TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

تعریف کی ناجائز صورتیں - تعریف کی ناجائز صورتیں - تعریف اور مذمت کی کتاب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of تعریف اور مذمت کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 17 · 8 Hadith
۔ (۱۰۰۳۴)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ بَکْرَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّھُمْ ذَکَرُوْا رَجُلًا عِنْدَہُ، فَقَالَ رَجُلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا مِنْ رَجُلٍ بَعْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَفَضْلُ مِنْہُ فِیْ کَذَا وَکَذَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَیْحَکَ، قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِکَ)) مِرَارًا یَقُوْلُ ذٰلِکَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنْ کَانَ اَحَدُکُمْ مَادِحًا اَخَاہُ لَا مَحَالَۃَ فَلْیَقُل: اَحْسِبُ فُلَانًا اِنْ کَانَ یَرٰی اَنَّہُ کَذَاکَ وَلَا اُزَکِّیْ عَلَی اللّٰہِ تَبَارَکَ اَحَدًا وَحَسِیْبُہُ اللّٰہُ، اَحْسَبُہُ کَذَا وَکَذَا۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۹۳)
۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موجودگی میں ایک آدمی کا تذکرہ کیا اور ایک شخص نے اس کے بارے میں کہا: اے اللہ کے رسول! کوئی شخص نہیں ہے، جو فلاں فلاں عمل میں اللہ کے رسول کے بعد افضل ہو، مگر وہی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو ہلاک ہو جائے، تو نے تو اپنے ساتھ کی گردن کاٹ دی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کئی بار یہ بات ارشاد فرمائی اور پھر فرمایا: اگر کسی نے لامحالہ طور پر کسی کی تعریف کرنی ہی ہو تو وہ یوں کہے: میرا گمان ہے کہ وہ آدمی ایسے ایسے ہے اور میں اللہ تعالیٰ پر کسی کا تزکیہ نہیں کر سکتا، دراصل اس کا محاسب اللہ تعالیٰ ہے، بہرحال میں اس کو ایسے ایسے گمان کرتا ہوں۔
Takhreej
(۱۰۰۳۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۰۶۱، ومسلم: ۳۰۰۰ (انظر: ۲۰۴۲۲)
10034
Sahih
۔ (۱۰۰۳۴)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ بَکْرَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّھُمْ ذَکَرُوْا رَجُلًا عِنْدَہُ، فَقَالَ رَجُلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا مِنْ رَجُلٍ بَعْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَفَضْلُ مِنْہُ فِیْ کَذَا وَکَذَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَیْحَکَ، قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِکَ)) مِرَارًا یَقُوْلُ ذٰلِکَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنْ کَانَ اَحَدُکُمْ مَادِحًا اَخَاہُ لَا مَحَالَۃَ فَلْیَقُل: اَحْسِبُ فُلَانًا اِنْ کَانَ یَرٰی اَنَّہُ کَذَاکَ وَلَا اُزَکِّیْ عَلَی اللّٰہِ تَبَارَکَ اَحَدًا وَحَسِیْبُہُ اللّٰہُ، اَحْسَبُہُ کَذَا وَکَذَا۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۹۳)
۔ (دوسری سند) ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس اپنے ایک ساتھی کی تعریف کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو ہلاک ہو جائے، تو نے تو اس کی گردن کاٹ کے رکھ دی ہے، اگر تو نے لامحالہ طور پر تعریف کرنی ہی ہے تو اس طرح کہہ: میرا گمان ہے کہ وہ شخص ایسے ایسے ہے اور اس کا محاسب اللہ تعالیٰ ہے اور میں اللہ تعالیٰ پر کسی کا تزکیہ نہیں کر سکتا۔
Takhreej
