TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

لعنت کرنے سے ممانعت اور اس سے ترہیب کا بیان - لعنت کرنے سے ممانعت اور اس سے ترہیب کا بیان - تعریف اور مذمت کی کتاب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 11 of تعریف اور مذمت کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 11 of 17 · 8 Hadith
۔ (۱۰۰۹۳)۔ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَلَاعَنُوْا بِلَعْنَۃِ اللّٰہِ، وَلَا بِغَضَبِہٖ،وَلَابِالنَّارِ۔)) (مسنداحمد: ۲۰۴۳۷)
۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی لعنت، اس کے غضب اور آگ کے ساتھ ایک دوسرے پر لعنت نہ کیا کرو۔
Takhreej
(۱۰۰۹۳) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۴۹۰۶، والترمذی: ۱۹۷۶ (انظر: ۲۰۱۷۵)
Explanation
فوائد:… لعنت سے مراد اللہ تعالیٰ کی پھٹکار، اس کی مار، اللہ تعالیٰ کی خیر و رحمت سے دوری اور اس کے عتاب و غضب کی بد دعا کرنا ہے۔ کسی معین شخص بالخصوص مؤمن آدمییا کسی مخصوص چیز کے لیے اللہ تعالیٰ کی لعنت، اس کے غضب اور جہنم کی بد دعا کرنا سخت منع ہے، کیونکہ اس بد دعا کا مطلب اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری ہے، جبکہ یہ بھی ممکن ہے کہ کافر مسلمان ہو کر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مستحق بن جائے، بیشتر لوگ ہنسی مذاق یا سنجیدگی میں دوسرے مسلمان بھائیوں کو لعنتی جیسے قبیح القاب سے پکارنے سے اجتناب نہیں کرتے، جبکہ سیدنا ثابت بن ضحاک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((لَعْنُ الْمُؤْمِنِ کَقَتْلِہٖ۔)) (بخاری، مسلم) … مومن پر لعنت کرنا اس کو قتل کرنے کے برابر ہے۔ اگر کوئی آدمی ایسے الفاظ کہنے سے گریز نہیں کرتا تو خود اس کے ملعون ہونے کا خطرہ ہے، جیسا کہ سیدنا ابو دردائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ الْعَبْدَ اِذَا لَعَنَ شَیْئًا صَعِدَتِ اللَّعَنَۃُ اِلَی السَّمَائِ، فَتُغْلَقُ اَبْوَابُ السَّمَائِ دُوْنَھَا، ثُمَّ تَھْبِطُ اِلَی الْاَرْضِ، فَتُغْلَقُ اَبْوَابُھَا دُوْنَھَا۔ ثُمَّ تَأْخُذُ یَمِیْنًا وَ شِمَالًا فَاِذَا لَمْ تَجِدْ مَسَاغًا رَجَعَتْ اِلَی الَّذِیْ لُعِنَ، فَاِنْ کَانَ اَھْلًا لِذَالِکَ، وَاِلَّا رَجَعَتْ اِلٰی قَائِلِھَا۔)) (ابوداود: ۴۹۰۵) … جب بندہ کسی چیز پر لعنت کرتا ہے کہ تو لعنت آسمان کی طرف چڑھتی ہے، لیکن اس کے لیے آسمان کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، پھر وہ زمین کی طرف اترتی ہے تو اس کے دروازے بھی اس کے ورے بند کر دیے جاتے ہیں۔ پھر دائیں اور بائیں سمت اختیار کرتی ہے، پھر جب کوئی گنجائش نہیں پاتی تو اس کی طرف لوٹتی ہے جس پر لعنت کی گئی ہوتی ہے۔ پس اگر وہ چیز اس لعنت کی مستحق ہو (تو اسی پر پڑتی ہے) وگرنہ وہ لعنت کرنے والے کی طرف لوٹ آتی ہے۔ (اور یوں لعنت کرنے والا خود اپنی لعنت کا حقدار بن جاتا ہے)۔ لیکنیہ بات ذہن نشین رہے کہ کسی تعیین کے بغیر کافروں، فاسقوں اور بدکاروں کے حق میں اور ان لوگوں کے حق لعنت کی بددعا کی جا سکتی ہے، جن کا جہنمی ہونا واضح ہو چکا ہے،جیسا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے چوری کرنے والے، والدین پر لعنت کرنے والے، غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنے والے، تصویر بنانے والے، سود کھانے والے، مردوں سے مشابہت کرنے والی عورتوں اور عورتوں سے مشابہت اختیار کرنے والے مردوں کے لیے لعنت کی بددعا کرنا ثابت ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ کسی شخص کا نام لے کر لعنت کرناجائز نہیں، چاہے وہ بظاہر ظالم ہو، جھوٹا ہو، قطع رحمی کرنے والا ہو یا قاتل ہو، کیونکہ ممکن ہے کہ جس شخص پر اس کے ظلم یا جھوٹ یا کسی اور گناہ کی وجہ سے لعنت کی جا رہی ہے، اس نے اپنے گناہ سے توبہ کر لی ہو یاآئندہ کر لے گا اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے ہاں ظالم یا جھوٹا نہیں رہے گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس گناہ کو بغیر توبہ کے معاف کر دے۔ اس لیے کسی بھی گنہگار مسلمان کے لیے، چاہے وہ کتنا ہی بڑا گناہ گار کیوں نہ ہو، اس پر اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد لعنت کرنا جائز نہیں۔ صرف یہ کہنا جائز ہے کہ جھوٹوں پر لعنت ہو، ظالموں پر لعنت ہو، ابو جہل پر لعنت ہو، منافقوں اور کافروں پر لعنت ہو،کیونکہ اس انداز میں صرف وہ لوگ داخل ہوتے ہیں جو مرنے سے پہلے اور مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے ہاں جھوٹے اور ظالم ہی قرار پاتے ہیں۔
10093
Sahih
۔ (۱۰۰۹۴)۔ عَنْ جَرْمُوْزِ نِ الْھُجَیْمِیِّ، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَوْصِنِیْ، قَالَ: ((اُوْصِیْکَ اَنْ لَا تَکُوْنَ لَعَّانًا۔)) (مسند احمد: ۲۰۹۵۴)
۔ سیدنا جرموز ہجیمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی وصیت کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ لعنت کرنے والا نہ بننا۔
Takhreej
(۱۰۰۹۴) تخریج: اسنادہ قوی، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۱۸۱(انظر: ۲۰۶۷۸)
Explanation
فوائد:… لعنت کی بد دعا کی ممنوعہ صورتیں مسلمان کے شایانِ شان نہیں ہیں، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خاص طور پر نصیحت فرمائی ہے۔
10094
Sahih
۔ (۱۰۰۹۵)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ اَسْلَمَ، قَالَ: کَانَ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مَرْوَانَ یُرْسِلُ اِلٰی اُمِّ الدِّرْدَائِ فَتَبِیْتُ عِنْدَ نِسَائِہِ وَیَسْاَلُھَا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَقَامَ لَیْلَۃً فَدَعَا خَادِمَہُ فَاَبْطَاَتْ عَلَیْہِ فَلَعَنَھَا، فَقَالَت: لَا تَلْعَنْ! فَاِنَّ اَبَا الدَّرْدَائِ حَدَّثَنِیْ اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِنَّ اللَّعَّانِیْنَ لَا یَکُوْنُوْنَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ شُھْدَائَ وَلَا شُفَعَائَ۔)) (مسند احمد: ۲۸۰۷۹)
۔ زید بن اسلم کہتے ہیں کہ عبد الملک بن مروان سیدہ ام درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی طرف پیغام بھیجتے، پس وہ ان کی بیویوں کے پاس رات گزارتی اور وہ اس سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بارے میں سوال کرتے، ایک رات کو عبد الملک اٹھا اور اس نے اپنی خادمہ کو بلایا، جب اس نے آنے میں تاخیر کی تو اس نے اس پر لعنت کی، اس پر سیدہ ام درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: تو لعنت نہ کر، کیونکہ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کیاکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک لعنت کرنے والے قیامت والے دن گواہ نہیں ہوں گے اور نہ سفارشی۔
