TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4618 - CHAPTER: Adherence To The Sunnah. - Model behavior of the prophet (kitab al-sunnah) - Sunnan Abu Dawood in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 10 of 18 in this chapter
CHAPTER: Adherence To The Sunnah.
باب: سنت پر عمل کرنے کی دعوت دینے والوں کے اجر و ثواب کا بیان ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَدِمَ عَلَيْنَا الْحَسَنُ مَكَّةَ، ‏‏‏‏‏‏فَكَلَّمَنِي فُقَهَاءُ أَهْلِ مَكَّةَ أَنْ أُكَلِّمَهُ فِي أَنْ يَجْلِسَ لَهُمْ يَوْمًا يَعِظُهُمْ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏فَاجْتَمَعُوا فَخَطَبَهُمْ فَمَا رَأَيْتُ أَخْطَبَ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَجُلٌ:‏‏‏‏ يَا أَبَا سَعِيدٍ مَنْ خَلَقَ الشَّيْطَانَ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ سُبْحَانَ اللَّهِ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللَّهِ ! خَلَقَ اللَّهُ الشَّيْطَانَ وَخَلَقَ الْخَيْرَ وَخَلَقَ الشَّرَّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الرَّجُلُ:‏‏‏‏ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ كَيْفَ يَكْذِبُونَ عَلَى هَذَا الشَّيْخِ .
Humaid said: Al-Hasan came to us. The jurists of Makkah told me that I should speak to him that some day he should hold a meeting for them and preach to them. He said: Yes. So they gathered and he addressed them. I did not see anyone on orator greater than him. A man said: Abu Saeed, who created Satan? He replied: Glory be to Allah! Is there any creator other than Allah? Allah created Satan, and he created good and created evil. The man said: May Allah ruin them! How do they lie to this old man.
حمید کہتے ہیں کہ حسن ہمارے پاس مکہ تشریف لائے تو اہل مکہ کے فقہاء نے مجھ سے کہا کہ میں ان سے درخواست کروں کہ وہ ان کے لیے ایک دن نشست رکھیں، اور وعظ فرمائیں، وہ اس کے لیے راضی ہو گئے تو لوگ اکٹھا ہوئے اور آپ نے انہیں خطاب کیا، میں نے ان سے بڑا خطیب کسی کو نہیں دیکھا، ایک شخص نے سوال کیا: اے ابوسعید! شیطان کو کس نے پیدا کیا؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے؟ اللہ نے شیطان کو پیدا کیا اور اسی نے خیر پیدا کیا، اور شر پیدا کیا، وہ شخص بولا: اللہ انہیں غارت کرے، کس طرح یہ لوگ اس بزرگ پر جھوٹ باندھتے ہیں ۱؎۔
4618
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan Abi Dawud 4618 In-book reference : Book 42, Hadith 23 English translation : Book 41, Hadith 4601
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۸۵۰۹)
Explanation
شرح و تفصیل
وضاحت: ۱؎ : ہمیشہ اہل بدعت کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ موحدین اور صحیح عقیدہ والوں پر افتراءات باندھتے رہتے ہیں، کچھ لوگوں نے حسن بصری کے متعلق بھی اسی طرح کے بہتان لگائے تھے اسی کی طرف اشارہ ہے۔

Related Chapters

812
1
Chapter: What Has Been Related About One Who Prays Twelve Rak'ah Of Sunnah In A and Night, And What Virtues He Will Have For That
باب: دن و رات میں بارہ رکعتیں سنت پڑھنے کے ثواب کا بیان
Jam e Tirmazi
2
اللہ تعالیٰ کے لیے آپس میں محبت کرنے والوں کے ثواب اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں تیار کیے گئے اجر ِ عظیم اور ہمیشہ کی نعمت کا بیان
Musnad Ahmad
3
CHAPTER: Adherence To The Sunnah.
