TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مال کی مذمت کا بیان - مال کی مذمت کا بیان - تعریف اور مذمت کی کتاب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 6 of تعریف اور مذمت کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 6 of 17 · 16 Hadith
۔ (۱۰۰۵۳)۔ حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: ثَنَا ھَمَّامُ، اَنَا قَتَادَۃُ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَقْرَاُ {اَلْھَاکُمُ التَّکَاثُرُ حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ} قَالَ: فَقَالَ: ((یَقُوْلُ ابْنُ آدَمَ: مَالِیْ مَالِیْ وَھَلْ لَکَ یَا ابْنَ آدَمَ مِنْ مَالِکَ؟ اِلَّا مَا اَکَلْتَ فَاَفْنَیْتَ اَوْ لَبِسْتَ فَاَبْلَیْتَ، اَوْ تَصَدَّقْتَ فَاَمْضَیْتَ۔)) وَکَانَ قَتَادَۃُیَقُوْلُ : کُلُّ صَدَقَۃٍ لَمْ تُقْبَضْ فَلَیْسَ بِشَیْئٍ۔ (مسند احمد: ۱۶۴۳۶)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر داخل ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ آیات تلاوت کر رہے تھے: زیادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کر دیا،یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابن آدم کہتا ہے : میرا مال، میرا مال، اے ابن آدم! تیرے مال میں سے تیرا مال نہیں ہے، مگر وہ جو تونے کھا کر ختم کر دیا،یا پہن کر بوسیدہ کر دیا،یا صدقہ کر کے آگے بھیج دیا۔ قتادہ کہا کرتے تھے: وہ صدقہ کچھ نہیں ہے، جس کو قبضے میں نہیں لیا گیا۔
Takhreej
(۱۰۰۵۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۵۸(انظر: ۱۶۳۲۷)
10053
Sahih
۔ (۱۰۰۵۴)۔ عَنْ کَعْبِ بْنِ عِیَاضٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِنِّ لِکُلِّ اُمَّۃٍ فِتْنَۃٌ وَاِنَّ فِتْنَۃَ اُمَّتِیْ الْمَالُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۶۱۰)
۔ سیدنا کعب بن عیاض ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک ہر امت کا فتنہ ہوتا ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔
Takhreej
(۱۰۰۵۴) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الترمذی: ۲۳۳۶ (انظر: ۱۷۴۷۱)
Explanation
فوائد:… وہ مال و دولت فتنہ ہے، جو عبادات، معاملات اور اخلاق کے واجبات و مستحبات میںکوتاہی کرنے پر اور محرمات و مکروہات کا ارتکاب کرنے پر آمادہ کرتا ہے اور مال داروں کی اکثریت اس فتنے میں مبتلا رہی ہے، لیکن وہ خود نہ اس نقطے کو سمجھ سکتے ہیں اور نہ سمجھنے کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ قارئین کرام! کسی معاشرے پر تبصرہ کرتے وقت اس کی اکثریت کو دیکھا جاتا ہے، نہ کہ چند افراد کو۔ اس امت کا فتنہ مال ہے، اس ضمن میں درج ذیل چند اقتباسات پر غور کریں: اس سلسلے میں یہ حقیقت ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ مال و دولت کی کثرت و بہتات نے زیادہ تر لوگوں کے مزاجوں کو تبدیل کیا ہے۔ ان کی ترجیحات تبدیل ہو کر رہ گئی ہیں، امیر لوگ اپنی امیری کی بنا پر ناز کرتے ہوئے اپنے آپ کو بلند مرتبت اور کم آمدنی والوں کو کم تر سمجھتے ہیں اور ان سے حسن سلوک سے پیش نہیں آتے، ان کے تعلق یا دوستی کی بنیاد روپے پیسے پر ہوتی ہے، یہ لوگ اپنے جیسے مالداروں، جاگیرداروں، بڑے سیاسی رہنماؤں اور اعلی منصب داروں کا خوشامد کی حد تک احترام کریں گے اور بھرپور انداز میں ان کی ضیافت کریں گے، لیکنجب کوئی غریب اور نیک آدمی ان کے دروازے پر آئے تو اپنے نوکروں چاکروں کے ذریعے ڈیل کرنے کو کافی سمجھ کر اس کو دروازے سے واپس کرنے کی کوشش کریں گے۔ کم ہی دیکھا گیا ہے کہ وہ کسی نیک آدمی کی عزت اس کی نیکی کی وجہ سے کریںیا اس سے مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ ملاقات ہی کر لیں، بلکہ زیادہ تر اِن کو مذہبی لوگوں پر کیچڑ اچھالتے ہوئے پایا جاتا ہے۔ اگر عبادات کے معاملے کو سامنے رکھیں تو عام لوگوں کی فتح نظر آتی ہے، کسی مسجد کے نمازیوں کی تعداد میں عام لوگوں اور سونے کا چمچ لے کر پیدا ہونے والوں کا تناسب دیکھا جا سکتا ہے، تلاوتِ قرآنِ اور حفظ ِ قرآن کے سلسلے میں موازنہ کیا جا سکتا ہے، میں نے اپنی زندگی میں چند امیرافراد پائے جنہوں نے قرآن مجید حفظ کیا اور اسے بھی آرام پرستی کی وجہ سے بھلا دیا۔ یہی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی احادیث کی درس و تدریس اور تحقیق و تفتیش کا معاملہ ہے۔ علی ہذا القیاس۔ چشم فلک اور ہر صاحب ِ بصارت کی بصیرت گواہ ہے کہ دنیوی آسائشوں کی وجہ سے عبادات کا سلسلہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا، یہی وجہ ہے کہ آج مساجد میں نمازیوں کی تعداد بہت کم ہو گئی ہے اور اچھے خاصے نمازی لوگ صرف اس وجہ سے نمازِ فجر کی ادائیگی کے لیے مسجد میںحاضر نہیں ہوتے کہ شام کو خوب پیٹ بھر کر کھاتے ہیں اور نرم گدے بچھا کر اور ملائم کمل اوڑھ کر اور پنکھے، روم کولر یا اے سی وغیرہ چلا کر سوتے ہیں، ایسے ماحول میں نیند کا کردار نشہ سے کم نہیں ہوتا، نیند پورا ہونے کا نام نہیں لیتی، اعضا ڈھیلے پڑ جاتے ہیں،نتیجتاً فجر کی جماعت یا سرے سے نمازِ فجر سے ہی محروم ہو جاتے ہیں۔ میں بالیقین کہتا ہوں کہ بظاہر انتہائی پر سکون ماحول میں سونے والوں کی نیند کی مقدار کہیں زیادہ ہوتی ہے، جبکہ انہی کی طرح کے انسان دن میں چار، پانچ، چھ گھنٹے سو کر ان سے زیادہ صحت مند نظر آتے ہیں۔ رہا مسئلہ قلت ِ مال یا کثرتِ مال کے بہتر ہونے کا، تو یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس سے انکار کرنا ناممکن ہے کہ دین کی حفاظت کے لیے، ارکانِ اسلام کی ادائیگی کے لیے اور کئی مفاسد سے بچنے کے لیے قلت ِ مال بہترین ذریعہ ہے اور رہا ہے، یقین مانیے کہ اگر گزر بسر کے بقدر رزق نصیب ہو جائے تو دنیا کا حقیقی سکون مل جاتا ہے۔ یہ غربت ہی ہے جو بچوں کو دینی تعلیم دینے، قرآن مجید حفظ کرنے اور قرآن و حدیث کی تعلیم کے حصول پر آمادہ کرتی ہے اور یہی لوگ ہیں کہ دین کو اگلی نسلوں تک منتقل کرنے کے لیے جن کی اکثریت کو استعمال کیا گیا۔مزاج میں سادگی اور ہر آدمی سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملنا ان ہی لوگوں کا وطیرہ ہے۔ اس سے بڑا انعام کیا ہو سکتا ہے کہ مسکین لوگ امیر لوگوں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ بہرحال یہ ایسے حقائق ہیں جو امیر زادوں اور مال و دولت کے طلبگاروں کے لیے ناقابل تسلیم ہیں۔ قارئین کرام! آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ مال و دولت کی کثرت و وسعت کا بندے کو جہاد سمیت شرعی واجبات سے روک دیناباعث ِ ہلاکت ہے، جس کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ} (سورۂ بقرہ: ۱۹۵) … اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔ بہرحال سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ان کے مال کی وجہ سے ہی غنی کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے، وہ مالدار بڑے خوش بخت ہیں جو اپنی اوقات کو اور اپنے ماضی کو نہیں بھولتے اور اپنے مال و دولت کے تقاضے اور بلا تفریق اہل اسلام کے حقوق ادا کرتے ہیں۔
10054
Sahih
