CHAPTER: Making Distinction Between The Prophets. - باب: انبیاء و رسل علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا کیسا ہے ؟ - Model behavior of the prophet (kitab al-sunnah) - Sunnan Abu Dawood with Urdu and English Translation
Chapter 14 of Model behavior of the prophet (kitab al-sunnah) in Sunnan Abu Dawood. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
Abu Saeed Al-Khudri reported the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Do not distinguish between the Prophets.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الخصومات ۴ (۲۴۱۲)، الأنبیاء ۲۵ (۳۳۹۸)، الدیات ۳۲ (۶۹۱۷)، صحیح مسلم/الفضائل (۲۳۷۴)، (تحفة الأشراف: ۴۴۰۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۳۱، ۳۳، ۴۰)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس کے یہ معنی نہیں کہ انبیاء فضیلت میں برابر ہیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اپنی طرف سے ایسا مت کرو ، یا مطلب یہ ہے کہ ایک کو دوسرے پر ایسی فضیلت نہ دو کہ دوسرے کی تنقیص لازم آئے، یا یہ ہے کہ نفس نبوت میں سب برابر ہیں، خصائص اور فضائل میں ایک دوسرے پر فوقیت رکھتے ہیں ،جیسا کہ اللہ نے فرمایا : «تلك الرسل فضلنا بعضهم على بعض» ۔
Ibn Abbas reported the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: It is not fitting for a servent to say that I (The Prophet) is better than Jonah son of Matta.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی بندے کے لیے درست نہیں کہ وہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں ۱؎ ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأنبیاء ۲۴ (۳۳۹۵)، وتفسیر القرآن ۴ (۴۶۳۰)، صحیح مسلم/الفضائل ۴۳ (۲۳۷۷)، (تحفة الأشراف: ۵۴۲۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۲۴۲، ۲۵۴، ۳۴۲، ۳۴۸)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس میں اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ کوئی شخص اپنے کو یونس علیہ السلام سے افضل کہے، کیونکہ غیر نبی کبھی کسی بھی نبی سے افضل نہیں ہو سکتا، یا یہ کہ یونس علیہ السلام پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فضیلت دے اس صورت میں آپ کا یہ فرمانا بطور تواضع ہو گا۔
Abdullah bin Jafar reported the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: It is not fitting for a prophet to say: I am better than Jonah son of matta.
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: کسی نبی کے لیے یہ کہنا مناسب نہیں کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ۵۲۲۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۲۰۵)
Abu Hurairah said: A man from among the Jews said: By him who chose Moses above the universe. So a Muslim raised his hand and slapped the Jew on his face. The Jew went to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and informed him. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Do not make me superior to Moses, for mankind (on the Day of Resurrection) will swoon and I will be the know whether he was among those who swooned and had recovered before me, or he was among those of whom Allah had made an exception. Abu Dawud said: The tradition of Ibn yahya is more perfect.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہود کے ایک شخص نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو چن لیا، یہ سن کر مسلمان نے یہودی کے چہرہ پر طمانچہ رسید کر دیا، یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور اس کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا: مجھے موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت نہ دو، ( پہلا صور پھونکنے سے ) سب لوگ بیہوش ہو جائیں گے تو سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا، اس وقت موسیٰ علیہ السلام عرش کا ایک کنارا مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہوں گے، تو مجھے نہیں معلوم کہ آیا وہ ان لوگوں میں سے تھے جو بیہوش ہو گئے تھے اور مجھ سے پہلے ہوش میں آ گئے، یا ان لوگوں میں سے تھے جنہیں اللہ نے بیہوش ہونے سے محفوظ رکھا ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن یحییٰ کی حدیث زیادہ کامل ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الخصومات ۱ (۲۴۱۲)، الأنبیاء ۳۲ (۲۳۹۸)، التفسیر ۴ (۴۶۳۸)، والرقاق ۴۳ (۶۵۱۷)، التوحید ۳۱ (۷۴۷۲)، صحیح مسلم/الفضائل ۴۲ (۲۳۷۳)، (تحفة الأشراف: ۱۳۹۵۶)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر القرآن ۴۰ (۳۲۴۵)، مسند احمد (۲/۲۶۴)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : چونکہ اس یہودی نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام عالم سے افضل قرار دیا تھا اس لئے مسلمان نے اُسے طمانچہ رسید کر دیا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز سے منع کیا وہ انبیاء کرام علیہم السلام کو ایک دوسرے پر حمیت و عصبیت کی بنا پر فضیلت دینا ہے، ورنہ اس میں شک نہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم موسیٰ علیہ السلام سے افضل ہیں، آپ نے موسیٰ علیہ السلام کے بے ہوش نہ ہونے وغیرہ کی بات صرف اس لئے فرمائی کہ ہر نبی کو اللہ نے کچھ خصوصیات عنایت فرمائی ہیں، لیکن ان کی بنیاد پر دوسرے انبیاء کی کسر شان درست نہیں، ہمارے لئے سارے انبیاء علیہ السلام قابل احترام ہیں۔
Anas said: A man said to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم: O best of all creatures! The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: That was Abraham صلی اللہ علیہ وسلم.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا: اے مخلوق میں سے سب سے بہتر! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شان تو ابراہیم علیہ السلام کی ہے ۱؎ ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الفضائل ۴۱ (۲۳۶۹)، سنن الترمذی/تفسیر البینة ۸۶ (۳۳۵۲)، (تحفة الأشراف: ۱۵۷۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۱۷۸، ۱۸۴)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : ممکن ہے خیرالبریۃ ابراہیم علیہ السلام کا لقب ہو، وہ اپنے زمانہ کے سب سے بہتر تھے، آپ نے ازراہ انکسار ایسا فرمایا ورنہ آپ یقینا خیرالبریۃ ہیں۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: I shall be pre-eminent among the descendants of Adam, the first from whom the earth will be cleft open the first intercessor, and the first whose intercession will be accepted.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اولاد آدم کا سردار ہوں، اور میں سب سے پہلا شخص ہوں جو اپنی قبر سے باہر آئے گا، سب سے پہلے سفارش کرنے والا ہوں اور میری ہی سفارش سب سے پہلے قبول ہو گی ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/ الفضائل ۲ (۲۲۷۸)، (تحفة الأشراف: ۱۳۵۸۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۱۹۵، ۲۸۱)
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: I do not know whether Tubba was accursed or not, and ‘Uzair (Azra was a prophet or not).
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے نہیں معلوم کہ تبع قابل ملامت ہے یا نہیں، اور نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ عزیر نبی ہیں یا نہیں ۱؎ ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۳۰۳۳)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : تبع کے بارے میں یہ فرمان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس وقت کا ہے جب آپ کو اس کے بارے میں نہیں بتایا گیا تھا، بعد میں آپ کو بتا دیا گیا کہ وہ ایک مرد صالح تھے۔
Abu Hurairah said: I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: I am the nearest of kin among the people to (Jesus) son of Mary. The Prophet are brothers, sons of one father by co-wives. There is no Prophet between me and him.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: میں ابن مریم سے لوگوں میں سب سے زیادہ قریب ہوں، انبیاء علیہم السلام علاتی بھائی ہیں، میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ۱؎ ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الفضائل ۴۰ (۲۳۶۵)، (تحفة الأشراف: ۱۵۳۲۴)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ۴۸ (۳۴۴۲)، مسند احمد (۲/۴۸۲، ۵۴۱)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : انبیاء علیہم السلام علاتی بھائی ہیں، علاتی بھائی وہ ہوتے ہیں جن کی مائیں مختلف ہوں اور باپ ایک ہو، انبیاء کی شریعتیں مختلف اور دین ایک تھا ،یا یہ مراد ہے کہ زمانے مختلف ہیں اور دین ایک ہے۔