TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2091 - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم اور حلف کا بیان - The chapters on expiation - Sunnan Ibn e Maja in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 4 in this chapter
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم اور حلف کا بیان
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّنْعَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْهِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ عَرَابَةَ الْجُهَنِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَتْ يَمِينُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي يَحْلِفُ بِهَا أَشْهَدُ عِنْدَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ .
It was narrated that Rifa'ah bin 'Arabah A-Juhani said: The swearing of the Messenger of Allah (ﷺ) when he took an oath and I bear witness before Allah was: 'By the One in Whose Hand is my soul. '
رفاعہ بن عرابہ جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم جو آپ کھایا کرتے تھے، یوں ہوتی تھی: «والذي نفسي بيده» قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔
2091
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 3, Book 11, Hadith 2091 Arabic reference : Book 11, Hadith 2169
(سند میں عبد الملک صنعانی ضعیف راوی ہے، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے)
Conclusion
تخریج
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۳۶۱۲، ومصباح الزجاجة:۷۳۶)

Related Chapters

2,141
1
(21) CHAPTER. The Prophet never criticized any food (that was offered to him).
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی قسم کے کھانے میں کوئی عیب نہیں نکالا ہے ۔
Sahih Bukhari
2
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “Allah will not punish you for what is unintentional in your oaths, but He will punish you for your deliberate oaths; for its expiation (a deliberate oath) feed ten poor persons, on a scale of the average of that with which you feed your own families; or clothe them; or manumit a slave. But whosoever cannot afford (that), then he should fast for three days. That is the expiation for the oath when you have sworn. And protect your oaths (i.e., do not swear much). Thus Allah make clear to you His Ayat (proofs, evidances, verses, lessons, signs, revelations, etc.) that you may be grateful. (V.5:89)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یوں قسم کھانا ” وایم اﷲ “ ( اللہ کی قسم )
Sahih Bukhari
3
Chapter: What Has Been Related From The Messenger of Allah About The Judge
باب: قاضی اور قضاء کے سلسلے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related From The Messenger Of Allah (saws) About Reconciliation
باب: لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About What The Messenger Of Allah (saws) Left Behind
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ترکہ کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About The Description Of The Sword Of The Messenger Of Allah (saws)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی تلوار کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About The Garment The Messenger Of Allah (saws) Like Most To Wear
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پسندیدہ کپڑوں کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About What The Prophet (saws) Ate Upon
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کس چیز پر کھاتے تھے؟
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About Which Meat The Messenger Of Allah (saws) Used To Like Most
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو کون سا گوشت زیادہ پسند تھا
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About Which Drink Was The Most Beloved To The Messenger Of Allah (saws)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو کون سا مشروب زیادہ پسند تھا
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About The Gravity Of Lying Against The Messenger Of Allah (SAW)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات کی نسبت کرنا گناہ عظیم ہے
Jam e Tirmazi
12
Chapter: Regarding Refraining From What Was Prohibited By The Messenger of Allah (SAW)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم جس چیز سے روک دیں اس سے رک جاؤ
Jam e Tirmazi
13
Chapter: “Humiliated is a Man Before Whom I am Mentioned...”