باب: سنت کی پیروی ضروری ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
4
Chapter: What Has Been Related About: Curtailing The Salam Is A Sunnah
باب: سلام زیادہ نہ کھینچ کر کہنا سنت ہے
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About Deeds During The Ten Days (Of Dhul-Hijjah)
باب: ذی الحجہ کے پہلے عشرے (ابتدائی دس دن) کے عمل کے ثواب کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About The One Who Gives A Bribe And The One Who Takes A Bribe For Judgement
باب: فیصلے میں رشوت دینے اور لینے والوں پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: The Evidence That The Udhiyah (sacrifice) Is A Sunnah
باب: قربانی کے سنت ہونے کی دلیل
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About Calling (To Islam) Before Fighting
باب: جنگ سے پہلے اسلام کی دعوت دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About The Martyr's Reward
باب: شہداء کے اجر و ثواب کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About Adhering To The Sunnah And Staying Away From Innovation
باب: سنت کی پابندی کرنے اور بدعت سے بچنے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
بَابُ الْكِتَابِ إِلَى الْكُفَّارِ وَدُعَائِهِمْ إِلَى الْإِسْلَامِ
کفار کے نام خط لکھنے اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینے کا بیان
Mishkat
12
بَاب الْقِتَال فِي الْجِهَاد
جہاد میں قتال (کے اجر و ثواب) کا بیان
Mishkat
13
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
Musnad Ahmad
14
اسلام اور ہجرت کا پہلے والے گناہوں کو مٹا دینے، دورِ جاہلیت کے اعمال کی وجہ سے مؤاخذہ ہونے اور مسلمان ہو جانے والے کافر کے پہلے والے عمل کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
15
نیک لوگوں کو صدقہ دینے کے مستحبّ ہونے اور بے عمل لوگوں کو دینے کے مکروہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
16
روزے دار کو لغو، فحش کلامی اور غیبت سے متنبّہ کرنے اور ان امور کا روزے کے ثواب کو ضائع کر دینے کا بیان
Musnad Ahmad
17
سفر میں روزہ نہ رکھنے کو افضل قرار دینے والوں کے دلائل کا بیان
Musnad Ahmad
18
میت کی وصیت کی بناء پر اس کی طرف سے قربانی کرنا اور قربانی کا گوشت اچکنے کی اجازت دینے والوں کا اور اچک لینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
19
قتال سے پہلے اسلام کی دعوت دینے اور امام کا لشکر کے امیر کو وصیت کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
20
پرنالوں کا پانی سڑک کی طرف نکال دینے کا جواز، لیکن شرط یہ ہے کہ گزرنے والوں کو تکلیف نہ ہو
Musnad Ahmad
21
زمین کو اس کی بعض پیداوار کے عوض کرائے پر دینے سے منع کرنے والوں اور سونے اور چاندی کے عوض جائز سمجھنے والوں کی دلیل کا بیان
Musnad Ahmad
22
تمام طریقوں سے زمین کو کرائے پر دینے والوں کی دلیل کا اور ممانعت کو نہی تنزیہی پر محمول کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
23
گواہی دینے والے کو لوگوں کے ڈر کی وجہ سے حق چھپانے سے ممانعت کا بیان اور (بغیر مطالبے کے) ثواب حاصل کرنے کے لیے شہادت دینے والے کی گواہی کا بیان
Musnad Ahmad
24
چھپکلی کو قتل کرنے کے مستحب ہونے اور اس کو مارنے والے کے اجر و ثواب کا بیان
Musnad Ahmad
25
محاربین اور راستوں کو غیر محفوظ کر دینے والوں کا بیان
Musnad Ahmad
26
ولیمہ کی دعوت دینے والی کی دعوت قبول کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
27
خاوند کی حیثیت کے مطابق بیوی کا نان و نفقہ واجب ہے، دوسرے رشتہ داروں پر اس کا حق مقدم ہے اور اس خدمت میں خاوند کا اجر و ثواب
Musnad Ahmad
28
ہدایت اور اعمالِ خیر کی طرف دعوت دینے اور ان پر رہنمائی کرنے اور سفارش کرنے اور آپس کی اصلاح کرنے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
29
اس چیز کا بیان کہ جس آدمی کو بیماری نیک عمل کرنے سے روک دے، اس کے لیے اس عمل کا ثواب لکھا جاتا ہے
Musnad Ahmad
30
مطلق طور پر مریض کی عیادت کرنے کی ترغیب اور اس عمل کے ثواب کا بیان
Musnad Ahmad
31
اس چیز کی ترغیب دینے اور اس کی فضیلت اور ایسا کرنے والے کے ثواب کابیان
Musnad Ahmad
32
نسب پر بھروسہ کرتے ہوئے عمل چھوڑ دینے سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
33
دعوت کے ظہور سے پہلے پہل نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پرایمان لانے والوں کا ذکر
Musnad Ahmad
34
فتح مکہ سے قبل مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے والے کے اجر و ثواب کے باقی رہنے کا بیان، اگرچہ بعد میں وہ کسی اور علاقے میں اقامت اختیار کر لے
Musnad Ahmad
35
(15) CHAPTER. The grades in superiority of the believers will be according to their good deeds.
