حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْعِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا تَوَجَّهَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْكَعْبَةِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يُصَلُّونَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ سورة البقرة آية 143 .
Ibn Abbas said: when the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم turned towards the Kaabah (in prayer), the people asked: Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم! what will happen with those who died while they prayed with their faces towards Jerusalem ? Allah the Exalted, then revealed: “And never would Allah make your faith of no effect. ”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب ( نماز میں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کی طرف رخ کرنا شروع کیا تو لوگ کہنے لگے: اللہ کے رسول! ان لوگوں کا کیا ہو گا جو مر گئے، اور وہ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تھے؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «وما كان الله ليضيع إيمانكم» ایسا نہیں ہے کہ اللہ تمہارے ایمان یعنی نماز ضائع فرما دے ( البقرہ: ۱۴۳ ) ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/تفسیرالقرآن ۳ (۲۹۶۴)، (تحفة الأشراف: ۶۱۰۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۲۹۵، ۳۰۴، ۳۴۷)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس آیت میں نماز کو اللہ تعالیٰ نے ایمان قرار دیا ہے، کیونکہ سوال ان صلاتوں کے بارے میں تھا جو بیت اللہ کی طرف رخ کرنے سے پہلے بیت المقدس کی طرف رخ کرکے ادا کی گئی تھیں، اور بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم انتقال بھی کر چکے تھے تو اللہ نے فرمایا : بیت المقدس کی طرف رخ کر کے پڑھی گئی نمازیں ضائع نہیں کرے گا، پس ایمان سے مراد نماز ہے۔
4680
Sahih