TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

چہرے پرمارنے، چہرے کو برا بھلا کہنے اور اس پر داغنے سے ممانعت کا بیان - چہرے پرمارنے، چہرے کو برا بھلا کہنے اور اس پر داغنے سے ممانعت کا بیان - تعریف اور مذمت کی کتاب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 17 of تعریف اور مذمت کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 17 of 17 · 9 Hadith
۔ (۱۰۱۴۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا ضَرَبَ اَحَدُکُمْ فَلْیَجْتَنِبِ الْوَجْہَ، وَلَا تَقُلْ قَبَّــحَ اللّٰہُ وَجْھَکَ وَوَجْہَ مَنْ اَشْبَہَ وَجْھَکَ، فَاِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی خَلَقَ آدَمَ عَلٰی صُوْرَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۹۶۰۲)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی کسی کو سزا دے تو چہرے پر مارنے سے گریز کرے اور نہ یہ کہے کہ اللہ تیرے چہرے کو اور اس آدمی کے چہرے کو بھلائی سے دور کرے، جو تیرے چہرے کے مشابہ ہو، پس بیشک اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اس کی صورت پر پیدا کیا۔
Takhreej
(۱۰۱۴۰) تخریج: اسنادہ قوی، أخرجہ البیھقی فی الاسماء والصفات : ص ۲۹۱، والحمیدی: ۱۱۲۰ (انظر: ۹۶۰۴)
Explanation
فوائد:… قَبَّح کے معانی بدصورت بنانے، برا بنانے، بھلائی سے دور کرنے،مذمت کرنے اور برا ٹھہرانے کے ہیں، سب کا مفہوم ایک ہی بنتا ہے۔ یہ حدیث احترامِ انسانیت کا منہ بولتا ثبوت ہے، ہر سلیم الفطرت شخص تسلیم کرتا ہے کہ تربیتی مراحل میں بعض اوقات سزاؤں کا مرحلہ بھی ناگزیر ہو جاتا ہے، شریعت ِ اسلامیہ نے نہ صرف اس ضابطے کو برقرار رکھا، بلکہ مقامِ انسانیت کو مجروح ہونے سے بچایا۔ حافظ ابن حجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا: امام نووی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کہتے ہیں: علمائے کرام کا خیال ہے کہ چہرہ نرم و نازک اور پیاری چیز ہے، تمام محاسن کا مجموعہ ہے، یہ حواس خمسہ (دیکھنا، سونگنا، چکھنا، سننا، چھونا) کے اکثر حصے پر بھی مشتمل ہے، یہ اندیشہ ہے کہ کسی ضرب کی وجہ سے چہرہ بھدا، بھونڈا اور بدشکل دکھائی دے اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ مارنے سے نہ صرف بھونڈا پن اور عیب داری نظر آئے گی، بلکہ وہ انتہائی واضح لگے گی، ان وجوہات کی بنا پر شریعت ِ اسلامیہ نے چہرے پر مارنے سے منع کر دیا ہے۔ (فتح الباری: ۵/ ۲۲۹) حافظ ابن حجر دوسرے مقام پر اس حدیث ِ مبارکہ کے فوائد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ان کی صورت پر پیدا کیا، اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو جس صورت پر پیدا کیا گیا، جنت میں اور جنت سے اترنے کے بعد، بلکہ وفات تک وہی صورت قائم رہییا اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو ابتدائے تخلیق سے ایک وجود عطا کر دیا گیا، جبکہ ان کی اولاد اپنی تخلیق کے دوران کئی مراحل سے گزرتی ہے۔ اس حدیث ِ مبارکہ میں آخرت کے منکر اور زمانے کی بقا کے قائلین دہریوں کا ردّ ہے، جن کا خیال ہے کہ انسان نطفے سے پیدا ہوتا ہے اور نطفہ انسان سے نکلتا ہے اور اس کی کوئی ابتدا نہیں، بلکہ ازل سے انسانی تخلیق کا یہ نظام چل رہا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس حدیث میں وضاحت کی کہ اللہ تعالیٰ نے خود انسانِ اوّل آدم علیہ السلام کو ان کی صورت پر پیدا کیا۔ نیز اس حدیث میں ماہرینِ علمِ طبیعات کا بھی ردّ ہے، جن کا خیال ہے کہ انسان، ایک فطرت اور اس کی تاثیر کا فعل ہے۔ یہ حدیث قدریوں کا بھی ردّ کرتی ہے جو تقدیر خداوندی کے منکر ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ انسان اپنے افعال کی تخلیق خود کرتا ہے،نہ کہ اللہ تعالی۔ (فتح الباری: ۱۱/ ۴) شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا: اس حدیث میں عَلٰی صُوْرَتِہِ میں ہ ضمیر کا مرجع لفظِ آدم ہے، نہ کہ لفظِ اللہ، کیونکہیہی قریب ہے اور صحیح بخاری کی سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ والی روایت میں اس کییوں وضاحت کی گئی ہے: ((خَلَقَ اللّٰہُ آدَمَ عَلٰی صُوْرَتِہِ طَوْلُہٗسِتُّوْنَ ذِرَاعًا۔)) (صحیحہ: ۴۴۹)… اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اس کی صورت پر پیدا کیا اور ان کا قد ساٹھ ہاتھ تھا۔ رہا مسئلہ اس حدیث کا: ((خَلَقَ اللّٰہُ آدَمَ عَلٰی صُوْرَۃِ الرَّحْمٰنِ۔)) … اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو رحمن کی صورت پر پیدا کیا۔ تویہ منکر ہے، میں نے اس کی تفصیل (سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ: ۱۱۷۵، ۱۱۷۶) میں بیان کی ہے اور شیخ تویجری ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ جیسے ہم عصروں کی تصحیح کا ردّ بھی کیا ہے۔ (صحیحہ: ۸۶۲) دوسرے مقام پر رقمطراز ہیں: یہ روایت ان لوگوں کے قول کی تائید کرتی ہے، جو لفظِ آدم کو ہ ضمیر کا مرجع بناتے ہیں، اس حدیث کا مفہوم یہ ہے: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو جس ہیئت پر پیدا کیا تھا، اسی پر ان کو وجود بخشا، یعنی ان کو اپنی اولاد کی طرح نہ اپنی تخلیق کے دوران مختلف احوال سے گزرنا پڑا اور نہ رحموں میں پہلے نفطہ، پھر علقہ، پھر مضغہ، پھر عظام اور لحم اور خلق تامّ جیسے مراحل طے کرنا پڑے، بلکہ جونہی اللہ تعالیٰ نے ان میں روح پھونکی تو ان کو کامل و مکمل، معتدل و مناسب اور ٹھیک و درست بنا دیا۔ امام ابن حبان ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے اس حدیث پر مفصّل اور مفید گفتگو کی ہے، آپ اس کا مراجعہ کر لیں۔ (صحیحہ: ۴۴۹) خلاصۂ کلام یہ ہے کہ کسی انسان کو سزا دیتے وقت اس کے چہرے کا احترام کیا جائے، لیکن اس کے باوجود بعض لوگ اپنے ملازموں کو اور بعض آباء و اساتذہ اپنے بچوں اور شاگردوں کو سزا دیتے وقت چہرے پر تھپڑ مارتے ہیں۔ ایسے کرنے سے اس حدیث کی مخالفت ہو گی۔
10140
Sahih
۔ (۱۰۱۴۱)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: نَھَانَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْوَسْمِ فِی الْوَجْہِ وَالضَّرْبِ فِی الْوَجْہِ۔ (مسند احمد: ۱۴۴۷۷)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں چہرے پر داغنے سے اور چہرے پر مارنے سے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۱۰۱۴۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۱۱۶ (انظر: ۱۴۴۲۴)
10141
Sahih
۔ (۱۰۱۴۲)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: مَرَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِحِمَارٍ قَدْ وُسِمَ فِیْ وَجْھِہِ یُدَخِّنُ مَنْخَرَاہُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ فَعَلَ ھذا؟ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: لَعَنَ اللّٰہُ الَّذِیْ وَسَمَہُ) لَا یَسِمَنَّ اَحَدٌ الْوَجْہَ، وَلَا یَضْرِبَنَّ اَحَدٌ الْوَجْہَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۱۳)
۔ سیدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے ایک ایسا گدھا گزارا گیا، جس کے چہرے پر داغا گیا تھا اور اس کے نتھنوں سے دھواں نکل رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کس نے یہ کاروائی کی ہے، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے، جس نے اس کو داغا ہے، کوئیآدمی نہ چہرے پر داغا کرے اور چہرے پر مارا کرے۔
Takhreej
(۱۰۱۴۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۱۱۷(انظر: ۱۴۴۵۹)
Explanation
فوائد:… چہرے کا حکم صرف انسانوں کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ جانوروں کے لیے بھییہی حکم ہے۔
10142
Sahih
۔ (۱۰۱۴۲)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: مَرَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِحِمَارٍ قَدْ وُسِمَ فِیْ وَجْھِہِ یُدَخِّنُ مَنْخَرَاہُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ فَعَلَ ھذا؟ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: لَعَنَ اللّٰہُ الَّذِیْ وَسَمَہُ) لَا یَسِمَنَّ اَحَدٌ الْوَجْہَ، وَلَا یَضْرِبَنَّ اَحَدٌ الْوَجْہَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۱۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چہروں پر مارنے سے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۱۰۱۴۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۵۴۱ (انظر: ۴۷۷۸)
10143
Sahih
۔ (۱۰۱۴۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَــرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ الْعَلَمَ فِیْ الصُّوَرِ وقَالَ: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ضَرْبِ الْوَجْہِ۔ (مسند احمد: ۵۹۹۱)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ چہروں پر نشان لگانے کو ناپسند کرتے تھے اور کہتے تھے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چہرے پر مارنے سے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۱۰۱۴۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
10144
Sahih
