of His bounty... (3:180) And another time he said: 'Testifying to that, the Messenger of Allah (ﷺ) recited: On the Day of Resurrection, the things that they were stingy with... (3:180)' and whoever deprives his Muslim brother of his wealth by swearing, then he shall meet Allah while He is angry with him.' Then testifying to that, the Messenger of Allah (ﷺ) recited the Ayah from Allah's Book: Verily, those who purchase a small gain at the cost of Allah's covenant (3:77).
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی اپنے مال کی زکاۃ ادا نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی گردن میں ایک سانپ ڈال دے گا“، پھر آپ نے اس کے ثبوت کے لیے قرآن کی یہ آیت «ولا يحسبن الذين يبخلون بما آتاهم الله من فضله» ۱؎ پڑھی راوی نے ایک مرتبہ یہ کہا کہ آپ نے اس کی مناسبت سے یہ آیت «سيطوقون ما بخلوا به يوم القيامة» ۲؎ تلاوت فرمائی، اور فرمایا: ”جو شخص اپنے مسلمان بھائی کا مال جھوٹی قسم کھا کر لے لے وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ اللہ اس سے برہم ( اور سخت غصے میں ) ہو گا“، پھر آپ نے اس کی مصداق آیت: «إن الذين يشترون بعهد الله» پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
3398
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَضَعَ يَدَهُ تَحْتَ رَأْسِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَجْمَعُ أَوْ تَبْعَثُ عِبَادَكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Hudhaifah bin Al-Yaman (ra) narrated that: When the Prophet (ﷺ) would sleep, he would put his hand under his head then say: “O Allah, safeguard me from Your Punishment the Day You gather [Your slaves] (Allāhumma qinī `adhābaka yawma tajma`u [`ibādak])” or “you resurrect your slaves (tab`athu `ibādak).”
حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے تو اپنا ہاتھ اپنے سر کے نیچے رکھتے، پھر پڑھتے: «اللهم قني عذابك يوم تجمع أو تبعث عبادك» ”اے اللہ! مجھے تو اس دن کے عذاب سے بچا لے جس دن تو اپنے بندوں کو جمع کرے گا یا اٹھائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
3452
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى عُرِفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِ أَحَدِهِمَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ غَضَبُهُ:‏‏‏‏ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ، ‏‏‏‏‏‏وفي الباب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ
Mu`adh bin Jabal narrated : that one of the two men cursed the other next to the Prophet (ﷺ), until anger could be recognized in the face of one of them. So the Prophet (ﷺ) said: “Verily, I know a statement, that if he were to say it, his anger would leave: ‘I seek refuge in Allah from Shaitan, the rejected (A`ūdhu billāhi minash-shaiṭānir-rajīm).’”
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ دو آدمیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپس میں گالی گلوچ کیا ان میں سے ایک کے چہرے سے غصہ عیاں ہو رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر وہ اس کلمے کو کہہ لے تو اس کا غصہ کافور ہو جائے، وہ کلمہ یہ ہے: «أعوذ بالله من الشيطان الرجيم» ”میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں راندے ہوئے شیطان سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں سلیمان بن سرد سے بھی روایت ہے، اور یہ حدیث مرسل ( منقطع ) ہے۔