ایمان والوں کا عمل میں ایک دوسرے سے بڑھ جانا ( عین ممکن ہے )
Sahih Bukhari
36
(65) CHAPTER. (The superiority of) whoever built a mosque.
جس نے مسجد بنائی اس کے اجر و ثواب کا بیان
Sahih Bukhari
37
(67) CHAPTER. A dead person hears the footsteps (of the living).
اس بیان میں کہ مردہ لوٹ کر جانے والوں کے جوتوں کی آواز سنتا ہے
Sahih Bukhari
38
(30) CHAPTER. Every Muslim has to give in charity; and whoever does not find anytingto give, should do all that is good [i.e. enjoin Al-Maruf (Islamic Monotheism, and all that Islam has ordained)].
ہر مسلمان پر صدقہ کرنا ضروری ہے اگر ( کوئی چیز دینے کے لیے ) نہ ہو تو اس کے لیے اچھی بات پر عمل کرنا یا اچھی بات دوسرے کو بتلا دینا بھی خیرات ہے
Sahih Bukhari
39
(28) CHAPTER. (The reward of him) who removes a branch of a tree or any other thing which harms the people from the way.
اس کا ثواب جس نے شاخ یا کوئی اورتکلیف دینے والی چیز راستے سے ہٹائی
Sahih Bukhari
40
(22) CHAPTER. What are the regulations concerning the property and family of a lost person?
جو شخص گم ہو جائے اس کے گھر والوں اور جائیداد میں کیا عمل ہو گا ۔
Sahih Bukhari
41
(20) CHAPTER. Refraining from doing things Allah has made illegal.
اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے بچنا ان سے صبر کئے رہنا بلاشبہ صبر کرنے والوں کو ان کا ثواب بے حساب دیا جائے گا
Sahih Bukhari
42
(4) CHAPTER. For expiation (of one's oath) one should feed ten poor persons no matter whether they are relatives or not.
کفارہ میں دس مسکینوں کو کھانا دیا جائے خواہ وہ قریب کے رشتہدار ہوں یادور کے بلکہ قریب والوں کو کھلانے میں ثواب اور بھی زیادہ ہے
Sahih Bukhari
43
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ پر ایمان ، دینی احکام پر عمل ، اس کی طرف دعوت ، اس کے بارے میں سوال کرنے ، دین کے تحفظ اور جن لوگوں تک دین نہ پہنچا ہو ان تک پہنچانے کا حکم
Sahih Muslim
44
Chapter: It is recommended to pray two rak`ah for the sunnah of Fajr. And encouragement to pray them regularly, and to make them brief, and to persist in offering them, and clarifying what is recommended to recite therein
فجر کی دو سنتوں کا مستحب ہونا ‘ان کی ترغیب‘ان کو مختصر پڑھنا ‘ہمیشہ ان کی پابندی کرنا اور اس بات کا بیان کہ ان میں کون سی (سورتوں کی )قراءت مستحب ہے
Sahih Muslim
45
Chapter: The virtue of the regular sunnah prayers before and after the obligatory prayers, and their numbers
فرائض سے پہلے اور بعد میں ادا کی جانے والی سنتوں کی فضیلت اور تعداد
Sahih Muslim
46
Chapter: The Sunnah on the day of sacrifice is to stone the Jamrah, then offer the sacrifice, then shave the head, and shaving should be started on the right side of the head
قربانی کے دن سنت یہ ہے کہ (حج کرنے والا پہلے )رمی کرے ‘پھر قربانی کرے ‘پھر سر مونڈائے اور مونڈنے کی ابتداء سر کی دائیں طر ف سے کی جائے
Sahih Muslim
47
Chapter: The command to accept invitations
دعوت دینے کو والے کا بلا وا قبول کرنے کا حکم
Sahih Muslim
48
Chapter: Dividing one's time among co-wives; The Sunnah is for each one to have one night and one day
بیویوں کے درمیان (باریوں کی )تقسیم ‘سنت یہ ہے کہ ہر بیوی کے لیے دن سمیت ایک رات ہو
Sahih Muslim
49
مزارعت (زمین کو پیدا وار کی متعین مقدار کے عوض )اور مؤاجرت (نقدی کے عوض کرائے پر دینے )کا حکم
Sahih Muslim
50
Chapter: The reward of a slave who is sincere towards his master and worships Allah properly
غلام جب اپنے آقا کی خیر خواہی کرے اور اچھےے طریقے سے اللہ کی بندگی کرے تو اس کا اجرو ثواب
Sahih Muslim
No related chapter matched that.