Takhreej
(۱۰۰۹۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۵۹۸ (انظر: ۲۷۵۲۹)
10095
Sahih
۔ (۱۰۰۹۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْمُؤْمِنَ لَیْسَ بِاللَّعَّانِ، وَلَاالطَّعَّانِ، وَالْفَاحِشِ، وَلَا الْبَـذِیِّ۔)) (مسند احمد: ۳۹۴۸)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:نہ مومن طعنہ زنی کرنے والا ہوتا ہے اور نہ لعنت کرنے والا اور نہ فحش بکنے والا ہوتا ہے اور نہ زبان درازی کرنے والا ہوتا ہے۔
Takhreej
(۱۰۰۹۶) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابویعلی: ۵۳۷۹، والطبرانی فی الکبیر : ۱۰۴۸۳، والبیھقی: ۱۰/ ۱۹۳ (انظر: ۳۹۴۸)
Explanation
فوائد:… متانت، سنجیدگی،وقار اور ٹھہراؤ، باایمان لوگوں کا زیور ہے، ان کے چال چلن، اٹھک بیٹھک، قول و کردار اور بول چال غرضیکہ ہر چیز میں اعتدال ہوتا ہے، جبکہ حدیث میں مذکورہ خصائل ذمیمہ ایمان اور اعتدال کے منافی امور ہیں، اس لیے مومن کو ان سے اجتناب کرنا چاہیے۔
10096
Sahih
۔ (۱۰۰۹۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَنْبَغِیْ لِلصِّدِیْقِ اَنْ یَکُوْنَ لَعَّانًا۔)) (مسند احمد: ۸۷۶۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صدیق اور سچے آدمی کو زیب نہیں دیتا کہ وہ لعنت کرنے والا ہو۔
Takhreej
(۱۰۰۹۷) تخریج:أخرجہ مسلم: ۲۵۹۷(انظر: ۸۷۸۲)
10097
Sahih
۔ (۱۰۰۹۸)۔ حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، عَنِ الْعَیْزَارِ بْنِ جَرْوَلِ نِ الْحَضْرَمِیِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْھُمْ یُکَنَّی اَبَا عُمَیْرٍ اَنَّہُ کَانَ صَدِیْقًا لِعَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ، وَاَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَسْعُوْدٍ زَارَہُ فِیْ اَھْلِہِ فَلَمْ یَجِدْہُ، قَالَ: فَاسْتَاْذَنَ عَلٰی اَھْلِہِ فَاسْتَسْقٰی، قَالَ: فَبَعَثَتِ الْجَارِیَۃَ تَجِیْئُہُ بِشَرَابٍ مِنَ الْجِیْرَانِ، فَاَبْطَاَتْ فَلَعَنَتْھَا فَخَرَجَ عَبْدُ اللّٰہِ، فَجَائَ اَبُوْ عُمَیْرٍ فَقَالَ: یَا اَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ! لَیْسَ مِثْلُکَ یُغَارُ عَلَیْہِ، ھَلَّا سَلَّمْتَ عَلٰی اَھْلِ اَخِیْکَ وَجَلَسْتَ وَاَصَبْتَ مِنَ الشَّرَابِ؟ قَالَ: قَدْ فَعَلَتُ، فَاَرْسَلَتِ الْخَادِمَ فَاَبْطَاَتْ اِمَّا لَمْ یَکُنْ عِنْدَھُمْ وَاِمَّا رَغِبُوْا فِیْمَا عِنْدَھُمْ فَاَبْطَاَتِ الْخَادِمُ فَلَعَنَتْھَا، وَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِنَّ اللَّعْنَۃَ اِلٰی مَنْ وُجِّھَتْ فَاِنْ اَصَابَتْ عَلَیْہِ سَبِیْلًا اَوْ وَجَدَتْ فِیْہِ مَسْلِکًا وَ اِلَّا قَالَتْ : یَا رَبِّ! وُجِّھْتُ اِلٰی فُلَانٍ، فَلَمْ اَجِدْ عَلَیْہِ سَبِیْلًا، وَلَمْ اَجِدْ فِیْہِ مَسْلَکًا فَیُقَال‘ لَھَا: ارْجِعِیْ مِنْ حَیْثُ جِئْتِ)) فَخَشِیْتُ اَنْ تَکُوْنَ الْخَادِمُ مَعْذُوْرَۃً فَتَرْجِعَ اللَّعْنَۃُ فَاَکُوْنَ سَبَبَھَا۔)) مسند احمد: ۳۸۷۶)
