TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

عبد اللہ بن اعور اعشی اور ان کی بیوی معاذہ کا قصہ - عبد اللہ بن اعور اعشی اور ان کی بیوی معاذہ کا قصہ - تعریف اور مذمت کی کتاب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of تعریف اور مذمت کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 17 · 2 Hadith
۔ (۱۰۰۴۹)۔ عَنْ نَضْلَۃَ بْنِ طَرِیْفٍ، اَنَّ رَجُلًا مِنْھُمْ یُقَالُ لَہُ الْاَعْشٰی، وَاِسْمُہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْاَعْوَرِ، کَانَتْ عِنْدَہُ اِمْرَاَۃٌیُقَالُ لَھَا: مُعَاذَۃُ، خَرَجَ فِیْ رَجَبٍ یَمِیْرُ اَھْلَہُ مِنْ ھَجَرَ، فَھَرَبَتِ امْرَاَتُہُ بَعْدَہُ نَاشِزًا عَلَیْہِ، فَعَاذَتْ بِرَجُلٍ مِنْھُمْ یُقَالُ لَہُ: مُطَرِّفُ بْنُ بُھْصُلِ بْنِ کَعْبِ بْنِ قُمَیْشَعِ بْنِ دُلَفِ بْنِ اَھْضَمَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحِرْمَازِ، فَجَعَلَھَا خَلْفَ ظَھْرِہِ، فلَمَّا قَدِمَ وَلَمْ یَجِدْھَا فِیْ بَیْتِہِ وَاُخْبِرَ اَنَّھَا نَشَزَتْ عَلَیْہِ، وَاَنَّھَا عَاذَتْ بِمُطَرِّفِ بْنِ بُھْصُلٍ، فَاَتَاہُ فَقَالَ: یَا ابْنَ الْعَمِّ، اَعِنْدَکَ اِمْرَاَتِیْ مُعَاذَۃُ؟ فَادْفَعْھَا اِلَیَّ، فَقَالَ: لَیْسَتْ عِنْدِیْ، وَلَوْ کَانَتْ عِنْدِیْ لَمْ اَدْفَعْھَا اِلَیْکَ، قَالَ: وَکَانَ مُطَرِّفٌ اَعَزَّ مِنْہُ، فَخَرَجَ حَتّٰی اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَاذَ بِہٖوَاَنْشَاَیَقُوْلُ :
۔ سیدنا نضلہ بن طریف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم میں ایک آدمی تھا، عام طور پر اس کو اعشی کہا جاتا تھا، اس کا نام عبد اللہ بن اعور تھا، اس کی معاذہ نامی ایک بیوی تھی، وہ اپنے اہل و عیال کے لیے کھانے لینے کی خاطر رجب میں ہجر گیا، پیچھے اس کی بیوی بغاوت کر کے کہیں بھاگ گئی اور مطرف بن بُہصُل نامی آدمی کے ہاں جا کر پناہ لی، اس نے اس کو اپنی کمر کے پیچھے بٹھا لیا، جب اعشی واپس آیا، اس نے اپنی بیوی کو اپنے گھر میں نہ پایا اور اس کو بتلایا گیا کہ وہ بغاوت کر گئی ہے اور مطرف بن بُہصُل کی پناہ میں ہے، چنانچہ وہ مطرف کے پاس گیا اور اس سے کہا: اے چچا زاد! کیا تیرے پاس میری بیوی معاذہ ہے؟ اگر ہے تو مجھے دے دے، اس نے کہا: وہ میرے پاس نہیں ہے اور اگر وہ میری پاس ہوتی تو میں نے تجھ کو نہیں دینی تھی۔ دراصل مطرف، اعشی سے زیادہ عزت و قوت والا تھا، پس اعشی نکل پڑا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پناہ طلب کی اور پھر یہ اشعار پڑھے: اے لوگوں کے سردار! اور عربوںپر غالب آ جانے والے! میں آپ سے خائن عورتوں میں سے ایک خائن عورت کی شکایت کرتا ہوں گہری سیاہی والی مادہ بھیڑیئے کی طرح، جو بِل کے سائے میں ہو، میں اس کے لیے غلہ طلب کرنے کے لیے رجب میں نکلا اس نے جھگڑنے اور بھاگنے کی صورت میں اپنے حق میں میرے ظن کی مخالفت کی، اس نے وعدہ خلافی کی ہے اور اس نے اپنی دم کو بند کر لیا ہے اس نے مجھے کثیر مقدار کے گھنے درختوں میں پھینک دیا ہے، یہ اس شخص کے حق میں بدترین غلبہ پا لینے والی ہیں، جس پر غلبہ پا لیں یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ خواتین اس شخص کے حق میں بدترین غلبہ پانے والی ہیں، جس پر یہ غلبہ پا لیں۔ پھر اعشی نے اپنی بیوی اور اس کاروائی کا شکوہ کیا اور بتلایا کہ اب وہ ہمارے قبیلے کے مطرف بن بہصل نامی آدمی کے پاس ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مطرف کی طرف یہ خط لکھا: تو اس کی بیوی تلاش کر کے اس کو واپس کر دے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خط اُس آدمی کے پاس پہنچا اور اس پر پڑھا گیا تو اس نے اسی خاتون سے کہا: اے معاذہ! یہ تیرے بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خط موصول ہوا ہے، اس کی وجہ سے میں تجھے اس کے سپرد کرنے والا ہوں۔ اس خاتون نے کہا: تو پھر تو میرے حق میں اس سے پختہ عہد اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امان لے لے، تاکہ وہ مجھے میرے کیے پر سزا نہ دے، پس مطرف نے اعشی سے یہ عہد و پیمان لیا اور پھر اس کی بیوی کو اس کے سپرد کر دیا، اعشی نے اپنی بیوی وصول کی اور یہ شعر پڑھنے لگا: تیری عمر کی قسم! معاذہ سے میری محبت ایسی نہیں ہے کہ جس کو چغلخور اورزمانے کا گزرنا کم کر دے نہ وہ برائی اس کو کم کر سکے گی، جو معاذہ نے کی ہے، کیونکہ گمراہ لوگوں نے اس کو پھسلا دیا تھا، جب وہ میرے جانے کے بعد اس سے سرگوشیاں کرتے تھے۔
Takhreej
(۱۰۰۴۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ اکثر رواتہ (انظر: ۶۸۸۶)
10049
Zaeef
۔ (۱۰۰۵۰)۔ (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) عَنْ صَدَقَۃَ بْنِ طَیْسَلَۃَ، حَدَّثَنِیْ مَعْنُ بْنُ ثَعْلَبَۃَ الْمَازِنِیُّ وَالْحَیُّ بَعْدُ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ الْاَعْشٰی الْمَازِنِیُّ قَالَ: اَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَنْشَدْتُہُ: یَامَالِکَ النَّاسِ وَدَیَّانَ الْعَرَبْ! اِنِّیْ لَقِیْتُ ذِرْبَۃً مِنَ الذِّرَبْ غَدَوْتُ اَبْغِیْھَا الطَّعَامَ فِیْ رَجَبْ فَخَلَفَتْـنِیْ بِنِـزَاعٍ وَھَـَربْ اَخْلَفَتِ الْعَھْدَ وَلَطَّتْ بِالذَّنَبْ وَھُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبْ (مسند احمد: ۶۸۸۵)
۔ (دوسری سند) اعشی کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور یہ اشعا ر پڑھے: اے لوگوں کے مالک اور عربوں پر غالب آ جانے والے! خائن عورتوں میں سے ایک خائن عورت سے میرا واسطہ پڑا ہے میں اس کے لیے اناج لانے کے لیے رجب میں نکلا لیکن وہ جھگڑنے اور بھاگنے کی صورت میں میرا نائب بنی اس نے وعدہ خلافی کی اور اپنی دُم کو بند کر دیایہ اس شخص کے حق میں بدترین غلبہ پا لینے والی ہیں، جس پر غلبہ پا لیں۔
Takhreej
(۱۰۰۵۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
10050
Sahih

