TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5186 - گھوڑے کی تعریف اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے کے لیے ان کو پالنے کی فضیلت کا بیان - گھوڑوں کی صفات، جہاد کے لیے ان کو پالنے کی فضیلت اور ان کی مستحب اور مکروہ صورتوں کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 9 of 9 in this chapter
گھوڑے کی تعریف اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے کے لیے ان کو پالنے کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۱۸۶)۔ عَنْ مَعْقَلِ بْنِ یَسَارٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمْ یَکُنْ شَیْئٌ اَحَبَّ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْخَیْلِ، ثُمَّ قَالَ: اَللّٰھُمَّ غَفْرًا، لَا، بَلِ النِّسَائُ۔ (مسند أحمد: ۲۰۵۷۸)
۔ سیدنا معقل بن یسار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ کوئی چیز نہیں ہے، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سب سے زیادہ پسند ہے، گھوڑوں کی بہ نسبت، پھر سیدنا معقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ! بخش دے، نہیں، بلکہ آپ کو عورتیں سب سے زیادہ پسند تھیں۔
5186
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۵۱۸۶) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۲۰۳۱۲)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… اے اللہ! بخش دے سے سیدنا معقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی مراد یہ ہے کہ ان سے غلطی ہو گئی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سب سے زیادہ گھوڑ ے نہیں، بلکہ بیویاں پسند تھیں۔ واقعی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنی بیویوں سے محبت تھی۔

Related Chapters

86
1
اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے گھوڑے رکھنے کا ثواب
Sunnan Ibn e Maja
2
Chapter: What Has Been Related About One Who Keeps And Prepares A Horse In The Cause Of Allah
باب: جہاد کی نیت سے گھوڑا پالنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Mentioned About Praising Allah And Sending Salat Upon The Prophet Before Supplicating
باب: دعا سے پہلے اللہ کی تعریف کرنے اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) بھیجنے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About The Permission For Eating Fruit For The Passerby
باب: راہی کے لیے راستہ کے درخت کا پھل کھانے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
5
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اور سیّدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کی قراء ت کا نماز میں حجت ہونے کا بیان جن کی قراء ت پر تعریف کی گئی ہے
Musnad Ahmad
6
ان دونوں کی مشروعیت کے سبب، ان کے لیے غسل اور تجمّل کے مستحب ہونے اور واپسی پر راستہ تبدیل کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
7
اللہ کے راستہ کے شہداء کی اقسام اور ان کی نیتوں کے اعتبار سے ان کے درجات کا بیان
Musnad Ahmad
8
ٓپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں کا بیان
Musnad Ahmad
9
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے مرض الموت کا اور ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے ان کی تعریف و توصیف کا بیان
Musnad Ahmad
10
باب پنجم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خواب کی تعبیر کا ثابت ہونا، عجمی کا ان پر حملہ کرنا، ان کی کچھ وصیتوں کا بیان، لوگوں کا ان کی تعریف کرنا اور ان کے پاس رونا اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا کسی خلیفہ نامزد نہ کرنا
Musnad Ahmad
11
(17) CHAPTER. (The Statement of Allah) “But if they repent [by rejecting Shirk (polytheism) and accept Islamic Monotheism] and perform As-Salat (Iqamat-as-Salat) and give Zakat then leave their way free.” (V.9:5)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں کہ اگر وہ ( کافر ) توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو ( یعنی ان سے جنگ نہ کرو )
Sahih Bukhari
12
(29) CHAPTER. When there is a dispute about a public way and the owner of the land wishes to build (something), he should leave seven cubits for the people to pass through.
