TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

CHAPTER: Prohibition Of Abusing The Companions Of The Apostle of Allah (saws). - باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو برا بھلا کہنا منع ہے ۔ - Model behavior of the prophet (kitab al-sunnah) - Sunnan Abu Dawood with Urdu and English Translation

Chapter 11 of Model behavior of the prophet (kitab al-sunnah) in Sunnan Abu Dawood. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 11 of 32 · 2 Hadith
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنْفَقَ أَحَدُكُمْ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ .
Abu Saeed (al-Khudri) reported the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم as saying: Do not revile my Companions; by him in whose hand my soul is, if one of you contributed the amount of gold equivalent to Uhud, it would not amount to as much as the mudd of one of them, or half of it.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی احد ( پہاڑ ) کے برابر سونا خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مد یا نصف مد کے برابر بھی نہ ہو گا ۱؎ ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/فضائل الصحابة ۵ (۳۶۷۳)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ۵۴ (۲۵۴۱)، سنن الترمذی/المناقب ۵۹ (۳۸۶۱)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ۲۰ (۱۶۱)، (تحفة الأشراف: ۴۰۰۱، ۱۲۵۳۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۱۱، ۵۴، ۵۵، ۶۳)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس حدیث کا شان ورود یہ ہے کہ ایک بار عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ کہا سنی ہو گئی جس پر خالد نے عبدالرحمن کو کچھ نامناسب الفاظ کہہ دیئے، جس پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا، اس سے پتہ چلا کہ مخصوص اصحاب کے مقابلہ میں دیگر صحابہ کرام کا یہ حال ہے تو غیر صحابی کا کیا ذکر، غیر صحابی کا احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرنا صحابی کے ایک مُد غلہ کے برابر بھی نہیں ہو سکتا، اس سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مقام عالی کا پتہ چلتا ہے، اور یہیں سے ان بدبختوں کی بدبختی اور بدنصیبی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے جن کے مذہب کی بنیاد صحابہ کرام کو سب وشتم کا نشانہ بنانا اور تبرا بازی کو دین سمجھنا ہے۔
4658
Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ الثَّقَفِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ الْمَاصِرُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قُرَّةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ حُذَيْفَةُ بِالْمَدَائِنِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَ يَذْكُرُ أَشْيَاءَ قَالَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فِي الْغَضَبِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَنْطَلِقُ نَاسٌ مِمَّنْ سَمِعَ ذَلِكَ مِنْ حُذَيْفَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَأْتُونَ سَلْمَانَ فَيَذْكُرُونَ لَهُ قَوْلَ حُذَيْفَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ سَلْمَانُ:‏‏‏‏ حُذَيْفَةُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُ، ‏‏‏‏‏‏فَيَرْجِعُونَ إِلَى حُذَيْفَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُونَ لَهُ:‏‏‏‏ قَدْ ذَكَرْنَا قَوْلَكَ لِسَلْمَانَ فَمَا صَدَّقَكَ وَلَا كَذَّبَكَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَى حُذَيْفَةُ سَلْمَانَ وَهُوَ فِي مَبْقَلَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا سَلْمَانُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُصَدِّقَنِي بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَسَلْمَانُ:‏‏‏‏ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْضَبُ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ فِي الْغَضَبِ لِنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَيَرْضَى فَيَقُولُ فِي الرِّضَا لِنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ:‏‏‏‏ أَمَا تَنْتَهِي حَتَّى تُوَرِّثَ رِجَالًا حُبَّ رِجَالٍ، ‏‏‏‏‏‏وَرِجَالًا بُغْضَ رِجَالٍ، ‏‏‏‏‏‏وَحَتَّى تُوقِعَ اخْتِلَافًا وَفُرْقَةً، ‏‏‏‏‏‏وَلَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي سَبَبْتُهُ سَبَّةً أَوْ لَعَنْتُهُ لَعْنَةً فِي غَضَبِي، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّمَا أَنَا مِنْ وَلَدِ آدَمَ أَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُونَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا بَعَثَنِي رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ صَلَاةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ لَتَنْتَهِيَنَّ أَوْ لَأَكْتُبَنَّ إِلَى عُمَرَ .
