TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

CHAPTER: Adherence To The Sunnah. - باب: سنت پر عمل کرنے کی دعوت دینے والوں کے اجر و ثواب کا بیان ۔ - Model behavior of the prophet (kitab al-sunnah) - Sunnan Abu Dawood with Urdu and English Translation

Chapter 7 of Model behavior of the prophet (kitab al-sunnah) in Sunnan Abu Dawood. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 7 of 32 · 18 Hadith
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا .
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم as saying: If anyone summons other to follow right guidance, his reward will be equivalent to that of the people who follow him, without their rewards being diminished in any respect on that account; and if anyone summons others to follow error the sin of which sins being diminished in any respect on that account.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دوسروں کو نیک عمل کی دعوت دیتا ہے تو اس کی دعوت سے جتنے لوگ ان نیک باتوں پر عمل کرتے ہیں ان سب کے برابر اس دعوت دینے والے کو بھی ثواب ملتا ہے، اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں سے کوئی کمی نہیں کی جاتی، اور جو کسی گمراہی و ضلالت کی طرف بلاتا ہے تو جتنے لوگ اس کے بلانے سے اس پر عمل کرتے ہیں ان سب کے برابر اس کو گناہ ہوتا ہے اور ان کے گناہوں میں ( بھی ) کوئی کمی نہیں ہوتی ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/العلم ۶ (۲۶۷۴)، سنن الترمذی/العلم ۱۵ (۲۶۷۴)، (تحفة الأشراف: ۱۳۹۷۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۳۹۷)، سنن الدارمی/المقدمة ۴۴ (۵۳۰)
4609
Sahih
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ أَعْظَمَ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا مَنْ سَأَلَ عَنْ أَمْرٍ لَمْ يُحَرَّمْ فَحُرِّمَ عَلَى النَّاسِ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ .
Amir bin Saeed on his father’s authority reported the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم as saying: The Muslim who offends most against the Muslims is he who enquires about something which has not been forbidden to men, and it is declared forbidden because of his enquiry.
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کے حق میں سب سے بڑا مجرم وہ مسلمان ہے جو ایسی چیز کے بارے میں سوال کرے جو حرام نہیں کی گئی تھی لیکن اس کے سوال کرنے کی وجہ سے مسلمانوں پر حرام کر دی گئی۱؎ ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الاعتصام ۳ (۷۲۸۹)، صحیح مسلم/الفضائل ۳۷ (۲۳۵۸)، (تحفة الأشراف: ۳۸۹۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۱۷۶، ۱۷۹)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : سوال دو طرح کا ہوتا ہے : ایک تو وہ جس کی ضرورت ہے اور معلوم نہیں تو آدمی کے جاننے کے لئے پوچھنا درست ہے، دوسرا وہ جس کی نہ حاجت ہے نہ ضرورت، آدمی بلا ضرورت یونہی خیالی و فرضی سوال کرے اور ناحق پریشان کرے، اور اس کے سوال کے سبب وہ حرام کر دی جائے، اس حدیث میں اسی قسم کے سوال کو سب سے بڑا جرم قرار دیا گیا ہے، آج کل بعض لوگ علماء سے یونہی بلا ضرورت یا بطور امتحان سوال کیا کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہئے۔
4610
Sahih
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُقَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ عَائِذَ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ يَزِيدَ بْنَ عُمَيْرَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ لَا يَجْلِسُ مَجْلِسًا لِلذِّكْرِ حِينَ يَجْلِسُ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُ حَكَمٌ قِسْطٌ هَلَكَ الْمُرْتَابُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَوْمًا إِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ فِتَنًا يَكْثُرُ فِيهَا الْمَالُ وَيُفْتَحُ فِيهَا الْقُرْآنُ حَتَّى يَأْخُذَهُ الْمُؤْمِنُ وَالْمُنَافِقُ وَالرَّجُلُ وَالْمَرْأَةُ وَالصَّغِيرُ وَالْكَبِيرُ وَالْعَبْدُ وَالْحُرُّ، ‏‏‏‏‏‏فَيُوشِكُ قَائِلٌ أَنْ يَقُولَ:‏‏‏‏ مَا لِلنَّاسِ لَا يَتَّبِعُونِي وَقَدْ قَرَأْتُ الْقُرْآنَ مَا هُمْ بِمُتَّبِعِيَّ حَتَّى أَبْتَدِعَ لَهُمْ غَيْرَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِيَّاكُمْ وَمَا ابْتُدِعَ فَإِنَّ مَا ابْتُدِعَ ضَلَالَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأُحَذِّرُكُمْ زَيْغَةَ الْحَكِيمِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ يَقُولُ كَلِمَةَ الضَّلَالَةِ عَلَى لِسَانِ الْحَكِيمِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ يَقُولُ الْمُنَافِقُ كَلِمَةَ الْحَقِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِمُعَاذٍ:‏‏‏‏ مَا يُدْرِينِي رَحِمَكَ اللَّهُ ؟ أَنَّ الْحَكِيمَ قَدْ يَقُولُ كَلِمَةَ الضَّلَالَةِ وَأَنَّ الْمُنَافِقَ قَدْ يَقُولُ كَلِمَةَ الْحَقِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى اجْتَنِبْ مِنْ كَلَامِ الْحَكِيمِ الْمُشْتَهِرَاتِ الَّتِي يُقَالُ لَهَا مَا هَذِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يُثْنِيَنَّكَ ذَلِكَ عَنْهُ فَإِنَّهُ لَعَلَّهُ أَنْ يُرَاجِعَ، ‏‏‏‏‏‏وَتَلَقَّ الْحَقَّ إِذَا سَمِعْتَهُ فَإِنَّ عَلَى الْحَقِّ نُورًا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ قَالَ مَعْمَرٌ:‏‏‏‏ عَنِ الزُّهْرِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ:‏‏‏‏ وَلَا يُنْئِيَنَّكَ ذَلِكَ عَنْهُ مَكَانَ يُثْنِيَنَّكَ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ:‏‏‏‏ عَنِ الزُّهْرِيِّ فِي هَذَا:‏‏‏‏ الْمُشَبِّهَاتِ مَكَانَ الْمُشْتَهِرَاتِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ لَا يُثْنِيَنَّكَ، ‏‏‏‏‏‏كَمَا قَالَ عُقَيْلٌ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ ابْنُ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى مَا تَشَابَهَ عَلَيْكَ مِنْ قَوْلِ الْحَكِيمِ حَتَّى تَقُولَ مَا أَرَادَ بِهَذِهِ الْكَلِمَةِ.