اگر عام راستہ میں اختلاف ہو اور وہاں رہنے والے کچھ عمارت بنانا چاہیں تو سات ہاتھ زمین راستہ کے لیے چھوڑ دیں
Sahih Bukhari
13
(3) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Be in this world as if you were a stranger.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ دنیا میں اس طرح زندگی بسر کرو جیسے تم مسافر ہو یا عارضی طور پر کسی راستہ پر چلنے والے ہو
Sahih Bukhari
14
Chapter: If A Righteous Man Is Praised, It Is Glad Tidings For Him And Will Not Harm Him
جب کسی نیک آدمی کی تعریف کی جائے تو یہ اس کے لیے بشارت ہے اور اس کے لیے نقصان دہ نہیں ہے
Sahih Muslim
15
باب: جانوروں کی دیکھ بھال کے لیے کتا پالنے کی رخصت کا بیان۔
Sunnan Nisai
16
باب: شکار کے لیے کتا پالنے کی رخصت کا بیان۔
Sunnan Nisai
17
باب: کھیت کی رکھوالی کے لیے کتا پالنے کی رخصت کا بیان۔
Sunnan Nisai
18
Chapter: What Has Been Related About: There Is No Charity Due On Horses And Slaves
باب: گھوڑے اور غلام میں زکاۃ کے نہ ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About Praise For The Deceased
باب: میت کی تعریف کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About How Much Is Deducted From The Reward Of One Who Keeps A Dog
باب: کتا پالنے سے ثواب میں کمی کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: The Shares Given For The Horse
باب: (مال غنیمت میں سے) گھوڑے کے حصے کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About Eating Horse Meat
باب: گھوڑے کا گوشت کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About Praising For Good
باب: احسان کے بدلے تعریف کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About Praising Others Is Disliked,And Those Who Praise Others
باب: مداحوں کو ناپسند کرنے اور بے جا تعریف و مدح کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About 'The One Who Leads To Good Is Like The One Who Does It
باب: بھلائی کا راستہ بتانے والا بھلائی کرنے والے کی طرح ہے
Jam e Tirmazi
26
لوگوں کا میت کی تعریف کرنااوراس کے حق میں گواہی دینا
Musnad Ahmad
27
سائل کے ساتھ حسن سلوک کرنے، اس کے بارے میں حسنِ ظن رکھنے اور خواہ وہ گھوڑے پر آئے، اس کو کچھ نہ کچھ دینے کا بیان
Musnad Ahmad
28
گھوڑوں کی قابل تعریف اور قابل مذمت صفات کا بیان
Musnad Ahmad
29
گھوڑے کی دعا کا بیان
Musnad Ahmad
30
بکریوں کو پالنے، ان کی برکت اور ان کو چرانے کا بیان
Musnad Ahmad
31
جب راستے کے بارے میں لوگوںکا اختلاف ہو جائے تو کتنا راستہ چھوڑا جائے گا
Musnad Ahmad
32
کتوں کو قتل کرنے اور انہیں پالنے کا بیان کتوں کو قتل کرنے کے حکم اور اس کے سبب کا بیان
Musnad Ahmad
33
گھوڑے اورجنگلی گدھے کی حلت کا بیان
Musnad Ahmad
34
اگر برے شگون اور نحوست کا کوئی وجود ہوتا تو وہ عورت، گھوڑے اور گھر میں ہوتا
Musnad Ahmad
35
نیکی اور گناہ کی تعریف کا بیان
Musnad Ahmad
36
تعریف کی جائز صورتوں کا بیان
Musnad Ahmad
37
تعریف کی ناجائز صورتیں
Musnad Ahmad
38
(80) CHAPTER. Al-Khaukhah (a small door) and a path in the mosque.
مسجد میں کھڑکی اور راستہ رکھنا
Sahih Bukhari
39
(85) CHAPTER. The praising of a deceased by the people.
لوگوں کی زبان پر میت کی تعریف ہو تو بہتر ہے
Sahih Bukhari
40
(114) CHAPTER. The purchase of Hady on the way and garlanding it.
اس شخص کے بارے میں جس نے اپنی ہدی راستہ میں خریدی اور اسے ہار پہنایا
Sahih Bukhari
41
(17) CHAPTER. What is hated of exaggeration in praising, and one should say only what he knows.
کسی کی تعریف میں مبالغہ کرنا مکروہ ہے جو جانتا ہو بس وہی کہے
Sahih Bukhari
42
(31) CHAPTER. Giving animals; particularly horses and property and gold and silver as endowments.