Amr bin Abl Qurrah said: Hudhaifah was in al-Mada’in. He used to mention things which the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said to some people from among his Companions in anger. The people who heard from Hudhaifah would go to Salman and tell him what Hudhaifah said. Salman would say: Hudhaifah knows best what he says. Then they would come to Hudhaifah and tell him: We mentioned Salman what you said, but he neither testified you nor falsified you. So Hudhaifah came to salman who was in his vegetable farm, and said: Salman, what prevents you from testifying me of what I heard from the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ? Salman said: The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم sometimes would be angry, and said in anger something to some of his Companions; he would be sometimes pleased and said in pleasure something to some of his Companions. Would you not stop until you create love of some people in the hearts of some people, and hatred of some people in the hearts of some people, and until you generate disagreement and dissension? You know that the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم addressed, saying: If I abused any person of my people, or cursed him in my anger. I am one of the children of Adam: I become angry as they become angry. He (Allah) has sent me as a mercy for all worlds. (O Allah!) make them (Abuse or curse) blessing for them on the day of judgment! I swear by Allah. You should stop (mentioning these traditions), otherwise I shall writ to Umar.
عمرو بن ابی قرہ کہتے ہیں کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے اور وہ ان باتوں کا ذکر کیا کرتے تھے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں سے بعض لوگوں سے غصہ کی حالت میں فرمائی تھیں، پھر ان میں سے کچھ لوگ جو حذیفہ سے باتیں سنتے چل کر سلمان رضی اللہ عنہ کے پاس آتے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ کی باتوں کا تذکرہ کرتے تو سلمان رضی اللہ عنہ کہتے: حذیفہ ہی اپنی کہی باتوں کو بہتر جانتے ہیں، تو وہ لوگ حذیفہ کے پاس لوٹ کر آتے اور ان سے کہتے: ہم نے آپ کی باتوں کا تذکرہ سلمان سے کیا تو انہوں نے نہ آپ کی تصدیق کی اور نہ تکذیب، یہ سن کر حذیفہ سلمان کے پاس آئے، وہ اپنی ترکاری کے کھیت میں تھے کہنے لگے: اے سلمان! ان باتوں میں میری تصدیق کرنے سے آپ کو کون سی چیز روک رہی ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہیں؟ تو سلمان نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلاشبہ کبھی غصے میں اپنے بعض اصحاب سے کچھ باتیں کہہ دیتے اور کبھی خوش ہوتے تو خوشی میں اپنے بعض اصحاب سے کچھ باتیں کہہ دیتے، تو کیا آپ اس وقت تک باز نہ آئیں گے جب تک کہ بعض لوگوں کے دلوں میں بعض لوگوں کی محبت اور بعض دوسروں کے دلوں میں بعض کی دشمنی نہ ڈال دیں اور ان کو اختلاف میں مبتلا نہ کر دیں، حالانکہ آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا: میں نے اپنی امت کے کسی فرد کو غصے کی حالت میں اگر برا بھلا کہا یا اسے لعن طعن کی تو میں بھی تو آدم کی اولاد میں سے ہوں، مجھے بھی غصہ آتا ہے جیسے انہیں آتا ہے، لیکن اللہ نے مجھے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے تو ( اے اللہ ) میرے برا بھلا کہنے اور لعن طعن کو ان لوگوں کے لیے قیامت کے روز رحمت بنا دے اللہ کی قسم یا تو آپ اپنی اس حرکت سے باز آ جائیں ورنہ میں عمر بن الخطاب ( امیر المؤمنین ) کو لکھ بھیجوں گا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ۴۵۰۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۴۳۷، ۴۳۹)
4659
Sahih

Chapters

32
01
CHAPTER: Explanation of the Sunnah.
باب: سنت و عقائد کی شرح و تفسیر ۔
2 Hadith
02
CHAPTER: Prohibition Of Controversy And Of Following The Allergorical Verses In the Qur’an.
باب: قرآن میں جھگڑنا اور متشابہ آیات کے چکر میں پڑنا منع ہے ۔
1 Hadith
03
CHAPTER: Keeping Away From Heretics And Hating Them.