Chapters

17
01
تعریف کی جائز صورتوں کا بیان
7 Hadith
02
تعریف کی ناجائز صورتیں
8 Hadith
03
عورتوں کی مذمت کا بیان
7 Hadith
04
عبد اللہ بن اعور اعشی اور ان کی بیوی معاذہ کا قصہ
2 Hadith
05
عورتوں کا امور کی ولایت کے لیے نا اہل ہونا
2 Hadith
06
مال کی مذمت کا بیان
16 Hadith
07
دنیا کی مذمت کا بیان
11 Hadith
08
اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی مثال اور اس پر اس کا حقیر ہونا
6 Hadith
09
عمارتوں کی مذمت کا بیان
4 Hadith
10
بازاروں اور کچھ دوسرے مقامات کی مذمت کابیان
3 Hadith
11
لعنت کرنے سے ممانعت اور اس سے ترہیب کا بیان
8 Hadith
12
ان افراد کا بیان، جن پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے لعنت کی
10 Hadith
13
اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
10 Hadith
14
اونٹ اور مرغ پر لعنت کرنے کا بیان
5 Hadith
15
مسلمان کو گالی دینے اور اس سے قتال کرنے سے ترہیب کا بیان اور یہ وضاحت کہ اس چیز کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے
10 Hadith
16
زمانے، ہوا اور مرغ کو برابھلا کہنے سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
17
چہرے پرمارنے، چہرے کو برا بھلا کہنے اور اس پر داغنے سے ممانعت کا بیان
9 Hadith
No chapter matched that.