Related Hadith

469
Sunnan Abu Dawood
4719
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ:‏‏‏‏ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ .
Anas bin Malik reported the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم as saying: The devil flows in a man like his blood.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان ابن آدم ( انسان ) کے بدن میں اسی طرح دوڑتا ہے جس طرح خون رگوں میں گردش کرتا ہے ۔
Jam e Tirmazi
3
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَهَنَّادٌ،‏‏‏‏ وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ،‏‏‏‏ قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا الْحَدِيثُ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَحْسَنُ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ:‏‏‏‏ هُوَ صَدُوقٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ كَانَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ،‏‏‏‏ وَالْحُمَيْدِيُّ يَحْتَجُّونَ بِحَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ وَهُوَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي سَعِيدٍ
Ali narrated that : the Prophet, said: The key to Salat is the purification, its Tahrlm is the Takblr, and its Tahlil is the Taslim.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کی کنجی وضو ہے، اور اس کا تحریمہ صرف «اللہ اکبر» کہنا ہے ۱؎ اور نماز میں جو چیزیں حرام تھیں وہ «السلام علیکم ورحمة اللہ» کہنے ہی سے حلال ہوتی ہیں“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں یہ حدیث سب سے صحیح اور حسن ہے، ۲- عبداللہ بن محمد بن عقیل صدوق ہیں ۳؎، بعض اہل علم نے ان کے حافظہ کے تعلق سے ان پر کلام کیا ہے، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ احمد بن حنبل، اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ اور حمیدی: عبداللہ بن محمد بن عقیل کی روایت سے حجت پکڑتے تھے، اور وہ مقارب الحدیث ۴؎ ہیں، ۳- اس باب میں جابر اور ابو سعید خدری رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
7
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ إِسْرَائِيلَ بْنِ يُونُسَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ غُفْرَانَكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى اسْمُهُ:‏‏‏‏ عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ الْأَشْعَرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا نَعْرِفُ فِي هَذَا الْبَابِ إِلَّا حَدِيثَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم قضائے حاجت کے بعد جب پاخانہ سے نکلتے تو فرماتے: «غفرانك‏» یعنی ”اے اللہ: میں تیری بخشش کا طلب گار ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ۲؎، ۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا ہی کی حدیث معروف ہے ۳؎۔
Aishah, [may Allah be pleased with her] said: When the Prophet would exit the toilet he would say: 'Ghufranak.'
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم قضائے حاجت کے بعد جب پاخانہ سے نکلتے تو فرماتے: «غفرانك‏» یعنی ”اے اللہ: میں تیری بخشش کا طلب گار ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ۲؎، ۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا ہی کی حدیث معروف ہے ۳؎۔
Jam e Tirmazi
164
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَتَوَارَتْ بِالْحِجَابِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ،‏‏‏‏ وَالصُّنَابِحِيِّ،‏‏‏‏ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ،‏‏‏‏ وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي أَيُّوبَ،‏‏‏‏ وَأُمِّ حَبِيبَةَ،‏‏‏‏ وَعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ،‏‏‏‏ وَابْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ وَحَدِيثُ الْعَبَّاسِ قَدْ رُوِيَ مَوْقُوفًا عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ أَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏وَالصُّنَابِحِيُّ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ صَاحِبُ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ، ‏‏‏‏‏‏اخْتَارُوا تَعْجِيلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ وَكَرِهُوا تَأْخِيرَهَا، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ لَيْسَ لِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ إِلَّا وَقْتٌ وَاحِدٌ، ‏‏‏‏‏‏وَذَهَبُوا إِلَى حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ صَلَّى بِهِ جِبْرِيلُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيِّ.
Salmah bin AI-Akwa narrated: Allah's Messenger prayed Maghrib when the sun had set and it (the sun) had hidden in the veil (of darkness).