Yazid bin Umairah, who was one of the companions of Muadh bin Jabal said: Whenever he (Muadh bin Jabal) sat in a meeting for preaching, he would say: Allah is a just arbiter; those who doubt would perish. One day Muadh bin Jabal said: In the times after you there would be trails in which riches would be abundant. During these trails the Quran would be easy so much so that every believer, hypocrite, man, woman, young, grown up, slave and free man will learn it. Then a man might say: What happened with the people that they do not follow me while I read the Quran? They are not going to follow me until I introduce a novelty for them other than it. So avoid that which is innovated (in religion), for whichever is innovated is an error. I warn you of the deviation of a scholar from right guidance, for sometimes Satan utters a word of error through the tongue of a scholar; and sometimes a hypocrites may speak a word of truth. I said to Muadh bin Jabal: I am at a loss to understand may Allah have mercy on you that a learned man sometimes may speak a word of error and a hypocrite may speak a word of truth. He replied: Yes, avoid the speech of a learned man on distract you from him (the learned), for it is possible that he may withdraw (from these well-known things), and you get the truth when you hear it, for truth has light. Abu Dawud said: In this tradition Mamar on the authority of al-Zuhrl said: The words “wa la yun iyannaka” instead of “wa la yuthniyannaka, ” with the same meaning: “it may not distract you” salih bin Kaisan on the authority of al-Zurhrl said in this tradition the words “al-mushtaharat” (well-know things). He also said the word “La yuthniyannaka” as ‘Uqail mentioned. Ibn ishaq, on the authority of al-Zuhri, said: Yes, if you are doubtful about the speech of a scholar until you say: WHAT did he mean by this word?
ابوادریس خولانی کہتے ہیں کہ یزید بن عمیرہ ( جو معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے شاگردوں میں سے تھے ) نے انہیں خبر دی ہے کہ وہ جب بھی کسی مجلس میں وعظ کہنے کو بیٹھتے تو کہتے: اللہ بڑا حاکم اور عادل ہے، شک کرنے والے تباہ ہو گئے تو ایک روز معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہنے لگے: تمہارے بعد بڑے بڑے فتنے ہوں گے، ان ( دنوں ) میں مال کثرت سے ہو گا، قرآن آسان ہو جائے گا، یہاں تک کہ اسے مومن و منافق، مرد و عورت، چھوٹے بڑے، غلام اور آزاد سبھی حاصل کر لیں گے، تو قریب ہے کہ کہنے والا کہے: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ میری پیروی نہیں کرتے، حالانکہ میں نے قرآن پڑھا ہے، وہ میری پیروی اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک کہ میں ان کے لیے اس کے علاوہ کوئی نئی چیز نہ نکالوں، لہٰذا جو نئی چیز نکالی جائے تم اس سے بچو ۱؎ اس لیے کہ ہر وہ نئی چیز جو نکالی جائے گمراہی ہے، اور میں تمہیں حکیم و دانا کی گمراہی سے ڈراتا ہوں، اس لیے کہ بسا اوقات شیطان، حکیم و دانا شخص کی زبانی گمراہی کی بات کہتا ہے اور کبھی کبھی منافق بھی حق بات کہتا ہے۔ میں نے معاذ سے کہا: ( اللہ آپ پر رحم کرے ) مجھے کیسے معلوم ہو گا کہ حکیم و دانا گمراہی کی بات کہتا ہے، اور منافق حق بات؟ وہ بولے: کیوں نہیں، حکیم و عالم کی ان مشہور باتوں سے بچو، جن کے متعلق یہ کہا جاتا ہو کہ وہ یوں نہیں ہے، لیکن یہ چیز تمہیں خود اس حکیم سے نہ پھیر دے، اس لیے کہ امکان ہے کہ وہ ( اپنی پہلی بات سے ) پھر جائے اور حق پر آ جائے، اور جب تم حق بات سنو تو اسے لے لو، اس لیے کہ حق میں ایک نور ہوتا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس قصے میں معمر نے زہری سے «ولا يثنينك ذلك عنه» کے بجائے «ولا ينئينك ذلك عنه» روایت کی ہے اور صالح بن کیسان نے زہری سے اس میں«المشتهرات» کے بجائے «المشبهات» روایت کی ہے اور «ولا يثنينك» ہی روایت کی ہے جیسا کہ عقیل کی روایت میں ہے۔ ابن اسحاق نے زہری سے روایت کی ہے: کیوں نہیں، جب کسی حکیم و عالم کا قول تم پر مشتبہ ہو جائے یہاں تک کہ تم کہنے لگو کہ اس بات سے اس کا کیا مقصد ہے؟ ( تو سمجھ لو کہ یہ حکیم و عالم کی زبانی گمراہی کی بات ہے ) ۲؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۱۳۶۹)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : جب وہ دیکھے گا کہ لوگ قرآن و سنت کو چھوڑ بیٹھے ہیں اور شیطان اور بدعت کے پیرو ہو رہے ہیں تو میں کیوں نہ کوئی بدعت ایجاد کروں، تو خبردار اس کی نکالی ہوئی بدعت سے بچتے رہو کیونکہ وہ گمراہی ہے۔ ۲؎ : آدمی اگر منصف اور حق پرست ہو تو اس پر باطل کی تاریکی و ظلمت کبھی نہیں چھپتی، معاذ رضی اللہ عنہ نے باطل کی نشانی یہ بیان کی کہ وہ قرآن وسنت میں نہ ہو، اور عقل سلیم بھی اس کو قبول نہ کرے، آپ نے عالم کے فتنے سے بھی ڈرایا کیونکہ عالم کا فتنہ بڑا سخت ہوتا ہے وہ جھوٹی باتوں، غلط استدلال اور چرب زبانی سے عوام کو فریفتہ کر لیتا ہے، آج یہی حال ہے، باطل پرست قرآن وسنت سے الگ ہٹ کر نئی نئی بدعتوں میں عوام کو پھنسائے ہوئے ہیں، اتفاق و اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا ہے، اور لوگوں نے اپنے اپنے مولویوں کے ایجاد کئے ہوئے امور کو اسلام کا نام دے رکھا ہے، فتنے کے وقت میں طالب حق کو چاہئے کہ قرآن کو دیکھے اور صحیح احادیث میں تلاش کرے اور فرقہ بندی سے دور رہے۔