جانور اور گھوڑے اور سامان اور سونا چاندی وقف کرنا
Sahih Bukhari
43
(43) CHAPTER. Good will remain (as a peranent quality) in the forelocks of horses (especially those kept for the purpose of Jihad) till the Day of Resurrection.
قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیر و برکت بندھی ہوئی ہے
Sahih Bukhari
44
(47) CHAPTER. What has been said about the evil omen of a horse.
اس بیان میں کہ بعض گھوڑے منحوس ہوتے ہیں
Sahih Bukhari
45
(48) CHAPTER. Horses (are kept) for three (purposes).
گھوڑے کے رکھنے والے تین طرح کے ہوتے ہیں
Sahih Bukhari
46
(50) CHAPTER. Riding on an unmanageable animal or a stallion horse.
سخت سرکش جانور اورنر گھوڑے کی سواری کرنا
Sahih Bukhari
47
(51) CHAPTER. The share of the horse (from the booty)...
( غنیمت کے مال سے ) گھوڑے کا حصہ کیا ملے گا
Sahih Bukhari
48
(54) CHAPTER. The riding of an unsaddled horse.
گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار ہونا
Sahih Bukhari
49
(55) CHAPTER. A slow horse.
سست رفتار گھوڑے پر سوار ہونا
Sahih Bukhari
50
(162) CHAPTER. Whosoever is unable to sit firm on a horse.
جو گھوڑے پر اچھی طرح نہ جم سکتا ہو ( اس کے لئے دعا کرنا )
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

10
Musnad Ahmad
4988
۔ (۴۹۸۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَۃَ، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! الدَّارُ مِنْ دُورِ الْمُشْرِکِینَ نُصَبِّحُہَا لِلْغَارَۃِ، فَنُصِیبُ الْوِلْدَانَ تَحْتَ بُطُونِ الْخَیْلِ، وَلَا نَشْعُرُ، فَقَالَ: ((إِنَّہُمْ مِنْہُمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۸۰۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا صعب بن جثامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! مشرکوں کی بستی ہو اور ہم اس پر صبح کے وقت اچانک حملہ کر دیں اور ان کے بچے گھوڑوں کے نیچے آ کر مارے جائیں، جبکہ ہمیں سمجھ ہی نہ آئے تو (ان بچوں کا قتل کیسا ہو گا)؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک ان کے بچے بھی ان ہی میں سے ہیں۔
Musnad Ahmad
5178
۔ (۵۱۷۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سُئِلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْخَیْلِ، فَقَالَ: ((الْخَیْلُ مَعْقُودٌ فِی نَوَاصِیہَا الْخَیْرُ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَہِیَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ، وَھِیَ لِرَجُلٍ سِتْرٌ، وَ ھی عَلٰی رَجُلٍ وِزْرٌ، فَأَمَّا الَّذِی ہِیَ لَہُ أَجْرٌ الَّذِی یَتَّخِذُہَا وَیَحْبِسُہَا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، فَمَا غَیَّبَتْ فِی بُطُونِہَا فَہُوَ لَہُ أَجْرٌ، وَإِنْ اسْتَنَّتْ مِنْہُ شَرَفًا أَوْ شَرَفَیْنِ کَانَ لَہُ فِی کُلِّ خُطْوَۃٍ خَطَاہَا أَجْرٌ، وَلَوْ عَرَضَ لَہُ نَہْرٌ، فَسَقَاہَا مِنْہُ کَانَ لَہُ بِکُلِّ قَطْرَۃٍ غَیَّبَتْہُ فِی بُطُونِہَا أَجْرٌ۔)) حَتّٰی ذَکَرَ الْأَجْرَ فِی أَرْوَاثِہَا وَأَبْوَالِہَا۔ (مسند أحمد: ۸۹۶۵)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے گھوڑے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روزِ قیامت تک گھوڑوں کی پیشانیوں کے ساتھ خیر وابستہ کر دی گئی ہے، گھوڑا کسی کے لیے اجر ہوتا ہے، کسی کے لیے پردہ اور کسی کے لیے گناہ۔ جو گھوڑا باعث ِ اجر ہو تا ہے، وہ وہ ہوتاہے، جس کو آدمی اللہ کی راہ کی خاطر پالتا ہے، ایسا گھوڑا جو کچھ کھاتا ہے، اس میں بھی اس کے مالک کے لیے اجر ہے اور جب وہ ایک دو ٹیلوں تک چلتا ہے تو اس کے ہر ہر قدم کے بدلے مالک کے لیے اجر ہوتا ہے، اگر سامنے نہر آ جائے اور وہ اس سے پانی پی لے تو وہ جو پانی پیتا ہے، اس کے ہر ہر قطرے کے عوض مالک کو ثواب ملتا ہے۔ یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی لید اور پیشاب کے اجر وثواب کا بھی ذکر کیا۔
Musnad Ahmad
3368
۔ (۳۳۶۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ ثَنَا سَعِیْدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی عُمَرَ الْغُدَانِیِّ قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ جَالِسًا فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِی عَامِرِ ابْنِ صَعْصَعَۃَ، فَقِیْلَ لَہُ: ہَذَا أَکْثَرُ عَامِرِیٍّ مَالاً، فَقَالَ أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: رُدُّوْہُ إِلَیَّ فَرَدُّوْہُ عَلَیْہِ، فَقَالَ نُبِّئْتُ أَنَّکَ ذُوْمَالٍ کَثِیْرٍ؟ فَقَالَ الْعَامِرِیُّ: وَاللّٰہِ! إِنَّ لِیْ مِائۃَ حُمْرٍ وَمِائَۃَ أُدْمٍ، حَتّٰی عَدَّ مِنْ أَلَوانِ الإِبِلِ وَأَفَنََانِ الرَّقِیْقِ وَرِبَاطِ الْخَیْلِ، فَقَالَ أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: إِیَّاکَ وَأَخْفَافَ الإِبِلِ وَأَظْلَافَ الْغَنَمِ، یُرَدِّدُ ذَالِکَ عَلَیْہِ حَتّٰی جَعَلَ لَوْنُ الْعَامِرِیِّ یَتَغَیَّرُ أَوْ یَتَلَوَّنُ، فَقَالَ: مَا ذَاکَ یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ!؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ کَانَتْ لَہُ إِبِلٌ لَا یُعْطِیْ حَقَّہَا (فَذَکَرَ مِثْلَ الْحَدِیْثِ الْمُتَقَدِّمِ ثُمَّ قَالَ) وَإِذَا کَانَتْ لَہُ بَقَرٌ لاَ یُعْطِیْ حَقَّھَا فِی نَجْدَتِہَا وَرِسْلِہَا فَإِنَّہَا تَأْتِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَأَغَذِّ مَا کَانَتْ وَأَکْبَرِہِ وَأَسْمَنِہِ وَأَسَرِّہُ، ثُمَّ یُبْطَحُ لَہَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَطَؤُہٗ فِیْہِ کُلُّ ذَاتِ ظِلْفٍ بِظِلْفِہَا وَتَنْطَحُہُ کُلُّ ذَاتٍ قَرْنٍ بِقَرْنِہَا، إِذَا جَاوَزَتْہُ أُخْرَاہَا أُعِیْدَتْ عَلَیْہِ أُوْلَاہَا فِی یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہُ أَلْفَ سَنَۃٍ حََتّٰی یُقْضٰی بَیْنَ النَّاسِ یَرٰی سَبِیْلَہُ، وَإِذَا کَانَتْ لَہُ غَنَمٌ، (فَذَکَرَ نَحْوَالْحَدِیْثِ الْمُتَقَدِّمِ ثُمَّ قَالَ) فَقَالَ الْعَامِرِیُّ: وَمَا حَقُّ الْإِبِلِ یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ!؟ قَالَ أَنْ تُعْطِیَ الْکَرِیْمَۃَ وَتَمْنَحَ الْغَزِیْرَۃَ وَتُفْقِرَالظَّہْرَ، وَتَسْقِیَ اللَّبَنَ وَتُطْرِقَ الْفَحْلَ۔ (مسند احمد: ۱۰۳۵۵)
ابوعمر غدانی کہتے ہیں: میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہاں سے بنو عامر بن صعصعہ کے ایک آدمی کا گزر ہوا، اس کے بارے میں ان کو بتایا گیا کہ یہ اپنے قبیلہ کا امیر ترین آدمی ہے، سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اسے میرے پاس بلائو، لوگوں نے اسے بلایا، سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس سے کہا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم کافی مالدار ہو؟ عامری نے کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم! میرے پاس ایک سو گدھے اور ایک سو سفید رنگ کے اونٹ ہیں، پھر اس نے مختلف قسم کے اونٹوں، غلاموں اور گھوڑوں کا ذکر کیا۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسے کہا: تم ذرا اونٹوں کے پائوں اور بکریوں کے کھروں سے بچ کر رہنا۔ آپ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اتنی بار یہ بات دوہرائی کہ اس عامری کا رنگ بدلنا شروع ہو گیا، بالآخر اس نے کہا: اے ابوہریرہ! بھلا آپ کی اس بات کا مطلب کیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس آدمی کے پاس اونٹ ہوں اور وہ ان کا حق ادا نہ کرے، … … (پھر گزشتہ حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی) اورجس کے پاس گائیں ہوں اور وہ تنگدستی و خوشحالی میں ان کا حق ادا نہ کرے تو وہ قیامت کے دن خوب ہوشیار بن کر اور خوب موٹی تازی ہو کر آئیں گی، پھر ان کے لیے ایک چٹیل میدان تشکیل دیا جائے گا (اس مالک کو وہاں لٹا دیا جائے گا)، وہ گائیں اسے اپنے کھروں سے روندیں گی اور سینگوں سے ماریں گی، جب آخری گائے گزر جائے گی تو پہلی کو دوبارہ لایا جائے گا، (یہ سزا اس وقت تک ہوتی رہے گی) جب تک لوگوں کے درمیان فیصلہ نہ کر دیا جائے، جبکہ اس دن کی مقدار ایک ہزار سال کے برابر ہو گی، پھر دیکھا جائے گا کہ اس کا راستہ (جنت کی طرف ہے یا جہنم کی طرف)۔ اور جس کے پاس بکریاں ہوں، … …(گزشتہ حدیث کی مانند حدیث ذکر کی)عامری نے کہا:اے ابوہریرہ! اونٹوں کا حق کیا ہے؟ انھوں نے کہا: اونٹوں کا حق یہ ہے کہ زکوۃ ادا کرتے وقت بہترین اونٹ ادا کرو، دودھ والا جانور کسی کو عاریۃً دے دیا کرو، ضرورت مند کو سواری کے لیے اونٹ دیا کرو، اسی طرح دودھ بھی لوگوں کو پلایا کرو اور جفتی کے لیے بھی عاریۃً نر اونٹ دے دیا کرو۔
Musnad Ahmad
4464
۔ (۴۴۶۴) عَنْ مِقْسِمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما لَمَّا أَفَاضَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ عَرَفَۃَ تَسَارَعَ قَوْمٌ، فَقَالَ: ’’اِمْتَدُّوْا، وَسَدُّوْا لَیْسَ الْبِرُّ بِإِیْضَاعِ الْخَیْلِ، وَلَا الرِّکَابِ۔)) قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَمَا رَأَیْتُ رَافِعَۃًیَدَھَا تَعْدُوْ حَتَّی أَتَیْنَا جَمْعًا۔ (مسند احمد: ۲۰۹۹)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عرفہ سے روانہ ہوئے تو کچھ تیز رفتاری سے چلے، لوگ دائیں بائیں نکلے جارہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کی طرف متوجہ ہو کر ان کو فرما رہے تھے: لوگو! آرام سے چلو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مزدلفہ میں پہنچ گئے، وہاں آکر دونوں نمازوں یعنی مغرب اور عشاء کو جمع کیا، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مزدلفہ میں ٹھہرے رہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قُزَح پہاڑ پر وقوف کیا اور روانہ ہوتے وقت سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تو یہاں وقوف کیا ہوا ہے، لیکن سارا مزدلفہ جائے وقوف ہے۔
Musnad Ahmad
8718
۔ (۸۷۱۸)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: مَا مَاتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی اُحِلَّ لَہُ النِّسَائُ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۳۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات سے پہلے آپ کے لئے مزید عورتوں سے نکاح کرنا حلال کردیا گیا تھا۔
