TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بازاروں اور کچھ دوسرے مقامات کی مذمت کابیان - بازاروں اور کچھ دوسرے مقامات کی مذمت کابیان - تعریف اور مذمت کی کتاب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 10 of تعریف اور مذمت کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 10 of 17 · 3 Hadith
۔ (۱۰۰۹۰)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ رَجُلًا اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ؟ قَالَ: فَقَالَ: ((لَا اَدْرِیْ۔)) فلَمَّا اَتَاہُ جِبْرِیْلُ علیہ السلام قَالَ: ((یَاجِبْرِیْلُ! اَیُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ؟ قَالَ: لَا اَدْرِیْ حَتّٰی اَسْاَلَ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ، فَانْطَلَقَ جِبْرِیْلُ علیہ السلام ثُمَّ مَکَثَ مَاشَائَ اللّٰہُ اَنْ یَمْکُثَ، ثُمَّ جَائَ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! اِنَّکَ سَاَلْتَنِیْ اُیُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ؟ فَقُلْتُ: لَا اَدْرِیْ اِنِّیْ سَاَلْتُ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ اَیُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ؟ فَقَالَ: اَسْوَاقُھَا۔)) (مسند احمد: ۱۶۸۶۵)
۔ سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے مقامات سب سے برے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نہیں جانتا۔ پھر سیدنا جبریل علیہ السلام ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: اے جبریل! کون سے مقامات سب سے برے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی میں نہیں جانتا، لیکن میں اپنے ربّ سے سوال کروں گا، پھر وہ چلے گئے اور جتنا اللہ تعالیٰ کو منظور تھا، ٹھہرے رہے، پھر آئے اور کہا: اے محمد! آپ نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ کون سے مقامات برے ہیں، میں نے جواب دیا تھا کہ میں تو نہیں جانتا، پھر میں نے اپنے ربّ سے سوال کیا کہ کون سے مقامات سے سب سے برے ہیں، اللہ تعالیٰ نے کہا: بازار۔
Takhreej
(۱۰۰۹۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عبد اللہ بن محمد بن عقیل، أخرجہ البزار: ۱۲۵۲، وابویعلی: ۷۴۰۳، والطبرانی فی الکبیر : ۱۵۴۸ (انظر: ۱۶۷۴۴)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:((أَحَبُّ الْبِلاَدِ اِلَی اللّٰہِ مَسَاجِدُھَا، وَاَبْغَضُ الْبِلاَدِ اِلَی اللّٰہِ اَسْوَاقُھَا۔)) … اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بہترین مقام مساجد ہیں اور سب سے ناپسندیدہ مقام بازار ہیں۔ (صحیح مسلم: ۶۷۱) بازار، اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے ناپسندیدہ مقام ہے، بازار پر حکم لگاتے وقت کسی ایک صادق اور امین تاجر کو نہیں دیکھا، مگر وہاں کے پورے ماحول کو سامنے رکھا گیا۔
10090
Zaeef
۔ (۱۰۰۹۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا مَرَّ بِالْحِجْرِ قَالَ: ((لَا تَدْخُلُوْا مَسَاکِنَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اِلَّا اَنْ تَکُوْنُوْا بَاکِیْنَ اَنْ یُصِیْبَکُمْ مَا اَصَابَھُمْ۔)) وَتَقَنَّعَ بِرِدَائِہِ وَھُوَ عَلَی الرَّحْلِ۔ (مسند احمد: ۵۷۰۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب حجر کے پاس سے گزرنے لگے تو فرمایا: ظلم کرنے والے لوگوں کی رہائش گاہوں میں نہ گھسو، مگر اس حال میں کہ تم رو رہے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ جو عذاب ان کو ملا تھا، تم بھی اس میں مبتلا ہو جاؤ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی چادر اوپر اوڑھ لی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سواری پر تھے۔
Takhreej
(۱۰۰۹۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۳۸۱، ومسلم: ۲۹۸۰ (انظر: ۵۷۰۵)
Explanation
فوائد:… حجر، ثمود کی وادی ہے، جو مدینہ اور شام کے درمیان واقع ہے، صالح علیہ السلام کو ان کی طرف مبعوث کیا گیا تھا، اس وادی میں ان پر عذاب آیا تھا، ایسے مقام سے گزرتے وقت خوف و خشیت کا عالَم طاری ہونا چاہیے، وگرنہ جو آدمی وہاں سے گزرتے وقت ان کی حالت سے عبرت حاصل کرتے ہوئے نہ رویا، تو اس نے ان کے عمل سے مشابہت اختیار کی اور اس کادل سخت ہو گیا، پس ممکن ہے کہ اس کو بھی اس قسم کے عذاب سے دوچار کر دیا جائے۔
10091
Sahih
۔ (۱۰۰۹۲)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ بَدَا جَفَا۔)) (مسند احمد: ۱۸۸۲۲)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے جنگل میں اقامت اختیار کی، وہ سخت دل ہو گیا۔
Takhreej
(۱۰۰۹۲) تخریج: اسنادہ ضعیف، لکن المتن صحیح من حدیث ابی ھریرۃ، قالہ الالبانی فی الصحیحۃ (انظر: ۱۸۶۱۹)
Explanation
فوائد:… بدّو، دیہاتی اور جنگلی لوگوں میں اکھڑ پن اور اجڈ پن جیسی صفات پائی جاتی ہیں، حق قبول کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے، جبکہ شہری لوگوں میں شائشتگی اور نرمی زیادہ ہوتی ہیں اور ان کے دل و دماغ کی زمین زرخیز ہوتی ہے۔ جو آدمی شکار کی تلاش میں نکل پڑتا ہے، اس کا دل کبھی بھی معمور نہیں ہوتا، حرص، لالچ اور شغل میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اور وہ دور دور تک نکل جاتا ہے، نماز اور دوسرے حقوق کی ادائیگی سے غافل ہو جاتا ہے۔
10092
Zaeef

Chapters

17
01
تعریف کی جائز صورتوں کا بیان
7 Hadith
02
تعریف کی ناجائز صورتیں
8 Hadith
03
عورتوں کی مذمت کا بیان
7 Hadith
04
عبد اللہ بن اعور اعشی اور ان کی بیوی معاذہ کا قصہ
2 Hadith
05
عورتوں کا امور کی ولایت کے لیے نا اہل ہونا
2 Hadith
06
مال کی مذمت کا بیان
16 Hadith
07
دنیا کی مذمت کا بیان
11 Hadith
08
اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی مثال اور اس پر اس کا حقیر ہونا
6 Hadith
09
عمارتوں کی مذمت کا بیان
4 Hadith
10
بازاروں اور کچھ دوسرے مقامات کی مذمت کابیان
3 Hadith
11
لعنت کرنے سے ممانعت اور اس سے ترہیب کا بیان
8 Hadith
12
ان افراد کا بیان، جن پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے لعنت کی
10 Hadith
13
اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
10 Hadith
14
اونٹ اور مرغ پر لعنت کرنے کا بیان
5 Hadith
15
مسلمان کو گالی دینے اور اس سے قتال کرنے سے ترہیب کا بیان اور یہ وضاحت کہ اس چیز کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے
10 Hadith
16
زمانے، ہوا اور مرغ کو برابھلا کہنے سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
17
چہرے پرمارنے، چہرے کو برا بھلا کہنے اور اس پر داغنے سے ممانعت کا بیان
9 Hadith
No chapter matched that.