۔ (۱۰۰۵۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَقُوْلُ الْعَبْدُ: مَالِیْ مَالِیْ وَاِنَّ مَالَہُ مِنْ ثَلَاثٍ، مَااَکَلَ فَاَفْنٰی، اَوْ لَبِسَ فاَبْلیٰ، اَوْ اَعْطٰی فَاقْنٰی، مَاسِوٰی ذٰلِکَ فَھُوَ ذَاھِبٌ وَتَارِکُہُ لِلنَّاسِ۔)) (مسند احمد: ۸۷۹۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بندہ کہتا ہے: میرا مال، میرا مال، حالانکہ بندے کے مال کی صرف تین صورتیں ہیں،جو وہ کھا کر ختم کر دے، یا پہن کر بوسیدہ کر دے، یا وہ کسی کو دے کر ختم کر دے، اس کے علاوہ جو مال ہے، اس کو وہ لوگوں کے لیے چھوڑ کر چلا جانے والا ہے۔
Takhreej
(۱۰۰۵۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۵۹ (انظر: ۸۸۱۳)
10055
Sahih
۔ (۱۰۰۵۶)۔ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: لَمَّا اُنْزِلَتْ {الّذِیْنَیَکْنِزُوْنَ الذَّھَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَا یُنْفِقُوْنَھَا فِیْ سَبیْلِ اللّٰہِ} قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ بَعْضِ اَسْفَارِہِ، فَقَالَ بَعْضُ اَصْحَابِہٖ: قَدْنَزَلَفِیْ الذَّھَبِ وَالْفِضَّۃِ مَانَزَلَ، فَلَوْ اَنَّا عَلِمْنَا اَیَّ الْمَالِ خَیْرٌ اِتَّخَذْنَاہُ، فَقَالَ: ((اَفَضَلُہُ لِسَانًا ذَاکِرًا، وَقَلْبًا شَاکِرًا، وَزَوْجَۃً مُؤْمِنَۃً تُعِیْنُہُ عَلٰی اِیْمَانِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۵۱)
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: وہ لوگ جو سونے اور چاندی کا خزانہ کرتے ہیں اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔ اس وقت ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے، ہم میں سے بعض افراد نے بعض سے کہا: سونے اور چاندی کے بارے میں تو یہ کچھ نازل ہو چکا ہے، اب اگر ہمیں پتہ چل جائے کہ کون سا مال بہتر ہے، تاکہ اس کا اہتمام کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے بہترین مال ذکر کرنے والی زبان، شکر کرنے والا دل اور صاحب ِ ایمان بیوی، جو بندے کے ایمان پر اس کا تعاون کرے۔
Takhreej
(۱۰۰۵۶) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۳۰۹۴، وابن ماجہ: ۱۸۵۶(انظر: ۲۲۳۹۲)
10056
Sahih
۔ (۱۰۰۵۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِی الْھُذَیْلِ قَالَ: حَدَّثَنِیْ صَاحِبٌ لِیْ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تَبـًّـا لِلذَّھَبِ وَالْفِضَّۃِ۔)) قَالَ: فَحَدَّثَنِیْ صَاحِبِیْ اَنَّہُ انْطَلَقَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَوْلُکَ تَبًّا لِلذَّھَبِ وَالْفِضَّۃِ مَاذَا نَدَّخِرُ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لِسَانًا ذَاکِرًا، وَقَلْبًا شَاکِرًا، وَزَوْجَـۃً تُعِیْنُ عَلَی الْآخِرَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۸۹)
۔ عبد اللہ بن ابو ہذیل سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے ایک ساتھی نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سونے اور چاندی کے لیے ہلاکت ہے۔ یہ سن کر سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے یہ فرما دیا ہے کہ سونے اور چاندی کے لیے ہلاکت ہے، اب ہم کیا خزانہ کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ذکر کرنے والی زبان، شکر کرنے والا دل اور ایسی بیوی، جوآخرت کے معاملے میں اپنے خاوند کا تعاون کرے۔
Takhreej
(۱۰۰۵۷) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۲۳۱۰۱)
Explanation
فوائد:… ذکر کرنے والی زبان، شکر کرنے والا دل اور امورِ آخرت کو آسان بنا دینے والی بیوی، ان تین نعمتوں کی وجہ سے نہ صرف دنیا میں تسکین ملتی ہے، بلکہ آخرت بھی آسان ہو جاتی ہے۔
10057
Sahih