باب: بدعتیوں اور ہوا پرستوں کی صحبت سے بچنے اور ان سے بغض و نفرت رکھنے کا بیان ۔
2 Hadith
04
CHAPTER: The Abandonment Of Saluting The Heretics.
باب: اہل بدعت کو سلام نہ کرنے کا بیان ۔
2 Hadith
05
CHAPTER: Prohibition Of Controversy About The Qur’an.
باب: قرآن کے بارے میں جھگڑنے کی ممانعت کا بیان ۔
1 Hadith
06
CHAPTER: Adherence To The Sunnah.
باب: سنت کی پیروی ضروری ہے ۔
5 Hadith
07
CHAPTER: Adherence To The Sunnah.
باب: سنت پر عمل کرنے کی دعوت دینے والوں کے اجر و ثواب کا بیان ۔
18 Hadith
08
CHAPTER: Order Of The Companions In Respect Of Merit.
باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سب افضل کون ہے پھر اس کے بعد کون ہے ؟
5 Hadith
09
CHAPTER: The Caliphs.
باب: خلفاء کا بیان ۔
25 Hadith
10
CHAPTER: Excellence Of The Companions Of The Prophet (saws).
باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی فضیلت کا بیان ۔
1 Hadith
11
CHAPTER: Prohibition Of Abusing The Companions Of The Apostle of Allah (saws).
باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو برا بھلا کہنا منع ہے ۔
2 Hadith
12
CHAPTER: Proof Of Abu Bakr’s Caliphate.
باب: ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا بیان ۔
2 Hadith
13
CHAPTER: Instructions Regarding Refraining From Speech During The Period Of Turmoil.
باب: فتنہ و فساد کے وقت خاموش رہنے کا بیان ۔
6 Hadith
14
CHAPTER: Making Distinction Between The Prophets.
باب: انبیاء و رسل علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا کیسا ہے ؟
8 Hadith
15
CHAPTER: Refutation Of The Murji’ah.
باب: ارجاء کی تردید کا بیان ۔
4 Hadith
16
CHAPTER: Proof Of Increase And Decrease Of Faith.
باب: ایمان کی کمی اور زیادتی کے دلائل کا بیان ۔
11 Hadith
17
CHAPTER: Belief In Divine Decree.
باب: تقدیر ( قضاء و قدر ) کا بیان ۔
20 Hadith
18
CHAPTER: The Offspring Of Polytheists.
باب: کفار اور مشرکین کی اولاد کے انجام کا بیان ۔
10 Hadith
19
CHAPTER: The Jahmiyyah.
باب: جہمیہ کا بیان ۔
8 Hadith
20
CHAPTER: The Vision Of Allah.
باب: رویت باری تعالیٰ کا بیان ۔
3 Hadith
21
CHAPTER: Refutation Of The Jahmiyyah.
باب: جہمیہ کے رد کا بیان ۔
2 Hadith
22
CHAPTER: The Qur’an, The Word Of Allah.
باب: قرآن کے کلام اللہ ہونے کا بیان ۔
5 Hadith
23
CHAPTER: Intercession.
باب: شفاعت کا بیان ۔
3 Hadith
24
CHAPTER: The Creation Of Paradise And Hell.
باب: قیامت اور صور کا بیان ۔
2 Hadith
25
CHAPTER: The Pond.
باب: جنت اور جہنم کی تخلیق کا بیان ۔
1 Hadith
26
CHAPTER: Questioning And Punishment In The Grave.
باب: حوض کوثر کا بیان ۔
5 Hadith
27
CHAPTER: The Scale.
باب: قبر میں سوال کئے جانے اور قبر کے عذاب کا بیان ۔
5 Hadith
28
CHAPTER: The Antichrist (Dajjal).
باب: ترازو کا بیان ۔
1 Hadith
29
CHAPTER: On The Killing Of The Khawarij.
باب: دجال کا بیان ۔
2 Hadith
30
CHAPTER: Fighting Against The Khawarij.
باب: خوارج کے قتل کا بیان ۔
5 Hadith
31
CHAPTER: Fighting With The Thieves.
باب: خوارج سے قتال کا بیان ۔
8 Hadith
32
CHAPTER
باب: چوروں سے مقابلہ کرنے کا بیان ۔
2 Hadith
No chapter matched that.