۔ ابو عمیر سے مروی ہے کہ وہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دوست تھے، ایک دن سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کو ملنے کے لیے اس کے گھر آئے، لیکن وہ گھر پر موجود تھے، پس انھوں نے اس کے گھر والوں سے اجازت طلب کی اور مشروب طلب کیا، اس کی بیوی نے لونڈی کو بھیجا کہ وہ ہمسائیوںسے کوئی مشروب لائے، جب اس نے تاخیر کی اور اس نے اس پر لعنت کی،یہ سن کر سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ چلے گئے، جب ابو عمیر آئے اور انھوں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! آپ جیسی شخصیتوں پر غیرت نہیں کی جا سکتی، آپ نے ایسے کیوں نہیں کیا کہ اپنے بھائی کے گھر والوں پر سلام کہتے اور ان کے ہاں بیٹھتے اور پانی وغیرہ پیتے؟ انھوں نے کہا: میں نے اسی طرح ہی کیا تھا، لیکن اصل بات یہ ہے کہ تیری بیوی نے اپنی خادمہ کو بھیجا، اس نے تاخیر کی، ممکن ہے کہ ہمسائیوں کے پاس وہ چیز نہ ہو یا وہ اپنی رغبت کی وجہ سے دینا نہ چاہتے ہوں، اس لیے خادمہ سے تاخیر ہو گئی، جس کی وجہ سے تیری بیوی نے اس پر لعنت کی اور میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک جب کسی چیز پر لعنت کی جاتی ہے تو اگر اس کو اس چیز پر کوئی گنجائش مل جائے تو ٹھیک، وگرنہ وہ کہتی ہیں: اے میرے ربّ! مجھے فلاں کی طرف بھیجا گیا ہے، لیکن اس میں تو کوئی گنجائش نظر نہیں آ رہی ہے، پس اس کو کہا جاتا ہے: تو جہاں سے آئی ہے، اُدھر ہی لوٹ جا۔ تو میں ڈر گیا کہ خادمہ معذور ہو گی تو لعنت واپس آئے گیاور میں اس کا سبب بن جائوں گا۔
Takhreej
(۱۰۰۹۸) تخریج: اسنادہ محتمل للتحسین (انظر: ۳۸۷۶)
10098
Sahih
۔ (۱۰۰۹۹)۔ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاکِ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَعْنُ الْمُؤْمِنِ کَـقَتْلِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۹۸)
۔ سیدنا ثابت بن ضحاک انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مؤمن پر لعنت کرنا اس کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔
Takhreej
(۱۰۰۹۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۱۰۵، ۶۶۵۲، ومسلم: ۱۱۰ (انظر: ۱۶۳۸۵)
10099
Sahih
۔ (۱۰۱۰۰)۔ وعَنْہُ اَیْضًا، رَفَعَ الْحَدِیْثَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَتَلَ نَفْسَہَ بِشَیْئٍ عُذِّبَ بِہٖ،وَمَنْشَھِدَعَلٰی مُسْلِمٍ (اَوْ قَالَ: مُؤْمِنٍ) بِکُفْرٍ فَھُوَ کَقَتْلِہِ، وَمَنْ لَعَنَہُ فَھُوَ کَقَتْلِہِ، وَمَنْ حَلَفَ عَلَی مِلَّۃٍ غَیْرِ الْاِسْلَامِ کَاذِبًا فَھُوَ کَمَا حَلَفَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۵۰۵)
۔ سیدنا ثابت بن ضحاک انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے جس چیز کے ساتھ خود کشی کی، اس کو اسی چیز کے ساتھ عذاب دیا جائے گا، جس نے کسی مؤمن اور مسلمان پر کفر کی گواہی دی تو یہ اس کو قتل کرنے کی طرح ہو گا، جس نے اس پر لعنت کی تو وہ بھی اس کو قتل کرنے کی طرح ہو گا اور جس نے اسلام کے علاوہ کسی اور دین پر جھوٹی قسم اٹھائی تو وہ اسی طرح ہی ہو جائے گا۔