۔ (۱۰۰۵۸)۔ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الشِّخِّیْرِیُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: کَانَ بِالْکُوْفَۃِ اَمِیْرٌ قَالَ: فَخَطَبَ یَوْمًا فَقَالَ: اِنَّ فِیْ اِعْطَائِ ھٰذَا الْمَالِ فِتْنَۃً وَفِیْ اِمْسَاکِہِ فِتْنَۃٌ وَبِذٰلِکَ قَامَ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ خُطْبَتِہِ حَتّٰی فَرَغَ ثُمَّ نَزَلَ۔ (مسند احمد: ۲۰۸۶۲)
۔ مطرف بن عبد اللہ ، ایک صحابی سے بیان کرتے ہیں، وہ کوفہ کے امیر تھے، انھوں نے ایک دن خطاب کیا اور کہا: بیشک اس مال کو دینے میں بھی فتنہ ہے اور اس کو روکنے میں بھی فتنہ ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسی موضوع پر اپنا خطبہ دیا،یہاں تک کہ اس سے فارغ ہوئے اور نیچے اتر آئے۔
Takhreej
(۱۰۰۵۸) تخریج: اسنادہ صحیح (انظر: ۲۰۵۸۶)
10058
Sahih
۔ (۱۰۰۵۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: وَقَفْتُ اَنَاوَاُبَیُ بْنُ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فِیْ ظِلِّ اُجُمِ حَسَّانَ فَقَالَ لِیْ اُبَیٌّ: اَلَاتَرَی النَّاسَ مُخْتَلِفَۃً اَعْنَاقُھُمْ فِیْ طَلَبِ الدُّنْیَا؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلٰی، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((یُوْشِکُ الْفُرَاتُ یَحْسِرُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَھَبٍ فَاِذَا سَمِعَ بِہٖالنَّاسُسَارُوْااِلَیْہِ فَیَقُوْلُ مَنْ عِنْدَہُ: وَاللّٰہِ لَئِنْ تَرَکْنَا النَّاسَ یَاْخُذُوْنَ مِنْہُ لَیَذْھَبَنَّ فَیَقْتَتِلُ النَّاسُ حَتّٰییُقْتَلَ مِنْ کُلِّ مِائَۃٍ تِسْعَۃٌ وَتِسْعُوْنَ۔)) وَھٰذَا لَفْظُ حَدِیْثِ اَبِیْ عَنْ عَفَّانَ۔ (مسند احمد: ۲۱۵۸۳)
۔ عبد اللہ بن حارث سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا حسان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے محل کے سائے میں کھڑے تھے، سیدنا ابی ّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے کہا: کیا تو لوگوں کو نہیں دیکھتا کہ طلب ِ دنیا کے لیے ان کی گردنیں مختلف ہوئی ہوئی ہیں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: قریب ہے کہ فرات سے سونے کا پہاڑ نکل آئے، جب لوگوں کو اس کا پتہ چلے گا تو وہ اس کی طرف جائیں گے، اس پہاڑ کے پاس موجودہ لوگ کہیں گے: اللہ کی قسم! اگر لوگوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیں تو یہ پہاڑ تو ختم ہو جائے گا، پس لوگ آپس میں لڑ پڑیں گے اور ہر سو میں سے ننانوے افراد قتل ہو جائیں گے۔
Takhreej
(۱۰۰۵۹) تخریج:أخرجہ مسلم: ۲۸۹۵(انظر: ۲۱۲۶۲)
Explanation
فوائد:… یہ سارا کچھ مال کو اکٹھا کرنے کی لالچ میں ہو گا۔
10059
Sahih
۔ (۱۰۰۶۰)۔ عَنْ عَلَیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ مِنْ اَھْلِ الصُّفَّۃِ وَتَرَکَ دِیْنَارَیْنِ اَوْ دِرْھَمَیْنِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَیَّتَانِ،صَلُّوْا عَلٰی صَاحِبِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۷۸۸)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اہل صفہ میں سے ایک آدمی دو دیناریا دو درہم چھوڑ کر فوت ہوا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ دو داغ ہیں، تم خود اپنے ساتھ کی نماز جنازہ پڑھ لو۔
Takhreej
(۱۰۰۶۰) تخریج: حدیث حسن لغیرہ (انظر: ۷۸۸)
10060
Sahih