(۱۰۰۳۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
10035
Sahih
۔ (۱۰۰۳۶)۔ عَنْ عَطَائِ بْنِ اَبِیْ رَبَاحٍ، قَالَ: کَانَ رَجُلٌ یَمْدَحُ ابْنَ عُمَرَ قَالَ: فَجَعَلَ ابْنُ عُمَرَ یَقُوْلُ ھٰکَذَا یَحْثُوْ فِیْ وَجْھِہِ التُّرَابَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِذَا رَاَیْتُمُ الْمَدَّاحِیْنَ فَاحْثُوْا فِیْ وُجُوْھِھِمُ التُّرَابَ۔)) (مسند احمد: ۵۶۸۴)
۔ عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں: ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی تعریف کی اور انھوں نے اس کے چہرے پر مٹی پھینکی اور کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب تم تعریف کرنے والوں کو پاؤ تو ان کے چہروں پر مٹی ڈالا کرو۔
Takhreej
(۱۰۰۳۶) تخریج: صححیح لغیرہ، أخرجہ ابن حبان: ۵۷۶۹، وابن ابی شیبۃ: ۹/۷، والطبرانی فی الکبیر : ۱۳۵۸۹(انظر: ۵۶۸۴)
10036
Sahih
۔ (۱۰۰۳۷)۔ عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْاَدْرَعِ اَنَّہُ کَانَ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِبَابِ الْمَسْجِدِ اِذَا رَجُلٌ یُصَلِّیْ، قَالَ: ((اَتَقُوْلُہُ صَادِقًاَ)) قَالَ: قُلْتُ: یَانَبِیَّ اللّٰہِ! ھٰذَا فُلَانُ، وَھٰذَا مِنْ اَحْسَنِ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ، اَوْ قَالَ: اَکْثَرُ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ صَلَاۃً، قَالَ: ((لَا تُسْمِعْہُ فَتُھْلِـکَہُ۔)) (مَرَّتَیْنِِ اَوْ ثَلَاثًا) اِنَّـکُمْ اُمَّۃٌ اُرِیْدَ بِکُمُ الْیُسْرُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۱۴)
۔ سیدنا محجن بن ادرع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ مسجد کے دروازے پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، جب انھوں نے اچانک ایک آدمی کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: تیرا کیا خیال ہے کہ یہ آدمی سچا ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ فلاں آدمی ہے، مدینہ میں سب سے اچھا اور سب سے زیادہ نماز پڑھنے والا شخص ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے یہ بات اس کو سنا کر نہیں کرنی، وگرنہ اس کو ہلاک کر دو گے۔ دو تین بار یہ بات کی اور پھر فرمایا: بیشک تم ایسی امت ہو، جس کے ساتھ آسانی کا ارادہ کیا گیا ہے۔
Takhreej
(۱۰۰۳۷) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۴۲۷، والطبرانی فی الکبیر : ۲۰/ ۷۰۶ (انظر: ۲۰۳۴۷)
Explanation
فوائد:… غور کریں کہ جس شخص کو مدینہ منورہ کا اچھا اور سب سے زیادہ نماز پڑھنے والا قرار دیا جا رہا ہے، اس کے سامنے بھی تعریفی کلمات کہنے سے منع کیا گیا، اس سے مقصود اس کی سلامت و حفاظت ہے۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ کسی کی عدم موجودگی میں اس کا تذکرۂ خیر کیا جا سکتا ہے۔
10037
Sahih
۔ (۱۰۰۳۸)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلًا یُثْنِیْ عَلَی رَجُلٍ وَیُطْرِیْہِ فِیْ الْمِدْحَۃِ، فَقَالَ: ((لَقَدْ اَھْلَکْـتُمْ اَوْ قَطَعْتُمْ ظَھْرَ الرَّجُلِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۹۲۸)
۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سنا کہ آدمی دوسرے آدمی کی تعریف کر رہا تھا اور مبالغہ سے کام لے رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے اس شخص کی کمر کو ہلاک کر دیا ہے، یا کاٹ دیا ہے۔
Takhreej
(۱۰۰۳۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۶۶۳، ۶۰۶۰، ومسلم: ۳۰۰۱ (انظر: ۱۹۶۹۲)
10038
Sahih