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم مغرب اس وقت پڑھتے جب سورج ڈوب جاتا اور پردے میں چھپ جاتا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سلمہ بن الاکوع والی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر، صنابحی، زید بن خالد، انس، رافع بن خدیج، ابوایوب، ام حبیبہ، عباس بن عبدالمطلب اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- عباس رضی الله عنہ کی حدیث ان سے موقوفاً روایت کی گئی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے، ۴- اور صنابحی نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے نہیں سنا ہے، وہ تو ابوبکر رضی الله عنہ کے دور کے ہیں، ۵- اور یہی قول صحابہ کرام اور ان کے بعد تابعین میں سے اکثر اہل علم کا ہے، ان لوگوں نے نماز مغرب جلدی پڑھنے کو پسند کیا ہے اور اسے مؤخر کرنے کو مکروہ سمجھا ہے، یہاں تک کہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ مغرب کا ایک ہی وقت ہے ۲؎، یہ تمام حضرات نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی اس حدیث کی طرف گئے ہیں جس میں ہے کہ جبرائیل نے آپ کو نماز پڑھائی اور یہی ابن مبارک اور شافعی کا قول ہے۔
Jam e Tirmazi
182
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ صَلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الْعَصْرِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ،‏‏‏‏ وَعَائِشَةَ،‏‏‏‏ وَحَفْصَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ:‏‏‏‏ حَدِيثُ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ حَدِيثٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ سَمِعَ مِنْهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ سَمُرَةَ فِي صَلَاةِ الْوُسْطَى حَسَنٌ وصَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ الْعُلَمَاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ،‏‏‏‏ وَعَائِشَةُ:‏‏‏‏ صَلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الظُّهْرِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ وَابْنُ عُمَرَ:‏‏‏‏ صَلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الصُّبْحِ. حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ:‏‏‏‏ سَلِ الْحَسَنَ مِمَّنْ سَمِعَ حَدِيثَ الْعَقِيقَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُهُ مِنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمَدِينِيِّ، عَنْ قُرَيْشِ بْنِ أَنَسٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ قَالَ عَلِيٌّ:‏‏‏‏ وَسَمَاعُ الْحَسَنِ مِنْ سَمُرَةَ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَاحْتَجَّ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
Smurah bin Jundub narrated that : the Prophet said: Salatul-wusta is the Asr prayer.
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ” «صلاة وسطیٰ» عصر کی صلاۃ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- «صلاة وسطیٰ» کے سلسلہ میں سمرہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں علی، عبداللہ بن مسعود، زید بن ثابت، عائشہ، حفصہ، ابوہریرہ اور ابوہاشم بن عقبہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ علی بن عبداللہ ( ابن المدینی ) کا کہنا ہے: حسن بصری کی حدیث جسے انہوں نے سمرہ بن جندب سے روایت کیا ہے، صحیح حدیث ہے، جسے انہوں نے سمرۃ سے سنا ہے، ۴- صحابہ کرام اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا یہی قول ہے، زید بن ثابت اور عائشہ رضی الله عنہا کا کہنا ہے کہ «صلاة وسطیٰ» ظہر کی صلاۃ ہے، ابن عباس اور ابن عمر رضی الله عنہم کہتے ہیں کہ «صلاة وسطیٰ» صبح کی صلاۃ ( یعنی فجر ) ہے ۲؎، ۵- وہ حبیب بن شہید کہتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن سیرین نے کہا کہ تم حسن بصری سے پوچھو کہ انہوں نے عقیقہ کی حدیث کس سے سنی ہے؟ تو میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے اسے سمرہ بن جندب سے سنا ہے، ۶- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ علی ابن المدینی نے کہا ہے کہ سمرہ رضی الله عنہ سے حسن کا سماع صحیح ہے اور انہوں نے اسی حدیث سے دلیل پکڑی ہے۔
Jam e Tirmazi
228
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لِيَلِيَنِّي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِيَّاكُمْ وَهَيْشَاتِ الْأَسْوَاقِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، ‏‏‏‏‏‏وأَبِي مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏والْبَرَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ يَلِيَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ لِيَحْفَظُوا عَنْهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَخَالِدٌ الْحَذَّاءُ هُوَ خَالِدُ بْنُ مِهْرَانَ يُكْنَى أَبَا الْمُنَازِلِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ يُقَالُ إِنَّ خَالِدًا الْحَذَّاءَ مَا حَذَا نَعْلًا قَطُّ إِنَّمَا كَانَ يَجْلِسُ إِلَى حَذَّاءٍ فَنُسِبَ إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَأَبُو مَعْشَرٍ اسْمُهُ:‏‏‏‏ زِيَادُ بْنُ كُلَيْبٍ.