Takhreej
(۱۰۱۰۰) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ آدمییوں کہے: اگر میں نے فلاں کام کیا ہو یا کروں تو میں یہودییا عیسائی ہو جاؤں، جبکہ وہ جھوٹا بھی ہو، اسلام کے علاوہ کسی مذہب کا ذکر ہو سکتا ہے۔ یہ قسم کی ممنوعہ صورت ہے اور اس حدیث میں اس کی بڑی وعید بیان کی گئی ہے۔ حافظ ابن حجر نے کہا: بعض شافعیہ نے حدیث کے ظاہر پر عمل کرتے ہوئے ایسے شخص کوکافرقرار دیا، جبکہ وہ جھوٹا ہو، لیکن تحقیقیہ ہے کہ اس معاملے میں تفصیل بیان کی جائے، اگر اس کا مقصود اس مذہب کی تعظیم ہو تو وہ کافر ہو جائے گا، اور اگر اس کا مقصود بات کو معلق کرنا ہو تو غور کیا جائے گا کہ آیا اس نے اس مذہب کے ساتھ متصف ہونے کا ارادہ کیا ہے، اگر کیا ہے تو کافر ہو جائے گا، کیونکہ کفر کا ارادہ کفر ہے، لیکن اگر اس کا ارادہ اس مذہب سے دور رہنے کا ہو تو وہ کافر نہیں ہو گا۔ بعض روایات میں کَاذِبًا (جھوٹا) کی قید ہے اور بعض میں نہیں ہے، آگے چل کر حافظ صاحب نے کہا: کَاذِبًا مُتَعَمِّدًا کے الفاظ کی زیادتی حسن درجے کی ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اگر ایسا آدمی اپنے ایمان پر مطمئن ہو تو وہ ایسی چیز کی تعظیم کرنے میں جھوٹا قرار پائے گا، جو تعظیم والی نہیں ہے، ایسی صورت میں وہ کافر نہیں ہو گا، لیکن اگر اس کا نظریہیہ ہے کہ وہ اپنی قسم میں جس مذہب کا ذکر کر رہا ہے، وہ حق ہے، تو وہ کافر ہو جائے گا اور اگر اس کا اس قسم سے مقصود اس مذہب کی تعظیم ہو تو احتمال پیدا ہو جائے گا، تو پھر تفصیل کی ضرورت ہو گی، اگر اس کا مقصد وہ تعظیم ہے، جو منسوخ ہو جانے سے پہلے اس مذہب کی تھی تو یہ خطرناک ہے اور اس کے کافر ہونے کا احتمال ہے۔ (فتح الباری: ۱۱/ ۵۳۸)
10100
Sahih

Chapters

17
01
تعریف کی جائز صورتوں کا بیان
7 Hadith
02
تعریف کی ناجائز صورتیں
8 Hadith
03
عورتوں کی مذمت کا بیان
7 Hadith
04
عبد اللہ بن اعور اعشی اور ان کی بیوی معاذہ کا قصہ
2 Hadith
05
عورتوں کا امور کی ولایت کے لیے نا اہل ہونا
2 Hadith
06
مال کی مذمت کا بیان
16 Hadith
07
دنیا کی مذمت کا بیان
11 Hadith
08
اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی مثال اور اس پر اس کا حقیر ہونا
6 Hadith
09
عمارتوں کی مذمت کا بیان
4 Hadith
10
بازاروں اور کچھ دوسرے مقامات کی مذمت کابیان
3 Hadith
11
لعنت کرنے سے ممانعت اور اس سے ترہیب کا بیان
8 Hadith
12
ان افراد کا بیان، جن پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے لعنت کی
10 Hadith
13
اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
10 Hadith
14
اونٹ اور مرغ پر لعنت کرنے کا بیان
5 Hadith
15
مسلمان کو گالی دینے اور اس سے قتال کرنے سے ترہیب کا بیان اور یہ وضاحت کہ اس چیز کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے
10 Hadith
16
زمانے، ہوا اور مرغ کو برابھلا کہنے سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
17
چہرے پرمارنے، چہرے کو برا بھلا کہنے اور اس پر داغنے سے ممانعت کا بیان
9 Hadith
No chapter matched that.