TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

گھوڑے کی تعریف اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے کے لیے ان کو پالنے کی فضیلت کا بیان - گھوڑے کی تعریف اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے کے لیے ان کو پالنے کی فضیلت کا بیان - گھوڑوں کی صفات، جہاد کے لیے ان کو پالنے کی فضیلت اور ان کی مستحب اور مکروہ صورتوں کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of گھوڑوں کی صفات، جہاد کے لیے ان کو پالنے کی فضیلت اور ان کی مستحب اور مکروہ صورتوں کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 7 · 9 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۵۱۷۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سُئِلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْخَیْلِ، فَقَالَ: ((الْخَیْلُ مَعْقُودٌ فِی نَوَاصِیہَا الْخَیْرُ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَہِیَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ، وَھِیَ لِرَجُلٍ سِتْرٌ، وَ ھی عَلٰی رَجُلٍ وِزْرٌ، فَأَمَّا الَّذِی ہِیَ لَہُ أَجْرٌ الَّذِی یَتَّخِذُہَا وَیَحْبِسُہَا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، فَمَا غَیَّبَتْ فِی بُطُونِہَا فَہُوَ لَہُ أَجْرٌ، وَإِنْ اسْتَنَّتْ مِنْہُ شَرَفًا أَوْ شَرَفَیْنِ کَانَ لَہُ فِی کُلِّ خُطْوَۃٍ خَطَاہَا أَجْرٌ، وَلَوْ عَرَضَ لَہُ نَہْرٌ، فَسَقَاہَا مِنْہُ کَانَ لَہُ بِکُلِّ قَطْرَۃٍ غَیَّبَتْہُ فِی بُطُونِہَا أَجْرٌ۔)) حَتّٰی ذَکَرَ الْأَجْرَ فِی أَرْوَاثِہَا وَأَبْوَالِہَا۔ (مسند أحمد: ۸۹۶۵)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے گھوڑے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روزِ قیامت تک گھوڑوں کی پیشانیوں کے ساتھ خیر وابستہ کر دی گئی ہے، گھوڑا کسی کے لیے اجر ہوتا ہے، کسی کے لیے پردہ اور کسی کے لیے گناہ۔ جو گھوڑا باعث ِ اجر ہو تا ہے، وہ وہ ہوتاہے، جس کو آدمی اللہ کی راہ کی خاطر پالتا ہے، ایسا گھوڑا جو کچھ کھاتا ہے، اس میں بھی اس کے مالک کے لیے اجر ہے اور جب وہ ایک دو ٹیلوں تک چلتا ہے تو اس کے ہر ہر قدم کے بدلے مالک کے لیے اجر ہوتا ہے، اگر سامنے نہر آ جائے اور وہ اس سے پانی پی لے تو وہ جو پانی پیتا ہے، اس کے ہر ہر قطرے کے عوض مالک کو ثواب ملتا ہے۔ یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی لید اور پیشاب کے اجر وثواب کا بھی ذکر کیا۔
Takhreej
(۵۱۷۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۹۸۷(انظر: ۸۹۷۷)
5178
Sahih
۔ (۵۱۷۹)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنِ احْتَبَسَ فَرَسًا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اِیْمَانًا بِاللّٰہِ وَتَصْدِیْقًا لِمَوْعُوْدِہِ کَانَ شِبَعُہٗ وَرِیُّہٗ وَبَوْلُہٗ وَرَوْثُہٗ حَسَنَاتٍ فِیْ مِیْزَانِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۸۸۵۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہوئے اور اس کے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی راہ میں ایک گھوڑا پالا تو اس گھوڑے کا سیر ہونا، سیراب ہونا، پیشاب اور لید، یہ سب چیزیں روزِ قیامت اس کے ترازو میں نیکیاں ہوں گی۔
Takhreej
(۵۱۷۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۸۵۳(انظر: ۸۸۶۶)
Explanation
فوائد:… وعدے کی تصدیق سے مراد یہ ہے کہ بندہ تسلیم کرے کہ اس عمل کا پورا پورا اجر دیا جائے گا اور کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔
5179
Sahih
۔ (۵۱۸۰)۔ عن أَسْمَاء بِنْتِ یَزِیدَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الْخَیْلُ فِی نَوَاصِیہَا الْخَیْرُ مَعْقُودٌ أَبَدًا إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، فَمَنْ رَبَطَہَا عُدَّۃً فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، وَأَنْفَقَ عَلَیْہَا احْتِسَابًا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، فَإِنَّ شِبْعَہَا وَجُوعَہَا وَرِیَّہَا وَظَمَأَہَا وَأَرْوَاثَہَا وَأَبْوَالَہَا فَلَاحٌ فِی مَوَازِینِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَمَنْ رَبَطَہَا رِیَائً وَسُمْعَۃً وَفَرَحًا وَمَرَحًا فَإِنَّ شِبَعَہَا وَجُوعَہَا وَرِیَّہَا وَظَمَأَہَا وَأَرْوَاثَہَا وَأَبْوَالَہَا خُسْرَانٌ فِی مَوَازِینِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۲۸۱۲۶)
۔ سیدہ اسماء بنت یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گھوڑوں کی پیشانیوں کے ساتھ قیامت کے دن تک، یعنی ہمیشہ کے لیے خیر وابستہ کر دی گئی ہے، پس جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی راہ کے لیے تیاری کرتے ہوئے گھوڑا باندھا اور اسی کے راستے کی خاطر ثواب کی نیت سے اس پر خرچ کیا تو اس گھوڑے کا سیر ہونا، بھوکا ہونا، سیراب ہونا، پیاسا ہونا اور اس کا پیشاب، یہ سب چیزیں قیامت کے دن اس کے ترازوں میں کامیابی کا باعث ہوں گی، لیکن جس نے گھوڑے کو ریاکاری، شہرت اور اتراہٹ کے لیے پالا تو اس کے سیر ہونے، بھوکا رہنے، سیراب ہونا، پیاسا ہونا اور اس کی لید اور پیشاب، یہ سب چیزیں قیامت کے دن اس کے ترازوں میں خسارے کا باعث بنیں گی۔