۔ (۱۰۰۶۱)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ، اَنَّ رَجُلًا مِنْ اَھْلِ الصُّفَّۃِ تُوُفِّیَ وتَرَکَ دِیْنَارًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَہُ: ((کَیَّۃٌ۔)) قَالَ: ثُمَّ تُوُفِّیَ آخَرُ فَتَرَکَ دِیْنَارَیْنِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَوُجِدَ فِیْ مِئْزَرِہِ دِیْنَارَانِِ) فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَیَّتَانِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۲۵)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ اہل صفہ میں ایک آدمی ایک دینار چھوڑ کر فوت ہوا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ ایک داغ ہے۔ پھر ایک اور آدمی دو دینار چھوڑ کر فوت ہو گیا، ایک روایت میں ہے: اس کے ازار میں دو دینار پائے گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ دو داغ ہیں۔
Takhreej
(۱۰۰۶۱) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۳۷۲، والطبرانی فی الکبیر : ۸۰۱۱ (انظر: ۲۲۱۷۲)
Explanation
فوائد:… دو دیناروں کو دو داغ کیوں قرار دیا گیا؟ دیکھیں حدیث نمبر (۹۸۲۰)
10061
Sahih
۔ (۱۰۰۶۲)۔ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ سَاھِمُ الْوَجْہِ قَالَتْ: فَحَسِبْتُ اَنَّ ذٰلِکَ مِنْ وَجَعٍ، فَقُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ مَالَکَ سَاھِمُ الْوَجْہِ؟ قَالَ: ((مِنْ اَجْلِ الدَّنَانِیْرِ السَّبْعَۃِ الَّتِیْ اَتَتْـنَا اَمْسِ، اَمْسَیْنَا وَھِیَ فِیْ خُصْمِ الْفِرَاشِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۴۹)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے کا رنگ بدلا ہوا تھا، میں نے سمجھا کہ شاید آپ کو کوئی تکلیف ہو گی، پھر میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا وجہ ہے کہ آپ کے چہرے کا رنگ بدلا ہوا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان سات دیناروں کی وجہ سے ہے، جو کل ہمارے پاس آئے تھے اور ابھی تک بچھونے کے کونے میں پڑے ہیں۔
Takhreej
(۱۰۰۶۲) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابن حبان: ۵۱۶۰، والطبرانی فی الکبیر : ۲۳/ ۷۵۲ (انظر: ۲۶۵۱۴)
10062
Sahih
۔ (۱۰۰۶۳)۔ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَتْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ مَرَضِہِ الّذِیْ مَاتَ فِیْہِ : ((یَاعَائِشَۃُ! مَافَعَلَتِ الذَّھَبُ؟ ۔)) فَجَائَ تْ مَابَیْنَ الْخَمْسَۃِ اِلَی السَّبْعَۃِ اَوِ الثَّمَانِیَۃِ اَوِ التِّسْعَۃِ فَجَعَلَ یُقَلِّبُھَا بِیَدِہِ و یَقُوْلُ : ((مَاظَنُّ مُحَمَّدٍ بِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ لَوْ لَقِیَہُ وَھٰذِہِ عِنْدَہُ، اَنْفِقِیْھَا۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۲۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مرض الموت کے دوران فرمایا: عائشہ! اس سونے کا کیا بنا؟ یہ سن کر سیدہ چھ سات یا آٹھ یا نو دینار نکال لائیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے ہاتھ سے ان کو الٹ پلٹ کرنے لگے اور فرمایا: محمد کا اللہ کے بارے میں کیا گمان ہو گا، اگر وہ اس کو اس حال میں ملے کہ یہ دینار اس کے پاس ہوں، ان کو خرچ کر دو۔
Takhreej
(۱۰۰۶۳) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الحمیدی: ۲۸۳، وابن ابی شیبۃ: ۳/ ۲۳۸، وابن حبان: ۳۲۱۲ (انظر: ۲۴۲۲۲)
10063
Sahih
۔ (۱۰۰۶۴)۔ عَنْ شَقِیْقٍ، قَالَ: دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ عَلٰی اُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، فَقَالَ: یَا اُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ! اِنِّیْ اَخْشٰی اَنْ اَکُوْنَ قَدْ ھَلَکْتُ، اِنِّیْ مِنْ اَکْثَرِ قُرَیْشٍ مَالًا بِعْتُ اَرْضًا لِیْ بِاَرْبَعِیْنَ اَلْفَ دِیْنَارٍ، فَقَالَتْ: اَنْفِقْ یَا بُنَیَّ! فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِنَّ مِنْ اَصْحَابِیْ مَنْ لَا یَرَانِیْ بَعْدَ اَنْ اُفَارِقَہُ۔)) فَاَتَیْتُ عُمَرَ فَاَخْبَرْتُہُ، فَاَتَاھَا، فَقَالَ: بِاللّٰہِ! اَنَا مِنْھُمْ؟ قَالَتْ: اَللّٰھُمَّ لَا، وَلَنْ اُبَرِّئَ اَحَدًا بَعْدَکَ۔ (مسند احمد: ۲۷۲۲۹)