4611
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَتَبَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَسْأَلُهُ عَنِ الْقَدَرِ. ح وحَدَّثَنَاالرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ دُلَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّيُحَدِّثُنَا، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّضْرِ. ح وحَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَبِيصَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الصَّلْتِ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ كَثِيرٍ وَمَعْنَاهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَتَبَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَسْأَلُهُ عَنِ الْقَدَرِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَتَبَ: أَمَّا بَعْدُ أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالِاقْتِصَادِ فِي أَمْرِهِ وَاتِّبَاعِ سُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَتَرْكِ مَا أَحْدَثَ الْمُحْدِثُونَ بَعْدَ مَا جَرَتْ بِهِ سُنَّتُهُ وَكُفُوا مُؤْنَتَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَعَلَيْكَ بِلُزُومِ السُّنَّةِ فَإِنَّهَا لَكَ بِإِذْنِ اللَّهِ عِصْمَةٌ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ اعْلَمْ أَنَّهُ لَمْ يَبْتَدِعِ النَّاسُ بِدْعَةً إِلَّا قَدْ مَضَى قَبْلَهَا مَا هُوَ دَلِيلٌ عَلَيْهَا أَوْ عِبْرَةٌ فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ السُّنَّةَ إِنَّمَا سَنَّهَا مَنْ قَدْ عَلِمَ مَا فِي خِلَافِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَقُلِ ابْنُ كَثِيرٍ:‏‏‏‏ مَنْ قَدْ عَلِمَ مِنَ الْخَطَإِ وَالزَّلَلِ وَالْحُمْقِ وَالتَّعَمُّقِ فَارْضَ لِنَفْسِكَ مَا رَضِيَ بِهِ الْقَوْمُ لِأَنْفُسِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُمْ عَلَى عِلْمٍ وَقَفُوا وَبِبَصَرٍ نَافِذٍ كَفُّوا وَهُمْ عَلَى كَشْفِ الْأُمُورِ كَانُوا أَقْوَى وَبِفَضْلِ مَا كَانُوا فِيهِ أَوْلَى، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ كَانَ الْهُدَى مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ لَقَدْ سَبَقْتُمُوهُمْ إِلَيْهِ وَلَئِنْ قُلْتُمْ إِنَّمَا حَدَثَ بَعْدَهُمْ مَا أَحْدَثَهُ إِلَّا مَنِ اتَّبَعَ غَيْرَ سَبِيلِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَرَغِبَ بِنَفْسِهِ عَنْهُمْ فَإِنَّهُمْ هُمُ السَّابِقُونَ فَقَدْ تَكَلَّمُوا فِيهِ بِمَا يَكْفِي وَوَصَفُوا مِنْهُ مَا يَشْفِي، ‏‏‏‏‏‏فَمَا دُونَهُمْ مِنْ مَقْصَرٍ وَمَا فَوْقَهُمْ مِنْ مَحْسَرٍ وَقَدْ قَصَّرَ قَوْمٌ دُونَهُمْ فَجَفَوْا، ‏‏‏‏‏‏وَطَمَحَ عَنْهُمْ أَقْوَامٌ فَغَلَوْا وَإِنَّهُمْ بَيْنَ ذَلِكَ لَعَلَى هُدًى مُسْتَقِيمٍ، ‏‏‏‏‏‏كَتَبْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْإِقْرَارِ بِالْقَدَرِ فَعَلَى الْخَبِيرِ بِإِذْنِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَعْتَ مَا أَعْلَمُ مَا أَحْدَثَ النَّاسُ مِنْ مُحْدَثَةٍ وَلَا ابْتَدَعُوا مِنْ بِدْعَةٍ هِيَ أَبْيَنُ أَثَرًا وَلَا أَثْبَتُ أَمْرًا مِنَ الْإِقْرَارِ بِالْقَدَرِ، ‏‏‏‏‏‏لَقَدْ كَانَ ذَكَرَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ الْجُهَلَاءُ يَتَكَلَّمُونَ بِهِ فِي كَلَامِهِمْ وَفِي شِعْرِهِمْ يُعَزُّونَ بِهِ أَنْفُسَهُمْ عَلَى مَا فَاتَهُمْ ثُمَّ لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ بَعْدُ إِلَّا شِدَّةً، ‏‏‏‏‏‏وَلَقَدْ ذَكَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَيْرِ حَدِيثٍ وَلَا حَدِيثَيْنِ وَقَدْ سَمِعَهُ مِنْهُ الْمُسْلِمُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَتَكَلَّمُوا بِهِ فِي حَيَاتِهِ وَبَعْدَ وَفَاتِهِ يَقِينًا وَتَسْلِيمًا لِرَبِّهِمْ وَتَضْعِيفًا لِأَنْفُسِهِمْ أَنْ يَكُونَ شَيْءٌ لَمْ يُحِطْ بِهِ عِلْمُهُ وَلَمْ يُحْصِهِ كِتَابُهُ وَلَمْ يَمْضِ فِيهِ قَدَرُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّهُ مَعَ ذَلِكَ لَفِي مُحْكَمِ كِتَابِهِ مِنْهُ اقْتَبَسُوهُ وَمِنْهُ تَعَلَّمُوهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَئِنْ قُلْتُمْ لِمَ أَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ كَذَا ؟ لِمَ قَالَ كَذَا ؟ لَقَدْ قَرَءُوا مِنْهُ مَا قَرَأْتُمْ وَعَلِمُوا مِنْ تَأْوِيلِهِ مَا جَهِلْتُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالُوا بَعْدَ ذَلِكَ كُلِّهِ بِكِتَابٍ وَقَدَرٍ وَكُتِبَتِ الشَّقَاوَةُ وَمَا يُقْدَرْ يَكُنْ وَمَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا نَمْلِكُ لِأَنْفُسِنَا ضَرًّا وَلَا نَفْعًا ثُمَّ رَغِبُوا بَعْدَ ذَلِكَ وَرَهِبُوا .