۔ (۱۰۰۳۹)۔ عَنْ مُجَاھِدٍ، اَنَّ سَعِیْدَ بْنَ الْعَاصِ بَعَثَ وَفْدًا مِنَ الْعِرَاقِ اِلٰی عُثْمَانَ، فَجَائُ وْا یُثْنُوْنَ عَلَیْہِ، فَجَعَلَ الْمِقْدَادُ یَحْثُوْ فِیْ وُجُوْھِھِمُ التُّرَابَ، وَقَالَ: اَمَرَنَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ نَحْثُوَا فِیْ وُجُوْہِ الْمَدَّاحِیْنَ التُّرَابَ۔ وَقَالَ سُفْیَانُ مَرَّۃً: فَقَامَ الْمِقْدَادُ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((احْثُوْا فِیْ وُجُوْہِ الْمَدَّاحِیْنَ التُّرَابَ۔)) قَالَ الزُّبَیْرُ: اَمَّا الْمِقْدَادُ فَقَدْ قَضٰی مَاعَلَیْہِ ۔ (مسند احمد: ۲۴۳۲۵)
۔ مجاہد کہتے ہیں: سیدنا سعید بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عراق سے ایک وفد سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف بھیجا، جب وہ لوگ آئے تو وہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تعریف کرنے لگے، لیکن سیدنا مقداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کے چہروں پر مٹی پھینکی اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم تعریف کرنے والوں کے چہروں پر مٹی پھینکیں۔ امام سفیان نے اپنی روایت میں کہا: سیدنا مقداد نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تعریف کرنے والوں کے چہروں پر مٹی پھینکو۔ پھر زبیر راوی نے کہا: سیدنا مقداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی۔
Takhreej
(۱۰۰۳۹) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الطیالسی: ۱۱۵۹، والطبرانی: ۲۰/ ۵۷۰(انظر: ۲۳۸۲۴)
10039
Sahih
۔ (۱۰۰۴۰)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، عَنْ اَبِیْ مَعْمَرٍ قَالَ: قَامَ رَجُلٌ یُثْنِیْ عَلٰی اَمِیْرٍ مِنَ الْاُمَرَائِ فَجَعَلَ الْمِقْدَادُ یَحْثِیْ فِیْ وَجْھِہِ التُّرَابَ وقَالَ: اَمَرَنَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَنْ نَحْثِیَ فِیْ وُجُوْہِ الْمَدَّاحِیْنَ التُّرَابَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۳۲۹)
۔ ابو معمر کہتے ہیں: ایک آدمی کھڑا ہوا اور وہ ایک امیر کی تعریف کرنے لگا، اُدھر سے سیدنا مقداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کے چہرے پر مٹی پھینکنا شروع کر دی اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم تعریف کرنے والوں کے چہروں پر مٹی پھینکیں۔
Takhreej
(۱۰۰۴۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۳۰۰۲ (انظر: ۲۳۸۲۸)
Explanation
فوائد:… امام مبارکپوری ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے اس حدیث پر بحث کرتے ہوئے دو مفاہیم پیش کیے ہیں:(۱)زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس حدیث کو اس کے ظاہری معنی پر محمول کیا جائے، جیسا کہ راوی ٔ حدیث سیدنا مقداد بن اسود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کیا، وگرنہ (۲) اگر تاویل کی جائے تو اس کا معنییہ ہوگا کہ تعریف کرنے والے کو ناکام و نامراد بنا دیا جائے، اس کی امیدوں پر پانی پھیر دیا جائے، تعریف کرنے کی وجہ سے اسے کچھ نہ دیا جائے، تاکہ اس کی زجر و توبیخ ہو سکے اور اسے ایسا کرنے سے روکا جا سکے۔ باقی تمام تاویلوں میں بُعد پایا جاتا ہے۔ (یاد رہے کہ تعریف کرنے والے کو مادِح اور جس کی تعریف کی جائے اس کو مَمدُوح کہتے ہیں۔ )امام غزالی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا: کسی کی تعریف کرنے میں چھ آفات پائی جاتی ہیں، چار کا تعلق مادح سے ہے اور دو کا ممدوح سے۔ (۱)تعریف کرنے والا افراط سے کام لیتے ہوئے ایسی صفات کا تذکرہ بھی کر دیتا ہے، جن سے درحقیقت متعلقہ فرد متصف نہیں ہوتا، سو وہ جھوٹا قرار پاتا ہے۔