Takhreej
(۵۱۸۰) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۲/ ۴۸۱ (انظر: ۲۷۵۷۴)
5180
Sahih
۔ (۵۱۸۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْخَیْلُ مَعْقُودٌ فِی نَوَاصِیہَا الْخَیْرُ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ)) (مسند أحمد: ۵۲۰۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روزِ قیامت تک گھوڑوں کی پیشانیوں میں خیر رکھ دی گئی ہے۔
Takhreej
(۵۱۸۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۶۴۴، ومسلم: ۱۸۷۱ (انظر: ۵۲۰۰)
Explanation
فوائد:… پیشانی سے مراد ذات ہے۔
5181
Sahih
۔ (۵۱۸۲)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہٗ۔ (مسند أحمد: ۱۱۳۶۶)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Takhreej
(۵۱۸۲) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ البزار: ۱۶۸۶(انظر: ۱۱۳۴۶)
5182
Sahih
۔ (۵۱۸۳)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْخَیْلُ مَعْقُودٌ فِی نَوَاصِیہَا الْخَیْرُ، وَالنَّیْلُ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَأَہْلُہَا مُعَانُونَ عَلَیْہَا، فَامْسَحُوا بِنَوَاصِیہَا، وَادْعُوا لَہَا بِالْبَرَکَۃِ، وَقَلِّدُوہَا، وَلَا تُقَلِّدُوہَا بِالْأَوْتَارِ)) وَقَالَ عَلِیٌّ: وَلَا تُقَلِّدُوہَا الْأَوْتَارَ۔ (مسند أحمد: ۱۴۸۵۱)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روزِ قیامت تک گھوڑوں کی پیشانیوں کے ساتھ خیر اور مقصود و مطلوب وابستہ کر دیا گیا ہے اور ان کے مالکان ان پر سوار ہو کر سختیاں جھیلتے ہیں، پس تم لوگ گھوڑوں کی پیشانیوں کو چھوا کرو اور ان کے لیے برکت کی دعا کیا کرو اور ان کو قلادے ڈالو، لیکن وہ تانت کے نہ ہوں۔
Takhreej
(۵۱۸۳) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۸۹۷۷ (انظر: ۱۴۷۹۱)
Explanation
فوائد:… تانت کے قلادے سے منع کرنے کی تین وجوہات ہو سکتی ہیں: (۱) دوڑتے وقت یا چرتے وقت گلے گھونٹنے کی وجہ سے دم نکل سکتا ہے، (۲) گھوڑوں کو نظر بد اور مختلف تکلیفوں سے بچانے کے لیے اس قسم کی تانت ان کی گردنوں میں لٹکائی جاتی تھی اور (۳) یہ تانت سخت اور تیز ہوتی ہے، اس سے گلا کٹنے کا خطرہ ہوتا ہے۔
5183
Sahih
۔ (۵۱۸۴)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْبَرَکَۃُ فِیْ نَوَاصِی الْخَیْلِ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۱۴۹)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گھوڑوں کی پیشانیوں میں برکت ہے۔
Takhreej
(۵۱۸۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۸۵۱، ومسلم: ۱۸۷۴(انظر: ۱۲۱۲۵)
5184
Sahih
۔ (۵۱۸۵)۔ عَنْ جَرِیرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَفْتِلُ عُرْفَ فَرَسٍ بِأُصْبُعَیْہِ وَہُوَ یَقُولُ: ((الْخَیْلُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِیہَا الْخَیْرُ، الْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۴۱۰)
۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی انگلیوں کے ساتھ گھوڑے کی گردن کے بال بٹتے اور فرماتے: قیامت کے دن تک گھوڑوں کی پیشانیوں کے ساتھ خیر یعنی اجر اور غنیمت وابستہ کر دی گئی ہے۔
Takhreej
(۵۱۸۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۸۷۲(انظر: ۱۹۱۹۶)
Explanation
فوائد:… اپنے دست ِ مبارک سے گھوڑے کے بال بٹنا گھوڑوں سے محبت ، پیار اور لگاؤ کی بنا پر تھا۔
5185
Sahih
۔ (۵۱۸۶)۔ عَنْ مَعْقَلِ بْنِ یَسَارٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمْ یَکُنْ شَیْئٌ اَحَبَّ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْخَیْلِ، ثُمَّ قَالَ: اَللّٰھُمَّ غَفْرًا، لَا، بَلِ النِّسَائُ۔ (مسند أحمد: ۲۰۵۷۸)
۔ سیدنا معقل بن یسار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ کوئی چیز نہیں ہے، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سب سے زیادہ پسند ہے، گھوڑوں کی بہ نسبت، پھر سیدنا معقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ! بخش دے، نہیں، بلکہ آپ کو عورتیں سب سے زیادہ پسند تھیں۔
Takhreej
(۵۱۸۶) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۲۰۳۱۲)
Explanation
فوائد:… اے اللہ! بخش دے سے سیدنا معقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی مراد یہ ہے کہ ان سے غلطی ہو گئی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سب سے زیادہ گھوڑ ے نہیں، بلکہ بیویاں پسند تھیں۔ واقعی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنی بیویوں سے محبت تھی۔
5186
Sahih