Sufyan said (according to one chain), and Abu al-Salit said (according to another chain): A man wrote to Umar bin Abd al-Aziz asking him about Divine decree. He wrote to him: To begin with, I enjoin upon you to fear Allah, to be moderate in (obeying) His Command, to follow the sunnah (practice) of His Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم and to abandon the novelties which the innovators introduced after his Sunnah has been established and they were saved from its trouble (i. e. novelty or innovation) ; so stick to Sunnah, for it is for you, if Allah chooses, a protection ; then you should know that any innovation which the people introduced was refuted long before it on the basis of some authority or there was some lesson in it, for the Sunnah was introduced by the people who were conscious of the error, slip, foolishness, and extremism in case of (the sunnah) was opposed. So accept for yourself what the people (in the past) had accepted for themselves, for they had complete knowledge of whatever they were informed, and by penetrating insight they forbade (to do prohibited acts); they had more strength (than us) to disclose the matters (of religion), and they were far better (than us) by virtue of their merits. If right guidance is what you are following, then you outstriped them to it. And if you say whatever the novelty occurred after them was introduced by those who followed the way other then theirs and disliked them. It is they who actually outstripped, and talked about it sufficiently, and gave a satisfactory explanation for it. Below them there is no place for exhaustiveness, and above them there is no place for elaborating things. Some people shortened the matter more than they had done, and thus they turned away (from them), and some people raised the matter more than they had done, and thus they exaggerated. They were on right guidance between that. You have written (to me) asking about confession of Divine decree, you have indeed approached a person who is well informed of it, with the will of Allah. I know what whatever novelty people have brought in, and whatever innovation people have introduced are not more manifest and more established than confession of Divine decree. The ignorant people (i. e. the Arabs before Islam) in pre-Islamic times have mentioned it ; they talked about it in their speeches and in their poetry. They would console themselves for what they lost, and Islam then strengthened it (i. e. belief in Divine decree). The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم did not mention it in one or two traditions, but the Muslims heard it from him, and they talked of it from him, and they talked of it during his lifetime and after his death. They did so out of belief and submission to their Lord and thinking themselves weak. There is nothing which is not surrounded by His knowledge, and not counted by His register and not destined by His decree. Despite that, it has been strongly mentioned in His Book: from it they have derived it, and from it they have and so ? they also read in it what you read, and they knew its interpretation of which you are ignorant. After that they said: All this is by writing and decreeing. Distress has been written down, and what has been destined will occur ; what Allah wills will surely happen, and what He does not will will not happen. We have no power to harm or benefit ourselves. Then after that they showed interest (in good works) and were afraid (of bad deeds).
سفیان ثوری کہتے ہیں کہ ایک شخص نے خط لکھ کر عمر بن عبدالعزیز سے تقدیر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے ( جواب میں ) لکھا: امابعد! میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور اس کے دین کے سلسلہ میں میانہ روی اختیار کرنے، اس کے نبی کی سنت کی پیروی کرنے کی اور بدعتیوں نے جو بدعتیں سنت کے جاری اور ضروریات کے لیے کافی ہو جانے کے بعد ایجاد کی ہیں ان کے چھوڑ دینے کی وصیت کرتا ہوں، لہٰذا تم پر سنت کا دامن تھامے رہنا لازم ہے، اللہ کے حکم سے یہی چیز تمہارے لیے گمراہی سے بچنے کا ذریعہ ہو گی۔ پھر یہ بھی جان لو کہ لوگوں نے کوئی بدعت ایسی نہیں نکالی ہے جس کے خلاف پہلے سے کوئی دلیل موجود نہ رہی ہو یا اس کے بدعت ہونے کے سلسلہ میں کوئی نصیحت آمیز بات نہ ہو، اس لیے کہ سنت کو جس نے جاری کیا ہے، ( اللہ تعالیٰ یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) وہ جانتا تھا کہ اس کی مخالفت میں کیا وبال ہے، کیا کیا غلطیاں، لغزشیں، حماقتیں اور انتہا پسندیاں ہیں ( ابن کثیر کی روایت میں «من قد علم» کا لفظ نہیں ہے ) لہٰذا تم اپنے آپ کو اسی چیز سے خوش رکھو جس سے قوم ( سلف ) نے اپنے آپ کو خوش رکھا ہے، اس لیے کہ وہ دین کے بڑے واقف کار تھے، جس بات سے انہوں نے روکا ہے گہری بصیرت سے روکا ہے، انہیں معاملات کے سمجھنے پر ہم سے زیادہ دسترس تھی، اور تمام خوبیوں میں وہ ہم سے فائق تھے، لہٰذا اگر ہدایت وہ ہوتی جس پر تم ہو تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم ان سے آگے بڑھ گئے، اور اگر تم یہ کہتے ہو کہ جن لوگوں نے بدعتیں نکالی ہیں وہ اگلے لوگوں کی راہ پر نہیں چلے اور ان سے اعراض کیا تو واقعہ بھی یہی ہے کہ اگلے لوگ ہی فائق و برتر تھے انہوں نے جتنا کچھ بیان کر دیا ہے اور جو کچھ کہہ دیا ہے شافی و کافی ہے، لہٰذا اب دین میں نہ اس سے کم کی گنجائش ہے نہ زیادہ کی، اور حال یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے اس میں کمی کر ڈالی تو وہ جفا کار ٹھہرے اور کچھ لوگوں نے زیادتی کی تو وہ غلو کا شکار ہو گئے، اور اگلے لوگ ان دونوں انتہاؤں کے بیچ سیدھی راہ پر رہے، اور تم نے ایمان بالقدر کے اقرار کے بارے میں بھی پوچھا ہے تو باذن اللہ تم نے یہ سوال ایک ایسے شخص سے کیا ہے جو اس کو خوب جانتا ہے، ان لوگوں نے جتنی بھی بدعتیں ایجاد کی ہیں ان میں اثر کے اعتبار سے ایمان بالقدر کے اقرار سے زیادہ واضح اور ٹھوس کوئی نہیں ہے، اس کا تذکرہ تو جاہلیت میں جہلاء نے بھی کیا ہے، وہ اپنی گفتگو اور اپنے شعر میں اس کا تذکرہ کرتے تھے، اس کے ذریعے وہ اپنے آپ کو کسی فوت ہو جانے والے کے غم میں تسلی دیتے ہیں۔ پھر اسلام نے اس خیال کو مزید پختگی بخشی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ذکر ایک یا دو حدیثوں میں نہیں بلکہ کئی حدیثوں میں کیا، اور اس کو مسلمانوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، پھر آپ کی زندگی میں بھی اسے بیان کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی، اس پر یقین کر کے، اس کو تسلیم کر کے اور اپنے کو اس سے کمزور سمجھ کے، کوئی چیز ایسی نہیں جس کو اللہ کا علم محیط نہ ہو، اور جو اس کے نوشتہ میں نہ آ چکی ہو، اور اس میں اس کی تقدیر جاری نہ ہو چکی ہو، اس کے باوجود اس کا ذکر اس کی کتاب محکم میں ہے، اسی سے لوگوں نے اسے حاصل کیا، اسی سے اسے سیکھا۔ اور اگر تم یہ کہو: اللہ نے ایسی آیت کیوں نازل فرمائی؟ اور ایسا کیوں کہا ( جو آیات تقدیر کے خلاف ہیں ) ؟ تو ( جان لو ) ان لوگوں نے بھی اس میں سے وہ سب پڑھا تھا جو تم نے پڑھا ہے لیکن انہیں اس کی تاویل و تفسیر کا علم تھا جس سے تم ناواقف ہو، اس کے بعد بھی وہ اسی بات کے قائل تھے: ہر بات اللہ کی تقدیر اور اس کے لکھے ہوئے کے مطابق ہے جو مقدر میں لکھا ہے وہ ہو گا، جو اللہ نے چاہا، وہی ہوا، جو نہیں چاہا، نہیں ہوا۔ اور ہم تو اپنے لیے نہ کسی ضرر کے مالک ہیں اور نہ ہی کسی نفع کے پھر اس اعتقاد کے بعد بھی اگلے لوگ اچھے کام کرتے رہے اور بر ے کاموں سے ڈرتے رہے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۹۱۴۵)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے اس جواب سے بدعت اور سنت کی راہ بالکل واضح ہو گئی اور یہ بات بھی صاف ہو گئی کہ کسی بھی عمل سے پہلے قرآن و سنت کو دیکھنا چاہئے، اگر ان میں نہ ملے تو صحابہ کرام اور تابعین عظام کو دیکھنا چاہئے کہ ان کا عمل اس پر تھا یا نہیں، اگر ہم اس معیار کو اختیار کر لیں تو اللہ کے فضل سے سارے اختلافات دور ہو جائیں اور بے شمار بدعات ہمیشہ کے لئے دم توڑ جائیں، لیکن ہم نے بعد کے لوگوں کی روش کو اپنا رکھا ہے اور بدعات کی گرم بازاری میں مگن ہیں۔
4612
Zaeef
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ لِابْنِ عُمَرَ صَدِيقٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُكَاتِبُهُ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ:‏‏‏‏ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَكَلَّمْتَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْقَدَرِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِيَّاكَ أَنْ تَكْتُبَ إِلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ يُكَذِّبُونَ بِالْقَدَرِ .
Nafi said: Ibn Umar had a friend from the people of Syria who used to correspond with him. Abdullah bin Umar wrote to him: I have been informed that you have talked something about Divine decree. You should write it to me, for I heard the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم say: Among my community there will be people who will falsify Divine decree.
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک شامی دوست تھا جو ان سے خط و کتابت رکھتا تھا، تو عبداللہ بن عمر نے اسے لکھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم نے تقدیر کے سلسلے میں ( سلف کے قول کے خلاف ) کوئی بات کہی ہے، لہٰذا اب تم مجھ سے خط و کتابت نہ رکھنا، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: میری امت میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو تقدیر کو جھٹلائیں گے ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہذا المتن أبوداود، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/القدر ۱۶ ( ۲۱۵۲)، سنن ابن ماجہ/الفتن ۲۹ (۴۰۶۱)، بسیاق نحوہ ولفظہ: 'في ہذہ الأمة خسف ومسخ أو قذف في أہل القدر' (تحفة الأشراف: ۷۶۵۱)، و مسند احمد (۲/۱۰۸، ۱۳۶)
4613
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِلْحَسَنِ:‏‏‏‏ يَا أَبَا سَعِيدٍ أَخْبِرْنِي عَنْ آدَمَ أَلِلسَّمَاءِ خُلِقَ أَمْ لِلْأَرْضِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَا بَلْ لِلْأَرْضِ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ أَرَأَيْتَ لَوِ اعْتَصَمَ فَلَمْ يَأْكُلْ مِنَ الشَّجَرَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمْ يَكُنْ لَهُ مِنْهُ بُدٌّ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى:‏‏‏‏ مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ ‏‏‏‏ 162 ‏‏‏‏ إِلا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ ‏‏‏‏ 163 ‏‏‏‏ سورة الصافات آية 162-163، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ الشَّيَاطِينَ لَا يَفْتِنُونَ بِضَلَالَتِهِمْ إِلَّا مَنْ أَوْجَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَحِيمَ .
Khalid al-Hadhdha said: I said to al-Hasan: Abu Saeed, tell me about Adam. Was he created for the heaven or the earth? He said: No, for the earth. I said: It was unavoidable for him. I said: Tell me about the following verse of the Quran: ”can lead (any) into temptation concerning Allah, except such as are (themselves) going to blazing fire. ” He said: The devils do not lead anyone astray by their temptation except the one whom Allah destined to go to Hell.
خالد الحذاء کہتے ہیں کہ میں نے حسن ( حسن بصری ) سے کہا: اے ابوسعید! آدم کے سلسلہ میں مجھے بتائیے کہ وہ آسمان کے لیے پیدا کئے گئے، یا زمین کے لیے؟ آپ نے کہا: نہیں، بلکہ زمین کے لیے، میں نے عرض کیا: آپ کا کیا خیال ہے؟ اگر وہ نافرمانی سے بچ جاتے اور درخت کا پھل نہ کھاتے، انہوں نے کہا: یہ ان کے بس میں نہ تھا، میں نے کہا: مجھے اللہ کے فرمان «ما أنتم عليه بفاتنين * إلا من هو صال الجحيم» شیاطین تم میں سے کسی کو اس کے راستے سے گمراہ نہیں کر سکتے سوائے اس کے جو جہنم میں جانے والا ہو ( الصافات: ۱۶۳ ) کے بارے میں بتائیے، انہوں نے کہا: شیاطین اپنی گمراہی کا شکار صرف اسی کو بنا سکتے ہیں جس پر اللہ نے جہنم واجب کر دی ہے ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۸۵۱۷، ۱۸۵۱۸)
4614
Sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏فِي قَوْلِهِ تَعَالَى:‏‏‏‏ وَلِذَلِكَ خَلَقَهُمْ سورة هود آية 119، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ خَلَقَ هَؤُلَاءِ لِهَذِهِ وَهَؤُلَاءِ لِهَذِهِ .