(۲) مادِح تعریف کرتے وقت ظاہری طور پر ایسی محبت و مودّت کا اظہار کرتا ہے، جو اس کے باطن میں نہیں ہوتی، سو وہ منافق قرار پاتا ہے۔ (۳)بسا اوقات مادِ ح تحقیق کیے بغیر باتیں کر جاتا ہے اور اس طرح اپنے آپ کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ (۴)بعض اوقات ممدوح ظالم ہوتا ہے، لیکن مادِح اس کی تعریف کرکے اس کو خوش کر دیتا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا نافرمان ٹھہرتا ہے۔ (۵)تعریف و توصیف کی وجہ سے ممدوح میں تکبر اور بڑائی جیسی بیماری پیدا ہو سکتی ہے اور (۶)بسا اوقات یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ممدوح اپنی تعریف پر اتنا اترائے کہ اس کا عمل ضائع ہو جائے۔ (تحفۃ الاحوذی) قارئین کرام! اس قسم کی سخت وعید وں کے باوجود عصرحاضر میں سامعین و حاضرین کے سامنے سجائے گئے سٹیج پر ایک دوسرے کی تعریف کرنے میں حد سے تجاوز کیا جاتا ہے، اس سٹیج پر مذہبی قائدین تشریف فرما ہوںیا سیاسی لیڈر۔ ایسے ہی الیکشن، جلسے جلوس اور کانفرنسوں کے مواقع پر جو اشتہار شائع کیے جاتے ہیں، ان میں بھی قائدین کے القاب و اوصاف بیان کرنے میں غلوّ سے کام لیا جاتا ہے ، جیسے ولی کامل، پیکر اخلاص، شہنشاہِ خطابت، قاطع شرک و بدعت، سرمایۂ اسلام، محسِنِ اسلام، عالم باعمل، شب بیدار۔
10040
Sahih
۔ (۱۰۰۴۱)۔ عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَقُوْلَنَّ اَحَدُکُمْ اِنِّیْ قُمْتُ رَمَضَانَ کُلَّہُ اَوْ صُمْتُہُ۔)) قَالَ: فَـلَا اَدْرِیْ اَکَرِہَ التَّزْکِیَۃَ اَمْ لَا بُدَّ مِنْ غَفْلَۃٍ اَوْ رَقْدَۃٍ۔ (مسند احمد: ۲۰۶۷۷)
۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی ہر گز اس طرح نہ کہے کہ اس نے سارے رمضان کا قیام کیا ہے یا سارے رمضان کے روزے رکھے ہیں۔ راوی کہتا ہے:یہ بات مجھے سمجھ نہ آ سکی کہ کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد یہ تھی کہ بندہ اپنا تزکیہ نہ کرے، یا کوئی اور ارادہ تھا، اس لیے ضروری ہے کہ کچھ نہ کچھ غفلت اختیار کی جائے، یا سویا جائے۔
Takhreej
(۱۰۰۴۱) تخریج: ضعیف، عنعنۃ الحسن البصری، أخرجہ ابوداود: ۲۴۱۵، والنسائی: ۴/ ۱۳۰ (انظر: ۲۰۴۰۶)
10041
Zaeef

Chapters

17
01
تعریف کی جائز صورتوں کا بیان
7 Hadith
02
تعریف کی ناجائز صورتیں
8 Hadith
03
عورتوں کی مذمت کا بیان
7 Hadith
04
عبد اللہ بن اعور اعشی اور ان کی بیوی معاذہ کا قصہ
2 Hadith
05
عورتوں کا امور کی ولایت کے لیے نا اہل ہونا
2 Hadith
06
مال کی مذمت کا بیان
16 Hadith
07
دنیا کی مذمت کا بیان
11 Hadith
08
اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی مثال اور اس پر اس کا حقیر ہونا
6 Hadith
09
عمارتوں کی مذمت کا بیان
4 Hadith
10
بازاروں اور کچھ دوسرے مقامات کی مذمت کابیان
3 Hadith
11
لعنت کرنے سے ممانعت اور اس سے ترہیب کا بیان
8 Hadith
12
ان افراد کا بیان، جن پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے لعنت کی
10 Hadith
13
اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
10 Hadith
14
اونٹ اور مرغ پر لعنت کرنے کا بیان
5 Hadith
15
مسلمان کو گالی دینے اور اس سے قتال کرنے سے ترہیب کا بیان اور یہ وضاحت کہ اس چیز کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے
10 Hadith
16
زمانے، ہوا اور مرغ کو برابھلا کہنے سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
17
چہرے پرمارنے، چہرے کو برا بھلا کہنے اور اس پر داغنے سے ممانعت کا بیان
9 Hadith
No chapter matched that.