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا فرمان: ”اس شخص کی ناک خاک آلود ہو …“
Jam e Tirmazi
14
Chapter: About The Supplication Of The Prophet, And His Seeking Refuge At The End Of Every Salat
باب: نماز کے اخیر میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی دعاؤں اور معوذات کا بیان
Jam e Tirmazi
15
باب:: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے اور آپ کے ساتھ رہنے والوں کے مناقب و فضائل کا بیان​
Jam e Tirmazi
16
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کی تبلیغ اور اس کو جیسے سنا، ایسے ہی نقل کر دینے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
17
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کو لکھنے سے منع کرنے اور اس کی رخصت دینے کا بیان
Musnad Ahmad
18
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ بولنے کے معاملے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
19
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی وہ حدیث، جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کی کیفیت بیان کی گئی
Musnad Ahmad
20
ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی حدیث جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز بیان کی گئی ہے
Musnad Ahmad
21
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
Musnad Ahmad
22
مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان ان مقامات اور مساجد کا تذکرہ، جہاں جہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے سفر کے دوران قیام کیا اور نمازیں ادا کیں
Musnad Ahmad
23
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی ذات، اہل بیت اور اپنی امت کے فقراء کی طرف سے قربانیاں
Musnad Ahmad
24
ٓپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں کا بیان
Musnad Ahmad
25
ٓپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان غصے میں کوئی نذر نہیں ہے اور اس کا کفارہ قسم والا کفارہ ہے کا بیان
Musnad Ahmad
26
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پسندیدہ مشروب اور برتن کو ڈھانپنے کا بیان
Musnad Ahmad
27
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان بیشک صدمہ کی ابتداء میں صبر ہوتا ہے کا بیان
Musnad Ahmad
28
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ بولنے سے ترہیب اور اس بارے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
29
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نبوت پر دلالت کرنے والی علامتیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کی بشارت اور تورات میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیان کردہ صفات (محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سابقہ کتب میں)
Musnad Ahmad
30
عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ولادت اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیّدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے شادی کا بیان
Musnad Ahmad
31
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بسیسہ نامی شخص کو جاسوس بنا کر بھیجنا تاکہ وہ ابو سفیان کے قافلہ پر نظر رکھے اور بعدازاں قتال کی اجازت کا بیان
Musnad Ahmad
32
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس خواب کا بیان جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غزوۂ احد سے قبل دیکھا تھا۔
Musnad Ahmad
33
اس زہر آلود بکری کا واقعہ جو یہود نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں کھانے کے لیے بھیجی تھی اور اس موقع پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ کا ظہور
Musnad Ahmad
34
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی خالہ اُمّ المؤمنین سیّدہ میمونہ بنت حارث سے شادی کا بیان
Musnad Ahmad
35
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بیت اللہ کے اندر جانے کے لیے چابی بردار عثمان بن طلحہ سے چابیاں طلب کرنے اور بیت اللہ کے اندر موجود بتوں کے ساتھ آپ کا سلوک اور بیت اللہ کو بتوں سے پاک کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
36
فتح مکہ کے بعد مکہ پر چڑھائی کرنے کے حرام ہونے اور اس بارے میں رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خطبہ کا بیان
Musnad Ahmad
37
مکہ مکرمہ کے مردوں اور عورتوں کے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیعت کرنے اور ان کے اپنی اولاد کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لانے کا بیان تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان پر اپنا ہاتھ مبارک پھیر دیں
Musnad Ahmad
38
غزوۂ حنین کے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ فرمانا کہ جس نے کسی کافر کو قتل کیا، اس سے حاصل ہونے والا مال اسی کو ملے گا ، سیدنا انس بن مالک ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی والدہ سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے جو کچھ کہا اور سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زخمی ہونے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس کے بارے میں اہتمام کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
39
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہرقل کے نام مکتوب اور اس کی طرف سے اس کے جواب کا بیان
Musnad Ahmad
40
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیماری کے آغاز سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات تک کی تفصیل کے بارے میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی جامع حدیث
Musnad Ahmad
41
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے گھر کی طرف نقل مکانی تاکہ وہیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تیمار داری کی جائے نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا نماز کے لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خلیفہ بنانا
Musnad Ahmad
42
لوگوں سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آخری خطبہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
43
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بعض مخصوص صحابہ کرام کو بلوانے کا بیان تاکہ ان کے لیے کوئی تحریرلکھیں
Musnad Ahmad
44
اس امر کا بیان کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی بات کی وصیت کر گئے تھے یا نہیں اور کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے بعد کسی کے حق میں خلافت کا فیصلہ کیا تھا یا نہیں؟
Musnad Ahmad
45
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بیماری کے دوران پیش آنے والے بعض امور کا بیان
Musnad Ahmad
46
اس امر کا بیان کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے امت کو آخری تاکید نماز کی تھی، نیز صحابہ کرام کا آپ کو آخری بار دیکھنے کا بیان اور اس امر کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موت شہادت کی موت تھی
Musnad Ahmad
47
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا موت کے سکرات سے واسطہ پڑنا، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دنیا اور آخرت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیئے جانے اور آپ کے رفیق اعلیٰ کو منتخب کرنے کا بیان اور اس بات کا ذکر کہ یہ آخری الفاظ تھے جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زبان مبارک سے ادا ہوئے
Musnad Ahmad
48
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو غسل دینے کا بیان
Musnad Ahmad
49
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز جنازہ کا بیان
Musnad Ahmad
50
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دفن، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قبر اور بعداز وفات حالات کی تبدیلی کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

244
Jam e Tirmazi
300
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو أَسْمَاءَ الرَّحَبِيُّ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي ثَوْبَانُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ مِنْ صَلَاتِهِ اسْتَغْفَرَ اللَّهَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو عَمَّارٍ اسْمُهُ:‏‏‏‏ شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ.