۔ (۱۰۱۴۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا قَاتَلَ اَحَدُکُمْ اَخَاہُ فَلْیَجْتَنِبِ الْوَجْہَ۔)) (مسند احمد: ۸۴۲۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کسی آدمی کی اپنے بھائی سے لڑائی ہو جائے تو وہ چہرے پر مارنے سے گریز کرے۔
Takhreej
(۱۰۱۴۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۱۲(انظر: ۸۴۴۱)
10145
Sahih
۔ (۱۰۱۴۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۱۱۹۰۸)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اسی طرح کی حدیث بیان کی۔
Takhreej
(۱۰۱۴۶) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ عبد الرزاق: ۱۷۹۵۱، والبزار: ۲۰۶۳، وابویعلی: ۱۱۷۹ (انظر: ۱۱۸۸۶)
Explanation
فوائد:… لوگ لڑائی جھگڑے میں جذبات میں آکر ان فرمودات ِ نبویہ کو بھول جاتے ہیں اور مد مقابل کو جیسے ضرب لگانا آسان ہو، لگاتے ہیں، اگرچہ وہ چہرے پر تھپڑ اور مُکّا مارنے کی صورت میں ہو۔ ایسا کرنا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حکم عدولی ہے۔
10146
Sahih
۔ (۱۰۱۴۷)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہ، قَالَ: کَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُھَاجِرِیْنَ رَجُلًا مِنَ الْاَنْصَارِ، فََقَالَ الْاَنْصَارِیُّ: یَا لَلْاَنْصَارِ! وَقَالَ الْمُھَاجِرِیُّ: یَا لَلْمَھَاجِرِیْنَ! فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلَا مَا بَالُ دَعْوَیالْجَاھِلیَّۃِ دَعُوْا الْکَسْعَۃَ فَاِنَّھَا مُنْـتِـنَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۵۱۹۶)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مہاجر آدمی نے ایک انصاری آدمی کی دُبُر پر ہاتھ یا پاؤں مارا (اور اس وجہ سے لڑائی ہو گئی)، انصاری نے آواز دی: او انصاریو! مہاجر نے آواز لگائی: او مہاجرو!، یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! جاہلیت والی پکار پکارنے کی کیا وجہ ہے، اس طرح کی شرارتیں چھوڑ دو، یہ قابل مذمت ہیں۔
Takhreej
(۱۰۱۴۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۵۱۹، ومسلم: ۲۵۸۴(انظر: ۱۵۱۲۹)
Explanation
فوائد:… مہاجرین اور انصار اچھے لقب ہیں،یہ القاب شریعت ِ اسلامیہ کے منتخب ہیں، لیکن جب ان کو غلط جگہ پر استعمال کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو ناپسند کیا۔
10147
Sahih
۔ (۱۰۱۴۸)۔ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیْکَرِبَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : یَنْھٰی عَنْ لَطْمِ خُدُوْدِ الدَّوَابِ، وَقَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَدْ جَعَلَ لَکُمْ عَصِیًّا وَسِیَاطًا۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۱۲)
۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جانوروں کے رخساروں پر مارنے سے منع کیا اور فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے استعمال کے لیے لاٹھیاں اور کوڑے بنائے ہیں۔
Takhreej
(۱۰۱۴۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لتدلیس بقیۃ بن الولید، ولابھام الرجل الذی روی عنہ ارطاۃ بن المنذر (انظر: ۱۷۱۸۰)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ تم سزا دیتے وقت لاٹھیوں اور کوڑوں پر اکتفا کیوں نہیںکرتے کہ ہاتھوں سے چہروں پر مارنا شروع کر دیتے ہو۔
10148
Zaeef

Chapters

17
01
تعریف کی جائز صورتوں کا بیان
7 Hadith
02
تعریف کی ناجائز صورتیں
8 Hadith
03
عورتوں کی مذمت کا بیان
7 Hadith
04
عبد اللہ بن اعور اعشی اور ان کی بیوی معاذہ کا قصہ
2 Hadith
05
عورتوں کا امور کی ولایت کے لیے نا اہل ہونا
2 Hadith
06
مال کی مذمت کا بیان
16 Hadith
07
دنیا کی مذمت کا بیان
11 Hadith
08
اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی مثال اور اس پر اس کا حقیر ہونا
6 Hadith
09
عمارتوں کی مذمت کا بیان
4 Hadith
10
بازاروں اور کچھ دوسرے مقامات کی مذمت کابیان
3 Hadith
11
لعنت کرنے سے ممانعت اور اس سے ترہیب کا بیان
8 Hadith
12
ان افراد کا بیان، جن پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے لعنت کی
10 Hadith
13
اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
10 Hadith
14
اونٹ اور مرغ پر لعنت کرنے کا بیان
5 Hadith
15
مسلمان کو گالی دینے اور اس سے قتال کرنے سے ترہیب کا بیان اور یہ وضاحت کہ اس چیز کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے
10 Hadith
16
زمانے، ہوا اور مرغ کو برابھلا کہنے سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
17
چہرے پرمارنے، چہرے کو برا بھلا کہنے اور اس پر داغنے سے ممانعت کا بیان
9 Hadith
No chapter matched that.