TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

(18) CHAPTER: - باب - The book of al-jizya and the stoppage of war. - Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Chapter 17 of The book of al-jizya and the stoppage of war. in Sahih Bukhari. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 17 of 20 · 3 Hadith
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا وَائِلٍ شَهِدْتَ صِفِّينَ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَسَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ ، يَقُولُ : اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ أَمْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَرَدَدْتُهُ وَمَا وَضَعْنَا أَسْيَافَنَا عَلَى عَوَاتِقِنَا لِأَمْرٍ يُفْظِعُنَا إِلَّا أَسْهَلْنَ بِنَا إِلَى أَمْرٍ نَعْرِفُهُ غَيْرِ أَمْرِنَا هَذَا .
Narrated Al-A`mash: I asked Abu Wail, Did you take part in the battle of Siffin? He said, 'Yes, and I heard Sahl bin Hunaif (when he was blamed for lack of zeal for fighting) saying, You'd better blame your wrong opinions. I wish you had seen me on the day of Abu Jandal. If I had the courage to disobey the Prophet's orders, I would have done so. We had kept out swords on our necks and shoulders, for a thing which frightened us. And we did so, we found it easier for us, except in the case of the above battle (of ours).'
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوحمزہ نے خبر دی، کہا کہ میں نے اعمش سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابووائل سے پوچھا، کیا آپ صفین کی جنگ میں موجود تھے؟ انہوں نے بیان کیا کہ ہاں ( میں تھا ) اور میں نے سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا تھا کہ تم لوگ خود اپنی رائے کو غلط سمجھو، جو آپس میں لڑتے مرتے ہو۔ میں نے اپنے تئیں دیکھا جس دن ابوجندل آیا ( یعنی حدیبیہ کے دن ) اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم پھیر دیتا اور ہم نے جب کسی مصیبت میں ڈر کر تلواریں اپنے کندھوں پر رکھیں تو وہ مصیبت آسان ہو گئی۔ ہم کو اس کا انجام معلوم ہو گیا۔ مگر یہی ایک لڑائی ہے ( جو سخت مشکل ہے اس کا انجام بہتر نہیں معلوم ہوتا ) ۔
3181
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو وَائِلٍ ، قَالَ : كُنَّا بِصِفِّينَ ، فَقَامَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ ، فَقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ اتَّهِمُوا أَنْفُسَكُمْ فَإِنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَلَوْ نَرَى قِتَالًا لَقَاتَلْنَا فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ ؟ فَقَالَ : بَلَى ، فَقَالَ : أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ ، قَالَ : بَلَى ، قَالَ : فَعَلَي مَا نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا أَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَلَنْ يُضَيِّعَنِي اللَّهُ أَبَدًا فَانْطَلَقَ عُمَرُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالَ : لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَلَنْ يُضَيِّعَهُ اللَّهُ أَبَدًا فَنَزَلَتْ سُورَةُ الْفَتْحِ فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُمَرَ إِلَى آخِرِهَا ، فَقَالَ : عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَفَتْحٌ هُوَ ، قَالَ : نَعَمْ .
Narrated Abu Wail: We were in Siffin and Sahl bin Hunaif got up and said, O people! Blame yourselves! We were with the Prophet on the day of Hudaibiya, and if we had been called to fight, we would have fought. But `Umar bin Al Khatab came and said, 'O Allah's Apostle! Aren't we in the right and our opponents in the wrongs' Allah's Apostle said, 'Yes.' `Umar said, 'Aren't our killed persons in Paradise and their's in Hell?' He said, 'Yes.' `Umar said, 'Then why should we accept hard terms in matters concerning our religion? Shall we return before Allah judges between us and them?' Allah's Apostle said, 'O Ibn Al- Khattab! I am the Apostle of Allah and Allah will never degrade me. Then `Umar went to Abu Bakr and told him the same as he had told the Prophet. On that Abu Bakr said (to `Umar). 'He is the Apostle of Allah and Allah will never degrade him.' Then Surat-al-Fath (i.e. Victory) was revealed and Allah's Apostle recited it to the end in front of `Umar. On that `Umar asked, 'O Allah's Apostle! Was it (i.e. the Hudaibiya Treaty) a victory?' Allah's Apostle said, Yes .