۔ شقیق کہتے ہیں: سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گئے اور کہا: اے ام المؤمنین! مجھے ڈر ہے کہ میں ہلاک ہو جاؤں گا، کیونکہ قریشیوں میں سب سے زیادہ مال میرے پاس ہے اور اب میں نے چالیس ہزار دینار کی ایک زمین بیچی ہے، سیدہ نے کہا: اے میرے بیٹے! اپنا مال خرچ کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بیشک میرے بعض ساتھی ایسے ہیں کہ جب میں (وفات کے وقت) ان سے جدا ہوں گا تو وہ بعد میں مجھے نہیں مل سکیں گے۔ پس میں عبد الرحمن، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور ان کو یہ حدیث سنائی، وہ سیدہ کے پاس پہنچے اور کہا: اللہ کی قسم! کیا میں ان میں سے ہوں؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، اور آپ کے بعد میں ہر گز کسی کو بری نہیں کروں گی۔
Takhreej
(۱۰۰۶۴) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ البزار: ۲۴۹۶، وابویعلی: ۷۰۰۳، والطبرانی فی الکبیر : ۲۳/ ۷۲۴ (انظر: ۲۶۶۹۴)
10064
Sahih
۔ (۱۰۰۶۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اَحْسَابَ اَھْلِ الدُّنْیَا الَّذِیْنَیَذْھَبُوْنَ اِلَیْہِ ھٰذَا الْمَالُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۷۸)
۔ سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اہل دنیا جس حسب کو اختیار کرتے ہیں، وہ مال ہے۔
Takhreej
(۱۰۰۶۵) تخریج: اسنادہ قوی، أخرجہ النسائی: ۶/ ۶۴ (انظر: ۲۲۹۹۰)
Explanation
فوائد:… ہر ایک کو اس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ اس وقت منقبت و عظمت اور معرفت و شناخت کی بنیاد مال و دولت پر ہے، پچھلے ادوار میں اسلام اور نسب کو بڑائی کی علامت سمجھا جاتا تھا، لوگ مال سے متأثر نہیں ہوتے تھے، لیکن اب نظام مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے، اب مال و دولت اور سرمائے کا عروج ہے، یہی شان ہے، یہی آن ہے، یہی نسب ہے، یہی حسب ہے، غریب رشتہ دار کیا، محتاج بھائی کو بھی کوئی قریب نہیں پھٹکنے دیتا۔
10065
Sahih
۔ (۱۰۰۶۶)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ اَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِیْ سُلَیْمٍ، عَنْ جَدِّہِ اَنَّہُ اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِفِضَّۃٍ، فَقَالَ: ھٰذِہِ مِنْ مَعْدِنٍ لَنَا، فَقَالَ: النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((سَـتَکُوْنُ مَعَادِنُ یَحْضُرُھَا شِرَارُ النَّاسِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۰۴۵)
۔ بنو سلیم کا ایک آدمی اپنے دادا سے بیان کرتا ہے کہ وہ چاندی لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: یہ ہماری ایک کان کی چاندی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب کانیں ہوں گی، لیکن بدترین لوگ ان پر حاضر ہوں گے۔
Takhreej
(۱۰۰۶۶) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی الصغیر : ۴۲۶، وفی الاوسط : ۳۵۵۶(انظر: ۲۳۶۴۵)
Explanation
فوائد:… شیخ البانیjکہتے ہے: معادن (کانیں) ان مقامات کو کہتے ہیں، جہاں سے سونے، چاندی اور تانبے جیسے زمینی جواہر برآمد ہوتے ہیں، اس کی واحد معدِن ہے۔ کوئی شک نہیں کہ کافر لوگ ہی بدترین ہوتے ہیں۔ عربوں کے زمینی خزانے نکالنے کے لیےیورپیوں اور امریکیوں کو وہاں لانے کی وجہ سے مسلمان جس آزمائش میں مبتلا ہیں، اس حدیث میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ واللہ المستعان۔ (صحیحہ: ۱۸۸۵)
10066
Sahih