Thawban, the freed slave of Allah's Messenger, narrated that : Allah's Messenger said: When Allah's Messenger wanted to turn from his Salat, he would seek forgiveness from Allah three times, then say: (Allahumma Antas-Salam, wa minkas-salam, tabarakta ya dhal-jalali wal-Ikram) 'O Allah! You are the One free of defects and perfection is from You. Blessed are You, O Possesor of Majesty and Honor.'
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے ( مقتدیوں کی طرف ) پلٹنے کا ارادہ کرتے تو تین بار «استغفر الله» ”میں اللہ کی مغفرت چاہتا ہوں“ کہتے، پھر «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» کہتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
1024
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا هِقْلُ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو إِبْرَاهِيمَ الْأَشْهَلِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى عَلَى الْجَنَازَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، ‏‏‏‏‏‏وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، ‏‏‏‏‏‏وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، ‏‏‏‏‏‏وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا . قَالَ يَحْيَى:‏‏‏‏ وَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَزَادَ فِيهِ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ وَالِدِ أَبِي إِبْرَاهِيمَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعِكْرِمَةُ رُبَّمَا يَهِمُ فِي حَدِيثِ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِي عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وسَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ:‏‏‏‏ أَصَحُّ الرِّوَايَاتِ فِي هَذَا حَدِيثُ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِبْرَاهِيمَ الْأَشْهَلِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَسَأَلْتُهُ عَنِ اسْمِ أَبِي إِبْرَاهِيمَ فَلَمْ يَعْرِفْهُ.
Abu Ibrahim Al-Ashhali narrated : from his father who said: When the Messenger of Allah would perform the Salat for the funeral he would said: (Allahammaghfir li-hayyina wa mayyittina, wa shahidina wa gha'ibina, wa saghirina wa kabirina, wa dhakarina wa unthana) 'O Allah! Forgive our living and our deceased, our present and our absent, our young and our old, our male and our female.'
ابوابراہیم اشہلی کے والد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز جنازہ پڑھتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم اغفر لحينا وميتنا وشاهدنا وغائبنا وصغيرنا وكبيرنا وذكرنا وأنثانا» ”اے اللہ! بخش دے ہمارے زندوں کو، ہمارے مردوں کو، ہمارے حاضر کو اور ہمارے غائب کو، ہمارے چھوٹے کو اور ہمارے بڑے کو، ہمارے مردوں کو اور ہماری عورتوں کو“۔ یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں: ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے مجھ سے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ البتہ اس میں اتنا زیادہ ہے: «اللهم من أحييته منا فأحيه على الإسلام ومن توفيته منا فتوفه على الإيمان» ”اے اللہ! ہم میں سے جسے تو زندہ رکھ، اسے اسلام پر زندہ رکھ اور جسے موت دے اسے ایمان پر موت دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوابراہیم کے والد کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ہشام دستوائی اور علی بن مبارک نے یہ حدیث بطریق: «يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة بن عبدالرحمٰن عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلاً روایت کی ہے، اور عکرمہ بن عمار نے بطریق: «يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے۔ عکرمہ بن عمار کی حدیث غیر محفوظ ہے۔ عکرمہ کو بسا اوقات یحییٰ بن ابی کثیر کی حدیث میں وہم ہو جاتا ہے۔ نیز یہ «يحيى بن أبي كثير» سے «عن عبد الله بن أبي قتادة عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» کے طریق سے بھی مروی ہے، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ اس سلسلے میں یحییٰ بن ابی کثیر کی حدیث جسے انہوں نے بطریق: «أبي إبراهيم الأشهلي عن أبيه» روایت کی ہے سب سے زیادہ صحیح روایت ہے۔ میں نے ان سے ابوابراہیم کا نام پوچھا تو وہ اسے نہیں جان سکے، ۲- اس باب میں عبدالرحمٰن، عائشہ، ابوقتادہ، عوف بن مالک اور جابر رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
1875
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، وَعِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ:‏‏‏‏ النَّخْلَةُ وَالْعِنَبَةُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ هُوَ الْغُبَرِيُّ وَاسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غُفَيْلَةَ وَرَوَى شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ هَذَا الْحَدِيثَ.