Musnad Ahmad
9994
۔ (۹۹۹۴)۔ عَنْ عَلَیٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ لِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا عَلَیُّ! اَسْبِغِ الْوُضُوْئَ، وَاِنْ شَقَّ عَلَیْکَ، وَلَا تَاْکُلِ الصَّدَقَۃَ، وَلَا تُـنْزِ الْحَمِیْرَ عَلَی الْخَیْلِ، وَلَا تُجَالِسْ اَصْحَابَ النُّجُوْمِ۔)) (مسند احمد: ۵۸۲)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: اے علی! پورا پورا وضو کر، اگرچہ وہ تجھ پر گراں گزرے، صدقہ نہ کھا، گدھے کو گھوڑی پر نہ کدوا اور نجومی لوگوں کی مجلس میں نہ بیٹھ۔
Musnad Ahmad
10044
۔ (۱۰۰۴۴)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ شِبْلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْفُسَّاقَ ھُمْ اَھْلُ النَّارِ۔)) قِیْلَ: یارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَنِ الْفُسَّاقُ؟ قَالَ: ((النِّسَائُ۔)) وقَالَ رَجُلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَوْ لَسْنَ اُمَّھَاتِنَا وَاَخَوَاتِنَا وَاَزْوَاجَنَا قَالَ: ((بَلٰی، وَلٰکِنَّھُنَّ اِذَا اُعْطِیْنَ لَمْ یَشْکُرْنَ، وَاِذَا ابْتُلِیْنَ لَمْ یَصْبِرْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۵۳)
۔ سیدنا عبد الرحمن بن شبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہے مروی سے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک فاسق لوگ جہنمی ہیں۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! فاسق لوگ کون ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورتیں۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وہ ہماری مائیں، بہنیں اور بیویاں نہیں ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، لیکن جب ان کو دیا جاتا ہے تو وہ شکر ادا نہیں کرتیں اور جب ان کو آزمایا جاتا ہے تو وہ صبر نہیں کرتیں۔
Musnad Ahmad
10048
۔ (۱۰۰۴۸)۔ عَنْ اَبِیْ التَّیَّاحِ قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفًایُحَدِّثُ اَنَّہُ کَانَتْ لَہُ امْرَاَتَانِ قَالَ: فجَائَ اِلیٰ اِحْدَاھُمَا قَالَ: فَجَعَلَتْ تَنْزِعُ بِہٖعِمَامَتَہُ،وَقَالَتْ: جِئْتَمِنْعِنْدِامْرَاَتِکَ،قَالَ: جِئْتُمِنْعِنْدِعِمْرَانَبْنِحُصَیْنٍ فَحَدَّثَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَحْسِبُ اَنَّہُ قَالَ: ((اِنَّ اَقَلَّ سَاکِنِی الْجَنَّۃِ النِّسَائُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۷۶)
۔ ابو تیاح بیان کرتے ہیں کہ مطرف کی دو بیویاں تھیں، جب وہ ایک بیوی کے پاس گئے اور اس نے ان کی پگڑی اتاری تو اس نے کہا: آپ تو اپنی بیوی کے پاس سے آئے ہیں، انھوں نے کہا: میں سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے آیا ہوں، انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک حدیث بیان کی، میرا خیال ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت کے باسیوں میں عورتیں کم تعداد ہوں گی۔
Musnad Ahmad
11259
۔ (۱۱۲۵۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: مَا مَاتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی اُحِلَّ لَہُ النِّسَائُ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۳۸)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات سے پہلے آپ کے لئے مزید عورتوں سے نکاح کرنا حلال کردیا گیا تھا۔