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے، ان سے یزید بن عبدالعزیز نے، ان سے ان کے باپ عبدالعزیز بن سیاہ نے، ان سے حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابووائل نے بیان کیا کہ ہم مقام صفین میں ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔ پھر سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا اے لوگو! تم خود اپنی رائے کو غلط سمجھو۔ ہم صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اگر ہمیں لڑنا ہوتا تو اس وقت ضرور لڑتے۔ عمر رضی اللہ عنہ اس موقع پر آئے ( یعنی حدیبیہ میں ) اور عرض کیا، یا رسول اللہ! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیوں نہیں! عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں جائیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کہ کیوں نہیں! پھر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر ہم اپنے دین کے معاملے میں کیوں دبیں؟ کیا ہم ( مدینہ ) واپس چلے جائیں گے، اور ہمارے اور ان کے درمیان اللہ کوئی فیصلہ نہیں کرے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ابن خطاب! میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ مجھے کبھی برباد نہیں کرے گا۔“ اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے وہی سوالات کئے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابھی کر چکے تھے۔ انہوں نے بھی یہی کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اور اللہ انہیں کبھی برباد نہیں ہونے دے گا۔ پھر سورۃ فتح نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو اسے آخر تک پڑھ کر سنایا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کیا یہی فتح ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں! بلا شک یہی فتح ہے۔
3182
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ ابْنَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَتْ : قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ إِذْ عَاهَدُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُدَّتِهِمْ مَعَ أَبِيهَا فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُهَا ، قَالَ : نَعَمْ صِلِيهَا .
Narrated Asma 'bint Abi Bakr: During the period of the peace treaty of Quraish with Allah's Apostle, my mother, accompanied by her father, came to visit me, and she was a pagan. I consulted Allah's Apostle, O Allah's Apostle! My mother has come to me and she desires to receive a reward from me, shall I keep good relation with her? He said, Yes, keep good relation with her.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ قریش سے جس زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حدیبیہ کی ) صلح کی تھی، اسی مدت میں میری والدہ ( قتیلہ ) اپنے باپ ( حارث بن مدرک ) کو ساتھ لے کر میرے پاس آئیں، وہ اسلام میں داخل نہیں ہوئی تھیں۔ ( عروہ نے بیان کیا کہ ) اسماء رضی اللہ عنہا نے اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میری والدہ آئی ہوئی ہیں اور مجھ سے رغبت کے ساتھ ملنا چاہتی ہیں، تو کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں! ان کے ساتھ صلہ رحمی کر۔
3183
Sahih

Chapters

20
01
(1) CHAPTER. Al-Jizya (i.e., tax taken from all non-Muslims living under the protection of Islamic state) taken from the Dhimmi, and the stoppage of war for a while with the enemies.
جزیہ کا اور کافروں سے ایک مدت تک لڑائی نہ کرنے کا بیان
5 Hadith
02
(2) CHAPTER. If the Imam concludes a truce with the king of a country, will peace be observed in regard to all the people of that country?
اگر بستی کے حاکم سے صلح ہو جائے تو بستی والوں سے بھی صلح سمجھی جائے گی
1 Hadith
03
(3) CHAPTER. The advice to take care of non-Muslims who have a covenant of Allah's Messenger (p.b.u.h).
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کافروں کو امان دی ( اپنے ذمہ میں لیا ) ان کے امان کو قائم رکھنے کی وصیت کرنا
1 Hadith
04
(4) CHAPTER. What grants the Prophet (p.b.u.h) gave from the land of Bahrain, and what he promised to give (some people) from the Bahrain money resources and from Al-Jizya. And to whom should the Fai (i.e., booty gained without fight) and the Jizya be distributed?