Narrated Abu Kathir As-Suhaimi: That he heard Abu Hurairah saying that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Khamr comes from these two trees (plants): The datepalm and the grape (vine). [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. Abu Kathir As-Suhaimi is Al-Ghubari, and his name is Yazid bin 'Abdur-Rahman bin Ghufailah and Shu'bah reported this Hadith from 'Ikrimah bin 'Ammar.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شراب ان دو درختوں: کھجور اور انگور سے بنتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ نے عکرمہ بن عمار سے یہ حدیث روایت کی ہے۔
Jam e Tirmazi
2549
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي الْعِشْرِينَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ،‏‏‏‏ أَنَّهُ لَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:‏‏‏‏ أَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ فِي سُوقِ الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ سَعِيدٌ:‏‏‏‏ أَفِيهَا سُوقٌ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ إِذَا دَخَلُوهَا نَزَلُوا فِيهَا بِفَضْلِ أَعْمَالِهِمْ ثُمَّ يُؤْذَنُ فِي مِقْدَارِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا فَيَزُورُونَ رَبَّهُمْ وَيُبْرِزُ لَهُمْ عَرْشَهُ وَيَتَبَدَّى لَهُمْ فِي رَوْضَةٍ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَتُوضَعُ لَهُمْ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ وَمَنَابِرُ مِنْ لُؤْلُؤٍ وَمَنَابِرُ مِنْ يَاقُوتٍ وَمَنَابِرُ مِنْ زَبَرْجَدٍ وَمَنَابِرُ مِنْ ذَهَبٍ وَمَنَابِرُ مِنْ فِضَّةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَيَجْلِسُ أَدْنَاهُمْ وَمَا فِيهِمْ مِنْ دَنِيٍّ عَلَى كُثْبَانِ الْمِسْكِ وَالْكَافُورِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا يُرَوْنَ أَنَّ أَصْحَابَ الْكَرَاسِيِّ بِأَفْضَلَ مِنْهُمْ مَجْلِسًا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ وَهَلْ نَرَى رَبَّنَا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَلْ تَتَمَارَوْنَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ؟ قُلْنَا:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَذَلِكَ لَا تَتَمَارَوْنَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ وَلَا يَبْقَى فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ رَجُلٌ إِلَّا حَاضَرَهُ اللَّهُ مُحَاضَرَةً حَتَّى يَقُولَ لِلرَّجُلِ مِنْهُمْ:‏‏‏‏ يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ أَتَذْكُرُ يَوْمَ قُلْتَ:‏‏‏‏ كَذَا وَكَذَا ؟ فَيُذَكِرُهُ بِبَعْضِ غَدْرَاتِهِ فِي الدُّنْيَا، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ يَا رَبِّ أَفَلَمْ تَغْفِرْ لِي ؟ فَيَقُولُ:‏‏‏‏ بَلَى فَبِسَعَةِ مَغْفِرَتِي بَلَغَتْ بِكَ مَنْزِلَتَكَ هَذِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ غَشِيَتْهُمْ سَحَابَةٌ مِنْ فَوْقِهِمْ فَأَمْطَرَتْ عَلَيْهِمْ طِيبًا لَمْ يَجِدُوا مِثْلَ رِيحِهِ شَيْئًا قَطُّ، ‏‏‏‏‏‏وَيَقُولُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى:‏‏‏‏ قُومُوا إِلَى مَا أَعْدَدْتُ لَكُمْ مِنَ الْكَرَامَةِ فَخُذُوا مَا اشْتَهَيْتُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَنَأْتِي سُوقًا قَدْ حَفَّتْ بِهِ الْمَلَائِكَةُ فِيهِ مَا لَمْ تَنْظُرُ الْعُيُونُ إِلَى مِثْلِهِ وَلَمْ تَسْمَعَ الْأَذَانُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَخْطُرْ عَلَى الْقُلُوبِ، ‏‏‏‏‏‏فَيُحْمَلُ لَنَا مَا اشْتَهَيْنَا لَيْسَ يُبَاعُ فِيهَا وَلَا يُشْتَرَى، ‏‏‏‏‏‏وَفِي ذَلِكَ السُّوقِ يَلْقَى أَهْلُ الْجَنَّةِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيُقْبِلُ الرَّجُلُ ذُو الْمَنْزِلَةِ الْمُرْتَفِعَةِ فَيَلْقَى مَنْ هُوَ دُونَهُ وَمَا فِيهِمْ دَنِيٌّ فَيَرُوعُهُ مَا يَرَى عَلَيْهِ مِنَ اللِّبَاسِ فَمَا يَنْقَضِي آخِرُ حَدِيثِهِ حَتَّى يَتَخَيَّلَ إِلَيْهِ مَا هُوَ أَحْسَنُ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَذَلِكَ أَنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَحْزَنَ فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نَنْصَرِفُ إِلَى مَنَازِلِنَا، ‏‏‏‏‏‏فَتَتَلَقَّانَا أَزْوَاجُنَا فَيَقُلْنَ:‏‏‏‏ مَرْحَبًا وَأَهْلًا لَقَدْ جِئْتَ وَإِنَّ بِكَ مِنَ الْجَمَالِ أَفْضَلَ مِمَّا فَارَقْتَنَا عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّا جَالَسْنَا الْيَوْمَ رَبَّنَا الْجَبَّارَ، ‏‏‏‏‏‏وَيَحِقُّنَا أَنْ نَنْقَلِبَ بِمِثْلِ مَا انْقَلَبْنَا ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو،‏‏‏‏ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ شَيْئًا مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ.
Hasan bin 'Atiyyah narrated from Sa'eed bin Al-Musayyab, that he met Abu Hurairah, and Abu Hurairah said: I supplicate Allah to bring you and I together in the market of Paradise. So Sa'eed said: Is there a market in it? He said: Yes, the messenger of Allah (s.a.w) informed me that: 'When the people of Paradise enter it, they shall take their places according to the virtue of their deeds. Then permission shall be granted to them to visit their Lord, for the length of a Friday from the days of the world. He shall present for them His Throne and He shall manifest the gardens of Paradise. Then lofty seats of light shall be erected for them, and lofty saets of pearl, and lofty seats or corundum, and lofty seats of peridots, and lofty seats of gold, and lofty seats of silver. And the lowest of them- and there is none of them that is low- shall sit upon a dune of musk and camphor, and they shall not regard those upon the chairs as having a better sitting place than them.' Abu Hurairah said: I said: 'O Messenger of Allah, and will we see our Lord?' He (S.a.w) said: 'Yes.[He said: ] Do you doubt [concerning] seeing the sun, or the moon on a night when it is full?' We said: 'No.' He said: 'Likewise, you will not doubt concerning seeing your Lord. And they shall not remain in that meeting any man except Allah shall give him a lecture until he says to a man from among them: O so-and – so son of so - and – so, do you remember the day when you said such-and-such.” And He will remind him of some of his betrayals in the world, so he will say: “O my Lord, did you not forgive me?” So He will say: “Indeed! It is by the vastness of My Forgiveness that you reached this station of yours.” So while they are engaged in this they shall be covered by a cloud that shall rain upon them a perfume, the like of whose smell they have not smelled, ever. And our Lord [Blessed and Exalted is He] shall say: “Arise to what I have prepared for you of generosity, and take whatever you desire.” Then, we will come to a market which the angels will have already surrounded. [In it] shall be what no eyes have seen the like of, nor ears have heard of, nor ever has it occurred in the hearts (of men). And there shall be carried to us whatever we desire. There shall be not be anything sold or bought in this market, and, in that market, the people of Paradise shall meet one another.' He said: 'So the person of high rank shall come and meet the one below him in rank- and there is none among them that is low- so he shall be impressed by the clothes he sees on him, their discussion shall not come to an end until he shall imagine upon himself what is more beautiful than it, and that is because it is not fitting for anyone to feel regret therein. Then we will return to our places and our wives shall meet us saying: “Welcome and greetings, you have come, and you have beauty greater than what you parted us with.” So we will say: “Indeed we sat today with our Lord, the Powerful, and it is fitting that we should return with what we have returned with.'” (Da'if)
