TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ٓپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں کا بیان - ٓپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں کا بیان - گھوڑوں کی صفات، جہاد کے لیے ان کو پالنے کی فضیلت اور ان کی مستحب اور مکروہ صورتوں کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 5 of گھوڑوں کی صفات، جہاد کے لیے ان کو پالنے کی فضیلت اور ان کی مستحب اور مکروہ صورتوں کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 7 · 2 Hadith
۔ (۵۲۰۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الْخَیْلُ ثَلَاثَۃٌ فَفَرَسٌ لِلرَّحْمٰنِ، وَفَرَسٌ لِلْإِنْسَانِ، وَفَرَسٌ لِلشَّیْطَانِ، فَأَمَّا فَرَسُ الرَّحْمٰنِ فَالَّذِی یُرْبَطُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ فَعَلَفُہُ وَرَوْثُہُ وَبَوْلُہُ وَذَکَرَ مَا شَائَ اللّٰہُ، وَأَمَّا فَرَسُ الشَّیْطَانِ فَالَّذِی یُقَامَرُ أَوْ یُرَاہَنُ عَلَیْہِ، وَأَمَّا فَرَسُ الْإِنْسَانِ فَالْفَرَسُ یَرْتَبِطُہَا الْإِنْسَانُ یَلْتَمِسُ بَطْنَہَا فَہِیَ تَسْتُرُ مِنْ فَقْرٍ۔)) (مسند أحمد: ۳۷۵۶)
۔ عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں، ایک گھوڑا رحمن کیلئے ہوتا ہے، ایک انسان کیلئے اور ایک شیطان کیلئے ہوتا ہے، رحمن والا گھوڑا وہ ہے، جس کو اللہ تعالیٰ کے راستے کیلئے باندھا جاتا ہے، پس اس کا چارہ بلکہ لید اور پیشاب، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی بہت سی چیزیں ذکر کیں، سب چیزوں میں اجر ہے۔ شیطانی گھوڑا وہ ہے، جس پر جوا کھیلا جاتا ہے اور (جاہلیت کے طریقوں کے مطابق) بازیاں لگائی جاتی ہیں اور انسانی گھوڑا وہ ہے، جس کو انسان اس مقصد کیلئے باندھتا ہے کہ اس کے بچے پیدا ہوں اور حاجت پر پردہ پڑا رہے (یعنی اس کے ذریعے گھر کی ضرورتیں پوری ہوتی رہتی ہیں)۔
Takhreej
(۵۲۰۱) تخریج: صحیح، أخرجہ البیھقی: ۱۰/ ۲۱ (انظر: ۳۷۵۶)
5201
Sahih
۔ (۵۲۰۲)۔ عَنْ أَبِی عَمْرٍو الشَّیْبَانِیِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنِ النَّبِیِّ قَالَ: ((الْخَیْلُ ثَلَاثَۃٌ، فَرَسٌ یَرْبِطُہُ الرَّجُلُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، فَثَمَنُہُ أَجْرٌ، وَرُکُوبُہُ أَجْرٌ، وَعَارِیَتُہُ أَجْرٌ، وَعَلَفُہُ أَجْرٌ، وَفَرَسٌ یُغَالِقُ عَلَیْہِ الرَّجُلُ وَیُرَاہِنُ، فَثَمَنُہُ وِزْرٌ وَعَلَفُہُ وِزْرٌ، وَفَرَسٌ لِلْبِطْنَۃِ فَعَسٰی أَنْ یَکُونَ سَدَادًا مِنَ الْفَقْرِ إِنْ شَائَ اللّٰہُ تَعَالَی۔)) (مسند أحمد: ۲۳۶۱۸)
۔ ایک انصاری صحابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں: ایک وہ گھوڑا ہے کہ جس کو آدمی اللہ تعالیٰ کی راہ کے لیے باندھ کر رکھتا ہے، اس کی قیمت بھی اجر ہے ، اس کی سواری بھی اجر ہے، اس کا عاریۃً دینا بھی اجر ہے اور اس کا چارہ بھی اجر ہے ، دوسرا وہ گھوڑا ہے، جس پر جوا اور (جاہلیت کی) بازیاں لگائی جاتی ہیں، ایسے گھوڑے کی قیمت بھی گناہ ہے اور اس کا چارہ بھی مالک کے لیے بوجھ ہے، تیسرا وہ گھوڑا ہے، جس کو اس لیے پالا جاتا ہے کہ وہ بچے جنم دے گا، ممکن ہے کہ اس قسم کی وجہ سے مالک کی فقیری دور ہو جائے۔
Takhreej
(۵۲۰۲) تخریج: اسنادہ صحیح (انظر: ۲۳۲۳۰)
5202
Sahih