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بحرین سے ( مجاہدین کو کچھ معاش ) دینا اور بحرین کی آمدنی اور جزیہ میں سے کسی کو کچھ دینے کا وعدہ کرنا اس کا بیان اور اس کا کہ جو مال کافروں سے بن لڑے ہاتھ آئے یا جزیہ وہ کن لوگوں کو تقسیم کیا جائے ۔
3 Hadith
05
(5) CHAPTER. The sin of one who kills an innocent person having a treaty with the Muslims.
کسی ذمی کافر کو ناحق مار ڈالنا کیسا گناہ ہے ؟
1 Hadith
06
(6) CHAPTER. The expelling of the Jews from the Arabian Peninsula.
یہودیوں کو عرب کے ملک سے نکال باہر کرنا
2 Hadith
07
(7) CHAPTER. If Al-Mushrikun (polytheists, pagans, idolaters, and disblelievers in Oneness of Allah and in His Messenger Muhammad (p.b.u.h)) prove treacherous to the Muslims, may they be forgiven?
اگر کافر مسلمانوں سے دغا کریں تو ان کو معافی دی جا سکتی ہے یا نہیں ؟
1 Hadith
08
(8) CHAPTER. The invocation of the Imam against those who break their covenant (with the Muslims).
وعدہ توڑنے والوں کے حق میں امام کی بددعا
1 Hadith
09
(9) CHAPTER. The offering of shelter and peace to someone by women.
( مسلمان ) عورتیں اگر کسی ( غیرمسلم ) کو امان اور پناہ دیں ؟
1 Hadith
10
(10) CHAPTER. The asylum and protection granted by the Muslims should be respected and observed by all of them, even if it is granted by one of the lowest social status.
مسلمان سب برابر ہیں اگر ایک ادنیٰ مسلمان کسی کافر کو پناہ دے تو سب مسلمانوں کو قبول کرنا چاہئے
1 Hadith
11
(12) CHAPTER. Making peace with Al-Mushrikun (polytheists, pagans, idolaters, and disbelievers in the Oneness of Allah and in His Messenger Muhammad (p.b.u.h)) and the reconciliation with them by means of money or other means, and the sin of the person who does not fulfil the terms of the treaty.
مشرکوں سے مال وغیرہ پرصلح کرنا ، لڑائی چھوڑ دینا ، اور جو کوئی عہد پورا نہ کرے اس کا گناہ
1 Hadith
12
(13) CHAPTER. The superiority of fulfilling one's covenant.
عہد پورا کرنے کی فضیلت
1 Hadith
13
(14) CHAPTER. If a Dhimmi practises magic, can he be excused?
اگر کسی ذمی نے کسی پر جادو کر دیا تو کیا اسے معاف کیا جا سکتا ہے ؟
1 Hadith
14
(15) CHAPTER. Caution against treachery.
دغابازی کرنا کیسا گناہ ہے ؟
1 Hadith
15
(16) CHAPTER. How to revoke a covenant.
عہد کیوں کر واپس کیا جائے ؟
1 Hadith
16
(17) CHAPTER. The sin of a person who makes a covenant and then proves treacherous.
معاہدہ کرنے کے بعد دغابازی کرنے والے پر گناہ ؟
3 Hadith
17
(18) CHAPTER:
باب
3 Hadith
18
(19) CHAPTER. It is permissible to conclude a peace treaty of three days or any other fixed period.
تین دن یا ایک معین مدت کے لیے صلح کرنا
1 Hadith
19
(21) CHAPTER. The throwing of the dead bodies of Al-Mushrikun in a well, and no price should be accepted for such dead bodies (in case their families want to take them).
مشرکوں کی لاشوں کو کنویں میں پھینکوانا اور ان کی لاشوں کی ( اگر ان کے ورثاء دینا بھی چاہیں تو بھی ) قیمت نہ لینا ۔
1 Hadith
20
(22) CHAPTER. The sin of a betrayer (treacherous and perfidious person) whether he betrays a good or bad person.
دغابازی کرنے والے پر گناہ خواہ وہ کسی نیک آدمی کے ساتھ ہو یا بے عمل کے ساتھ
4 Hadith
No chapter matched that.