سعید بن مسیب سے روایت ہے وہ ابوہریرہ رضی الله عنہ سے ملے تو ابوہریرہ رضی الله عنہ نے کہا: میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے اور تم کو جنت کے بازار میں اکٹھا کرے۔ سعید بن مسیب نے کہا: کیا اس میں بازار بھی ہے؟ ابوہریرہ رضی الله عنہ نے کہا: ہاں، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ جب جنتی جنت میں داخل ہوں گے تو وہ اس میں اپنے اعمال کے مطابق اتریں گے، پھر دنیا کے دنوں میں سے جمعہ کے دن کے برابر انہیں اجازت دی جائے گی تو وہ اپنے رب کی زیارت کریں گے، ان کے لیے عرش ظاہر ہو گا اور جنت کے ایک باغ میں نظر آئے گا، پھر ان کے لیے نور کے منبر، موتی کے منبر، یاقوت کے منبر، زمرد کے منبر، سونے کے منبر، اور چاندی کے منبر رکھے جائیں گے، ان کے ادنیٰ درجہ والے حالانکہ ان میں کوئی بھی ادنیٰ نہیں ہو گا مشک اور کافور کے ٹیلے پر بیٹھیں گے اور دوسرے منبر والوں کے بارے میں یہ نہیں خیال کریں گے کہ وہ ان سے اچھی جگہ بیٹھے ہیں۔ ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، کیا تم سورج اور چودہویں رات کے چاند دیکھنے میں دھکم پیل کیے جاتے ہو؟“ ہم نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”اسی طرح تم اپنے رب کا دیدار کرنے میں دھکم پیل نہیں کرو گے، اور اس مجلس میں کوئی ایسا آدمی نہیں ہو گا جس کے روبرو اللہ تعالیٰ گفتگو نہ کرے، حتیٰ کہ ان میں سے ایک آدمی سے کہے گا: اے فلاں بن فلاں! کیا تمہیں وہ دن یاد ہے جب تم نے ایسا ایسا کیا تھا؟ پھر اسے اس کے بعض گناہ یاد دلائے گا جو دنیا میں اس نے کیے تھے تو وہ آدمی کہے گا: اے میرے رب! کیا تو نے مجھے معاف نہیں کر دیا؟ اللہ تعالیٰ کہے گا: کیوں نہیں؟ میری مغفرت کے سبب ہی تم اس مقام پر ہو۔ وہ سب اسی حال میں ہوں گے کہ اوپر سے انہیں ایک بدلی ڈھانپ لے گی اور ان پر ایسی خوشبو برسائے گی کہ اس طرح کی خوشبو انہیں کبھی نہیں ملی ہو گی اور ہمارا رب تبارک و تعالیٰ کہے گا: اس کرامت اور انعام کی طرف جاؤ جو ہم نے تمہارے لیے تیار کر رکھی ہے، اور اس میں سے جو چاہو لو، چنانچہ ہم ایک ایسے بازار میں آئیں گے جسے فرشتے گھیرے ہوں گے اس میں ایسی چیزیں ہوں گی کہ اس طرح نہ کبھی آنکھوں نے دیکھی ہو گی نہ کانوں نے سنا ہو گا اور نہ کبھی دلوں میں اس کا خیال آیا ہو گا، ہم جو چاہیں گے ہمارے پاس لایا جائے گا، اس میں خرید و فروخت نہیں ہو گی اور اسی بازار میں جنتی ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے“، آپ نے فرمایا: ”ایک بلند مرتبہ والا آدمی اپنے سے کم رتبہ والے کی طرف متوجہ ہو گا اور اس سے ملاقات کرے گا ( حالانکہ حقیقت میں اس میں سے کوئی بھی کم مرتبے والا نہیں ہو گا ) تو اسے ( ادنیٰ مرتبے والے کو ) اس کا لباس دیکھ کر عجیب سا لگے گا پھر اس کی آخری گفتگو ختم بھی نہیں ہو گی کہ اسے محسوس ہو گا کہ اس کا لباس اس سے بھی اچھا ہے اور یہ اس وجہ سے ہو گا کہ جنت میں کسی کا مغموم ہونا مناسب نہیں ہے۔ پھر ہم ( جنتی ) اپنے گھروں کی طرف واپس جائیں گے اور اپنی بیویوں سے ملیں گے تو وہ کہیں گی: خوش آمدید! آپ ایسا حسن و جمال لے کر آئے ہیں جو اس سے کہیں بہتر ہے جب آپ ہم سے جدا ہوئے تھے، تو وہ آدمی کہے گا: آج ہم اپنے رب جبار کے ساتھ بیٹھے تھے اور ہمارا حق ہے کہ ہم اسی طرح لوٹیں جس طرح لوٹے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- ـ سوید بن عمرو نے بھی اوزاعی سے اس حدیث کا بعض حصہ روایت کیا ہے۔
Jam e Tirmazi
3309
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَعَدْنَا نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَذَاكَرْنَا، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْنَا:‏‏‏‏ لَوْ نَعْلَمُ أَيَّ الْأَعْمَالِ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ لَعَمِلْنَاهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى:‏‏‏‏ سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ‏‏‏‏ 1 ‏‏‏‏ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لا تَفْعَلُونَ ‏‏‏‏ 2 ‏‏‏‏ سورة الصف آية 1-2 ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ:‏‏‏‏ فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو سَلَمَةَ:‏‏‏‏ فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا ابْنُ سَلَامٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ يَحْيَى:‏‏‏‏ فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا أَبُو سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ كَثِيرٍ:‏‏‏‏ فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَبْدُ اللَّهِ:‏‏‏‏ فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا ابْنُ كَثِيرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَقَدْ خُولِفَ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ فِي إِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى ابْنُ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏نَحْوَ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ.
Abdullah bin Salam said: “A group of us Companions of the Messenger of Allah sat talking, and we said: ‘If we knew which deed was most beloved to Alllah then we would do it.’ So Allah, Most High, revealed: Whatsoever is in the heavens and whatsoever is on the earth glorifies Allah. And He is Almighty, the All-Wise. O you who believe! Why do you say that which you do not do?” Abdullah bin Salam said: “So the Messenger of Allah recited it to us.” Abu Salamah (one of the narrators) said: “So Ibn Salam recited it to us.” Yahya (one of the narrators) said: “So Abu Salamah narrated it to us.” Ibn Kathir said: “So Al-Awza’i recited it to us.” Abdullah said: “So Ibn Kathir recited it to us.”
عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم چند صحابہ بیٹھے ہوئے تھے، آپس میں باتیں کرنے لگے، ہم نے کہا: اگر ہم جان پاتے کہ کون سا عمل اللہ کو زیادہ پسند ہے تو ہم اسی پر عمل کرتے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «سبح لله ما في السموات وما في الأرض وهو العزيز الحكيم يا أيها الذين آمنوا لم تقولون ما لا تفعلون» ”زمین و آسمان کی ہر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہے اور وہی غالب حکمت والا ہے، اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو“ ( الصف: ۱-۳ ) ۱؎ عبداللہ بن سلام کہتے ہیں: یہ سورۃ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھ کر سنائی، ابوسلمہ کہتے ہیں: یہ سورۃ ہمارے سامنے ابن سلام نے پڑھی، اور یحییٰ کہتے ہیں: یہ سورۃ ہمارے سامنے ابوسلمہ نے پڑھ کر سنائی، اور محمد بن کثیر کہتے ہیں: ہمارے سامنے اسے اوزاعی نے پڑھ کر سنایا، اور عبداللہ کہتے ہیں: یہ سورۃ ہمیں ابن کثیر نے پڑھ کر سنائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی اوزاعی سے روایت کرنے میں محمد بن کثیر کی مخالفت کی گئی ہے۔ ( اس کی تفصیل یہ ہے ) ۲- ابن مبارک نے اوزاعی سے روایت کی، اوزاعی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، یحییٰ نے ہلال بن ابومیمونہ سے، ہلال نے عطاء بن یسار سے، اور عطاء نے عبداللہ بن سلام سے، یا ابوسلمہ کے واسطہ سے عبداللہ بن سلام سے، ۳- ولید بن مسلم نے اوزاعی سے یہ حدیث اسی طرح روایت کی ہے جس طرح محمد بن کثیر نے روایت کی ہے۔
Jam e Tirmazi
3605
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى مِنْ وَلَدِ إِبْرَاهِيمَ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏وَاصْطَفَى مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيل بَنِي كِنَانَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَاصْطَفَى مِنْ بَنِي كِنَانَةَ قُرَيْشًا، ‏‏‏‏‏‏وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ، ‏‏‏‏‏‏وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Wathilah bin Al-Asqa': that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Indeed Allah has chosen Isma'il from the children of Ibrahim, and He chose Banu Kinanah from the children of Isma'il, and He chose the Quraish from Banu Kinanah, and He chose Banu Hashim from Quraish, and He chose me from Banu Hashim.