Khalid al-Hadhdha, asked al-Hasan about the Quranic verse: “And for this did He create them. ” He said: He created these for this and those for that.
حسن بصری سے اللہ تعالیٰ کے قول «ولذلك خلقهم» اور اسی کے لیے انہیں پیدا کیا ( سورۃ ھود: ۱۱۹ ) کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے کہا: انہیں پیدا کیا اس ( جنت ) کے لیے اور انہیں پیدا کیا اس ( جہنم ) کے لیے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۸۵۱۶)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : انہیں جنت کے لئے اور انہیں جہنم کے لئے پیدا کیا، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ: اگر اللہ نہ لکھتا تو جن کو جہنم کے لئے لکھا وہ اچھے اعمال کر کے جنت میں چلے جاتے وبالعکس، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کو اس نے جہنم کے لئے پیدا کیا اگر ان کی تقدیر میں کچھ نہ لکھتا تو یہ ممکن نہ تھا کہ وہ جنت میں چلے جاتے، یہ لوگ چونکہ برے اعمال ہی کرنے والے تھے جو اللہ کو معلوم تھا (کیونکہ اس کا علم ماضی مستقبل حال کے لئے یکساں ہے) اس لئے اس نے اپنے علم کی بنیاد پر لکھا ایسا نہیں کہ لکھنے سے یہ لوگ مجبور ہو گئے۔
4615
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِلْحَسَنِ مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ ‏‏‏‏ 162 ‏‏‏‏ إِلا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ ‏‏‏‏ 163 ‏‏‏‏ سورة الصافات آية 162-163، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِلَّا مَنْ أَوْجَبَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ أَنَّهُ يَصْلَى الْجَحِيمَ .
Khalid al-Hadhdha asked al-Hasan about the Quranic verse: “Can lead (any) into temptation concerning Allah, except such as are (themselves) going to the blazing fire. ” He said: Except the one whom Allah destined that he should go to Hell.
خالد الخداء کہتے ہیں کہ میں نے حسن بصری سے کہا «ما أنتم عليه بفاتنين * إلا من هو صال الجحيم» تو انہوں نے کہا: «إلا من هو صال الجحيم» کا مطلب ہے: سوائے اس کے جس کے لیے اللہ نے واجب کر دیا ہے کہ وہ جہنم میں جائے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۸۵۱۸)
4616
Sahih
حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ بِشْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ:‏‏‏‏ كَانَ الْحَسَنُ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ لَأَنْ يُسْقَطَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَقُولَ الْأَمْرُ بِيَدِي .
Humaid said: Al-Hasan used to say that his fall from the heaven on the earth is dearer to him than uttering: The matter is in my hand.
حمید کہتے ہیں کہ حسن بصری کہتے تھے: آسمان سے زمین پر گر پڑنا اس بات سے مجھے زیادہ عزیز ہے کہ میں کہوں: معاملہ تو میرے ہاتھ میں ہے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۸۵۱۰)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : حسن بصری رحمہ اللہ نے یہ بات صاف کر دی کہ تمام امور اللہ کے ہاتھ میں ہیں خیر و شر سب کا مالک و خالق وہی ہے۔
4617
Sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَدِمَ عَلَيْنَا الْحَسَنُ مَكَّةَ، ‏‏‏‏‏‏فَكَلَّمَنِي فُقَهَاءُ أَهْلِ مَكَّةَ أَنْ أُكَلِّمَهُ فِي أَنْ يَجْلِسَ لَهُمْ يَوْمًا يَعِظُهُمْ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏فَاجْتَمَعُوا فَخَطَبَهُمْ فَمَا رَأَيْتُ أَخْطَبَ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَجُلٌ:‏‏‏‏ يَا أَبَا سَعِيدٍ مَنْ خَلَقَ الشَّيْطَانَ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ سُبْحَانَ اللَّهِ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللَّهِ ! خَلَقَ اللَّهُ الشَّيْطَانَ وَخَلَقَ الْخَيْرَ وَخَلَقَ الشَّرَّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الرَّجُلُ:‏‏‏‏ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ كَيْفَ يَكْذِبُونَ عَلَى هَذَا الشَّيْخِ .
Humaid said: Al-Hasan came to us. The jurists of Makkah told me that I should speak to him that some day he should hold a meeting for them and preach to them. He said: Yes. So they gathered and he addressed them. I did not see anyone on orator greater than him. A man said: Abu Saeed, who created Satan? He replied: Glory be to Allah! Is there any creator other than Allah? Allah created Satan, and he created good and created evil. The man said: May Allah ruin them! How do they lie to this old man.
حمید کہتے ہیں کہ حسن ہمارے پاس مکہ تشریف لائے تو اہل مکہ کے فقہاء نے مجھ سے کہا کہ میں ان سے درخواست کروں کہ وہ ان کے لیے ایک دن نشست رکھیں، اور وعظ فرمائیں، وہ اس کے لیے راضی ہو گئے تو لوگ اکٹھا ہوئے اور آپ نے انہیں خطاب کیا، میں نے ان سے بڑا خطیب کسی کو نہیں دیکھا، ایک شخص نے سوال کیا: اے ابوسعید! شیطان کو کس نے پیدا کیا؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے؟ اللہ نے شیطان کو پیدا کیا اور اسی نے خیر پیدا کیا، اور شر پیدا کیا، وہ شخص بولا: اللہ انہیں غارت کرے، کس طرح یہ لوگ اس بزرگ پر جھوٹ باندھتے ہیں ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۸۵۰۹)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : ہمیشہ اہل بدعت کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ موحدین اور صحیح عقیدہ والوں پر افتراءات باندھتے رہتے ہیں، کچھ لوگوں نے حسن بصری کے متعلق بھی اسی طرح کے بہتان لگائے تھے اسی کی طرف اشارہ ہے۔
4618
Sahih
حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏ كَذَلِكَ نَسْلُكُهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ سورة الحجر آية 12، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الشِّرْكُ .
Humaid al-Tawil asked al-Hasan about the verse: “Even so do We let it creep into the hearts of the sinners. ” He said: Polytheism
حسن بصری آیت کریمہ: «كذلك نسلكه في قلوب المجرمين» اسی طرح سے ہم اسے مجرموں کے دل میں ڈالتے ہیں ( سورۃ الحجر: ۱۱۲ ) کے سلسلہ میں کہتے ہیں: اس سے مراد شرک ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۸۵۱۱)
4619
Zaeef
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَجُلٍ قَدْ سَمَّاهُ غَيْرِ ابْنِ كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدٍ الصِّيدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِالْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلّ وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ سورة سبأ آية 54، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْإِيمَانِ .
Explaining the Quranic verse; “And between them and their desire is placed a barrier. ” Al-Hasan said: Between them and their faith.
حسن بصری آیت کریمہ: «وحيل بينهم وبين ما يشتهون» ان کے اور ان کی خواہشات کے درمیان حائل ہو گئی ( سورۃ سبا: ۵۴ ) کی تفسیر میں کہتے ہیں: اس کا مطلب ہے ان کے اور ان کے ایمان کے درمیان حائل ہو گئی۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۸۵۲۴)
4620
Zaeef
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُلَيْمٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ أَسِيرُ بِالشَّامِ فَنَادَانِي رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي، ‏‏‏‏‏‏فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَجَاءُ بْنُ حَيْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا أَبَا عَوْنٍ مَا هَذَا الَّذِي يَذْكُرُونَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْحَسَنِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ إِنَّهُمْ يَكْذِبُونَ عَلَى الْحَسَنِ كَثِيرًا .
Ibn Awn said: I was a prisoner in Syria. A man called me from behind. I turned towards him and suddenly found that it was Raja bin Haiwah. He said: Abu Awn, what is this that the people are telling about al-Hasan? I said: They are much lying to al-Hasan.
ابن عون کہتے ہیں کہ میں ملک شام میں چل رہا تھا تو ایک شخص نے پیچھے سے مجھے پکارا جب میں مڑا تو دیکھا رجاء بن حیوہ ہیں، انہوں نے کہا: اے ابوعون! یہ کیا ہے جو لوگ حسن کے بارے میں ذکر کرتے ہیں؟ میں نے کہا: لوگ حسن پر بہت زیادہ جھوٹ باندھتے ہیں۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۸۵۲۳، ۱۸۶۳۹)
4621
Zaeef
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ كَذَبَ عَلَى الْحَسَنِ ضَرْبَانِ مِنَ النَّاسِ:‏‏‏‏ قَوْمٌ الْقَدَرُ رَأْيُهُمْ وَهُمْ يُرِيدُونَ أَنْ يُنَفِّقُوا بِذَلِكَ رَأْيَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَقَوْمٌ لَهُ فِي قُلُوبِهِمْ شَنَآنٌ وَبُغْضٌ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُونَ:‏‏‏‏ أَلَيْسَ مِنْ قَوْلِهِ كَذَا ؟ أَلَيْسَ مِنْ قَوْلِهِ كَذَا ؟ .
Hammad said: I heard Ayyub say: Two kinds of people have lied to al-Hasan: people who believed in free will and they intended that they publicise their belief by it; and people who had enmity with and hostility (for al-Hasan), saying: Did he not say so and so? Did he not say so and so?
ایوب کہتے ہیں حسن پر جھوٹ دو قسم کے لوگ باندھتے ہیں: ایک تو قدریہ، جو چاہتے ہیں کہ اس طرح سے ان کے خیال و نظریہ کا لوگ اعتبار کریں گے، اور دوسرے وہ لوگ جن کے دلوں میں ان کے خلاف عداوت اور بغض ہے، وہ کہتے ہیں: کیا یہ ان کا قول نہیں؟ کیا یہ ان کا قول نہیں؟ ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۸۴۵۰)
4622
Sahih
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ يَحْيَى بْنَ كَثِيرٍ الْعَنْبَرِيَّ حَدَّثَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ لَنَا:‏‏‏‏ يَا فِتْيَانُ لَا تُغْلَبُوا عَلَى الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ كَانَ رَأْيُهُ السُّنَّةَ وَالصَّوَابَ .
Yahya bin Kathir al-Anbari said: Qurrah bin Khalid used to tell us: O young people! Do not think that al-Hasan denied predestination, for his opinion (i. e., belief) was sunnah and sight.
یحییٰ بن کثیر بن عنبری کہتے ہیں کہ قرہ بن خالد ہم سے کہا کرتے تھے: اے نوجوانو! حسن کو قدریہ مت سمجھو، ان کی رائے سنت اور صواب تھی۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۹۲۳۲)
4623
Sahih
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَوْ عَلِمْنَا أَنَّ كَلِمَةَ الْحَسَنِ تَبْلُغُ مَا بَلَغَتْ، ‏‏‏‏‏‏لَكَتَبْنَا بِرُجُوعِهِ كِتَابًا وَأَشْهَدْنَا عَلَيْهِ شُهُودًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنَّا قُلْنَا:‏‏‏‏ كَلِمَةٌ خَرَجَتْ لَا تُحْمَلُ .
Ibn Awn said: If we learnt that the remark of al-Hasan would reach the extent that it has reached, we would write a book for his withdrawal and call witnesses to him; but we said: This is a remark that surprisingly came out (from him) and it will not be transmitted to others.
ابن عون کہتے ہیں کہ اگر ہمیں یہ معلوم ہوتا کہ حسن کی بات ( غلط معنی کے ساتھ شہرت کے ) اس مقام کو پہنچ جائے گی جہاں وہ پہنچ گئی تو ہم لوگ ان کے اس قول کے بارے میں ان کے رجوع کی بابت ایک کتاب لکھتے اور اس پر لوگوں کو گواہ بناتے، لیکن ہم نے سوچا کہ ایک بات ہے جو نکل گئی ہے اور اس کے خلاف معنی پر محمول نہیں کی جائے گی ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داودع (تحفة الأشراف: ۱۸۹۲۲)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : حسن بصری رحمہ اللہ کے بہت سے اقوال کو لوگوں نے اپنی گمراہ کن بدعتوں کی موافقت میں ڈھال لیا جب کہ خود ان کا مقصد اس قول سے وہ نہیں تھا جو اہل بدعت نے گھڑ لیا، اسی کو ابن عون فرماتے ہیں کہ اگر یہ احساس ہوتا کہ آپ کی بات کو یہ لوگ غلط معنی پہنا کر لوگوں کو گمراہ کریں گے تو ہم حسن بصری سے اس کا غلط ہونا ثابت کرتے، ان سے پوچھتے، وہ جواب دیتے، اور ہم اس پر لوگوں کی گواہیاں بھی کراتے، مگر اس وقت اس کا احساس نہ تھا، اب ان کے بعد اہل بدعت نے سیکڑوں غلط باتیں ان سے منسوب کر رکھی ہیں جن سے وہ بری ہیں۔
4624
Sahih
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ لِي الْحَسَنُ مَا أَنَا بِعَائِدٍ إِلَى شَيْءٍ مِنْهُ أَبَدًا .