۔ (۱۰۰۶۷)۔ عَنْ خَوْلَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ اِمْرَاَۃِ حَمْزَۃَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلَبِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ عَلٰی حَمْزَۃَ فَتَذَاکَرَا الدُّنْیَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الدُّنْیَا خَضِرَۃٌ حُلْوَۃٌ، فَمَنْ اَخَذَھَا بِحَقِّھَا بُوْرِکَ لَہُ فِیْھَا، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِیْ مَالِ اللّٰہِ وَمَالِ رَسُوْلِہِ لَہُ النَّارُ یَوْمَیَلْقَی اللّٰہَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۹۴)
۔ سیدنا حمزہ بن عبد المطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی سیدہ خولہ بنت قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے اور پھر دونوں نے دنیا کا ذکر کیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشکیہ دنیا سر سبزو شاداب، میٹھی (اور پر کشش) ہے، جو اس کو اس کے حق کے ساتھ لے گا، اس کے لیے اس میں برکت کی جائے گی اور کئی لوگ ایسے ہیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے مال میں گھس تو جاتے ہیں، لیکن جس دن وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کریں گے، اس دن ان کے لیے آگ ہو گی۔
Takhreej
(۱۰۰۶۷) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الترمذی: ۲۳۷۴ (انظر: ۲۷۰۵۴)
10067
Sahih
۔ (۱۰۰۶۸)۔ عَنْ خَوْلَۃَ بِنْتِ ثَامِرٍ الْاَنْصَارِیَّۃِ اَنَّھَا سَمِعَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِنَّ الدُّنْیَا حُلْوَۃٌ خَضِرَۃٌ، وَاِنَّ رِجَالًا یَتَخَوَّضُوْنَ فِیْ مَالِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ بِغَیْرِ حَقٍّ لَھُمُ النَّارُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۸۶۱)
۔ سیدہ خولہ بنت ثامر انصاریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشکیہ دنیا سر سبزو شاداب، میٹھی (اور پر کشش) ہے اور جو لوگ بغیر حق کے اللہ کے مال میں گھس جاتے ہیں، ان کے لیے قیامت کے دن آگ ہو گی۔
Takhreej
(۱۰۰۶۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۱۱۸ (انظر: ۲۷۳۱۸)
Explanation
فوائد:… اس دور میں پائی جانے والی ایک بدخصلت یہ بھی ہے کہ کئی لوگ مال و دولت کے حصول کے معاملے میں حلت و حرمت کا خیال نہیں رکھتے۔
10068
Sahih

Chapters

17
01
تعریف کی جائز صورتوں کا بیان
7 Hadith
02
تعریف کی ناجائز صورتیں
8 Hadith
03
عورتوں کی مذمت کا بیان
7 Hadith
04
عبد اللہ بن اعور اعشی اور ان کی بیوی معاذہ کا قصہ
2 Hadith
05
عورتوں کا امور کی ولایت کے لیے نا اہل ہونا
2 Hadith
06
مال کی مذمت کا بیان
16 Hadith
07
دنیا کی مذمت کا بیان
11 Hadith
08
اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی مثال اور اس پر اس کا حقیر ہونا
6 Hadith
09
عمارتوں کی مذمت کا بیان
4 Hadith
10
بازاروں اور کچھ دوسرے مقامات کی مذمت کابیان
3 Hadith
11
لعنت کرنے سے ممانعت اور اس سے ترہیب کا بیان
8 Hadith
12
ان افراد کا بیان، جن پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے لعنت کی
10 Hadith
13
اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
10 Hadith
14
اونٹ اور مرغ پر لعنت کرنے کا بیان
5 Hadith
15
مسلمان کو گالی دینے اور اس سے قتال کرنے سے ترہیب کا بیان اور یہ وضاحت کہ اس چیز کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے
10 Hadith
16
زمانے، ہوا اور مرغ کو برابھلا کہنے سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
17
چہرے پرمارنے، چہرے کو برا بھلا کہنے اور اس پر داغنے سے ممانعت کا بیان
9 Hadith
No chapter matched that.