TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

گھوڑوں کی عزت کرنے، ان کو چارہ کھلانے اور ان کی تضمیر کا بیان، نیز لمبے ہو جانے والے بالوں کو کاٹنے کی ممانعت - گھوڑوں کی عزت کرنے، ان کو چارہ کھلانے اور ان کی تضمیر کا بیان، نیز لمبے ہو جانے والے بالوں کو کاٹنے کی ممانعت - گھوڑوں کی صفات، جہاد کے لیے ان کو پالنے کی فضیلت اور ان کی مستحب اور مکروہ صورتوں کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of گھوڑوں کی صفات، جہاد کے لیے ان کو پالنے کی فضیلت اور ان کی مستحب اور مکروہ صورتوں کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 7 · 4 Hadith
۔ (۵۱۹۷)۔ عَنْ شُرَحْبِیلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِیِّ، أَنَّ رَوْحَ بْنَ زِنْبَاعٍ زَارَ تَمِیمًا الدَّارِیَّ، فَوَجَدَہُ یُنَقِّی شَعِیرًا لِفَرَسِہِ، قَالَ: وَحَوْلَہُ أَہْلُہُ، فَقَالَ لَہُ رَوْحٌ: أَمَا کَانَ فِی ہٰؤُلَائِ مَنْ یَکْفِیکَ، قَالَ تَمِیمٌ: بَلٰی، وَلٰکِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَا مِنْ امْرِئٍ مُسْلِمٍ یُنَقِّی لِفَرَسِہِ شَعِیرًا ثُمَّ یَعْلِفُہُ عَلَیْہِ إِلَّا کُتِبَ لَہُ بِکُلِّ حَبَّۃٍ حَسَنَۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۰۸۰)
۔ شرحبیل بن مسلم خولانی کہتے ہیں: روح بن زنباع، سیدنا تمیم داری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملنے کے لیے آئے اور ان کو اس حال میں پایا کہ وہ اپنے گھوڑے کے لیے جَو صاف کر رہے تھے اور ان کے بیوی بچے ان کے ارد گرد بیٹھے ہوئے تھے، روح نے کہا: کیا ان افراد میں کوئی ایسا بندہ نہیں ہے، جو تمہیں اس کام سے کفایت کرے، سیدنا تمیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی کیوں نہیں، اصل بات یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس مسلمان آدمی نے اپنے گھوڑے کے لیے جو صاف کر کے اس کو کھلاتا ہے تو اس کے لیے ہر ہر دانے کے بدلے ایک ایک نیکی لکھی جائے گی۔
Takhreej
(۵۱۹۷)اسناد حسن، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۲۵۴، والبیھقی فی الشعب : ۴۲۷۳ (انظر: ۱۶۹۵۵)
5197
Sahih
۔ (۵۱۹۸)۔ عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ، عَنْ سُھَیْلِ بْنِ الْحَنْظَلِیَّۃِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمُنْفِقُ عَلَی الْخَیْلِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَبَاسِطِ یَدَیْہِ بِالصَّدَقَۃِ لَا یَقْبِضُھَا۔)) (مسند أحمد: ۱۷۷۶۸)
۔ سیدنا ابو الدرداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا سہیل بن حنظلیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے فرمایا کہ اللہ کی راہ والے گھوڑے پر خرچ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے، جس نے صدقہ کے ساتھ اپنے ہاتھوں کو پھیلا رکھا ہو اور وہ ان کو بند کرنے والا نہ ہو۔
Takhreej
(۵۱۹۸) تخریج: اسنادہ محتمل للتحسین، أخرجہ ابوداود: ۴۰۸۹(انظر: ۱۷۶۲۲)
5198
Sahih
۔ (۵۱۹۹)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُضْمِرُ الْخَیْلَ۔ (مسند أحمد: ۵۵۸۸)
۔ سیدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھوڑوں کی تضمیر کیا کرتے تھے۔
Takhreej
(۵۱۹۹) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ بنحوہ ابوداود: ۲۵۷۶(انظر: ۵۵۸۸)
5199
Sahih
۔ (۵۲۰۰)۔ عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ عَبْدِنِالسُّلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ جَزِّ اَعْرَافِ الْخَیْلِ وَنَتْفِ اَذْنَابِھَا، وَجَزِّ نَوَاصِیْھَا، وَقَالَ: ((اَمَّا اَذْنَابُھَا فَاِنَّھَا مُذَابُّھَا، وَاَمَّا عِرَافُھَا فَاِنَّھَا اِدْفَائُھَا، وَاَمَّا نَوَاصِیْھَا فَاِنَّ الْخَیْرَ مَعْقُوْدٌ فِیْھَا، (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ) وَنَوَاصِیْھَا مَعْقُوْدٌ بِھَا الْخَیْرُ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۷۹۰)
۔ سیدنا عتبہ بن عبد سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھوڑے کی گردن کے بال، دم کے بال اور پیشانی کے بال کاٹنے سے منع کیا اور فرمایا: گھوڑوں کی دُمیں (مکھیوں وغیرہ کو) ہٹاتی ہیں، گردن کے بال ان کو سردی سے بچاتے ہیں اور پیشانیاں، کیا بات ہے ان کی کہ اللہ تعالیٰ نے روزِ قیامت تک خیر کو ان کے ساتھ وابستہ کر دیا ہے۔
Takhreej
(۵۲۰۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لاضطرابہ، أخرجہ أبوداود: ۲۵۴۲(انظر: ۱۷۶۴۰)
5200
Zaeef