Ayyub said: Al-Hasan said: I will never return to it.
ایوب کہتے ہیں کہ مجھ سے حسن بصری نے کہا: میں اب دوبارہ کبھی اس میں سے کوئی بات نہیں کہوں گا، ( جس سے تقدیر کی نفی کا گمان ہوتا ) ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۸۵۰۲)
4625
Sahih
حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ بِشْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُثْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا فَسَّرَ الْحَسَنُ آيَةً قَطُّ إِلَّا عَنِ الْإِثْبَاتِ .
Uthman al-Batti said: Al-Hasan never interpreted any Quranic verse but to establish (Divine decree).
عثمان کہتے ہیں کہ حسن نے جب بھی کسی آیت کی تفسیر کی تو تقدیر کا اثبات کیا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۸۵۲۵، ۱۹۰۰۴)
4626
Sahih

Chapters

32
01
CHAPTER: Explanation of the Sunnah.
باب: سنت و عقائد کی شرح و تفسیر ۔
2 Hadith
02
CHAPTER: Prohibition Of Controversy And Of Following The Allergorical Verses In the Qur’an.
باب: قرآن میں جھگڑنا اور متشابہ آیات کے چکر میں پڑنا منع ہے ۔
1 Hadith
03
CHAPTER: Keeping Away From Heretics And Hating Them.
باب: بدعتیوں اور ہوا پرستوں کی صحبت سے بچنے اور ان سے بغض و نفرت رکھنے کا بیان ۔
2 Hadith
04
CHAPTER: The Abandonment Of Saluting The Heretics.
باب: اہل بدعت کو سلام نہ کرنے کا بیان ۔
2 Hadith
05
CHAPTER: Prohibition Of Controversy About The Qur’an.
باب: قرآن کے بارے میں جھگڑنے کی ممانعت کا بیان ۔
1 Hadith
06
CHAPTER: Adherence To The Sunnah.
باب: سنت کی پیروی ضروری ہے ۔
5 Hadith
07
CHAPTER: Adherence To The Sunnah.
باب: سنت پر عمل کرنے کی دعوت دینے والوں کے اجر و ثواب کا بیان ۔
18 Hadith
08
CHAPTER: Order Of The Companions In Respect Of Merit.
باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سب افضل کون ہے پھر اس کے بعد کون ہے ؟
5 Hadith
09
CHAPTER: The Caliphs.
باب: خلفاء کا بیان ۔
25 Hadith
10
CHAPTER: Excellence Of The Companions Of The Prophet (saws).
باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی فضیلت کا بیان ۔
1 Hadith
11
CHAPTER: Prohibition Of Abusing The Companions Of The Apostle of Allah (saws).
باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو برا بھلا کہنا منع ہے ۔
2 Hadith
12
CHAPTER: Proof Of Abu Bakr’s Caliphate.
باب: ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا بیان ۔
2 Hadith
13
CHAPTER: Instructions Regarding Refraining From Speech During The Period Of Turmoil.
باب: فتنہ و فساد کے وقت خاموش رہنے کا بیان ۔
6 Hadith
14
CHAPTER: Making Distinction Between The Prophets.
باب: انبیاء و رسل علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا کیسا ہے ؟
8 Hadith
15
CHAPTER: Refutation Of The Murji’ah.
باب: ارجاء کی تردید کا بیان ۔
4 Hadith
16
CHAPTER: Proof Of Increase And Decrease Of Faith.
باب: ایمان کی کمی اور زیادتی کے دلائل کا بیان ۔
11 Hadith
17
CHAPTER: Belief In Divine Decree.
باب: تقدیر ( قضاء و قدر ) کا بیان ۔
20 Hadith
18
CHAPTER: The Offspring Of Polytheists.
باب: کفار اور مشرکین کی اولاد کے انجام کا بیان ۔
10 Hadith
19
CHAPTER: The Jahmiyyah.
باب: جہمیہ کا بیان ۔
8 Hadith
20
CHAPTER: The Vision Of Allah.
باب: رویت باری تعالیٰ کا بیان ۔
3 Hadith
21
CHAPTER: Refutation Of The Jahmiyyah.
باب: جہمیہ کے رد کا بیان ۔
2 Hadith
22
CHAPTER: The Qur’an, The Word Of Allah.
باب: قرآن کے کلام اللہ ہونے کا بیان ۔
5 Hadith
23
CHAPTER: Intercession.
باب: شفاعت کا بیان ۔
3 Hadith
24
CHAPTER: The Creation Of Paradise And Hell.
باب: قیامت اور صور کا بیان ۔
2 Hadith
25
CHAPTER: The Pond.
باب: جنت اور جہنم کی تخلیق کا بیان ۔
1 Hadith
26
CHAPTER: Questioning And Punishment In The Grave.
باب: حوض کوثر کا بیان ۔
5 Hadith
27
CHAPTER: The Scale.
باب: قبر میں سوال کئے جانے اور قبر کے عذاب کا بیان ۔
5 Hadith
28
CHAPTER: The Antichrist (Dajjal).
باب: ترازو کا بیان ۔
1 Hadith
29
CHAPTER: On The Killing Of The Khawarij.
باب: دجال کا بیان ۔
2 Hadith
30
CHAPTER: Fighting Against The Khawarij.
باب: خوارج کے قتل کا بیان ۔
5 Hadith
31
CHAPTER: Fighting With The Thieves.
باب: خوارج سے قتال کا بیان ۔
8 Hadith
32
CHAPTER
باب: چوروں سے مقابلہ کرنے کا بیان ۔
2 Hadith
No chapter matched that.