واثلہ بن اسقع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے اسماعیل علیہ السلام کا انتخاب فرمایا ۱؎ اور اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے بنی کنانہ کا، اور بنی کنانہ میں سے قریش کا، اور قریش میں سے بنی ہاشم کا، اور بنی ہاشم میں سے میرا انتخاب فرمایا ”۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
3606
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي وَاثِلَةُ بْنُ الْأَسْقَعِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏وَاصْطَفَى قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَاصْطَفَى هَاشِمًا مِنْ قُرَيْشٍ، ‏‏‏‏‏‏وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
Narrated Wathilah bin Al-Asqa': that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Indeed, Allah chose Kinanah from the children of Isma'il, and He chose Quraish from Kinanah, and He chose Hashim from Quraish, and He chose me from Banu Hashim.
واثلہ بن اسقع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے کنانہ کا انتخاب فرمایا اور کنانہ سے قریش کا اور قریش میں سے ہاشم کا اور بنی ہاشم میں سے میرا انتخاب فرمایا ”۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Sahih Muslim
5815
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، كِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ: قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ قَالَ: «كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ، فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ»
This hadith has been narrated on the authority of Mu'awiya b. Hakam as-Sulami through another chain of transmitters. The hadith transmitted on the authority of Yahya b. Abu Kathir (there is an addition of these words): I said: Among us there are men who draw lines and thus make divination. What about this? Thereupon he (the Holy Prophet) said: There was a Prophet who drew lines, so whose lines agree with his line for him it is allowable.
حجاج صواف اور اوزاعی ، دونوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انھوں نے ہلال بن ابی میمونہ سے ، انھوں نے عطا ء بن یسار سے ، انھوں نے معاویہ بن حکم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زہری کی ابو سلمہ سے اور ان کی معاویہ سے روایت کردہ حدیث کے مانند روایت کی ، اور یحییٰ بن ابی کثیر کی حدیث میں یہ الفا ظ زائد بیان کیے ، کہا : میں نے عرض کی : ہم میں ایسے لو گ ہیں جو ( مستقبل کا حال بتا نے کے لیے ) لکیریں کھینچتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " انبیاء علیہ السلام میں سے ایک نبی تھے جو لکیریں کھینچتے تھے ، جو ان کی لکیروں سے موافقت کرگیا تو وہ ٹھیک ہے ۔ "
Sunnan Abu Dawood
1320
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ السَّكْسَكِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيَّ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ كُنْتُ أَبِيتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آتِيهِ بِوَضُوئِهِ وَبِحَاجَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ سَلْنِي فَقُلْتُ:‏‏‏‏ مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَوَ غَيْرَ ذَلِكَ ؟ قُلْتُ:‏‏‏‏ هُوَ ذَاكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ .
Narrated Rabiah bin Kab al-Aslami: I used to live with the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم at night. I would bring water for his ablution and his need. He asked: Ask me. I said: Your company in Paradise. He said: Is there anything other than that ? I said: It is only that. He said: Help me for yourself by making prostrations abundantly.
ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات گزارتا تھا، آپ کو وضو اور حاجت کا پانی لا کر دیتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مانگو مجھ سے ، میں نے عرض کیا: میں جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے علاوہ اور کچھ؟ ، میں نے کہا: بس یہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا تو اپنے واسطے کثرت سے سجدے کر کے ( یعنی نماز پڑھ کر ) میری مدد کرو ۔