Abdullah (Ibn Masud) narrated that : the Prophet said: Let those among you with understanding and reason be close to me, then those after them, then those after them. And do not separate or dissention will occur among your hearts, and beware of the commotion of the markets.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو صاحب فہم و ذکا اور سمجھدار ہوں ان کو مجھ سے قریب رہنا چاہیئے، پھر وہ جو ( عقل و دانش میں ) ان کے قریب ہوں، پھر وہ جو ان کے قریب ہوں، تم آگے پیچھے نہ ہونا کہ تمہارے دلوں میں پھوٹ پڑ جائے گی، اور اپنے آپ کو بازار کے شور و غوغا سے بچائے رکھنا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابی بن کعب، ابومسعود، ابوسعید، براء، اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ اس بات سے خوش ہوتے کہ مہاجرین اور انصار آپس میں قریب قریب رہیں تاکہ وہ آپ سے ( سیکھے ہوئے مسائل ) محفوظ رکھ سکیں۔
Jam e Tirmazi
323
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ أُنَيْسِ بْنِ أَبِي يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ امْتَرَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي خُدْرَةَ وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الْخُدْرِيُّ:‏‏‏‏ هُوَ مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ الْآخَرُ:‏‏‏‏ هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هُوَ هَذَا يَعْنِي مَسْجِدَهُ وَفِي ذَلِكَ خَيْرٌ كَثِيرٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى الْأَسْلَمِيِّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَمْ يَكُنْ بِهِ بَأْسٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَخُوهُ أُنَيْسُ بْنُ أَبِي يَحْيَى أَثْبَتُ مِنْهُ.
Abu Sa'eed Al-Khudri narrated: A man from Banu Khudrah and a man from Banu Amr bin Awf were disputing about the Masjid that was founded upon Taqwa. The man from Banu Khudrah said: 'It is the Masjid of Allah's Messenger.' The other one said that it was Masjid Qub. So they went to ask Allah's Messenger about that. He said: 'It is this - meaning his Masjid - 'and in that one (Masjid Quba) there is much good.'
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بنی خدرہ کے ایک شخص اور بنی عمرو بن عوف کے ایک شخص کے درمیان بحث ہو گئی کہ کون سی مسجد ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ۱؎ تو خدری نے کہا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ( یعنی مسجد نبوی ) ہے، دوسرے نے کہا: وہ مسجد قباء ہے، چنانچہ وہ دونوں اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: ”وہ یہ مسجد ہے، یعنی مسجد نبوی اور اس میں ( یعنی مسجد قباء میں ) بھی بہت خیر و برکت ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- علی بن عبداللہ بن المدینی نے یحییٰ بن سعید القطان سے ( سند میں موجود راوی ) محمد بن ابی یحییٰ اسلمی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ان میں کوئی قابل گرفت بات نہیں ہے، اور ان کے بھائی انیس بن ابی یحییٰ ان سے زیادہ ثقہ ہیں۔
Jam e Tirmazi
360
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو غَالِبٍ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ثَلَاثَةٌ لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ آذَانَهُمْ:‏‏‏‏ الْعَبْدُ الْآبِقُ حَتَّى يَرْجِعَ، ‏‏‏‏‏‏وَامْرَأَةٌ بَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَلَيْهَا سَاخِطٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِمَامُ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو غَالِبٍ اسْمُهُ:‏‏‏‏ حَزَوَّرٌ.
Abu Umamah narrated that : Allah's Messenger said: There are three whose Salat would not rise up beyond their ears: The runaway slave until he returns, a woman who spends a night while her husband is angry with her, and a people's Imam whom they dislike.
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا: ”تین لوگوں کی نماز ان کے کانوں سے اوپر نہیں جاتی: ایک بھگوڑے غلام کی جب تک کہ وہ ( اپنے مالک کے پاس ) لوٹ نہ آئے، دوسرے عورت کی جو رات گزارے اور اس کا شوہر اس سے ناراض ہو، تیسرے اس امام کی جسے لوگ ناپسند کرتے ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Jam e Tirmazi
415
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ هُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ عَنْبَسَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَنْبَسَةَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ.
Umm Habibah narrated that Allah's Messenger (S) sad: Whoever prays twelve Rak'ah in a day and night, a house will be built from him in Paradise: Four Rak'ah before Zuhr, two Rak'ah after it, two Rak'ah after Maghrib, two Rak'ah after Isha, and two Rak'ah before Fajr in the morning Salat.
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رات اور دن میں بارہ رکعت سنت پڑھے گا، اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنایا جائے گا: چار رکعتیں ظہر سے پہلے، دو رکعتیں اس کے بعد، دو مغرب کے بعد، دو عشاء کے بعد اور دو فجر سے پہلے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عنبسہ کی حدیث جو ام حبیبہ رضی الله عنہا سے مروی ہے اس باب میں حسن صحیح ہے۔ اور وہ عنبسہ سے دیگر اور سندوں سے بھی مروی ہے۔